• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈیجیٹل تصویر۔۔ نقد کی درخواست

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
یہ ایک چھوٹی سی تحقیقی بحث ہے اور اس پر گرامی قدر علماء کرام سے نقد کی درخواست ہے۔ بنیادی طور پر اسے فقہ حنفی کی ہی روشنی میں حل کیا گیا ہے کیوں کہ یہ علماء احناف کی آراء کا جائزہ لیتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس موضوع پر عرب علماء کی بھی دو آراء ہیں۔ لیکن اتفاقا مجھے اسے حرام قرار دینے والوں کی آراء تو تفصیلاً مل گئیں لیکن مجیزین کی آراء کی تفصیل بہت کم مہیا ہو سکی۔ اس لیے اس سلسلے میں کی جانے والی فنی تحقیق میری ہی ہے اور یقینا خامیوں سے پر ہوگی۔ اس تحقیق کی ابتدا میں میں بالکل درمیان میں تھا اور انتہاء میں نتیجہ مذکور ہے۔
از راہ کرم اسے مسلکی اختلاف سے قطع نظر دیکھیے اور جہاں خامی پائیں وہاں اصلاح فرمائیں۔ میں ایک طالب علم ہوں عالم نہیں اور نہ ہی مجھے فتوی دینے کی اجازت و اہلیت حاصل ہے۔
جزاکم اللہ۔

اسکرین، ڈیجیٹل کیمرہ اور فلم کیمرے کے عمل کے بارے میں چند ویڈیوز بھی ہیں جن میں اس عمل کو سمجھایا گیا ہے۔ وہ ان شاء اللہ ایک آدھ دن میں لگا دوں گا۔

بسم اللہ الرحمان الرحیم

ڈیجیٹل تصویر سازی

تصویر سازی کی حرمت کے بارے میں قطعی نصوص موجود ہیں۔ جن میں اس کام کو حرام اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ان نصوص کا اطلاق ڈیجیٹل تصویر پر تب ہونا ممکن ہے جب یہ واقعتا تصویر ثابت ہو جائے۔ کیا یہ تصویر کے حکم میں داخل ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں ہم کچھ ابحاث دیکھتے ہیں:۔


1: ڈیجیٹل کیمرا کام کیسے کرتا ہے:۔

پہلا مرحلہ:

ڈیجیٹل کیمرے میں سب سے آگے لینس ہوتا ہے جو کسی منظر کو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد سی سی ڈی یا سی موس سینسر ہوتا ہے۔ یہ شمسی پینل کی طرح کے سیلز ہوتے ہیں جو خود سے ٹکرانے والی روشنی کو برقی سگنلز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہاں سے یہ منظر تبدیل ہو کر بجلی کی شکل میں آ جاتا ہے۔

دوسرا مرحلہ:

یہ برقی لہریں بذریعہ پروسیسر میموری میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ انہیں کوڈز کہا جاتا ہے جیسے بائینری کوڈز (0-1)۔ لیکن یہ درحقیقت یہ اعداد نہیں ہوتے بلکہ خاص قسم کے برقی سگنلز ہوتے ہیں جن سے جب اگلی بار بجلی گزرتی ہے تو وہ اسے مخصوص حالت میں تبدیل کر کے گزارتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ:

جب ہم اسکرین پر ایک تصویر کھولتے ہیں تو پروسیسر میموری کی جانب بجلی بھیجتا ہے۔ مخصوص کوڈز سے گزر کر بجلی واپس پروسیسر میں آتی ہے اور پروسیسر اسے ایسی حالت میں اسکرین کی جانب بھیجتا ہے کہ اسکرین میں لگی چپس اسے سمجھ سکیں۔

اسکرین پر نہایت ہی باریک بلب نما نقطے ہوتے ہیں۔ چپس بجلی کو سمجھ کر اسکرین پر ان بلبس کو روشن کر دیتی ہیں۔ بلبس کی روشنیاں مخصوص رنگوں سے گزر کر انہیں رنگوں کی ہو کر اسکرین سے باہر آتی ہیں۔ یہاں سے یہ منظر تبدیل ہوکر روشنی کی شکل میں آ جاتا ہے۔

یہ روشنیاں جب آنکھ کی پتلی سے ٹکراتی ہیں تو ہمیں تصویر نظر آتی ہے۔

چوتھا مرحلہ:

جب ہم پرنٹ کا حکم دیتے ہیں تو پروسیسر بجلی کو میموری میں بھیجتا ہے اور وہاں سے ایسی حالت میں پرنٹر کو بھیجتا ہے جسے پرنٹر کی چپس سمجھ سکیں۔ پرنٹر کی چپس انہیں سمجھ کر ان کے مطابق صفحے پر رنگ اتارتی ہیں جو کہ فورا خشک ہو کر تصویر بن جاتے ہیں۔ یہاں سے یہ منظر تبدیل ہو کر پائیدار ہو جاتا ہے۔


2: فلم کیمرا کیسے کام کرتا ہے؟


پہلا مرحلہ:۔

فلم کیمرے کے لینس کے ذریعے جو روشنی اندر داخل ہوتی ہے وہ آگے موجود ایک فلم سے ٹکراتی ہے۔ یہ فلم روشنی سے حساس ہوتی ہے۔ جیسے ہی یہ روشنی اس سے ٹکراتی ہے اس پر ان مقامات پر کیمیائی عمل ہوتا ہے جہاں روشنی کی لہریں ٹکراتی ہیں اور اس عمل کے نتیجے میں وہاں تصویر چھپ جاتی ہے۔ یہ تصویر اس قدر مدھم ہوتی ہے کہ دیکھی نہیں جاتی۔

دوسرا مرحلہ:۔

اس مرحلہ میں اس تصویر کو کیمیکلز لگا کر باقاعدہ صفحے پر اتار لیا جاتا ہے۔



3: ہم یا کیمرہ کسی چیز کو کیسے دیکھتے ہیں:۔

جب ہماری آنکھوں یا کیمرے کے لینس سے کسی چیز سے منعکس ہونے والی روشنی ٹکراتی ہے تو ہمیں وہ چیز نظر آتی ہے۔ یعنی اگر ہم ایک درخت کی جانب دیکھ رہے ہیں تو آسمانی روشنی اس سے ٹکرا کر منعکس ہو کر ہماری آنکھوں کی پتلیوں سے ٹکراتی ہے جس سے ہمیں وہ درخت نظر آتا ہے۔


4: تصویر ممنوعہ کے لیے کیا شرائط یا قیود ہیں:۔

ا: جاندار کی ہو۔

ب: بنائی گئی ہو۔

ج: محفوظ کی جا سکے یا دوسرے لفظوں میں پائیدار ہو۔


5: تصویر کی تعریف:۔

تصویر کا مطلب ہے "صورت بنانا"

اس کی تعریف یہ ہے:۔

(التصوير) نقش صورة الأشياء أو الأشخاص على لوح أو حائط أو نحوهما بالقلم أو بالفرجون أو بآلة التصوير

(المعجم الوسیط)


