• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کعبہ پر نازل ہونے والی رحمتیں

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
السلام علیکم ورحمتہ اللی وبرکاتہ
کیا اسطرح کی کوئی روایت ہے جس میں روزانہ کعبہ پر 120 رحمتیں نازل ہونے کا بیان ہو.اگر ہاں تو اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے...

Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمتہ اللی وبرکاتہ
کیا اسطرح کی کوئی روایت ہے جس میں روزانہ کعبہ پر 120 رحمتیں نازل ہونے کا بیان ہو.اگر ہاں تو اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے...
Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائی یہ بات ایک حدیث میں منقول ہے ، جو درج ذیل ہے
حدثنا الحسين بن إسحاق التستري، ثنا خالد بن يزيد العمري، ثنا محمد بن عبد الله بن عبيد الليثي، عن ابن أبي مليكة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ينزل الله كل يوم عشرين ومائة رحمة ستون منها للطوافين، وأربعون للعاكفين حول البيت، وعشرون منها للناظرين إلى البيت»
ترجمہ :
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
اللہ تعالی ہر روز ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں کیلئے ، اور چالیس حرم میں اعتکاف کرنے والوں کیلئے
اور بیس رحمتیں کعبۃ اللہ کو دیکھنے والوں کو ملتی ہیں ‘‘ (المعجم الكبير للطبرانی حدیث : 11248 )
اس کی سند میں ’’ خالد بن یزید العمری نامی راوی جھوٹا ہے ، یہ ثقہ رواۃ کے حوالے سے من گھڑت روایات روایت کرتا تھا ،
" خالد بن يزيد العمري أبو الوليد: روى عن الثوري, وعنه أبو زرعة,
متهم بالكذب,
الجرح 3/360 رقم1630 المجروحين 1/284 اللسان 2/389 رقم 1598
وقال الذہبی فی المیزان :خالد بن يزيد، أبو الهيثم العمري المكي.
عن ابن أبي ذئب، والثوري.
كذبه أبو حاتم، ويحيى.
وقال ابن حبان: يروى الموضوعات عن الاثبات.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی روایت کو دوسری اسناد سے امام ابن حبان نے ’’ کتاب المجروحین ‘‘ میں (يُوسُفُ بْنُ الْفَيْضِ ) کے ترجمہ میں
روایت کیا ہے ، جو درج ذیل ہے :
عَنْ بن عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن لِلَّهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِائَةً وَعِشْرِينَ
رَحْمَةً تَنْزِلُ عَلَى أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ سِتُّونَ لِلطَّائِفِينَ وَأَرْبَعُونَ لِلْمُصَلِّينَ وَعِشْرُونَ لِلنَّاظِرِينَ
أَخْبَرَنَاهُ الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْفَيْضِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
اللہ تعالی ہر روز کعبۃ شریف میں آنے والوں پر ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں کیلئے ، اور چالیس حرم میں نماز پڑھنے والوں کیلئے ، اور بیس رحمتیں کعبۃ اللہ کو دیکھنے والوں کو ملتی ہیں ‘‘
یہ روایت بھی حد درجہ ضعیف اور ناکارہ ہے ، کیونکہ اس کا ایک راوی ’’ یوسف بن الفیض ‘‘ کے بارے امام ابن حبان لکھتے ہیں :
يُوسُف بن الْفَيْض شيخ يروي عَن الْأَوْزَاعِيّ الْمَنَاكِير الْكَثِيرَة والأوهام الْفَاحِشَة كَأَنَّهُ كَانَ يعملها تعمدا لَا يَجُوز الِاحْتِجَاج بِهِ بِحَال روى عَنهُ سعيد بن يَعْقُوب الطَّالقَانِي وَعبد الله بن عمرَان ‘‘
یعنی یہ منکر اور اغلاط سے بھر پور روایات بیان کیا کرتا تھا ، اس کی احادیث لائق احتجاج نہیں ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہی روایت علامہ أبو الوليد محمد بن عبد الله الأزرقي (المتوفى: 250 ھ) نے
اپنی کتاب (أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار ) میں درج ذیل اسناد سے نقل فرمائی ہے :
حدثنا أبو الوليد قال: حدثنا جدي، حدثني داود بن عبد الرحمن، قال: حدثني أبو بكر المقدمي البصري، حدثنا إسماعيل بن مجاهد، حدثنا الأوزاعي، عن حسان بن عطية، «أن الله عز وجل خلق لهذا البيت عشرين ومائة رحمة , ينزلها في كل يوم , فستون منها للطائفين، وأربعون للمصلين , وعشرون للناظرين» ، قال حسان: فنظرنا فإذا هي كلها للطائفين , هو يطوف ويصلي وينظر
اس کتاب کے محقق الدکتورعبد الملک بن عبد اللہ دھیش نے اس کی تحقیق میں اسے ’’ حسن ‘‘ کہا ہے ،(دیکھئے : اخبار مکہ جلد اول ، صفحہ ۵۰۰ )
مطلب یہ کہ : ’’ اخبار مکہ ‘‘ کی روایت قابل اعتبار ہے۔۔۔ لہذا یہ کعبہ شریف میں روزانہ رحمتوں کے نزول کی بات صحیح ہے ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:
Top