• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کورونا وائرس سے احتیاط اور احادیثِ نبویہﷺ کی رہنمائی

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,333
ری ایکشن اسکور
9,944
پوائنٹ
667
چہارم: مساجد میں میل جول کی ممانعت اور صفوں کے درمیان فاصلہ
مذكوره بالا احادیث میں متاثرہ علاقوں میں آمد ورفت کے ساتھ ساتھ مریض شخص سے میل جول کی ممانعت کی گئی ہے،اور متعدی مریضوں حتیٰ کہ جانوروں سے بھی فاصلے کی تلقین کی گئی ہے۔ احتیاطی تدابیر کی مشروعیت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی تدابیر ہیں جن کی شرعی احکام میں گنجائش ہو، جیساکہ مساجد میں اجتماعی عبادات کے بہت سے مسائل ہیں، جن میں چند احتیاطی امکانات درج ذیل ہیں:
a شرعی ضرورت کے وقت اور غیرمعمولی حالات میں نمازیں جمع کرنے کی شرع میں رخصت موجود ہے، جیسا کہ سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ
جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ. فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ. قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.[1]
’’رسول اللّٰہ ﷺ نے ظہر،عصر اور مغرب،عشا کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔وکیع کی روایت میں ہے( کہ سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس ؓسے پوچھا:آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا:تاکہ اپنی اُمت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔‘‘
سیدنا ابان ؓبن عثمانؓ نے بارش والی ایک رات میں مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھا ، اور کبار تابعی علما کی ایک جماعت ان کے ساتھ تھی، تو کسی نے بھی ان کی مخالفت نہ کی، چنانچہ اس مسئلہ پر اجماع ہے۔ [2]
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے لیکن شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز لکھتے ہیں کہ
الجمع رخصة عند نزول المطر أو عند المرض وفي السفر كذلك، الله جل وعلا يحب أن تؤتى رخصه، فإذا نزل بالمسلمين مطر يشق عليهم معه أداء الصلاة في وقتها، العشاء أو العصر مع الظهر فلا بأس أن يجمعوا كما يجمع في السفر، المسافر يجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء...والصواب أنه غير منسوخ لكن المحمول على أنه جمع لعذر شرعي غير الخوف وغير المطر وغير السفر كالدحض، فإن الدحض عذر شرعي أيضًا، فإذا كانت الأسواق فيها زلق وطين حول المسجد ولو لبعض الجماعة فإن هذا عذر... وإذا تركوا الجمع بين الظهر والعصر خروجًا من الخلاف وصبروا على بعض المشقة فهذا حسن إن شاء الله.[3]
’’بارش، مرض اور سفر کے وقت نماز جمع کرنے کی رخصت ہے۔ اور اپنی دی ہوئی رعایتوں سے فائدہ اٹھانا اللّٰہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ سو جب مسلمانوں پر بارش آئے جس سے اپنے وقت پر نماز ادا کرنا مشکل ہوجائے تو وہ سفر کی طرح ظہر وعصر او ر مغرب وعشاء کو جمع کرسکتے ہیں۔ اور درست یہ ہے کہ حدیث منسوخ نہیں بلکہ خوف، بارش اور سفرکے علاوہ مزید کسی شرعی عذر اور ركاوٹ کی صورت میں بھی نمازوں کو جمع کیا جاسکتا ہے کیونکہ رکاوٹ بھی ایک شرعی عذر ہے۔ سو جب بازاروں میں ، مسجدوں کے گرد پھسلن اور کیچڑ ہو، چاہے بعض لوگ ہی اس سے متاثر ہوں تو یہ عذر ہے ۔ اگر بعض لوگ اختلاف سے بچتے ہوئے ظہر وعصر کو جمع نہ کریں اور مشقت پر صبر کریں تو یہ بھی اچھا ہے۔ ‘‘
b اسی طرح مرض اور خوف کی مشکل ترین حالت میں نمازِ باجماعت کو ترک بھی کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں دورانِ جہاد، صلاۃِ خوف کے سلسلے میں آتا ہے :
﴿فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ(البقرۃ: 239)
’’اگر تم حالت خوف میں ہو تو خواہ پیدل ہو یا سوار (تو جیسے ممکن ہو نماز ادا کر لو)۔‘‘
شیخ عبد العزیز بن باز  لکھتے ہیں:
فإنهم يصلون رجالا وركبانا ولو بالإيماء، كل يصلي لنفسه مستقبل القبلة، وغير مستقبلها عند الضرورة كما قال الله جل وعلا: ﴿فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ[4]
’’دوران جہاد پیادہ یا سوار، ہرحالت میں حتی کہ اشارہ کے ساتھ بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ہر شخص اپنے تئیں قبلہ رخ ہوکر نماز پڑھ لے، اور حسب ضرورت قبلہ کے علاوہ دوسری سمت بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔‘‘
c اور سیدنا عبد الله بن عباس﷜ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ» قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «خَوْفٌ، أَوْ مَرَضٌ». لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى.[5]
” جس نے مؤذن کو سنا اور اس کی اتباع کرنے میں (مسجد میں آنے سے ) اسے کوئی عذر مانع نہ ہوا ۔“ ... سننے والوں نے پوچھا : عذر سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا :” کوئی خوف یا بیماری ‘‘... تو ایسے آدمی کی نماز جو وہ پڑھے گا، مقبول نہ ہو گی ۔ “
اس حدیث کی سند میں جو کلام ہے، وہ عذر کی وضاحت یعنی خوف اور مرض کی حد ہے۔ کیونکہ سنن ابن ماجہ میں سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس کا یہی فرمان بالکل صحیح سند کے ساتھ ان الفاظ میں موجو د ہے:
«مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ».[6]
’’جو شخص اذان سن کر( نماز کے لیے مسجد میں)نہیں آتا، اس کی کوئی نماز نہیں، الّا یہ کہ کوئی عذر ہو۔‘‘
كشاف القناع میں ان اعذار کا تذکرہ کرتے ہوئے ، جن کی بنا پر جمعہ اور جماعت کو چھوڑنے کی اجازت ہے، امام منصور بن يونس ادريس بہوتی حنبلی (م 1051ھ) لکھتے ہیں:
(وَكَذَا مَنْ بِهِ بَرَصٌ جُذَامٌ يُتَأَذَّى بِهِ) قِيَاسًا عَلَى أَكْلِ الثُّومِ وَنَحْوِهِ، بِجَامِعِ الْأَذَى وَيَأْتِي فِي التَّغْرِيرِ مَنْعُ الْجَذْمَى مِنْ مُخَالَطَةِ الْأَصِحَّاءِ.[7]
’’اسی طرح کوڑھ اور برص کی بیماری ہے جس میں لہسن وپیاز پر قیاس کیا گیا ہے جو سب اذیت کو یکجا کرنیوالے ہیں۔ اور تغریر میں بھی کوڑھی کی صحت مندلوگوں سے میل جول کی ممانعت آئی ہے۔‘‘
مذکورہ آیتِ کریمہ اور احادیث سے علم ہوا کہ کسی شرعی عذر کی بنا پر فرض نماز کو جمع کیا جاسکتا ہے اور اسے جماعت کے بغیر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ متعدی اور وبائی امراض بھی ، مرض اور خوف کی سنگین صورت ہیں، جب وہ کسی علاقے میں فی الحقیقت پائے جائیں، نہ کہ محض میڈیا کے زور پر ان کا خوف مسلط کردیا گیا ہو۔ اس بنا پر بیماری کے حقیقی خوف سے فرض نماز مسجد میں جمع کرنے اور گھر میں بھی پڑھنے کی رخصت ہے۔
d ان احادیث میں رخصت واجازت کی بات ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ صرف انفرادی رخصت کا معاملہ ہے یا مسلم حکومت بھی اس بات کی مجاز ہے کہ لوگوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی تلقین کرے۔ اس سلسلے میں نبی کریم کی وہ حدیث خاص اہمیت رکھتی ہے ، جسے حضرت نافع نے سیدنا ابن عمر سے روایت کیا ہے:
أَذَّنَ ابْنُ عُمَرَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ قَالَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَأْمُرُ مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِهِ: «أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» فِي اللَّيْلَةِ البَارِدَةِ، أَوِ المَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ.[8]
