• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کاشان میں ابو لؤلؤہ کا مزار: تاریخ کا ایک تہلکہ خیز پوسٹ مارٹم — آثارِ قدیمہ اور سائنس کی عدالت میں!

ملک اعوان

مبتدی
شمولیت
جون 27، 2026
پیغامات
24
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
10
کاشان میں ابو لؤلؤہ کا مزار: تاریخ کا ایک تہلکہ خیز پوسٹ مارٹم — آثارِ قدیمہ اور سائنس کی عدالت میں!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

محترم قارئین و علماء کرام، ہم عموماً ایران کے شہر 'کاشان' میں موجود ابو لؤلؤہ (قاتلِ عمرؓ) کے مزار کا رد خالص مذہبی اور عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ لیکن آج ہم اس بحث کو ایک بالکل نئے، سائنسی اور اکیڈمک لیول پر لے کر جا رہے ہیں۔

آج کل یوٹیوب پر حسن اللہ یاری جیسے غالی مناظرین عوام کو یہ کہانی سناتے ہیں کہ ابو لؤلؤہ نے حضرت عمرؓ پر حملے کے بعد معجزاتی طور پر اڑ کر (طی الارض کے ذریعے) ایران کے شہر کاشان میں پناہ لی تھی۔ اللہ یاری اس کے لیے 17ویں صدی کی کتاب 'بحار الانوار' کا حوالہ دیتا ہے اور اسے "بابا شجاع الدین" کہتا ہے۔ اور اگر کوئی اسے بتائے کہ خود موجودہ شیعہ علماء اس مزار کو نہیں مانتے، تو وہ انہیں "بُتری" (بزدل/حکومتی ایجنٹ) کہہ کر گالیاں دیتا ہے۔

آئیے جذبات کو ایک طرف رکھ کر، آثارِ قدیمہ (Archaeology)، لسانیات (Linguistics) اور خود مستند شیعہ کتابوں سے اس کہانی کے پرخچے اڑاتے ہیں:
1. پتھر جھوٹ نہیں بولتے

(آثارِ قدیمہ کا ثبوت)

تاریخ بتاتی ہے کہ ابو لؤلؤہ 7ویں صدی (644 عیسوی) میں مدینہ میں مارا گیا۔ لیکن جب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کاشان کے اس مزار کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ تو 14ویں صدی (ایلخانی دور) کا ہے!
اس سے بھی بڑا دھماکہ یہ ہے کہ مزار کے اندر موجود پرانے کتبے (پتھر) پر 777 ہجری (1375ء) کی تاریخ درج ہے۔ اور اس کتبے پر ابو لؤلؤہ کا نام تک نہیں! بلکہ عربی میں لکھا ہے: "یہ اللہ کے نیک عبادت گزار غلام کی قبر ہے"۔ یعنی یہ عمارت صدیوں بعد غالباً کسی مقامی صوفی بزرگ کی یاد میں بنی تھی، جسے بعد کے ادوار میں ہائی جیک کر کے ابو لؤلؤہ کا نام دے دیا گیا۔

2. "بابا شجاع الدین" —

ایک تاریخی اور لسانی بلنڈر

اللہ یاری اور صفوی دور کی کتابیں اسے "بابا شجاع الدین" کہتی ہیں۔ لیکن ماہرینِ لسانیات (Linguists) بتاتے ہیں کہ لفظ "بابا" (جیسے بابا فرید، بابا طاہر) صوفیوں اور بزرگوں کے لیے 11ویں صدی کے بعد استعمال ہونا شروع ہوا۔ 7ویں صدی کے عرب یا ساسانی ایران میں کسی شخص کو "بابا" کہنے کا کوئی رواج ہی نہیں تھا۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ مغل بادشاہ بابر کے ہاتھ میں آئی فون تھا! یہ لقب صدیوں بعد گھڑا گیا۔

3. اڑنے والی کہانی کا "بدلتا ہوا جی پی ایس (GPS)"
اللہ یاری کہتا ہے وہ اڑ کر کاشان گیا۔ لیکن اگر ہم 7ویں صدی ہجری کے شیعہ عالم عماد الدین طبری کی کتاب 'کامل بہائی' پڑھیں، تو اس میں لکھا ہے کہ وہ اڑ کر "قم" پہنچا تھا۔ لیکن جب ہم 400 سال بعد صفوی دور کی 'بحار الانوار' پڑھتے ہیں، تو کہانی کا روٹ بدل چکا ہے اور وہ اڑ کر "کاشان" پہنچ گیا ہے! سوال یہ ہے کہ معجزے کی لوکیشن 400 سال بعد قم سے کاشان کیسے شفٹ ہو گئی؟

4. اصل کھیل:

مذہب نہیں، جیو پولیٹکس تھی!

یہ مزار دراصل 16ویں صدی کے صفوی بادشاہوں کی ایک زبردست سیاسی چال تھی۔ ان کی عثمانی سلطنت (ترکی) سے جنگیں چل رہی تھیں۔ اپنی عوام کے جذبات بھڑکانے اور ایک الگ پہچان بنانے کے لیے انہوں نے اس مزار کو پروموٹ کیا۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب 1555ء میں صفویوں اور عثمانیوں کے درمیان صلح کا مشہور "معاہدہ اماسیا" ہوا، تو عثمانیوں نے سفارتی شرط رکھی کہ آپ کو خلفائے راشدین پر یہ سرکاری گالی گلوچ (تبرا) بند کرنا پڑے گا، اور صفویوں نے یہ شرط مان لی۔ یعنی یہ رسومات خالص سیاسی ہتھیار تھیں۔

5. گھر کی گواہی:

خود مستند شیعہ علماء کا فیصلہ

اللہ یاری جیسے لوگ عوام کو بے وقوف بناتے ہیں، لیکن خود شیعہ مکتبہ فکر کے سب سے بڑے اور سنجیدہ علماء اس مزار کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں:
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی (موجودہ مرجع): "ابو لؤلؤہ کے کاشان بھاگ کر آنے کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں۔ تاریخ کے مطابق وہ مدینہ میں ہی مارا گیا تھا۔ یہ مزار بے بنیاد ہے۔"

رسول جعفریان (ایران کے سب سے بڑے شیعہ مورخ): انہوں نے واضح لکھا ہے کہ یہ کہانیاں صفوی دور میں سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئیں۔

آیت اللہ محمد علی تسخیری:

انہوں نے
2007 میں واضح اعلان کیا کہ "کاشان میں موجود یہ قبر ایک جعلی (Fake) قبر ہے۔" اور انہی کے مشورے اور انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز (IUMS) کے دباؤ پر ایرانی حکومت نے 2007 میں اس مزار کو زائرین کے لیے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

خلاصہِ تحقیق:

کاشان کا یہ مزار 7ویں صدی کی کوئی اصل قبر نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں میں گھڑی گئی ایک "تہہ در تہہ کہانی" (Layered Historical Phenomenon) ہے۔ عمارت کسی اور دور کی ہے، لقب کسی اور دور کا ہے، اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کسی اور دور میں کیا گیا۔

آج کے بعد جب کوئی اس مزار کا دفاع کرے، تو اسے فتوے نہ دیں، بلکہ اس سے 777 ہجری کے کتبے، لسانیات اور آیت اللہ مکارم شیرازی کے فتوے کا جواب مانگیں!
تحقیق اور سچائی کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
والسلام۔

اللہ یاری کا ہوسٹ مارٹم جاری رکھیں گے ۔
 
Top