ترجمہ: تصویر چیزوں یا آدمیوں کی صورت کو نقش کرنا ہے تختی یا دیوار یا اس جیسی کسی چیز پر قلم، برش یا تصویر کے آلہ سے۔

اس کی شرعی تعریف یہ ہوگی:۔

"تصویر کسی چیز کا پائیدار نقش ہوتا ہے۔"

(احسن الفتاوی 8۔302 ط ایچ ایم سعید کمپنی)


6: تصویر سازی کا مقصد:۔

جاندار کے جسم کی شبیہ کو حسی حالت میں محفوظ کرنا تاکہ بوقت ضرورت استعمال کی جا سکے۔


7: تصویر سازی کی وجہ حرمت:۔

ا: سبب شرک ہونا۔

ب: اللہ تعالی کی تخلیق کے مشابہ ہونا۔

ان اشیاء کی تفصیل "ڈیجیٹل کیمرے کی تصویر کی حرمت پر مفصل و مدلل فتوی" مرتبہ مفتی سید نجم الحسن امروہوی دامت برکاتہم میں دیکھی جا سکتی ہے۔


اس کے بعد ہم تفصیلا ڈیجیٹل تصویر کی حیثیت پر بات کرتے ہیں۔

جیسا کہ ابھی ڈیجیٹل کیمرے کے عمل کی تفصیل سے ہمیں معلوم ہوا کہ اس عمل کے چار مرحلے ہیں۔ ان میں چوتھا مرحلہ بالاتفاق ناجائز ہے۔ جبکہ پہلے تین مرحلوں کے بارے میں اختلاف ہے۔

علماء کی ایک جماعت ان کے جائز ہونے کی طرف گئی ہے اور دوسری جماعت ناجائز ہونے کی۔ جو حضرات ناجائز ہونے کا کہتے ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ یہ چوں کہ ایک منظر کو محفوظ کرنا اور دیکھنا ہے اس لیے یہ تصویر ہے۔

جو حضرات اس کے جائز ہونے کی جانب کو ترجیح دیتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ پہلے مرحلے میں اصل منظر کی تصویر ہے۔ دوسرے میں برقی لہریں اور تیسرے مرحلے میں روشنی کی لہریں۔ اور ان چیزوں پر تصویر کا اطلاق نہیں ہوتا۔


اس سلسلے میں دوسری رائے زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے:۔

1: تصویر کسی بھی چیز پر بنی ہوئی ایسی شبیہ ہوتی ہے جس سے روشنی کی لہریں ٹکراکر منعکس ہوں تو وہ نظر آئے۔ جب کہ ڈیجیٹل میں صرف نور یا روشنی کی ایسی لہریں ہوتی ہیں جو اسکرین کے اندر سے نکل کر ہماری آنکھوں سے ٹکراتی ہیں۔ اس میں انعکاس نہیں ہوتا۔

یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ انعکاس ہو یا نہ ہو بہرحال ہم اسے دیکھ تو رہے ہیں لہذا ان دونوں میں فرق کیا ہوا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ تصویر کی ایک حقیقت و حیثیت ہوتی ہے جس سے روشنی منعکس ہو رہی ہوتی ہے جب کہ اسکرین کی اصل حقیقت وہ جلنے والے بلبس ہیں۔ اگر ان بلبس کو بجھا دیا جائے تو آپ جتنے بھی جتن کرلیں اور جتنی بھی روشنی میں اسکرین کو لے آئیں اس تصویر کو نہیں دیکھ سکتے۔ اس کی کوئی حقیقت واقع میں موجود ہی نہیں ہوتی جس سے روشنی منعکس ہو اور تصویر نظر آئے۔ تو جس چیز کی کوئی حقیقت ظاہری نہیں اس پر تصویر کا حکم کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ آسان الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ ڈیجیٹل میں تصویر موجود نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک ساتھ جلتے بلب آنکھوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کے بجھتے ہی وہ دھوکہ ایسا ہوجاتا ہے گویا تھا ہی نہیں۔ تصویر میں ایسا نہیں ہوتا۔


2: تصویر پائیدار ہوتی ہے۔ اسے آپ جب تک بالکل ختم نہ کر دیں پھاڑ کر یا مٹا کر وغیرہ تب تک وہ باقی رہتی ہے اور جب آپ اسے ایک مرتبہ ختم کر دیں تو دوسری بار نئے سرے سے بنانی پڑتی ہے۔ جبکہ ڈیجیٹل صرف برقی رو کی مرہون منت ہے۔ آپ اسکرین کی تار کو ڈسکنکٹ کر دیں تو یہ تصویر بالکل صاف ہو جائے گی اور دوبارہ کنکٹ کریں تو دوبارہ نظر آنے لگے گی۔ دوسری بات یہ تصویر صرف اتنے ہی وقت کے لیے موجود ہے جتنا وقت آپ اسے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ جب آپ اسے بند کر دیں تو یہ تصویر کی حالت میں نہیں رہے گی بلکہ بجلی کے سگنلز باقی رہ جائیں گے جن پر تصویر کا اطلاق کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ جبکہ حقیقی تصویر کو اگر آپ بند کر کے رکھ دیں تب بھی وہ تصویر کی حالت میں باقی رہتی ہے۔ چنانچہ یہ نقش پائیدار نہیں ہے۔

اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ یہ بار بار وجود میں آرہی ہے اور بار بار ختم ہو رہی ہے لہذا اسے ایک نہیں تو الگ الگ تصویریں سمجھ لیا جائے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ پھر تو کسی بھی ناپائیدار چیز کو ہم تصویر کہہ سکتے ہیں جیسا کہ آئینے کے عکس کو کہ جتنی بار ہم اس کے سامنے آتے ہیں اتنی بار تصویر (عکس) وجود میں آتا ہے اور جتنی بار ہم ہٹتے ہیں اتنی بار ہی غائب ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ بات درست نہیں۔

تو پائیداری سے مراد یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ تصویر کسی خاص حالت کے ساتھ مقید نہ ہو بلکہ مختلف احوال میں موجود رہے۔ آئینہ میں عکس اس کے سامنے موجود رہنے کی حالت کے ساتھ مقید ہے اور اسکرین پر تصویر بجلی کی فراہمی کی حالت کے ساتھ مقید ہے۔

یہاں یہ یاد رہے کہ بعض علماء اسے آئینے پر قیاس کرتے ہیں اور اسی کے تعلق سے اس پر بحث کرتے ہیں۔ بندہ کے خیال میں یہ درست نہیں۔ کیوں کہ آئینے کے عکس میں اگرچہ ناپائیداری تو ہوتی ہے لیکن اس میں ساتھ ہی انعکاس نور بھی ہوتا ہے۔ روشنی کی لہریں آپ کے جسم سے ٹکراتی ہیں، پھر آئینے سے ٹکراتی ہیں، آئینہ انہیں کامل طور پر واپس پلٹا دیتا ہے، یہ واپس آپ کی آنکھوں سے ٹکراتی ہیں تو آپ کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔ یہاں جس چیز سے ٹکرا کر روشنی نے یہ تصویر حاصل کی ہے یعنی آپ کا جسم اس کا حسی وجود ہے جبکہ ڈیجیٹل اسکرین جو دکھا رہی ہوتی ہے اس کا کوئی حسی وجود نہیں ہوتا جیسا کہ اوپر وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ آئینہ سے زیادہ کمزور ہے اس لیے اسے آئینے پر قیاس کرنا درست نہیں۔ البتہ اسے آئینے سے قریب قرار دیا جا سکتا ہے۔


3: جب یہی ڈیجیٹل کیمرا لائیو دکھا رہا ہوتا ہے تو اکثر علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں حالاں کہ لائیو میں بھی وہی تمام عمل ہو رہے ہوتے ہیں جو محفوظ شدہ میں ہوتے ہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ لائیو میں یہ برقی رو لمحے کے معمولی سے حصے میں پروسیسر میں رک کر آگے اسکرین کی جانب چلی جاتی ہے جب کہ محفوظ میں یہ طویل وقت کے لیے روک دی جاتی ہے۔ عمل دونوں میں یکساں ہوتا ہے اور فرق صرف وقت کا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ لائیو کیمرا بھی درحقیقت بہت زیادہ رفتار سے چھوٹی چھوٹی تصویریں لے کر اسکرین پر دکھا رہا ہوتا ہے لیکن اس کی رفتار کی وجہ سے یہ چیز محسوس نہیں ہوتی اور وہ تصویریں متحرک محسوس ہوتی ہیں۔


4: تصویر کے بننے کے بعد اس کی اصل حالت میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ البتہ اس کے اوپر مزید رنگ کر کے یا اسے مٹا کر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ڈیجیٹل میں آپ ایڈوب فوٹو شاپ کھولیں اور اسمج ٹول سے اس کے ناک کان کھینچ کر اسے تبدیل کردیں۔ اس کی اصل حالت ہی تبدیل ہو جائے۔ یہ ایک مثال ہے۔ اس طرح کے بہت سے فعل اس پر ہو سکتے ہیں۔


5: تصویر کو اگر آپ دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں تو وہ تقسیم ہو جائے گی لیکن اسکرین کو اگر درمیان سے توڑ دیں تو اگر باقی رہی تو آدھی تصویر باقی رہ جائے گی اور آدھی غائب ہو جائے گی۔ اس سے بھی یہ پتا چلتا ہے کہ ڈیجیٹل صرف آنکھوں کا دھوکہ ہے۔ اس کی کوئی حقیقت خارج میں موجود نہیں۔


6: ڈیجیٹل درحقیقت ایک یاد ہوتی ہے جسے پروسیسر اپنی زبان میں محفوظ کرتا ہے جیسے ہمارے ذہن میں خیالات اور یادیں محفوظ ہوتی ہیں۔ پروسیسر اس یاد کے مطابق روشنیاں جلاتا ہے اور ان روشنیوں کے اجتماع سے ایک تصویر و شبیہ کا گمان ہوتا ہے۔


7: عموما ڈیجیٹل تصویر سبب شرک نہیں ہوتی کیوں کہ کہیں بھی ڈیجیٹل کی عبادت نہیں کی جاتی۔ اور شرک کے دیگر افعال فون و دیگر پر بھی ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں اس سبب سے کوئی حرام قرار نہیں دیتا۔


8: ڈیجیٹل تصویر کو مضاہاۃ خلق اللہ اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب اس کا تصویر ممنوعہ ہونا ثابت ہو۔ اور یہ ثابت نہیں ہوتا اس لیے اس پر یہ قید بھی نہیں آتی۔



اب اس کے بعد ان علماء کے موقف کا جائزہ لیتے ہیں جو اس کو حرام قرار دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:۔

"کوئی بھی کیمرہ ہو، خواہ ڈیجیٹل ہو یا نان ڈیجیٹل ہو،تصویرکشی کرتے وقت پہلے مرحلے میں شبیہ حاصل کی جاتی ہے، جب کہ دوسرے مرحلے میں محفوظ کی جاتی ہے اورتیسرے مرحلے میں اسکرین یاپردے پرظاہرکی جاتی ہے ۔گویا حصول شبیہ ،حفظ شبیہ اور اظہار شبیہ ان تین مراحل سے گذر کر تصویر مکمل ہو تی ہے۔ڈیجیٹل کیمرہ ہویاروایتی کیمرہ، شبیہ حاصل ہونے کابنیادی سائنسی اصول آج بھی وہی ہے جواولین کیمرے کی ایجاد کے وقت تھا۔اس میں سرموفرق نہیں آیا۔البتہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ طریقہٴ حفاظت میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ پُرانے طریقہٴ تصویر سازی میں عکس لے کر اسے فیتے پرنقش کرکے محفوظ کیاجاتاتھا،جب کہ ڈیجیٹل سسٹم میں کیمرے میں داخل ہونے والی روشنیوں کاعلم ”اعداد“ کی صورت میں محفوظ کرلیاجاتاہے اورپھرجس طرح کی روشنیوں کو بصورت اعداد محفوظ کرلیا گیا ہو، اسی طرح کی نئی روشنیاں پیداکی جاتی ہیں، یہ روشنیاں جب اسکرین پر جمع ہو تی ہیں تو ان کے اجتماع سے اسکرین پرتصویرنظر آتی ہے ۔اب تک جوکچھ بیان ہوا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل تکنیک کے ذریعے پہلے ہندسوں کی صورت میں ڈیٹا (معلومات ) محفوظ کی جاتی ہیں اورپھران معلومات کی مددسے اصل کے مشابہ شکل وجود میں لائی جاتی ہے ۔"
یہاں بنیادی نظریہ پر تو یہ گرامی قدر علماء کرام بھی متفق ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ کیمرے میں داخل ہونے والی روشنیوں کا علم "اعداد" کی صورت میں محفوظ کر لیا جاتا ہے، درست نہیں۔ کیوں کہ کمپیوٹر صرف دو چیزیں سمجھتا ہے: آن اور آف یا کم وولٹیج اور زیادہ وولٹیج۔ اس آن اور آف یا کم اور زیادہ وولٹیج کو ہم اپنی سمجھ کے لیے (0۔1) سے ظاہر کرتے ہیں۔ وکی انسائیکلو پیڈیا سی ڈی اور دیگر اشیاء میں بائینری عمل کی تفصیل یوں بیان کرتا ہے:

These either reflect the light of the thin laser beam shone on them, representing a one, or do not, representing a zero.

http://en.wikipedia.org/wiki/Binary_code))

"یہ سی ڈیز وغیرہ یا تو اپنے اوپر پڑنے والی باریک لیزر شعاعوں کو منعکس کتی ہیں تو یہ ایک (1) کو ظاہر کرتا ہے، یا نہیں کرتیں تو یہ صفر (0) کو ظاہر کرتا ہے۔"

یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مقام پر تصویر اپنی اصل حالت میں ہوتی ہے جس سے روشنی منعکس ہو رہی ہوتی ہے۔ بلکہ اس کو آسانی کے لیے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک لائن میں کچھ نقطوں کی جگہیں ہوتی ہیں۔ جہاں نقطہ موجود ہوتا ہے وہاں روشنی منعکس ہو جاتی ہے اور جہاں نہیں ہوتا وہاں نہیں ہوتی۔ یہ منعکس شدہ روشنی جب سی ڈی پلئیر کے لینس سے ٹکراتی ہے تو وہ اسے 1 سمجھتا ہے۔ یعنی وہ آگے زیادہ بجلی بھیج دیتا ہے ورنہ عدد 1 کا تصور اس کے پاس بھی نہیں ہے۔ اور جب روشنی نہیں ٹکراتی تو وہ زیادہ بجلی نہیں بھیجتا۔

کمپیوٹر میں اس کے لیے ٹرانزسٹر استعمال ہوتے ہیں جو کسی سوئچ کی طرح آن اور آف کا کام کرتے ہیں۔ ان کے عمل کو یہاں سے سمجھا جا سکتا ہے:

http://en.wikipedia.org/wiki/Transistors#Transistor_as_a_switch))

مزید تفصیل کمپیوٹر کے عمل کے بارے میں یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے:

https://answers.yahoo.com/question/index?qid=20090128072152AAbb3Uv))

اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ نکلا کہ کسی بھی ڈیجیٹل میموری میں محفوظ تصویر اعداد کی صورت میں نہیں بلکہ غیر متحرک برقی سگنلز کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگر یہ ہندسوں کی شکل میں ہوتی تب بھی حکم میں فرق ہونا چاہیے تھا کیوں کہ تصویر کی محفوظ ہونے کی اصل حالت نہیں پائی جاتی۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ الگ حالت میں ہوتی ہے۔ کیا بجلی کی چند لہروں یا کچھ ترتیب وار آن اور آف سوئچز پر تصویر کا حکم لگایا جا سکتا ہے چاہے نتیجہ ان کا کچھ بھی ہو؟

حکم کی علت کے طور پر اختیار کیے گئے بہت سے نکات اسی بات کے صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔

آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں:

۱… شریعت کا منشاء ”جاندار کی شبیہ محفوظ کرنے سے روکنا“ ہے۔ یہی مناط اور علت ہے۔کیونکہ طویل انسانی تاریخ بتلاتی ہے کہ یہی چیز فتنے کا باعث بنتی ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم میں شبیہ کو محفوظ کرنے کی قباحت پائی جاتی ہے۔"
شریعت کا منشا "جاندار کی شبیہ محفوظ کرنے سے روکنا" نہیں بلکہ "جاندار کی شبیہ ایسی حالت میں محفوظ کرنے سے روکنا ہے جس میں وہ کوئی حسی وجود رکھے"۔ انسانی تاریخ میں جب بھی فتنے کا باعث بنی ہے وہ یہی چیز بنی ہے۔ وگرنہ صورت چاہے حقیقی ہو یا چاہے بنائی ہوئی دو قسم کی ہوتی ہے:۔

ذلك ضربان: أحدهما محسوس يدركه الخاصة والعامة، بل يدركه الإنسان وكثير من الحيوان، كصورة الإنسان والفرس، والحمار بالمعاينة، والثاني: معقول يدركه الخاصة دون العامة، كالصورة التي اختص الإنسان بها من العقل، والروية، والمعاني التي خص بها شيء بشيء

(المفردات فی غریب القرآن 1۔497 ط دار القلم)


فتنے کا باعث اس میں سے پہلی صورت بنی ہے کیوں کہ ذہن میں محفوظ صورت کو نہ تو منع کیا گیا ہے اور نہ اس کی عبادت کی جا سکتی ہے۔ ہم نے پہلے واضح کر دیا کہ ڈیجیٹل میں محفوظ تصویر حسی حالت میں نہیں ہوتی۔


"۲… تصویر سازی کی روح” اصل کی نقل و حکایت اور اصل جیسا منظر “پیش کرنا ہے ،انسانی تاریخ میں اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے گئے ،ان طریقوں میں سے ڈیجیٹل سسٹم اب تک کی سب سے ترقی یافتہ اور اعلیٰ شکل ہے۔ گو یا نظام نے ترقی کی ہے ،آلات کی شکلیں بدلی ہیں ،طریقہ کار مختلف ہو اہے، لیکن بنیادی حقیقت اور مرکزی نقطہ اب بھی و ہی ہے کہ” اصل کی مانند منظر پیش کیا جائے“ ۔۳…نئے اور پُرانے نظام میں فرق صرف طریقہٴ حفاظت کا ہے ،تصویر سازی کی روح اور حقیقت دونوں میں مشترک ہے۔جب پرانے نظام کے تحت بنائے گئے مناظر کو اکابر نے تصویر قرار دیا تو جدید نظام کے تحت بنائے گئے مناظر کو بھی تصویر کہا جائے گا، کیونکہ جب حقیقت میں دونوں مشترک ہیں تو حکم میں بھی دونوں کومشترک ہو نا چاہیئے۔"
اصل کی مانند منظر پیش کرنا کچھ قیود کے ساتھ منع ہے جن کا اوپر ذکر گزر چکا ہے یعنی پائیداری وغیرہ۔ ورنہ آئینہ وغیرہ بھی عکس میں اصل کی مانند منظر پیش کرتا ہے لیکن وہ پائیدار نہیں ہوتا۔

نئے نظام میں اگر کاغذ پر تصویر کا پرنٹ نکال لیا جائے تو پھر تو واقعی نتیجہ ایک سا ہوجائے گا۔ لیکن جب تک کاغذ پر پرنٹ نہ نکالا گیا ہو تب تک اس میں اور تصویر کی حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ نہ اس میں پائیداری ہوتی ہے اور نہ اس کا حساً وجود ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت میں دونوں کو حقیقت میں مشترک قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔


"۴․․․․․ڈیجیٹل مناظرکے پس پشت بھی تصویرسازی کے جذبات اورمحرکات ہیں اورنتائج ومقاصد کے حصول میں بھی ڈیجیٹل نظام پُرانے طریقہٴ کار کے برابرہے ،بلکہ اس سے کہیں بڑھ کرہے ۔اس لئے دونوں نظاموں کے تحت بنائے گئے مناظر کو تصویر کہا جائے گا۔"
یہ بات تو درست ہے کہ ڈیجیٹل مناظر کے پس پشت بھی تصویر سازی کے جذبات ہوتے ہیں۔ لیکن کیا صرف جذبات سے حکم پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ اگر ہم اس بات کو تسلیم کر لیں کہ ڈیجیٹل تصویر جب اسکرین پر ہوتی ہے تو اس میں تصویر کی حقیقت نہیں پائی جاتی۔ تو ہمیں تصویر بنانے والے کے جذبات میں بھی فرق کرنا ہوگا۔ اگر وہ صرف اسکرین کی حد تک رکھنا چاہتا ہے تو یہ تصویر نہ ہونے کی وجہ سے درست ہوگی۔ اور اگر وہ پرنٹ کروانا چاہتا ہے تو یہ جائز نہیں ہوگی۔ فقہ میں اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شہد کی نبیذ لہو کی یا نشے کی غرض سے پیے تو یہ جائز نہیں جب کہ اگر تقوی کی غرض سے پیے تو یہ جائز ہے۔ جیسا کہ اس کی تصریح رد المحتار (6۔453 ط دار الفکر) پر ہے۔ رد المحتار میں علامہ شامی نے درر کے حوالے سے لکھا ہے:۔

