ابوزینب
رکن
- شمولیت
- جولائی 25، 2013
- پیغامات
- 445
- ری ایکشن اسکور
- 339
- پوائنٹ
- 65
پیغمبر آخرالزمان ﷺکو اسؤ براہیمی کی پیروی کا حکم
اللہ رب العزت نے اپنے نبی ﷺاور تمام اہل ایمان کے لیے امام المؤحدین جناب ابراہیم خلیل کا نمونہ پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ :مؤمنوں سے دوستی اورکافروں سے دشمنی ''کا بیڑا اٹھانے والوں میں سب سے قدآور شخصیت ابراہیمکی ہے ۔یہی تووجہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے آخرالزماں پیغمبر اما م الانبیاء والمرسلین جناب محمدﷺکو حکم دیا ہے کہ آپ بھی ملتِ ابراہیمی کی پیروی کریں ''
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍرَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾(الممتحنہ:4)
(مسلمانو!)تمہارے لیے ابراہیماور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ موجود ہے۔جبکہ ان سب نے اپنی قوم والوں سے برملا کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہوان سب سے بالکل بیزار (متنفر)ہیں ہم تمہارے (عقائد ونظریات)کے منکر ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہ لے آؤ ۔ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوچکی ہے ۔لیکن ابراہیم کی اپنے باپ سے کہی ہوئی اتنی بات (نمونہ نہیں ہے)کہ میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں ہے ۔اے ہمارے پروردگار !تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے''۔
ایک اور مقام پر بھی یہی حکم دیا گیا ۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمدeسے فرماتے ہیں :
﴿ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾( النحل: 123)
''پھر ہم نے آپ (ﷺ)کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں ۔جو مشرکین میں سے نہ تھے ''
انسانی تاریخ میں ایسا دور بھی آیا ہے کہ اللہ رب العالمین کی شریعت کی پاسداری میں ''اَلوَلَاء وَالْبَراء''(اللہ کے لیے دوستی اور اللہ کے دشمنی )کی بڑی حیرت انگیز مثالیں منظر عام پر آئی ہیں ۔دین کی دشمنی کی بنیاد پر کبھی بیٹا اپنے باپ کو قتل کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے توکبھی اسلام کی بیٹی دین کی بنیاد پر اپنے اہل خانہ اور برادری کو داغ مفارقت دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بھی دین اسلام کے وفا شعاروں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا۔جبکہ اس قادر وقدیر وحدہ لاشریک لہٗ ہستی نے ان کی مدد فرمائی اور ان کو اپنے دشمنوں پر غلبہ بھی عطافرمایا۔[1]
[1]
۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾(المجادلۃ=228:5)
''اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت کرنے والے ہرگز نہ پائیں گے اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا اُن کے بیٹے ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قبیلے کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں۔''
مذکورہ بالا آیت کی تفسیر وتشریح کے ضمن میں مفسرین کرام نے ذکرکیا ہے کہ یہ آیت کریمہ :
۔ سیدنا ابوعبید ہ عامر بن عبداللہ بن جراحکے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے غزوۂ بدر کے روز میدانِ بدر میں اپنے باپ کو قتل کردیا تھا۔
۔ نیز سیدنا صدیق اکبرکے بار ے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے بدر کے دن اپنے حقیقی بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کیا ہوا تھا۔
۔سیدنا مصعب بن عمیر کے متعلق بھی نازل ہوئی کیونکہ انھوں نے اپنے حقیقی بھائی عبید بن عمیر کو بدر کے دن ہی قتل کیا تھا۔
۔ اس آیت کا نزول سیدنا عمر بن خطاب سے بھی تعلق رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ای قریبی رشتہ دار (اپنے سگے ماموں عاص بن ہشام)کو قتل کردیا تھا۔
۔ یہ آیت سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ،سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبیدہ بن حارث کے بارے میں بھی نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ،شیبہ اور ولید بن عتبہ کو بدر کے دن قتل کردیا تھا۔
۔ یہ واقعہ بھی مندرجہ بالا مضمون ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺنے مسلمانوں سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب کیا ۔تو سیدنا ابوبکر صدیقنے اس طرف اشارہ کیاکہ اُن کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے ۔پھر اس حاصل کیے ہوئے فدیے(تاوانِ جنگ)سے مسلمانوں کی قوت وطاقت(اسلحہ وغیرہ )کا سامان بنایاجائے آخر وہ ہمارے ہی چچیرے بھائی اور برادری والے ہیں ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت کی دولت سے بھی نواز دے ۔جب رسول اللہ ﷺنے سیدنا عمر بن خطاب سے مشورہ طلب کیا تو سیدنا عمر فرمانے لگے :اے اللہ کے رسول!میری رائے اور مشورہ وہ نہیں ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق نے دیا ہے ،میں تو آپ سے عرض کروں گا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ قیدیوں میں سے جو فلاں شخص میرا قریبی رشتہ دار ہے وہ مجھے دیا جائے اورمجھے اس کی گردن کاٹنے کا اختیارحاصل ہوتاکہ میں اس کی گردن کاٹ ڈالوں ۔
۔سیدنا علی بن ابی طالب کو ان کا قیدی حقیقی بھائی عقیل بن ابی طالب سپرد کیا جائے تاکہ وہ اس کی گردن کاٹ ڈالیں ۔
علیٰ ھٰذا القیاس جس کا کوئی عزیز اوررشتہ دار قیدیوں میں ہے وہ ا س کے حوالے کردیا جائے اور اُس کو اختیار دیا جائے کہ وہ اس کا گلہ کاٹ ڈالے ۔تاکہ اللہ تعالیٰ کو ہماری طرف سے پتہ چل جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کی کوئی محبت وموالات نہیں ہے۔(دیکھیے تفسیر ابن کثیر: 330:4)