• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کچھ مدخلی طریقہ واردات کے بارے میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
928
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
کچھ مدخلی طریقہ واردات کے بارے میں
​

از قلم : حافظ ضیاء اللہ روپڑی

فتنہ خوارج نے اُمت اور مُلک کو زخم دیے اور دے رہا ہے، لیکن مدخلی فتنے کا شر اس سے کئی گُنا بڑا ہے۔ خوارج کی مانند ان کا کُل مشغلہ بھی یہود ونصاری اور دیگر کفار محاربین کو چھوڑ کر عام مسلمانوں خصوصا علمائے اُمت پر نشتر زنی کرتے رہنا ہے۔ سوائے حاکموں اور قاضیوں کے تلوے چاٹنے والے چند ملاؤوں کے، جس قبیل کو امام احمد بن حنبل “گند” سمجھتے تھے؛ (من يتبع الولاة والقضاة فهو وسخ)، اور جن کو سعید بن المسیب چور کہتے ہیں (إذا رأيتم العالم يغشى الأمراء فاحذروا منه فإنه لص)۔ اور یہ بات ہر عدل کرنے والا بلاتردد جان سکتا ہے کہ مداخلہ کی آنکھ کا تارا اکثر وُہی مولوی (مثل مدخلی و رحیلی) ہے جو سلاطین عرب کی چوکھٹ کی صفائی میں باکمال ہے۔ جبکہ حق کہنے والا الشیخ الدکتور صالح جیسا امام وخطیب بیت اللہ ہی کیوں نہ ہو، وہ ان کے ہاں خارجی و اخوانی ہے۔

ذیل میں انکی چند شرارتیں/خصلتیں ملاحظہ کریں جو وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ہوئیں..

(۱) اپنے عرب “خلیفوں” کی جہاد مخالف یہود نواز پالیسی کی سیاسی ترویج اور پردوہ پوشی کے لیے “اخوانیت” یا “خارجیت” کی اصطلاح کا بے دریغ استعمال جو مکمل پروپیگنڈے کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں، خصوصا اُن عرب وعجم علماء کے خلاف بھی جو خود ان فتنوں کو ان سے بہتر سمجھتے اور رد کرتے رہے، لیکن اسکی آڑ میں نصرت قدس، تعطیل جہاد یا یہود و نصاری کی دوستی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ لہذا ان مداخلہ کی یہ شرارت دینی نہیں سیاسی ضرورت ہے۔ اس سے خبردار رہیے۔

(۲) دفاع شعائر اللہ وقدس، توہین رسالت اور حتی کہ بعض عرب ریاستوں میں علانیہ توہین شعائر اللہ، تعطیل جہاد اور ابراھیمی معاہدات کا کفر، کُفار کی طرف سے اسلامی ممالک پر مسلط کردہ الحاد اور فواحش، تغییر یا عدم تحکیم شرائع اللہ جیسے اساسی امور جو الوہیت کے باب میں اہم ترین ہیں، ان پر مکمل سکوت اور انکے بالمقابل مخصوص فروعی امور کو زیادہ زور وشور سے مسلسل بیان کرنا اور صبح وشام ان کے چھوٹے بڑے، جاہل وعالم کا فتوے جڑنا جو کتمان حق اور تلبیس حق وباطل کی ماکرانہ صورت ہے۔ آجکل کئی ننے مُنے مدخلی بھی اسی طرح کے اُمور پر فیس بُک پر فتوے دیتے اور پَر پُرزے نکالتے نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ دین کا کوئی امر بھی غیر اہم نہیں، لیکن دعوت الی اللہ اور نھی عن المنکر کا باب بالخصوص ترجیح کا منھجی وجوب رکھتا ہے جو ہر چیز کا وزن شرعی جانے بغیر ممکن نہیں، وگرنہ “شديدٌ في أمر يسيرٍ ھیّن، يسيرٌ في أمرٍ شديد” والی صورت پیدا ہوجاتی ہے جو مدخلی جہلاء کا خاصہ ہے۔