قال في الدرر. وهذا التقييد غير مختص بهذه الأشربة بل إذا شرب الماء وغيره من المباحات بلهو وطرب على هيئة الفسقة حرام

"درر میں کہا ہے: اور یہ قید لگانا صرف انہی شرابوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اگر پانی وغیرہ مباح چیزیں بھی لہو اور طرب کے ساتھ فساق کے انداز میں پیے گا تو وہ بھی حرام ہیں۔"

اسی طرح علامہ ابن نجیم نے الامور بمقاصدھا کے عنوان کے تحت الاشباہ والنظائر (1۔23 ط العلمیہ) میں فتاوی قاضی خان کے حوالے سے اس کی کئی مثالیں ذکر کی ہیں۔

تو یہاں بھی اس شخص کی نیت کا اعتبار ہوگا کہ یہ ڈیجیٹل کی حد تک رہنا چاہتا ہے یا پرنٹ کا ممنوعہ کام کرنا چاہتا ہے۔

اس پر سوال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح تو کوئی شخص بھی پرنٹ کروا کر ممنوعہ کام نہیں کرے گا بلکہ ڈیجیٹل پر ہی تصویریں کھینچ کر اور دیکھ کر گزارا کر لے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں حرج کیا ہے اگر کوئی شخص ممنوعہ کام سے بچتے ہوئے ایسے کر لے؟ بعینہ یہی اعتراض اس پر بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین کی تصویریں نہ کھینچے اور انہیں روز ملاقات کر کے دیکھ کر گزارا کر لے۔ پھر کیا یہ بھی منع ہوگا؟

دوسری بات یہاں نتائج کی ہے کہ دونوں کے نتائج و مقاصد ایک جیسے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہ بات تسلیم نہیں کیوں کہ ڈیجیٹل ناپائیدار ہوتی ہے جب کہ تصویر پائیدار ہوتی ہے۔ تصویر کو ڈیجیٹل کے مقابلے میں زیادہ عرصے کے لیے محفوظ کیا جاسکتا ہے اور بے فکر ہوا جا سکتا ہے کیوں کہ ڈیجیٹل میں بسا اوقات ایک دو کوڈ بھی بدل جانے کی صورت میں تصویر ضائع ہو جاتی ہے جسے کرپٹ ہونا کہا جاتا ہے اور اس میں احتیاط کرنے نہ کرنے کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہوتا جب کہ تصویر میں ایسا نہیں ہوتا اور جب تک کوئی خارجی عمل نہ پایا جائے یہ ضائع نہیں ہوتی۔

اس پر یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ یہ کوڈ کی تبدیلی بھی کسی خارجی عمل کے نتیجے میں ہی ہوتی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تسلیم ہے لیکن خارجی عمل کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو عموما اسے تباہ کر جاتا ہے اور بسا اوقات صحیح کرنے والے سوفٹوئیرز بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ جب کہ تصویر میں کم درجے کے خارجی عمل سے عموما ایسا نہیں ہوتا۔

نتائج کی بات کا دوسرا جواب یہ ہے کہ بعض نتائج کا ایک جیسا ہونا تسلیم ہے جیسے تصاویر دیکھنا اور بھیجنا وغیرہ لیکن مختلف ملتے جلتے کاموں والی چیزوں کے نتائج ایک جیسے ہو سکتے ہیں اور حکم ان کی حقیقت و ماہیت پر لگتا ہے۔ جیسا کہ شراب (جب تک مسکر نہ ہو)، نبیذ عسل اور طاقت دینے والی ادویات سب کا نتیجہ تقوی ہے لیکن شراب متفقہ طور پر حرام ہے، اور مقوی ادویات متفقہ طور پر جائز ہیں۔ تو حکم ان سب چیزوں کی ماہیت پر لگتا ہے۔ اور ماہیت تصویر اور ڈیجیٹل میں فرق واضح کر چکے ہیں۔

تصویر اور ڈیجیٹل میں ایک چیز میں مشابہت ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی جاندار کی شبیہ کو محفوظ کر کے بوقت ضرورت دیکھنا۔ جسے اوپر تصویر سازی کے مقصد کے تحت بیان کیا گیا ہے اور اسی کی وجہ سے اس کے حکم میں اشتباہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ماہیت الگ ہونے کی وجہ حکم کا مدار ماہیت پر ہوگا نہ کہ اس کے مقصد پر جیسا کہ شراب، نبیذ اور مقوی ادویات میں واضح ہے۔


"۵․․․․․عرف دلیل شرعی ہے، کیونکہ اجماع عملی کی ایک قسم ہے۔عام لوگ اپنی بول چال میں کمپیوٹر،ٹی وی اورموبائل پر ظاہر ہونے والی شکلوں کو تصویرکہتے اور سمجھتے ہیں۔شریعت نے” عرف متفاہم “کو حجت قراردیا ہے، اس لئے عام عرف کو دیکھتے ہوئے یہ مناظر تصویر کہلائیں گے ۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے اور اس کاانکاربداہت کاانکارہے ۔۶․․․․․․عرف کی طرف رجوع کی ضرورت اس بناء پر ہے کہ جاندارکی تصویرحرامت تو ہے، مگرتصویر ہے کیا؟شریعت نے تصویرکی کوئی نپی تلی تعریف نہیں کی ہے ۔ایسے امورجن کی شریعت نے تحدید و تعیین نہ کی ہو،ان میں عرف کو دیکھاجاتاہے اورعرف میں ٹی وی مانیٹروغیرہ پر ظاہر ہونے والی شبیہ کو تصویرہی کہا جاتا ہے ۔عوام و خواص دونوں ہی اسے تصویرہی سمجھتے ہیں۔۷․․․․․کتب لغت کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ تصویرکی حقیقت ”اصل کے مشابہ ہئیت اورشبیہ“بناناہے ۔تصویر کی یہ حقیقت جدید ڈیجیٹل سسٹم میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ تصویر پر حقیقت کا اور نقل پر اصل کا گمان ہو تا ہے۔ اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ: لغت کی رو سے ڈیجیٹل تصویر، تصویر ہی ہے۔ اگر کسی صاحب علم کو اسے لغت کی رو سے تصویر کہنے میں تأمل ہو تو حرج نہیں، ہمارا استدلال پھر بھی قائم رہتا ہے ۔پہلے گذر چکا کہ عرف میں ٹی وی، مانیٹر اور موبائل پر ظاہر ہونے والی شکلوں کو تصویر سمجھا جاتا ہے اور جب لغت اور عرف میں ٹکراوٴ ہو تو پلہ عرف کا بھاری رہتا ہے ۔عرف کو لغت پر فوقیت حاصل ہے ۔ اصول فقہ کے علماء نے تو یہ بھی صراحت کی ہے کہ: قیاس کے ذریعے تو لغت کا اثبات جائز نہیں، مگر عرف کے ذریعے جائز ہے۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ از روئے لغت بھی ڈیجیٹل طریقے کے مطابق بنایا گیا منظر تصویر ہے ۔"
عرف کا دلیل شرعی ہونا کسی لفظ کے معنی میں تو موثر ہے لیکن کسی چیز کی حقیقت و ماہیت بیان کرنے میں ہرگز موثر نہیں۔ سودی بینکوں سے ملنے والی ماہانہ رقم کو عرف میں نفع کہہ دیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی حقیقت و ماہیت میں کوئی فرق نہیں آتا نہ ہی اس کا حکم تبدیل ہوتا ہے۔ لغتاً قہوہ شراب کو کہا جاتا ہے (المعجم الوسیط، مقاییس اللغۃ) اور عرفا قہوہ ایک جائز شے کو کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص شراب کو قہوہ کے نام سے پیے اور عرف سے اس پر دلیل پکڑے تو حکم اس کی حقیقت و ماہیت پر لگے گا نہ کہ اس کے عرفی نام پر۔

سنن ابن ماجہ کی حدیث صحیح ہے: ليشربن ناس من أمتي الخمر، يسمونها بغير اسمها۔

"میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور وہ اس کا نام بدل دیں گے۔" جب عرف میں نام بدل جائے گا تب بھی حکم اس کی حقیقت و ماہیت پر لگے گا۔ آج کل بھی شراب بئیر اور برانڈی وغیرہ کے ناموں سے ملتی ہے لیکن حکم اس کی حقیقت پر ہی لگتا ہے نہ کہ عرف پر۔

عرف کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اس وقت جب ہمارے پاس تصویر کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ حالاں کہ ہمارے پاس لغت سے تصویر کی تعریف لغوی بھی موجود ہے اور نصوص سے اس کی قیود و شرائط بھی۔ اور جب ان دونوں کو جمع کر لیا جائے تو تصویر کی شرعی تعریف حاصل ہو جاتی ہے۔

لغتاً تصویر کی تعریف جو اوپر ذکر بھی کی گئی ہے، یہ ہے:۔

(التصوير) نقش صورة الأشياء أو الأشخاص على لوح أو حائط أو نحوهما بالقلم أو بالفرجون أو بآلة التصوير

(المعجم الوسیط)


اس تعریف کے مطابق تصویر کسی بھی چیز پر صوت "نقش" کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ نقش کسی بھی ذریعے سے ہوتا ہے لیکن کسی چیز پر ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل میں کسی چیز پر نقش نہیں ہوتا بلکہ اسکرین سے ابھرنے والی عارضی روشنیاں ہوتی ہیں۔

تصویر ممنوعہ کے لیے پہلی شرط یا قید ہے کہ وہ جاندار کی ہو۔ یہ قید ان نصوص سے حاصل ہوتی ہے:۔

حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن عمرو ، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أصحاب الصور الذين يعملونها يعذبون بها يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم "

(مسند احمد 14۔505 ط الرسالۃ)

حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا أيوب، عن نافع، عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن المصورين يعذبون يوم القيامة، ويقال: أحيوا ما خلقتم "

(مسند احمد 8۔51 ط الرسالۃ)

قال مسلم: قرأت على نصر بن علي الجهضمي، عن عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا يحيى بن أبي إسحاق، عن سعيد بن أبي الحسن، قال: جاء رجل إلى ابن عباس، فقال: إني رجل أصور هذه الصور، فأفتني فيها، فقال له: ادن مني، فدنا منه، ثم قال: ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور في النار، يجعل له، بكل صورة صورها، نفسا فتعذبه في جهنم» وقال: «إن كنت لا بد فاعلا، فاصنع الشجر وما لا نفس له»

(مسلم 3۔1670 ط دار احیاء التراث العربی)


ان نصوص سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جاندار کی تصویر ممنوع ہے۔

دوسری شرط یہ ہے کہ وہ تصویر بنائی جائے یعنی اس میں صنعت پائی جائے۔ یہ قید مذکورہ نصوص میں لفظ "مصور" سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی نصوص سے اس پر دلالت ہوتی ہے۔

تیسری قید ہے کہ وہ تصویر پائیدار و محفوظ ہو۔ مولانا نجم الحسن امروہوی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قید صنع کے اشارے سے پتا چلتی ہے کہ بنائے گا تو قائم بھی رہے گی۔ بندہ کا خیال ہے کہ یہ قید آئینہ کے استثنا سے معلوم ہوتی ہے کیوں کہ اس میں تصویر پائیدار نہیں ہوتی۔

باقی یہ کہنا کہ آئینہ میں صنعت نہیں ہوتی درست نہیں۔ ہر چیز کی صنعت اس کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ آئینہ کے لحاظ سے صنعت اس کے سامنے آنا ہے۔ اگر کوئی کیمرہ خود کار تصاویر لیتا ہو تو اس کے سامنے آنا بھی صنعت ہوگی۔ وہاں صنعت بٹن دبانا نہیں ہوگی۔

ان تین قیود کو سامنے رکھتے ہوئے لغوی تعریف کی مدد سے ہمارے سامنے یہ شرعی تعریف آتی ہے:

"تصویر ممنوعہ کسی چیز پر کسی جاندار کا پائیدار نقش بنانا ہے۔"

اب اس تعریف کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈیجیٹل تصویر پر تصویر کی تعریف صادق نہیں آتی۔

اس کی دو وجہیں ہیں جو پیچھے بیان ہو چکی ہیں: اول اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ یہ روشنیوں کے اجتماع سے آنکھوں کا دھوکہ ہوتی ہے۔ اور ثانی اس میں پائیداری نہیں ہوتی۔

پہلی وجہ اس تعریف میں ذکر نہیں لیکن اس پر تصویر کی تعریف کی بنیاد ہے۔ اگر کسی چیز کا وجود ہی نہ ہو تو اس پر کوئی تعریف بھی صادق نہیں آ سکتی۔

اب سوال یہ ہوتا ہے کہ جب اس پر تصویر کی تعریف صادق نہیں آتی تو اسے تصویر کا نام کیوں دیا جاتا ہے اور عرف میں تصویر کیوں سمجھا جاتا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مشابہت کی وجہ سے اور بعض مقاصد کے یکساں ہونے کی وجہ سے ہے۔ جدید چیزیں جو تیار کی جاتی ہیں ان پر انہیں اکثر ان سے مشابہ چیزوں کا نام دیا جاتا ہے اور اسی نام سے وہ مشہور ہو جاتی ہیں۔