’’ عبداللّٰہ بن عمر ؓ نے ایک مرتبہ سخت سردی کی رات میں ضَجنان پہاڑی پر اذان دی، پھر فرمایا: اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللّٰہ ﷺ دورانِ سفر ،سخت سردی یا بارش کی رات میں اپنے مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اذان کہنے کے بعد یوں کہہ دے: توجہ سے سنو! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔‘‘
اس حدیث کی تشریح میں مولانا عبد الستار حماد ﷾ لکھتے ہیں:
’’ اس میں اختلاف ہے کہ اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھنے کا اعلان حي على الصلاة کی جگہ یا اسکے بعد یا اذان سے فراغت کے بعد کیا جائے؟ متقدمین کے ہاں اسکے متعلق تین موقف حسب ذیل ہیں :
(1) حي على الصلاة کی جگہ ان الفاظ کو کہا جائے،چنانچہ سيدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ اُنھوں نے مؤذن کو کہا کہ جب تو أشهد أن محمدًا رسول الله کہے تو حي على الصلاة مت کہنا بلکہ اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کا اعلان کرنا۔(صحیح البخاری، الجمعۃ، حدیث:901)
ایک روایت میں ہے کہ سيدنا ابن عباس ؓنے کیچڑ والے دن خطبہ دینے کا ارادہ فرمایا،مؤذن جب حي على الصلاة پر پہنچا تو اسے حکم دیا کہ وہ الصلاة في الرحال کے الفاظ کہے۔(صحیح البخاری، الاذان،حدیث:668) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ الصلاة في الرحال کے الفاظ حي علي الصلاة کی جگہ پر کہے جائیں۔امام ابن خزیمہ نے ان الفاظ کے پیش نظر اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے کہ بارش کہ دن حي على الصلاة کے الفاظ حذف کردیے جائیں۔
ان حضرات نے جب اذان کے مفہوم پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حي علي الصلاة کہنے،پھر الصلاة في الرحال یا صلوا في بيوتكم کا اعلان کرنے میں بظاہر تضاد ہے،اس لیے حي علي الصلاة کے الفاظ حذف کر دیے جائیں۔ (فتح الباری:2؍130)
(2)حي على الصلاة کے بعد یہ اعلان کیا جائے۔اس کے متعلق ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ سخت سردی کی رات میں مؤذن نے اذان دی تو اس نے حي علي الفلاح کہنے کے بعد صلّوا في رحالكم یعنی گھروں میں نماز پڑھنےکا اعلان[9] کیا۔(المصنف عبدالرزاق:1؍501، رقم 1925،1926)
(3) گھروں میں نماز پڑھنے کا اعلان اذان مکمل ہونے کے بعد کیا جائے جیسا کہ مذکورہ روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے اس امر کی صراحت کی ہے تاکہ اذان کا نظم متاثر نہ ہو۔
ہمارے نزدیک راجح آخری موقف ہے کہ اذان کی تکمیل کے بعد گھروں میں نماز پڑھنے کا اعلان کیا جائے کیونکہ ان الفاظ سے اگر کوئی فائدہ اٹھا کر گھر میں نماز پڑھنا چاہے تو اس کےلیے رخصت ہے اور اگر حي على الصلاة کے پیش نظر تکلیف برداشت کرکے مسجد میں آتا ہے تو اس کے لیے یقیناً یہ امر باعثِ اجرو ثواب ہوگا۔اس سلسلے میں سیدنا جابر ؓسے ایک روایت ہے کہ ہم ایک دفعہ رسول اللّٰہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں نکلے تو بارش ہونے لگی،رسول اللّٰہ ﷺنے فرمایا:’’اگر کوئی خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو اسے اجازت ہے۔‘‘(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث:1603...698)
ïحدیث میں سفر کا ذکر اتفاقی ہے۔ اگر ایسے حالات حضر میں پیدا ہوجائیں تو عام حالات میں بھی مذکورہ اعلان کیا جاسکتا ہے تاکہ لوگوں کو سہولت رہے اور مسجد میں آنے کی مشقت سے محفوظ رہیں۔‘‘
[1] صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ)، رقم 1633
[2] https://islamqa.info/ar/answers/31172
[3] https://binbaz.org.sa/fatwas/11585
[4] فتاوى نور علىٰ الدرب از شیخ ابن باز:13؍ 130،132
[5] سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ)، رقم 551... اس حدیث کو دار الدعوۃ، دہلی کی مجلس علمی نے صحیح جبکہ شیخ ناصر الدین البانی نے عذر کی وضاحت کے علاوہ باقی الفاظ کو صحیح قرار دیا ہے۔
[6] سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ (بَابُ التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ)، رقم 793
[7] کشاف القناع از امام منصور بہوتی حنبلی: 1؍ 498، دار الکتب العلمیہ، بیروت
[8] صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ مَنْ قَالَ: لِيُؤَذِّنْ فِي السَّفَرِ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ)، رقم 632
[9] سنن نسائی میں عمرو بن اوس سے مروی ہے کہ أَنْبَأَنَا رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ النَّبِيِّ ﷺ يَعْنِي فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فِي السَّفَرِ يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ(کِتَابُ الْأَذَانِ، رقم 653، صحیح)... پہلا موقف سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس کا ہے جو مرجوح ہے۔ جبکہ دوسرا اور تیسرا موقف نبی کریمﷺ سے مروی ہے جس میں دوسرے موقف کو تیسرے پر محمول کرنا راجح ہے، کیونکہ لفظ حدیث میں اس کی صراحت پائی جاتی ہے۔حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: "ثُمَّ يَقُولُ عَلَى أَثَرِهِ صَرِيحٌ فِي أَنَّ الْقَوْلَ الْمَذْكُورَ كَانَ بَعْدَ فَرَاغِ الْأَذَانِ." (فتح البار ی: 2؍113)
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,333
ری ایکشن اسکور
9,944
پوائنٹ
667
عذر اور اعلان کے باوجود باجماعت نماز پڑھنا ہی افضل اورکارِعزیمت ہے!
a اسی حوالے سے ایک اور اہم حدیث سیدنا عبد اللّٰہ بن عباسؓ سے مروی ہے:
خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ رَدْغٍ، فَلَمَّا بَلَغَ المُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ «الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ»، فَنَظَرَ القَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: «فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ».[1]
’’سیدناابن عباس ؓ نے بارش کے دن خطبہ دینے کا ارادہ کیا۔ جب مؤذن حي على الصلاة تک پہنچا تو اُنہوں نے اسے حکم دیا کہ اعلان کرو: "ہر شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔" (یہ سن کر) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: یہ کام اس شخصﷺ نے کیا ہے جو ہم سے بہتر تھا۔ اور یہ (باجماعت نمازِ جمعہ) حتمی اور واجب ہے۔‘‘
مذکورہ تفصیلات سے علم ہوا کہ بوقتِ ضرورت امام باجماعت نماز کو گھروں میں پڑھنے کی اجازت بھی دے سکتا ہے، اور راجح یہی ہے کہ یہ اجازت پر مبنی جملہ اذان کے آخر میں کہا جائے تاکہ اذان کا نظم متاثر نہ ہو۔
اب سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس تو
حیعلتین کی جگہ «الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ» یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہنے کے قائل ہیں۔ لیکن نماز کی دعوت نہ دینے کے باوجود بھی وہ باجماعت نماز کی فضیلت کے ہی قائل ہیں۔ جیساکہ سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس کی سابقہ حدیث کے الفاظ ہیں: "وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ."
یعنی ’’باجماعت نماز جمعہ میں شریک ہونا واجب اور حتمی ہے۔ ‘‘
اور ہمارے راجح قول کے مطابق مسجد میں آنے کا اذان میں اعلان ہونا چاہیے اور دوسری طرف گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی ہے اور یہ دونوں میں تضاد ہے ۔ چنانچہ دونوں میں امکانی تطبیق یہ ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت اور مسجد میں باجماعت پڑھنے کی فضیلت ہے۔ جیسا کہ

a. صحیح مسلم میں سیدنا جابر ؓکی روایت میں یہ اجازت مروی ہے کہ
خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، فَقَالَ: «لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ».[2] ’’ایک سفر میں ہم رسول اللّٰہ ﷺ کے ہمراہ نکلے تو بارش ہوگئی،آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے جو چاہے، اپنی قیام گاہ میں نماز پڑھ لے۔‘‘
b. امام عبد الرزاق صنعانی (م211ھ)صلّوا في رحالكم والی احادیث پر باب کا عنوان یوں قائم کرتے ہیں:
بَابُ الرُّخْصَةِ لِمَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ.[3] ’’اذان سننے والے کے لئے رخصت ؍ اجازت کا باب‘‘
c. اور حافظ ابن حجر  اس کی یوں وضاحت کرتے ہیں:
" وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا ... مَا ذُكِرَ بِأَنْ يَكُونَ مَعْنَى الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ رُخْصَةٌ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَرَخَّصَ وَمَعْنَى هَلُمُّوا إِلَى الصَّلَاةِ نَدْبٌ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَكْمِلَ الْفَضِيلَة وَلَوْ تَحَمَّلَ الْمَشَقَّةَ."[4]
’’اور دونوں جملوں میں تطبیق ممکن ہے کہ «الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ»کو رخصت پر عمل کرنے والے کے لئے اجازت سے تعبیر کرلیا جائے، اور نماز کی طرف آنے کی دعوت کو اس نمازی کے مستحب عمل پر محمول کیا جائے جو مشقت کے باوجود فضیلت کی تکمیل چاہتا ہو۔ ‘‘
d. امام یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں:
هَذَا الْحَدِيثُ دَلِيلٌ عَلَى تَخْفِيفِ أَمْرِ الْجَمَاعَةِ فِي الْمَطَرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الْأَعْذَارِ وَأَنَّهَا مُتَأَكِّدَةٌ إِذَا لَمْ يَكُنْ عُذْرٌ وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ لِمَنْ تَكَلَّفَ الْإِتْيَانَ إِلَيْهَا وَتَحَمَّلَ الْمَشَقَّةَ لِقَوْلِهِ فِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ فِي رَحْلِهِ وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي السَّفَرِ وَأَنَّ الْأَذَانَ مشروع في السفر.
قوله:
"إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ" بِإِسْكَانِ الزَّايِ أَيْ وَاجِبَةٌ مُتَحَتِّمَةٌ فَلَوْ قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ لَكُلِّفْتُمُ الْمَجِيءَ إِلَيْهَا وَلَحِقَتْكُمُ الْمَشَقَّةُ قَوْلُهُ: "كَرِهْتُ أَنْ أَحْرِجَكُمْ" هُوَ بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ مِنَ الْحَرَجِ وَهُوَ الْمَشَقَّةُ... وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى سُقُوطِ الْجُمُعَةِ بِعُذْرِ الْمَطَرِ وَنَحْوِهِ وَهُوَ مَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ آخَرِينَ وَعَنْ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى خِلَافُهُ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.[5]
’’یہ حدیث ابن عباس بارش اور اس سے ملتے جلتے عذروں کی صورت میں باجماعت نماز کے حکم میں گنجائش کی دلیل ہے۔ اور باجماعت نماز ہی کی تاکید ہے جب کوئی شرعی عذر نہ ہو۔ ہر ایساشخص جو باجماعت نماز کے حکم کا پابند ہے اور مشقت برداشت کرسکتا ہے ، تو اس کے لئے باجماعت نماز پڑھنا ہی مشروع؍ مستحب ہے۔جیساکہ دوسری حدیث میں فرمان نبوی ہے جو چاہے اپنی قیام گاہ پر ہی اسے پڑھ لے، اور باجماعت نماز اور اذان سفر میں بھی مشروع ہیں۔
سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس کا یہ کہنا کہ جمعہ عَزْمَةٌ ہے( زکی جزم کے ساتھ)۔اس کا مطلب واجب اور حتمی ہے۔ سو جب مؤذن نے حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کہہ دیا تو تمہیں نماز کے لئے آنے کا پابند کردیا گیا اور تم پر کوشش لازمی ہوگئی۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ تمہیں مشکل میں ڈالنا مجھے اچھا نہ لگا تو یہ لفظ حَرج سے ہے جس کا مطلب مشقت ہے۔...’’ایسے شدید اَعذار کی صورت میں جمعہ کا وجوب ساقط ہوجائے گا، جیساکہ شافعیہ وغیرہ کی رائے ہے اورامام مالک سے اس کے برعکس منقول ہے۔واللّٰہ اعلم‘‘
یعنی ’’اگر کوئی شخص ایسی حالت میں جمعے میں نہ آئے تو وہ ان وعیدوں کا مستحق نہیں ہوگا جو جمعہ ترک کرنے کے حوالے سے وارد ہوئی ہیں، اسی طرح جماعات کا بھی حکم ہوگا، نہ یہ کہ مساجد سے جماعت اور جمعے کا اہتمام ہی موقوف کردیا جائے گا۔‘‘[6]
e. اور شیخ محمد بن صالح عثیمین یوں اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہیں:
"ولكن هل نقول: حي على الفلاح؟ ... نعم، ربما نقول: حي على الفلاح؛ لأن الإنسان مفلح، ولو صلى في بيته... "[7]
’’آپ کہتے ہیں کہ کیا ہم حي على الفلاح بھی کہہ سکتے ہیں ؟ جی بالکل کیوں کہ انسان گھر میں بھی اگر نماز پڑھ رہا ہو تو وہ فلاح یافتہ ہی ہوتا ہے۔ ‘‘
f. اوپر شارح بخاری مولانا عبد الستا ر الحماد﷾ کا موقف بھی گزر چکا ہے کہ بارش کے دوران گھر میں نماز پڑھنے كی اجازت ہے، اور فضیلت والا عمل وہی ہے کہ باجماعت نماز پڑھی جائے۔
g. باجماعت نماز کی فضیلت کا موقف سنن نسائی کے شارح شیخ الحدیث مولانا محمد امین نے بھی اختیار کیا ہے:
’’ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حي على الصلاة اور حي على الفلاح ایک ایک دفعہ کہا جائے گا، لیکن یہ اختصار ہے۔ عام اذان کی طرح بارش والی اذان میں بھی یہ کلمات دو دو دفعہ ہی کہے جائیں گے بلکہ صلّوا في بیوتکم یا ألا صلّوا في رحالکمبھی دو دفعہ کہا جائے گا۔
صلوا في رحالکم سے ملتا جلتا کوئی اور لفظ بھی کہا جا سکتا ہے، مثلاً: صلوا في بیوتکم یا ألاصلوا في الرحال وغیرہ۔ یہ الفاظ حي على الصلاة کے منافی نہیں کیونکہ حي على الصلاة کا مقصود ہے :’’نماز پڑھو‘‘ اور اگر اس سے مراد یہ ہو کہ نماز کے لیے مسجد میں آؤ تو یہ خطاب بارش کی صورت میں حاضرین سے ہوگا اور غائبین سے خطاب ألا صلّوا في الرحال ہوگا۔
یہ الفاظ اس روایت کے مطابق تو حي على الفلاح کے بعد کہے جائیں گے اور یہی انسب ہے تاکہ لوگوں کو رخصت کا علم ساتھ ہو جائے۔‘‘[8]
اس تشریح میں شارح نے دونوں الفاظِ اذان میں تطبیق دیتے اور دونوں کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے اپنے موقف میں حيعلتين کے بعد صلّوا في بیوتکم کہنے کو راجح قرار دیا ہے۔ اور مسجد میں نما زپڑھنے کے جواز کی بات کی ہے۔
h. سنن ابو داود میں بھی اوپر مذکور صحیح مسلم والا واقعہ مروی ہے، شارح مولانا عمرفاروق سعیدی لکھتے ہیں:
’’ایسے مواقع پر جماعت کی ر خصت ہے۔یعنی آدمی اکیلے جماعت کے بغیر یا اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔مگرحاضر ہونے میں یقینا ً فضیلت ہے۔‘‘[9]
ماضی میں وباؤں کے دوران نیک لوگوں کا معمول یہ رہا کہ مسجدوں کوبند کرنے کی بجائے، ان کی مسجدوں میں عبادت میں اضافہ ہوگیا، جیساکہ قاضی عبد الرحمٰن دمشقی قرشی (م 872ھ) 864ھ میں پھوٹنے والی طاعون کی وبا کے بارے میں لکھتے ہیں:
"وكان هذا كالطاعون الأول عمّ البلاد وأفنى العباد، وكان الناس به على خیر عظیم: من إحیاء اللیل، وصوم النهار، والصدقة، والتوبة.... فهجرنا البیوت؛ ولزمنا المساجد، رجالنا وأطفالنا ونساءنا؛ فكان الناس به على خیر."[10]
’’جب طاعون پھیل گیا اور لوگوں کو ختم کرنے لگا، تو لوگوں نے تہجد، روزے، صدقہ اور توبہ واستغفار کی کثرت شروع کردی اور ہم مردوں، بچوں، اور عورتوں نے گھروں کوچھوڑدیا ہے اور مسجدوں کو لازم پکڑ لیا، تو اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا۔‘‘
علماے کرام کے مذکورہ اقوال اور عادات سے علم ہوتا ہے کہ ان احادیث سے مساجد کی کلی بندش، باجماعت نماز کو بند کردینے، یا موقوف کردینے کا استدلال درست نہیں، بلکہ یہ صرف رخصت کی قبیل سے ہے اور مساجد میں باجماعت نماز بہرطور جاری رکھی جائے گی۔ مساجد کا عملہ ایک گھرکے افراد کی طرح قرنطینہ میں رہتے ہوئے کم ازکم چند نمازیوں کے ساتھ مسجد میں اذان اور باجماعت نماز وجمعہ کو جاری رکھ سکتا ہے۔
b کسی علاقے میں اگر بڑے پیمانے پر حقیقی مرض پھیل جائے تو باجماعت نماز سے رخصت کے اس ماثور موقف کو اگر معاشرے میں عام کردیا جائے تو اس سے ازخود اکثر طبی وشرعی مقاصد حاصل ہوجاتے ہیں ، مساجد کو بند نہ کیا جائے، مساجد میں احتیاط کے ساتھ باجماعت نماز وخطبہ جاری رہے اور مساجد میں عام مسلمانوں کا آنا افضل سمجھا جائے ۔ جبکہ حتمی مریضوں کو بھی بتا دیا جائے کہ شرعی وطبی پر طور ان کا مسجد میں آنا کوئی کارِ ثواب نہیں بلکہ بعض اوقات باعثِ گناہ بھی ہوسکتا ہے۔
ï جب تک حالات سنگین نہ ہوں اور مرض بڑے پیمانے پر نہ پھیلا ہو تو کارِعزیمت اور افضل یہ ہے کہ نماز کو مسجد میں ہی پڑھا جائے جیسا کہ پیچھے علماے کرام کے سات اقوال ذکر کئے گئے ہیں کہ اُنہوں نے ایسے ہی حالات میں باجماعت نماز کے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم جب مرض بڑے پیمانے پر پھیل جائے تو بعض اوقات رخصتوں پر عمل کرنا بھی باعثِ فضیلت ہوسکتا ہے، جیساکہ نبی کریم ﷺ نے ایسے حالات میں فرمایا:
«أنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا صَائِمٌ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ».[11]
’’رسول اللّٰہ ﷺ نے دورانِ سفر ایک ہجوم دیکھا۔ اس میں ایک آدمی نظر آیا جس پر سایہ کیا گیاتھا۔ آپ نے فرمایا: " یہ کیا ہے؟"لوگوں نے عرض کیا: یہ شخص روزے دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "(ایسے حالات میں) دوران سفر میں روزہ ر کھنا کوئی نیکی نہیں۔ "‘‘
ایسے ہی صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ رمضان المبارک میں فتح مکہ کے لیے مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے۔ آپ روزے کی حالت میں تھے۔ جب مقام کراع الغمیم پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزہ بہت مشکل ہو رہا ہے اور وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللّٰہ ﷺنے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے لوگوں کے سامنے کر کے نوش کر لیا۔ اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ افطار نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: "یہی نافرمان ہیں، یہی نافرمان ہیں۔"[12]
علم ہوا کہ افضل ہونے کا تعلق آسانی اور سہولت کے ساتھ بھی ہے اور جب کوئی کام شدید مشقت کا باعث بن جائے تو اس وقت اللّٰہ کی دی رخصتوں پر عمل کرنا ہی افضل ہوتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ حدیث پر امام بخاری کا عنوان بھی اسی کی نشاندہی کرتا ہے:

بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺلِمَنْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ وَاشْتَدَّ الْحَرُّ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ
c اگر متعدی مرض حقیقتاً پھیل جائے تو مسلمانوں کے لئے مساجد میں آکر باجماعت نماز پڑھنے کی رخصت موجود ہے ۔ تاہم ایسی صورتحال میں گھروں میں باجماعت نمازکو فروغ دینا چاہیے۔ جیساکہ بہت سے دین دار مسلمانوں نے ایسے حکومتی احکامات کے دوران اپنے گھروں کو مساجد بنادیا۔ جس میں خواتین اور بچوں کو بھی باجماعت نماز میں شریک کیا جاتا رہا۔
ïکویت میں بہت پہلے ، مارچ 2020ء کے پہلے ہفتہ میں جب مساجد میں ألا صلّوا في الرحال کا اعلان شروع کرکے مساجد کو عوام کے لئے بند کردیا گیا ، تو بعض لحاظ سے اس حکومتی اقدام کو درست نہیں کہا جاسکتا۔
یہاں پہلی غلطی حدیثِ نبوی سے استدلال کی تھی کہ احادیث میں ایسی صورت میں مساجد کو عوام کے لئے کلیۃً بند نہیں کیا جاسکتا بلکہ مساجد کھلی رہتی ہیں ، وہاں باجماعت نماز جاری رہتی ہے جبکہ مرض کا حقیقی خوف پائے جانے کی صورت میں مسلمانوں کے لئے گھر میں نماز پڑھنے کی محض اجازت ہوتی ہے، جیساکہ اوپر علماے کرام کے اقوال ذکر کئے گئے۔ دوسری غلطی یہ تھی کہ مرض کے حقیقی فروغ کی بجائے، میڈیا پر اس کے اعلانات کو ہی وسیع پیمانے پر پھیل جانے والے مرض کے مساوی سمجھ لیا گیا۔ جب کہ آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود کویت میں متاثرہ لوگوں کی تعداداگست 2020ء تک 500 ؍اموات تک نہیں پہنچی۔
کورونا بھی عام امراض کی طرح ایک متعدی مرض ہے، اس کی پریشان کن بات دراصل اس کی وسیع پیمانے پر پھیلنے کی صلاحیت ہے۔جبکہ کورونا مریضوں کی حقیقت اور سنگینی کا اصل علم ، فوت شدگان کی تعداد سے ہوتا ہے۔ جیساکہ پاکستان جیسے علاقوں میں اس کی شرح اموات ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہے، جن میں سے اکثر مریض دیگرامراض کا شکار ہونے کی بنا پر کورونا وائرس کا مقابلہ نہیں کرپائے۔ ان حالات میں کویت میں قبل از وقت مساجد کو بند کردیا جانا، دراصل مذکورہ احادیثِ نبویہ کا ضرورت سے متجاوز استعمال قرار دیا جاسکتا ہے۔ صفحہ 24 پر فتویٰ میں بھی یہی بیان ہوا کہ مختلف علاقوں میں مریضوں کے لحاظ سے اس کا فیصلہ کیا جائے گا، اور شرعی حکم
اغلبیّت پر محمول ہوگا۔
[1] ‌ صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ الكَلاَمِ فِي الأَذَانِ)، 616
[2] صحیح مسلم: صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ (بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ)،698
[3] مصنف عبد الرزاق الصنعاني:1ج؍ص 500، قبل حدیث 1923
[4] فتح الباري:2؍113،دار المعرفۃ، 1379ھ
[5] المنهاجشرح مسلم از امام نووی: 5؍208، داراحیاء التراث العربی1392ھ
[6] کورونا پر فتویٰ جامعہ علوم اسلامیہ ، بنوری ٹاؤن کراچی، ص 19
[7] تعليقات ابن عثيمين على الكافي لابن قدامة (2؍ 36) بترقيم الشاملة آليا
[8] سنن النسائي: كِتَابُ الْأَذَانِ (بَابُ الْأَذَانِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ ...»،رقم 653 کے تحت
[9] سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ (بَابُ التَّخَلُّفِ عَنْ الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ ...)، رقم 1065
[10] شفاء القلب المحزون في بیان ما یتعلق بالطاعون؍مخطوط از قاضی صفد محمد قرشی
[11] صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ لِمَنْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ وَاشْتَدَّ الحَرُّ)، رقم 1946
[12] صحیح مسلم،الصیام،حدیث:2610(1114)
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,333
ری ایکشن اسکور
9,944
پوائنٹ
667
مساجد میں فاصلے کے ساتھ نماز پڑھنا بہتر ہےیا باجماعت نمازکو ترک کرنا؟
رمضان المبارک میں بعض علماے کرام نے جب یہ دیکھا کہ مساجد میں صفوں کو ملانے کی اجازت نہیں تو اُنہوں نے ایسے حالات میں خلافِ سنت نماز کو چھوڑ کر گھروں میں انفرادی نماز پڑھنے کا فتویٰ دے دیا۔ حالانکہ حکومت نے مساجد کو اگر اس شرط پر کھولنے کی اجازت دی ہو کہ نمازی مناسب فاصلہ کی پابندی کریں گے تو صفیں قریب قریب کرنے کے حکم کو مجبوراً گوارا کیا جاسکتا ہے۔
شیخ ابن تیمیہ سے جب یہی سوال کیا گیا کہ مساجد میں باجماعت نماز اور باجماعت نماز میں صفوں کو ملانے میں رکاوٹ پیدا ہوجائے تو کس عمل کو ترجیح دی جائے تو آپ نے باجماعت نماز کی اہمیت کو صف بندی اور مل کر نماز پڑھنے سے اہم تر قرار دیتے ہوئے فرمایا:

يَدُلُّ انْفِرَادُ الْإِمَامِ وَالْمَرْأَةِ عَلَى جَوَازِ انْفِرَادِ الرَّجُلِ الْمَأْمُومِ لِحَاجَةِ وَهُوَ مَا إذَا لَمْ يَحْصُلْ لَهُ مَكَانٌ يُصَلِّي فِيهِ إلَّا مُنْفَرِدًا فَهَذَا قِيَاسُ قَوْلِ أَحْمَد وَغَيْرِهِ وَلِأَنَّ وَاجِبَاتِ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا تَسْقُطُ بِالْأَعْذَارِ فَلَيْسَ الِاصْطِفَافُ إلَّا بَعْضَ وَاجِبَاتِهَا فَسَقَطَ بِالْعَجْزِ فِي الْجَمَاعَةِ كَمَا يَسْقُطُ غَيْرُهُ فِيهَا وَفِي مَتْنِ الصَّلَاةِ. وَلِهَذَا كَانَ تَحْصِيلُ الْجَمَاعَةِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ وَالْمَرَضِ وَنَحْوِهِمَا مَعَ اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ وَالْعَمَلِ الْكَثِيرِ وَمُفَارَقَةِ الْإِمَامِ وَمَعَ تَرْكِ الْمَرِيضِ الْقِيَامَ: أَوْلَى مِنْ أَنْ يُصَلُّوا وُحْدَانًا.[1]
’’امام اور عورت كا اکیلے نماز پڑھنا بھی بوقتِ ضرورت مقتدی کے منفرد (بلاصف) نماز پڑھنے پر دلالت کرتا ہےخصوصاً اس وقت جب اس کے لئے بلاصف نماز پڑھنے کے سوا کوئی جگہ نہ بچے۔ یہ امام احمد وغیرہ کے قول پر قیاس ہے۔ کیونکہ نماز کے واجبات بعض عذروں کی بنا پر ساقط بھی ہوجاتے ہیں۔اور صف بندی بھی نماز کے واجبات میں سے ہی ہے۔ جس طرح دیگر واجبات ساقط ہوتے ہیں ، ویسے ہی عاجزی او رعدم استطاعت کی صورت میں یہ واجب بھی ساقط ہوجاتا ہے۔ اسی بناپر نمازِ خوف اور مرض وغیرہ میں قبلہ رخ نہ ہونا، عمل کثیر کرنا، امام سے جدا ہوجانا، مریض کا قیام کو ترک کردینا،اکیلے نماز پڑھنے سے کہیں بہتر ہے۔‘‘
