ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 930
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
پہلی بیوی کی رضامندی کے بغیر سوکن کو ایک ہی گھر میں رکھنے کا حکم اور انکار پر گناہ گار قرار دینے کی شرعی حیثیت
فتاوى عبر الأثير (( 22 ))
السؤال: أنا أسكن في بيت أخي ومعي زوجي، وقد تزوج بامرأة ثانية، ويطلب مني السماح لها بالسكن معنا وهي تسيء معاملتي فأرفض سكنها معي، فيقول لي زوجي ستأثمين برفضك هذا، فما الحكم في ذلك؟
میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنے بھائی کے گھر میں رہتی ہوں۔ میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے اور اب وہ مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میں اپنی سوکن کو بھی ہمارے ساتھ رہنے کی اجازت دوں، حالانکہ وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔ اس لیے میں اس کے اپنے ساتھ رہنے سے انکار کرتی ہوں۔ اس پر میرے شوہر کہتے ہیں کہ اس طرح انکار کرنے کی وجہ سے تم گناہ گار ہو گی۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب: ينبغي على الرجل أن يؤمن لزوجته مسكنًا مناسبًا يليق بها، وهو مما أوجبه الله تعالى على الرجال وجعله من القوامة الواجبة عليهم، قال تعالى: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾ [النساء: 34]. وقال سبحانه وتعالى: ﴿أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ﴾ [الطلاق: 6]. قال ابن حزم رحمه الله تعالى: «ويلزمه إسكانها على قدر طاقته».
مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس کی حیثیت اور ضروریات کے مطابق مناسب رہائش فراہم کرے۔ یہ ان حقوق میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مردوں پر واجب قرار دیا ہے اور جنہیں ان کی ذمہ داریوں اور سرپرستی کے فرائض میں شامل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾ مرد عورتوں پر نگراں اور ذمہ دار ہیں۔ [النساء: 34] اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ﴾ انہیں وہاں رہائش دو جہاں تم اپنی حیثیت کے مطابق رہتے ہو۔ [الطلاق: 6] ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کو رہائش فراہم کرے۔‘‘
وأما مسألة الجمع بين الزوجتين في بيت واحد فقد قال الإمام أبو محمد الموفق ابن قدامة المقدسي الحنبلي رحمه الله تعالى: «لَيْسَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ امْرَأَتَيْهِ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ بِغَيْرِ رِضَاهُمَا صَغِيرًا كَانَ أَوْ كَبِيرًا، لِأَنَّ عَلَيْهِمَا ضَرَرًا لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الْعَدَاوَةِ وَالْغَيْرَةِ، وَاجْتِمَاعُهُمَا يُثِيرُ الْمُخَاصَمَةَ وَالْمُقَاتَلَةَ وَتَسْمَعُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حِسَّهُ إِذَا أَتَى إِلَى الْأُخْرَى أَوْ طَرَأَ ذَلِكَ، فَإِنْ رَضِيَا بِذَلِكَ جَازَ لِأَنَّ الْحَقَّ لَهُمَا، فَلَهُمَا الْمُسَامَحَةُ بِتَرْكِهِ».
رہا دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنے کا مسئلہ، تو امام ابو محمد موفق ابن قدامہ مقدسی حنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی دونوں بیویوں کو ایک ہی رہائش میں ان کی رضامندی کے بغیر جمع رکھے، خواہ وہ گھر چھوٹا ہو یا بڑا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے درمیان پائی جانے والی عداوت اور غیرت کے باعث انہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا جھگڑے اور لڑائی کا سبب بن سکتا ہے، اور جب شوہر ان میں سے کسی ایک کے پاس جائے یا ایسا کوئی معاملہ پیش آئے تو دوسری بیوی اس کی آہٹ بھی سن سکتی ہے۔ البتہ اگر دونوں اس پر راضی ہوں تو ایسا کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ حق انہی دونوں کا ہے، لہٰذا وہ چاہیں تو اپنا یہ حق چھوڑ کر رعایت دے سکتی ہیں۔‘‘
فحكم الزوج على هذه المرأة أنها آثمة خطأ لا يصح، ولا ينبغي أن يتجرأ المسلم على تأثيم غيره دون مستند واضح من الكتاب والسنة، قال تعالى: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ﴾ [النحل: 116].
لہٰذا شوہر کا اپنی بیوی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ وہ انکار کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہے، غلط اور غیر درست ہے۔ کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کتاب و سنت کی واضح دلیل کے بغیر کسی دوسرے شخص کو گناہ گار قرار دینے کی جسارت کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ﴾ اور اپنی زبانوں کے جھوٹے بیان کی بنا پر یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو۔ بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ [النحل: 116]
واللہ اعلم۔