"۸…امریکہ میں ایک شخص پر اس بناء پر فرد جرم عائد کی گئی ،کہ اس نے بچوں کی کچھ فحش ڈیجیٹل تصاویرمحفو ظ کر رکھی تھیں ،اورکچھ کو بذریعہ کمپیوٹر نشرکر دیا تھا۔ ملز م نے ا علیٰ عدالت میں اپیل کی اور یہ عذر پیش کیا کہ ایسی تصاویرقانون کی رو سے ممنوع ”تصاویر “ نہیں ،لیکن عدالت اپیل نے اس کا یہ موقف مسترد کیا اور اپنے فیصلے میں کمپیوٹر تصاویر کو تصاویرہی تصویر قرار دیا۔"
اس بات کو تو سب ہی مانتے ہیں کہ جو چیزیں عام آنکھ سے دیکھنا درست نہیں انہیں ڈیجیٹل میں دیکھنا بھی درست نہیں۔ لہذا یہ دلیل بے فائدہ ہے۔


"۹…اسکرین پر جو صورت نمودار ہو تی ہے وہ یاتو عکس ہے یا تصویر ہے۔لیکن عکس نہیں ہو سکتی،کیونکہ:الف:۔ عکس صاحبِ عکس کے تابع ہو تا ہے۔جب کہ ڈیجیٹل تصویر ایک مرتبہ بننے کے بعد اصل کے تابع نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مر کھپ گئے ہیں، ان کی تصویر یں دیکھنا آج بھی ممکن ہے ۔جب کہ عکس صاحبِ عکس کے ہٹتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔ب:۔عکس کی حقیقت یہ ہے کہ” کسی چیز پر جو روشنی پڑتی ہے، وہی روشنی اپنی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے۔ جب کہ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت تصویر سازی کرتے وقت روشنیوں کو برقی لہروں میں بدل دیا جاتا ہے، یہ لہریں رموز کی صورت میں پوشیدہ رہتی ہیں اور جب منظر کے اظہار کا وقت آتا ہے تو انہی رموز کی مدد سے کم و بیش قوت کی نئی برقی لہریں پیدا کی جاتی ہیں اور اصل منظر کے مشابہ منظر وجود میں لایاجاتاہے ۔اس تجزیئے سے واضح ہوا کہ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جو روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے، وہ روشنی اصل منظر پر پڑ کر منعکس ہونے والی روشنی نہیں ہو تی اور نہ ہی وہ روشنی اپنی حالت پر برقرار رہتی ہے۔اس لئے ڈیجیٹل سسٹم کے تحت بنائے گئے مناظر میں اور عکس میں فنی وجوہ سے فرق ہے، ایسے مناظر کو عکس کہنا درست نہیں۔ج… جس طرح کی تصویر سازی جس زمانے میں رائج، تھی فقہاء نے اسی کے مطابق تصویر کی تعریف کی ہے۔فقہاء کی تعریفات کا قدر مشترک یہ ہے کہ” اصل منظر جیسی شبیہ بنانا ،تاکہ اصل کا تصور ہو جائے “ لہٰذا اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جو بھی طریقہ کاراختیار کیا # جائے گایا جو بھی آلات استعمال کئے جائیں گے، اس سے حکم شرعی میں فرق نہیں پڑے گا۔کیونکہ آلات اور ذرائع غیر مقصود ہوتے ہیں۔"
اس کے بارے میں وضاحت پیچھے گزر چکی ہے۔ ڈیجیٹل عکس نہیں ہوتا بلکہ عکس کے قریب ہوتا ہے۔ دونوں ناپائیداری میں یکساں ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں کے بننے کی ترکیب مختلف ہوتی ہے۔ کسی چیز کا حصر تصویر یا عکس میں کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔

جس طرح انعکاس کے اس مذکورہ قاعدے سے عکس کے اوپر قیاس کو تسلیم نہیں کیا گیا اسی طرح انعکاس کے اسی قاعدے سے تصویر کے اوپر بھی اس کا قیاس درست نہیں کیوں کہ تصویر بھی تب نظر آتی ہے جب اس سے روشنی کا انعکاس ہو۔ نہ کہ روشنی کے انعطاف کے ذریعے نظر آتی ہے۔


"۱۰…کمپیوٹر پہلے پہل صرف حساب و کتاب کے لئے ڈیزائن کیا گیاتھا، خود کمپیوٹر کا مطلب بھی حساب کتاب یا گننا و شمار کرنا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کا فی عرصے تک کمپیوٹر کا ماحول تحریر رہا ،یعنی ہم کمپیوٹر پر صرف اعداد و حروف ہی دیکھ سکتے تھے ۔مگر جب سے ”ونڈوز ‘ ‘کے پروگرام آئے ہیں، کمپیوٹر، آواز اور تصویر کی رنگ برنگی دنیا میں پہنچ گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کمپیوٹر پر تحریر ہو یا تصویر ، دونوں روشنی کے چھوٹے چھوٹے نکات کا مجموعہ ہیں ۔او ر دونوں کی پائیداری اورنہ پائیداری یکساں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ کمپیوٹر اور موبائل پر لکھی جانی والی تحریر تو تحریر ہے، مگر ٹی وی اور موبائل پربنائی جانے والی تصویر، تصویر نہیں "
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کمپیوٹر کی تحریر ہو یا تصویر دونوں ایک ہی چیز ہوتی ہیں اور دونوں کو مشابہت کی وجہ سے تحریر و تصویر کا نام دیا جاتا ہے۔


"ایک شخص اپنے بیوی کو بذریعہ( ایس ایم ایس) یا ای میل )طلاق بھیجتا ہے تو کوئی بھی فقیہ اس کی تحریر کو پانی یا ہوا پر لکھی جانی والی تحریر قرار دیکر غیر موٴثر نہیں کہتا ۔"
طلاق وغیرہ میں حکم اس شخص کے فعل پر لگتا ہے نہ کہ میسج کی ذات پر۔ اگر وہ میسج مطلوبہ شخص کو نہ پہنچے تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

بعض اہل علم نے مختلف نصوص سے صورت کا اطلاق نور پر ثابت فرمایا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب نور کو صورت کہا جا سکتا ہے تو نور سے بنی ہوئی صورت کے بنانے کو تصویر بھی کہا جائے گا۔ اس پر دلیل وہ نصوص ہیں جن میں فرشتے کی صورت کا ذکر ہے جب کہ فرشتہ نور سے بنا ہوتا ہے۔

اس پر عرض یہ ہے کہ اللہ پاک کی بنائی ہوئی تینوں مخلوقات یعنی انسان، جن اور فرشتے مجسم ہیں۔ یعنی ان کے مادے اپنے منبع سے جدا ہو کر قائم ہوتے ہیں۔ فرشتہ کا نور اس کے منبع سے قائم نہیں ہوتا جہاں سے نور کا اخراج ہو رہا ہو اور نہ ہی اس نور کے ذرات منتشر حالت میں کسی جانب سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ نور جمع ہو کر ایک ایسا جسم بناتا ہے جو بوقت ضرورت ٹھوس افعال بھی انجام دے سکتا ہے۔ یہ صرف اللہ پاک کی ہی قدرت میں ہے۔ اسی لیے اس پر صورت کا اطلاق درست ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنا وجود بھی رکھتا ہے۔