ï آپ کہتے ہیں کہ جب دو واجبات میں تعارض ہوجائے ، اور دونوں کو جمع کرنا ممکن نہ رہے تو ان سے میں سے راجح واجب پر عمل کیا جائے گا ۔ جس کی دلیل قرآن مجید میں یہ ہے کہ
الَّتِي دَلَّ عَلَيْهَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ وَقَوْلُهُ ﷺ: «إذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ». وَأَنَّهُ إذَا تَعَذَّرَ جَمْعُ الْوَاجِبَيْنِ قُدِّمَ أَرْجَحُهُمَا وَسَقَطَ الْآخَرُ بِالْوَجْهِ الشَّرْعِيِّ. [2]
"اللّٰہ سے اتنا ڈرو، جتنا استطاعت میں ہو ۔"اورفرمان نبوی: "جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو حتی المقدور اس کو بجا لاؤ۔" سو جب دو واجب اُمور کو بیک وقت پورا کرنا مشکل ہوجائے تو راجح واجب پر عمل کیا جائے گا اور دوسرا حکم شرعی وجہ کی بنا پر ساقط ہوجائے گا۔‘‘
پھر امام ابن تیمیہ  نے مثالیں دیتے ہوئے فيمن لم يجد مكانًا إلا أمام الإمام فيصلي أمامه لتحصيل الجماعة لکھ کربتایا ہے کہ جس نمازی کو پچھلی صف میں جگہ نہ ملے تو اسے امام کے سامنے (بلاصف) باجماعت نماز کے ثواب کے لئے کھڑے ہوجانا چاہیے۔ مزید آپ نماز خوف میں باجماعت نماز کو باقی رکھنے کے حکم سے بھی استدلال کرتے ہیں جس میں قبلہ رخ ہونا، صف بندی، نماز میں بہت زیادہ اعمال، اور صف بندی کی رعایت نہیں رہتی۔ [3]
ïحنفیہ صفوں کو ملانا سنت تو قرار دیتے ہیں لیکن وہ اس کے بغیر باجماعت ہوجانے کے قائل ہیں چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی عزیز الرحمن اپنا فتویٰ لکھتے ہیں:
’’ایک یا دو صف چھوڑ کر کچھ لوگ پیچھے کھڑے ہوگئے تو ان کی نماز ہوگی یا نہیں ؟
جواب: نماز تو ہوگئی مگریہ خلافِ سنت ہے، صفوف کو متصل کرنا چاہیے اور فرجہ درمیان میں نہ چھوڑنا چاہیے۔‘‘[4]
اور دار العلوم دیوبند کے اُستاد امانت علی لکھتے ہیں:
’’نماز میں صفوں کو درست کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے اور صفوں کی درستی میں مل مل کر کھڑا ہوناہے اور نماز کا متوارث طریقہ یہی ہے کہ لوگ مل مل کر کھڑے ہوں ۔اس لیے اگر اتنا فاصلہ ہو کہ لوگوں کا ایک نماز میں ہونا معلوم نہ ہو تا ہو تونماز کے متوارث طریقہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے نماز درست نہیں ہوگی۔ہاں اگر ایک دو بالشت کا فاصلہ ہو، جس میں بظاہر لوگوں کا ایک ہی نماز میں ہونا معلوم ہو تو موجودہ حالات میں اس کی گنجائش ہے۔اسی طرح اگر کچھ لوگ تو صف میں متصل کھڑے ہوں لیکن ایک دو آدمی مسجد میں ہی ایک میٹر کے فاصلے سے کھڑے ہوں تو اگر چہ ایسا کرنا بھی درست نہیں ہے، تاہم [موجودہ حالات میں ]اس کی نماز ہوجائے گی ۔‘‘[5]
[1] مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ:23؍ 246
[2] مجموع فتاوی ابن تیمیہ: 23؍ 250
[3] دیکھیے مقالہ : تخريج نازلة التباعد بين المصلين في الصف الواحد على أصلها من خلال فتاوٰى ابن تيمية رحمه الله از ڈاکٹر عبد الرحمٰن حطاب، اُستاذ اُصول فقہ، مدینہ یونیورسٹی، مدینہ منورہ
[4] فتاوی دارالعلوم، دیوبند: ۳؍۱۳۵
[5] ’کوروناوائرس ، اسلامی ہدایات اور جدید مسائل‘ از مفتی امانت علی: ص 33
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,333
ری ایکشن اسکور
9,944
پوائنٹ
667
پنجم: باجماعت نمازوں کو موقوف کرکے ، مساجد کی کلی بندش درست نہیں!
مساجد پر انتظامی بندش لگانے اور یہاں باجماعت نماز کی کلی ممانعت کی شرعِ اسلامی سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اور یہ اس آیت میں مذکور مذمت کے سیاق میں داخل ہے :
﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِيْ خَرَابِهَا١ؕ (البقرۃ: 114)
’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللّٰہ کی مسجدوں میں اس کا نام ذکر کرنے سے روکے اور اس کی ويرانی کے درپے ہو؟‘‘
امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
وعلى الجملة فتعطیل المساجد عن الصلاة وإظهار شعائرالإسلام فیها خراب لها.[1]
’’مجموعی طور پر مساجد میں نمازوں اور شعائرِ اسلامیہ کو معطل کردینا ہی ، ان کو ویران کرنا ہے۔‘‘
اما م شوکانی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
"والمراد بالسعي في خرابها: ...تعطیلها عن الطاعات التي وضعت لها، فیكون أعمّ من قوله: أن یذكر فیها اسمه فیشمل جمیع ما یمنع من الأمور التي بنیت لها المساجد، كتعلم العلم وتعلیمه، والقعود للاعتكاف، وانتظار الصلاة ویجوز أن یراد ما هو أعم من الأمرین.[2]
’’ویرانی کے درپے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جن مقاصد کے لئے مساجد بنائی گئی ہیں، ان کاموں کو وہاں معطل کردیا جائے ۔ یہ صورت اللّٰہ کا نام لینے سے بھی عام تر اور ان تمام امور کو شامل ہے جن کے لئے مساجد بنائی جاتی ہیں، جیسے علم سیکھنا سکھانا، اعتکاف کے لئے بیٹھنا، نماز کا انتظارکرنا ، اور ان دونوں اُمور سے مزید عام صورتیں بھی اس سے مراد لی جاسکتی ہیں۔ ‘‘
ایک طرف یہ تاریخی حقیقت ہے کہ خیرالقرون میں کبھی مساجد کو سنگین ترین متعدی امراض میں بھی بند نہیں کیا گیا، اور مساجد میں کلی طورپر باجماعت نماز کبھی موقوف نہیں کی گئی۔ تاہم بعدکے سالوں میں بعض اوقات قحط یا وبا كی شدت میں اتنا اضافہ ہوا کہ مساجد میں نماز ہونا ممکن نہ رہا، جیسا کہ
a امام شمس الدين ذہبی (748ھ)نے عباسی خلیفہ قائم بامر اللّٰہ ابوجعفر عبد اللّٰہ بن قادر باللّٰہ کے حالات میں لکھا ہے کہ ان کے دور (422ھ تا 467ھ)میں مصر اور اندلس میں اتنا بڑا قحط پڑا کہ اس سے پہلے کبھی ایسی وبا اور اور قحط نہیں پھیلی تھی حتى بقيت المساجد مغلقة بلا مُصَلِّ یہاں تک اس زمانہ میں مسجدیں نمازیوں سے محروم ہوکر بند ہوگئیں اور اس سال کا نام عام جوع الکبیر رکھا گیا۔[3]
b 448ھ کے حالات میں آپ لکھتے ہیں کہ اندلس وبا کا مرکز تھا، ومات الخلق بإشبيلية بحيث إن المساجد بقيت مُغلقة ما لها من يصلي بها.[4] اشبیلیہ میں بڑی خلق خدا فوت ہوگئی، حتی کہ مساجد اس طرح بند ہوگئیں کہ ان میں نمازپڑھنے والا نہ ملتا تھا۔
c امام ابن جوزی (م 597ھ) 449ھ کی خطرناک وبا کی نقشہ کشی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ساری دنیا اس میں گرفتار ہوگئی، لوگوں میں دہشت کا دوردورہ تھا۔ دیارِ اسلامیہ میں اس بڑی وبا سے بیان سے باہر تباہی ہوئی۔ لوگ آئے روز مرنے لگے: فلا يرون إلا أسواقًا فارغة وطرقات خالية وأبوابا مغلقة، وخلت أكثر المساجد من الجماعات بازار ویران، راستے اجاڑ اور شہروں کے دروازے بند کردیے گئے، اکثر مساجد جمعہ اور باجماعت نماز سے خالی ہوگئیں۔
d اسی طرح حافظ ابن کثیر نے ۶۵۶ھ کے سقوط بغداد کا تذکرہ کیا ہے کہ بغداد میں بڑی تباہی آئی، یہاں تک کہ مسجدوں میں جمعہ و جماعات کئی مہینے تک موقوف رہیں۔[5]
e حافظ ابن حجر (م 852ھ)کہتے ہیں کہ 827ھ میں پھوٹنے والی وبا کے سبب مکہ میں بہت سی مساجد بند ہوگئیں۔آپ لکھتے ہیں:
وفي أوائل هذه السنة وقع بمكة وباء عظيم بحيث مات في كل يوم أربعون نفسا، وحصر من مات في ربيع الأول ألفا وسبعمئة، ويقال إن إمام المقام (مقام إبراهيم وكان أتباع المذهب الشافعي يقيمون عنده صلواتهم) لم يصل معه في تلك الأيام إلا اثنان، وبقية الأئمة بطلوا الصلاة لعدم من يصلي معهم.[6]
’’اس سال کے آغاز میں مکہ مکرمہ میں اتنی بڑی وبا پھوٹی کہ ہر دن 40 لوگ مرنے لگے۔ صرف ماہ ربیع الاول میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1700 سے تجاوز کر گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مقام ابراہیم ، جس کے پاس شافعی فقہ کے پیروکار باجماعت نماز ادا کئے کرتے تھے، ان دنوں میں دو سے زیادہ لوگ یہاں نماز نہ پڑھتے۔ جبکہ مکہ مکرمہ کے باقی ائمہ نے نمازیوں کے نہ آنے کی بنا پر باقی مساجد میں باجماعت نماز کو موقوف کردیا۔‘‘
f اسی طرح مشکل ترین حالات میں40 سے زیادہ بار حج بھی موقوف ہوا۔سقوط بغداد (656ھ)کے قریبی سالوں میں کم ازکم 10 سال مسلسل حج موقوف رہا۔ 1814 ،1831، 1837، 1846، 1858، 1864، 1871 ، 1890 اور 1895 کے سالوں میں متعدی امراض کی بنا پر حج نہیں ہوسکا۔ [7]
تو یہاں واضح رہنا چاہیے کہ مساجد کو جبراً بند کرنا اور بربادی و ویرانی کے سبب ان کا از خود بند ہوجانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ جب حالات کی سنگینی اس قد ربڑھ جائے تب بھی مساجد کو حکومتی سطح پر بند کرنے کی بجائے، شرعی عذر کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنے،مساجد میں نہ آنے کی رخصت اور اس کے اعلان کرنے کی سنت موجود ہے جن میں عزیمت کی افضل صورت یہی ہے کہ مساجد میں آنا بہتر ہے اور مشقت کے باوجود نماز باجماعت پڑھنے کی ہی فضیلت ہے،جس کی تفصیل پیچھے گزری ہے۔
ï حکومت کو مشکل قومی حالات میں علماے کرام اور ماہرین کے مابین حقیقی مشاورت کے ساتھ ہی فیصلے کرنے چاہئیں، اسی سے معاشرے میں اطمینان اور قوت پیدا ہوتی ہے۔ تاہم جب حکومت اپنے طور پر کوئی فیصلہ جاری کردے ، چاہے وہ کسی غلط دباؤ کا نتیجہ ہو تو اس بنا پر مسلمانوں کی عبادات اور نماز میں کوتاہی کا وبال حکومت پر ہی ہوگا۔ عوام میں انتشار پھیلانے کی بجائے تدبیری اُمور میں اس کو مجبورا گوارا کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ عرب ممالک کے بعض علماے کرام نے دوٹوک حکومتی موقف آنے پر، اپنے سابقہ شرعی موقف کو چھوڑ دیا ۔ مدینہ یونیورسٹی کے شیخ الحدیث ڈاکٹر عبد المحسن العباد﷾ لکھتے ہیں:
’’میں نے اوائل میں(22 روز قبل) باجماعت نماز پر قائم رہنے کا فتویٰ دیا تھا، کیونکہ صبروتوکل اورنمازوں کی بہترین ادائیگی کے ذریعے ہی سنگین امراض کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن
أما إذا حصل منع إقامة الصلوة الجمعة والجماعة في المساجد من الدولة، فلا مجال لإقامة الجمعة في البيوت، فأما الجماعة فإنها تقام في البيوت من الرجل وأولاده ... وهو الذي أفعله أنا وأولادي في بيتي وليس لي وأمثالي من طلبة العلم مخالفة ما صدر من هيئة كبار العلماء في ذلك... 25 رجب المرجب 1441هـ/ 21 مارس
’’جب حکومت کی طرف سے مساجد میں جمعہ اور جماعت کی نماز ممنوع کردی گئی ہے تو اب جمعہ تو گھروں میں ہونہیں ہوسکتا اور جماعت گھر میں آدمی اپنی اولاد کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ اس پر میں اور میری اولاد اپنے گھر میں عمل کررہے ہیں۔ میرے اور مجھے جیسے طلبہ علم کے لائق نہیں کہ سپریم علما کونسل کے اس سلسلے میں آنے والے موقف کی مخالفت کریں۔‘‘
کویت کی وزارتِ اوقاف نے بھی آغاز میں ہی مساجد میں جمعہ اور جماعت موقوف کردی، جس پر کویتی عالم شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الخمیس ... جو اس سے پہلے باجماعت نمازوں پر اصرار کررہے تھے... نے 15؍ مارچ 2020ء کو اپنے فتویٰ سے رجوع کرکے، كویتی عوام کو حکومت کافتویٰ قبول کرنے کی تلقین کی۔
ï فی زمانہ جب حکومت نے انتظامی دفاتر، کریانے کی دکانیں اورمنڈیاں، بینک ، تمام میڈیا ہاؤسز اورہسپتال کھلے رکھے تو اس سے بھی معلوم ہوا کہ بیماری کی شدت اس قدر زیادہ نہیں ہوئی کہ پاکستان میں کورونا مرض کے مشکل ترین ایام کے دوران بنیادی شرعی اور انسانی ضروریات کو ہی ترک کردیا جائے۔
ٹی وی، میڈیا سنٹر ، انتظامی ادارے اور سرکاری میٹنگیں تو جاری رہتی ہیں، اسی طرح کھانے پینے کے سامان کی نقل وحرکت کی مجبوری کو تسلیم کرتے ہوئے، ان کے انتظامات کو گوارا کیا جاتا ہے۔ ضروری اشیا اور کھانے پینے کے سامان کی دکانیں بھی مختصر وقت کے لئے ضروری کھلتی ہیں، تو جب ان تمام چیزوں کی بامر مجبوری گنجائش دی جاتی ہے تو مساجد کو بھی مسلمان کی بنیادی ضرورت سمجھنا چاہیے اور ان میں ضروری احتیاط اور بعض پابندیوں کے ساتھ سلسلۂ عبادت کو جاری وساری رہنا چاہیے۔
مذکورہ بالا وجوہ او رشرعی دلائل کی بنا پر اہل حدیث علماے کرام نے یہ فتویٰ دیا کہ

’’کسی بھی صورت میں اللّٰہ کے بندوں پر اللّٰہ کے گھروں کو بند کرنے کا نہ سوچیں جیسا کہ بعض عرب ممالک میں یہ غلطی سرزد ہو چکی ہے۔ یہ مساجد تو رحمت کے دروازے ہیں اور امیدوں کے مراکز۔ صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم کے زمانے میں طاعون اور کثرتِ اموات جیسے مصائب میں ان کا تعامل مساجد سے لگاؤ اور تمسک تھا، نہ کہ اُنھیں بند کرنا۔ صحت مند افراد پر مساجد کے دروازے بند کرنا ظلم ہے، جو قطعاً جائز نہیں۔‘‘
فرض نمازوں اور نمازِ جمعہ کے علاوہ دیگر اوقات میں مقامی حالات کے مطابق امنِ عامہ اور صحت کے لیے مساجد کو بند کیا جاسکتا ہے اور اس کا جواز موجود ہے، لیکن جبراً مساجد کو کلیۃً بند کروا دینا ناجائز اور حرام ہے۔‘‘[8]
اسی بنا پر 18؍ اپریل 2020ء کو رمضان المبارک 1441ھ سے چند دن قبل ، پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماے کرام نے مساجد کھلی رکھنے کی مسلسل جدوجہد کی اور آخر کار صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ 20 نکات پر اتفاق کرکے احتیاطی تدابیر کےساتھ باجماعت نماز، نماز تراویح، اور جمعہ پر اتفاق کیا جبکہ سحر وافطار کے اجتماعات اور اعتکاف پر پابندی کو قبول کیا[9]۔ اور بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مساجد میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی وجہ سے کورونا وائر س میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔[10]
ایسے حالات میں وبائی امراض میں مساجد کو کلی طور پر بند کرنے کی بجائے بہر صورت اذان اور انتظامیہ کے چند افراد کے ساتھ نماز باجماعت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔مساجد کی انتظامیہ اور نمازیوں کو چاہیے کہ وہ ازخود تمام ممکنہ شرعی اور طبی تدابیر اختیار کریں جیساکہ

· مساجد میں ہر آنے والے کو جراثیم کش محلول سے ہاتھ پاؤں دھونے چاہئیں۔
· مساجد میں سطح زمین اور جائے نماز ایسے ہوں جو کم سے کم جراثیم کو قبول کرنے والے ہوں اور اگر جائے نمازوں کو ہر نماز سے قبل دھو یا صاف کرلیا جائے تو یہ احتیاط بھی کرنی چاہیے۔
· ننگے فرش پر نمازیں پڑھی جائیں جس کو ہر دو نمازوں کے بعد دھولیا جائے۔
· نمازیوں کو گھر سے وضو کرکے آنے، سنتوں کو گھر میں ادا کرنے
· خطبہ جمعہ کو مختصر کردینا چاہیے۔
· باجماعت نمازوں کو احادیث کے مطابق مشکل صورت حال میں جمع بھی کیا جاسکتا ہے۔
· نمازیوں کی تعداد اورنماز کے دورانیہ کو مختصر ترین کیا جائے ۔
· سنگین حالات میں نمازی ہاتھ ملانے کی بجائے اشارے سے بھی سلام کرسکتے ہیں۔
· ایک دوسرے سے لمبی گفتگو کرنے اور تبلیغی ودعوتی اجتماعات سے بھی گریز کیا جائے۔
· حالات کی سنگینی کے تحت، مختلف علاقوں میں مختلف پالیسیاں بنائی جائیں جیسا کہ حکومت بھی مختلف انتظامی رویے اختیار کرتی ہے۔ جب کسی علاقے میں عام آمد ورفت جاری ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی وبا نے اس علاقے کو مجموعی طور پر متاثر نہیں کیا، سو اس کے احکام بھی ویسے ہی ہوں گے۔
مذکورہ بالا تفصیلات سے علم ہوتا ہے کہ قیامت تک پیش آنے والے جملہ مسائل میں شریعت محمدیہ کی مفصل رہنمائی موجود ہے، جس کی نشاندہی علماے کرام وقتاً فوفتاً کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں ہر مسئلہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کےرسول ﷺکی ہدایات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، اسی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے!!

[1] تفسیر قرطبی: 2؍ 77
[2] فتح القدیر از امام شوكانی:6؍652
[3] سیر أعلام النبلاءاز امام ذہبی : ۱۸؍۳۱۱
[4] تاريخ الإسلام از امام ذہبی: سال 448ھ کے واقعات کے تحت
[5] البداية والنهايةاز حافظ ابن کثیر: ۱۳؍۲۰۳
[6] إنباء الغُمْر بأبناء العمراز حافظ ابن حجر: 827ھ کے اہم واقعات کے تحت
[7] دیکھیے کتابچہ: الحج توقّف40 مرة عبر التاريخ، از شیخ ابراہیم محمد،فروری 2020ء
[8] باغی ٹی وی: 65؍علماے اہل حدیث کا اعلامیہ:18؍ مارچ 2020ء
[9] https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52339656
[10] https://jang.com.pk/news/779715
 
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
400
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
32
ثُمَّ قَالَ : الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَقَالَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ .


شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے ( ہیضے وغیرہ ) میں مرنے والے اور ڈوب کر مرنے والے اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور اللہ کے راستے میں ( جہاد کرتے ہوئے ) شہید ہونے والے اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب کتنا ہے اور پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو کہ قرعہ ڈالا جائے تو لوگ ان کے لیے قرعہ ہی ڈالا کریں۔

Sahih Bukhari#653

Status: صحیح
IMG_20201014_091428.jpg
 
Top