(۳) علم اور کتاب کے تقدس کو مبالغہ آمیزی سے استعمال کرنا، تاکہ بھرم باقی رہے۔ حالانکہ ان کے ننھے مُنھے کیا ان کے دکتوروں کے بھی ذہن بند ہیں اور یہ تجربہ میں کئی بار کرچُکا ہوں۔ مثال کے طور پر انکے انڈین مدخلی اجمل منظور یا نارائن پوری کا مستوائے علمی دیکھ لیں۔ کسی اصولی مسئلہ پر بے محل نقل اقوال یا سعودی شاہوں کے قصیدے پڑھنے اور دفاع قدس پر بھونکنے سے زائد کُچھ نہیں۔ علم استدلال میں نکمے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایک محترم جن کا نام لینا مناسب نہیں کہ اُن سے رجوع حق کی امید ہے، دکتور ہیں، شیخ الاسلام محمد کی مسائل الجاھلیة کچھ عرصہ پہلے پڑھا رہے تھے کہ کسی نے عورت کی حکمرانی کے متعلق پوچھا جب وہ متغلبہ ہو، کہنے لگے شرعی ہے۔ میں نے ایک معروف مجموعہ علماء میں، جس میں میرے علاوہ یہ بھی موجود تھے یہی سوال سامنے رکھا کہ مسائل جاھلیت کے نام پر یہ مدخلی جاھلیت کیوں پڑھائی گئی اور اُمت میں آج تک کس نے عورت کی حکمرانی کو شرعی کہا؟ تو بجائے غلطی تسلیم کرنے کے مدینہ یونیورسٹی کے پیٹی بھائی دفاع میں اُتر آئے۔ جب میں نے دلائل شرعیہ اور منھج سلف کی روشنی میں مناقشہ کرنا چاہا تو انھیں صفر پایا۔

اسی طرح چند دن قبل اپنی پوسٹ پر لکھا کہ جہاد فی سبیل اللہ کو مطلقًا معطل کرنے والا باجماع اُمت حاکم شرعی نہیں ہوسکتا، تو ایک متعالم صاحب بھاگے بھاگے آئے کہ دلیل دیجیے؟ میں نے پوچھا کہ “حکم الامتناع عن شرائع اللہ الظاہرة” جانتے ہو؟ کہنے لگے “نہیں”۔ اب جسے کئی سال مدینہ یونیورسٹی پڑھ کر یہ بھی نہ آتا ہو جسے علمائے عقیدہ نے مبادیات میں بیان فرمایا تو اسے کیا سمجھایا جائے؟ جبکہ علم مربوط ہوتا ہے۔ نتیجتا اُسے صحیح بخاری کے ایک مقام کا حوالہ دیا کہ جاکر کسی عالم سے پڑھ لے۔ اور مثالیں کثیر ہیں۔ دوسری طرف یہ مناھج علمیہ اور کتابوں کے ناموں اور اقوال کی نقل یوں کرتے ہیں جیسے اس دور میں مدرسہ فقہیہ یہی ہو۔

(۴) کچھ مدخلی “صوفیانہ” کاروائی کرتے ہیں۔ کہ اہم مسائل پر بولنا خطرناک، کبار کی خاموشی حکمتناک، علم کے بغیر فتوی وحشتناک وغیرہ.. اور اس کی آڑ میں صرف جہاد فلسطین کے حق میں بولنے والوں پر فتوی زنی کرتے ہیں۔ بھئی اگر ان مسائل میں بولنا خطرناک ہے تو تمھارا بولنا چہ معنی؟ اگر تم سمجھتے ہو کہ ہم تو نہ بولنے کا کہ رہے ہیں تو نہ بولنے کے مقام کا تعین کرنا بھی اسی طرح کا علم کا محتاج ہے جس طرح بولنا۔ بلکہ قران نے تو کتمان حق کرنے والوں پر لعنت بیان کی ہے، تو کیا تم عظیم ترین نوازل اور عقدی فتنوں پر خاموشی کی دعوت دے کر ملعون تو نہیں ہورہے؟ اگر تم اپنے سکوت کے دعوے میں سچے ہوتے تو مطلقا خاموش رہتے، یہ سکوت تمھیں اپنے مخالفین کے بارے ہی نہ نظر آتا؟ پھر یہ تم نے اپنے جہل کی بنا پر فرض کرلیا کہ مطلق سکوت عدم فعل ہوتا ہے۔ قران کریم نے بنو اسرائیل پر بھی لعنت کی وعید سُنائی “منکر کو نہ روکنے کی وجہ سے”،(کانوا لا يتناهون عن منكر فعلوه).. اور پھر اُن کے اس سکوت منکر کو ہی “بُرا فعل” قرار دیتے ہوئے فرمایا (لبئس ما کانوا یفعلون).. کچھ سمجھ آیا یا نہیں؟ کہ بعض سکوت اور منکرات پر عدم نکیر یعنی عدم فعل بھی بذات خود بدترین افعال میں سے ہوتا ہے، اور یہ تعیین بھی علم کی محتاج۔ لہذا یا تو زبان مکمل بند رکھو یا کُھل کر دلائل کے میدان میں آؤ۔ سستے ناصح بننے کی کوشش مت کرو کہ معاملہ اللہ کے دین اور اُمت کا ہے۔

رہی بعض کبار کی خاموشی تو وہ اُن کا اپنے رب کے ساتھ معاملہ ہے۔ اس بنا پر نہ اُن کی سابقہ حسنات کو مطعون کیا جاسکتا ہے نہ اُن کا زبردستی نمائندہ بننے کی کوشش کی جائے جب تک کہ اُن کا واضح دوٹوک موقف سامنے نہ آجائے۔ حاکم پھر بھی کتاب اللہ ہی رہے گی۔
 
Top