اس کے برعکس اسکرین پر جلنے والے بلب جو روشنی خارج کرتے ہیں ان کے ذرات اپنی سمتوں میں منتشر اور محو سفر ہوتے ہیں۔ وہ ایک جگہ جمع ہو کر کوئی جسم نہیں بناتے۔

دوسری بات یہ اشاد فرمائی جاتی ہے کہ یہ تصویر محفوظ ہوتی ہے۔ تو اس کے بارے میں وضاحت پہلے عرض ہو چکی ہے کہ صرف محفوظ ہونا قبیح نہیں۔ اور جس حالت میں محفوظ ہوتی ہے وہ تصویر کی حالت نہیں ہوتی۔

تیسری بات دوسرے مرحلے یعنی ڈیجیٹل کے محفوظ ہونے کی حالت میں حرام ہونے کے بارے میں کی جاتی ہے۔ اور اسے نیگیٹو پر قیاس کیا جاتا ہے۔ نیگیٹو کی تصویر جو حرام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آئیندہ چل کر اس کا صرف ایک ہی استعمال ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے تصویر محرمہ کے لیے استعمال کیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس سیو شدہ یہ سگنلز اسکرین پر بھی دیکھنے میں استعمال ہو سکتے ہیں اور پرنٹ نکالنے میں بھی۔ بلکہ اکثر استعمال ان کا اسکرین پر ہی ہے۔ اور ہم نے اوپر ثابت کیا کہ اسکرین کی تصویر تصویر حرام نہیں۔ تو جب کسی چیز کے دو استعمالات ہوں تو وہ حرام نہیں رہتی۔ جیسے کہ انگور کے شیرہ سے شراب بھی بنتی ہے اور بغیر شراب بنائے بھی استعمال ہوتا ہے تو شیرہ نچوڑنا، رکھنا اور بیچنا سب جائز ہے۔

چوتھی بات یہ کی جاتی ہے کہ چیز پر حکم اس کے وجود میں آنے کے بعد کی حالت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس پر دلیل بیض طیر وغیرہ سے دی جاتی ہے۔ اسی طرح سبب بعید کے حرام ہونے کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن ڈیجیٹل کی وجود میں آنے کے بعد کی دو حالتیں ہیں۔ ایک جائز اور ایک ناجائز۔ اور ایسی صورت میں بالاتفاق جواز ثابت ہوتا ہے جیسا کہ عصیر عنب کی مثال گزر چکی ہے۔ اس کی فقہ میں اور بھی بے شمار نظیریں ہیں جیسے اسلحہ کا بنانا وغیرہ۔ اس کے برعکس حمل اور بیض طیر کی ایک ہی آئیندہ صورت ہے اور وہ ایک زندگی کا وجود ہے۔ خراب ہونے کے احتمال کو نہیں دیکھا جاتا۔ لہذا اسی صورت کے لحاظ سے حکم لگایا جائے گا۔ ان دونوں میں واضح فرق ہے اور اس فرق کے باوجود انہیں حکم میں یکجا کرنا مناسب نہیں۔


اوپر موجود تمام بحثوں کا خلاصہ یہ نکلا کہ:۔

1: تصویر کا وجود ہوتا ہے جس سے روشنی منعکس ہوتی ہے جب کہ ڈیجیٹل میں ایسا وجود نہیں ہوتا۔

2: تصویر پائیدار ہوتی ہے جب کہ ڈیجیٹل پائیدار نہیں ہوتی۔

3: لائیو اور سیو شدہ ڈیجیٹل عمل میں یکساں ہوتی ہیں۔ لائیو کو جائز قرار دینے کی صورت میں ڈیجیٹل کو بھی جائز قرار دیا جانا چاہیے۔

4: تصویر کی اصل حالت میں تبدیلی نہیں ہوتی جب کہ ڈیجیٹل میں ہو جاتی ہے۔

5: ڈیجیٹل ایک یاد کی مثل ہوتی ہے۔ جسے بعض روشنیوں کے اجتماع سے دکھایا جاتا ہے۔

6: یہ سبب شرک عموما نہیں ہوتی۔

7: یہ تصویر اعداد کی نہیں بلکہ برقی سگنلز (اشاروں) کی صورت میں محفوظ ہوتی ہے۔

8: تصویر کی ممانعت سے شریعت کا منشا جاندار کی شبیہ ایسی حالت میں محفوظ کرنے سے روکنا ہے جس میں وہ کوئی حسی وجود رکھے۔

9: جذبات اور نتائج کے مشابہ ہونے سے حکم لگانا درست نہیں۔

10: تصویر اور ڈیجیٹل میں ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے اور اسی وجہ سے اسے تصویر کہا جاتا ہے۔

11: تصویر کی حقیقت کے معلوم ہونے کی وجہ سے عرف کی طرف رجوع نہیں کیا جائے گا۔ اور اشیاء کی حقیقت کو عرف تبدیل نہیں کر سکتا۔

12: چوں کہ یہ تصویر کی بنسبت آنکھ سے دیکھنے اور عکس کے زیادہ قریب ہے اس لیے جو چیز آنکھ سے دیکھنا جائز نہیں وہ ڈیجیٹل حالت میں بھی جائز نہیں ہے۔

13: نصوص میں نور مجسم پر صورت کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اسکرین کی حالت اس سے بہت مختلف ہے۔

14: اس کی محفوظ حالت کو نیگیٹو پر قیاس کرنا درست نہیں۔


نصوص سے تصویر کی حرمت قطعی ہے لیکن ڈیجیٹل تصویر کا تصویر کی تعریف میں داخل ہونا محل نظر ہے۔ اس لیے اس پر ان نصوص کا اطلاق نہیں ہوگا۔


حکم:۔


اس مکمل بحث کے نتیجے میں ہم یہ حکم لگا سکتے ہیں کہ ڈیجیٹل تصویر کھینچنا، رکھنا اور اسکرین پر دیکھنا جائز ہے۔ اس کا پرنٹ نکالنا یا نکلوانا قطعاً ناجائز ہے۔ اس کے کھینچنے میں اگر نیت ناجائز ہوگی تو کھینچنا بھی ناجائز ہوگا اور اگر نیت جائز ہوگی تو کھینچنا جائز ہوگا۔ اور جن چیزوں کو آنکھ سے دیکھنا منع ہے ان کی تصویر کھینچنا، رکھنا اور دیکھنا بھی منع ہے۔

اہل تقوی کو چاہیے کہ اس سے احتیاطاً اجتناب ہی کریں اور صرف ضرورت شدیدہ میں اسے استعمال کریں۔

واللہ اعلم بالصواب۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,434
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
خضر بھائی کیا آپ اس تھریڈ کو اوپن فورم میں کاپی کر دیں گے؟
میرا خیال ہے علماء کرام کو اس کے مندرجات پر کوئی اعتراض نہیں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,434
پوائنٹ
964
خضر بھائی کیا آپ اس تھریڈ کو اوپن فورم میں کاپی کر دیں گے؟
میرا خیال ہے علماء کرام کو اس کے مندرجات پر کوئی اعتراض نہیں۔
منتقل کردیا گیا ہے ۔
 
Top