علی محمد
رکن
- شمولیت
- مارچ 03، 2023
- پیغامات
- 61
- ری ایکشن اسکور
- 2
- پوائنٹ
- 40
کلمات جو سنت سے ثابت ہیں
اشْهَدُ انْ لّآ اِلهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً رَسُولُ اللہ*
(اخرجہ بخاري حدیث نمبر462,3861 و اخرجہ مسلم حدیث نمبر 93- یشْهَدُ انْ لّآ اِلهَ اِلَّا اللّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدً رَسُولُ اللہ)
اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ*
(اخراجہ بخاري4372,)
اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھدان محمدا عبدہ ورسولہ*
(اخراجہ بخاري, مسلم)
لا إله إلا الله*
(اخراجہ بخاري حد یث نمبر-44 ومسلم11)
یہ کلمات صحیح حدیث سے ثابت ہیں صحابہ کرام اور نبی کریم ہمیشہ ان پر عمل پیرا رہے ہیں .
__________________________________
کلمات جو بدعت ہیں۔
لا إله إلا الله محمد رسول الله *
(اخرجہ فی ضعیف ،موضوع الحدیث من البيهقی اسماء و صفات 195 و طبرانی )
لا إله إلا الله محمد رسول الله علی ولی اللہ*
(اخرجہ اہل تشیع)
یہ کلمات ضعیف اور موضوع حدیث میں آئے ہیں نبی اکرم اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے اس لئے ان پر عمل کرنا بدعت کے زمرے میں اتا ہے۔
کچھ حلقوں کی جانب سے کلمۂ طیبہ کے مخصوص الفاظ “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کو ثابت کرنے کے لیے امام بیہقی کی کتاب "الاسماء والصفات" کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس طرزِ استدلال پر درج ذیل ٹھوس علمی و اصولی اعتراضات ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں:
۱. کتاب کی حیثیت:
امام بیہقی کی یہ کتاب "الاسماء والصفات" ائمۂ حدیث کے ہاں اس مقام و مرتبے کی حامل نہیں ہے کہ اس سے دین کے بنیادی عقائد یا فقہی مسائل اخذ کیے جائیں۔ خاص طور پر دین کا پہلا رکن (توحید و رسالت کا اقرار)، جو کہ قطعی ثبوت کا متقاضی ہے، اسے ایسی کتاب سے اخذ کرنا، جس کی علمی حیثیت محض ثانوی ہے، بالکل غلط ہے۔
۲. تصحیح کا فقدان :
اس کتاب میں موجود متعلقہ روایت کی تصحیح (اسے صحیح قرار دینا) کسی بھی مشہور اور معتبر محدث سے ثابت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ خود اس کتاب کے مصنف، امام بیہقیؒ، نے بھی اس روایت کی تصحیح نہیں کی، جو کہ بذاتِ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جن محدثین کی تصحیح پر امت کا اجماع اور اعتماد ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس روایت کو "صحیح" نہیں کہا۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ کسی مستند محدث کے قول کے بغیر خود سے اس کی تصدیق کرتے ہیں، جو کہ اصولِ حدیث کے خلاف ہے۔
۳. مردود اور شاذ روایت:
اصولِ حدیث کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ صرف سند یا متن کا بظاہر درست ہونا حدیث کے صحیح ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔ بہت سی احادیث ایسی ہوتی ہیں جن کی سند بظاہر جڑی ہوئی ہوتی ہے، لیکن وہ "شاذ" یا "مردود" کے درجے میں آتی ہیں، اسی لیے محدثین نے انہیں رد کر دیا۔ یہ روایت بھی اسی زمرے میں آتی ہے، کیونکہ اسے امت کے جلیل القدر ائمہ کی تائید حاصل نہیں ہے۔
۴. فقہاء اور محدثین کا طرزِ عمل:
تاریخِ اسلام میں کسی نامور فقیہ یا محدث نے کلمہ جیسے عظیم مسئلے کے لیے اس کتاب کو بطور دلیل پیش نہیں کیا۔ اگر یہ روایت قابلِ حجت ہوتی تو کتبِ ستہ کے محدثین یا ائمۂ اربعہ اور متقدمین (دورِ اول کے محدثین) اسے ضرور نقل فرماتے۔ اس کتاب پر ائمہ کا خاموش رہنا، یا اس سے استدلال نہ کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بابِ عقائد میں قابلِ قبول نہیں ہے۔
۵. متاخرین کی تصحیح کا اشکال:
متاخرین میں سے آج کے دور کے بعض لوگ اس روایت کو صحیح قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ نہ ان کے پاس وہ وسائل ہیں، نہ وہ اسباب، اور نہ ہی وہ علمی امکانات جو متقدمین کے پاس تھے، جیسے اسماء الرجال پر عمیق تحقیق، طرق کا کامل احاطہ اور عللِ حدیث کی باریک پہچان۔ ایسی صورت میں ان کی انفرادی تصحیح کسی طور بھی ائمۂ متقدمین کے مقابل معتبر نہیں ہو سکتی۔
۶. دین کے پہلے رکن کی حساسیت:
دین کی بنیاد (کلمہ) ایسے مضبوط دلائل پر ہونی چاہیے جن پر ائمہ کا اتفاق ہو۔ کسی ایسی کتاب کی غیر معروف روایت، جسے خود فنِ حدیث کے ماہرین نے نظر انداز کیا ہو، اور نہ ہی خود اس کے مصنف نے اس کی تصحیح کی ہو، اسے بنیاد بنا کر کلمہ ثابت کرنا علمی بددیانتی ہے۔
خلاصہ:
یہ کتاب اور اس میں موجود روایت اصولِ حدیث پر کئی اعتراضات کی زد میں ہے جمہور سلف کہ خلاف اور بے حد شاذ ہے۔ اس سے دین کا پہلا رکن اخذ کرنا کسی بھی صورت درست نہیں ہے۔
شہادتین اسلام کا پہلا رکن ہے، اور اس کے الفاظ توقیفی ہیں (یعنی وحی کے ذریعے مقرر کیے گئے ہیں، ناقابلِ تحریف)؛ اس لیے انہیں سنت کے مطابق ہی پڑھنا لازم ہے، بصورتِ دیگر انسان ابھی تک دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوا بلکہ کافر ہی ہے۔
Last edited: