• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Ahmad Ashraf

مبتدی
شمولیت
اپریل 30، 2026
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
کیا آپ ﷺ نور تھے یا بشر؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی عقائد میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا حضور نبی اکرم ﷺ نور تھے یا بشر؟ اس موضوع پر اہلِ علم نے قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی گفتگو پیش کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ماننے کا عقیدہ نہ تو کسی صحابی کا تھا، نہ تابعی، تبع تابعی یا ائمہ اربعہ میں سے کسی کا۔ یہ اہل باطل کا گھڑا ہوا عقیدہ ہے جسے انہوں نے ضعیف، موضوع اور من گھڑت احادیث سے اخذ کیا ہے اور وہ قرآن پاک کی آیات کی من مانی تشریح بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کے حوالے سے جو منکر اور موضوع احادیث پیش کی جاتی ہیں، اب ہم ان کی ایک ایک روایت کا جائزہ لیں گے۔
حضور ﷺ کو نور قرار دینے والوں کی دلیل کا جائیزہ
دلیل نمبر: 1
ہمارے بریلوی بھائی سورة المائدة کی ایت نمبر 15{قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ:} سے استدلال کرتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بشر نہیں نور تھے۔
اس بات کو سمجھیں کہ اس آیت میں نور سے مراد کیا ہے۔ اور یہ بات ہم اپ کو اصول تفسیر کے ذریعہ سمجھائیں گے۔
اصول نمبر1: قرآنِ کریم اپنی آیت کا معنی خود سمجھائے گا، یعنی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے۔
اصول نمبر2: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس آیت کا معنی بتائیں گے۔
اصول نمبر3: صحابہ کرام اس آیت کی تفسیر کریں گے۔
اصول نمبر 4: اس کو عربی لغت اور عربی گرامر کے حساب سے سمجھا جائے گا کہ یہاں پر اس چیز کا کیا معنی ہوگا۔
ان شاء اللہ اگر آپ کو یہ چار چیزیں سمجھ آ گئیں تو ہماری گفتگو بھی آپ کو سمجھ آ جائے گی۔
{قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ:} "بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔" (سورۃ المائدہ: 15)
قران پاک کی اس آیت کے دو طرح سے جواب مفسرین بیان کرتے ہیں۔
جواب نمبر: 1

سورة المائدة کی ایت نمبر 15 میں نور سے مراد قرآن مجید ہے نہ کہ آپ صلی ﷺ کی ذات مبارک۔ قرآن میں قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں کو ہی بہت سے مقامات پر نور کہا گیا ہے (اصول نمبر1) مثلاً:
﴿فَامَنِوُاْ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَالنُّوْرِ الَّذِيْ اَنْزَلْنَا﴾ (سورۃ التغابن آیت 8) تو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس نور پر بھی جسے ہم نے اتارا ہے۔ (قرآن کے لیے)-
﴿وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا﴾ [سورۃ آیت النساء 174] اور ہم نے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا (قرآن کے لیے)
﴿اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْريٰةَ فِيْهَا هُدًي وَّنُوْرٌ﴾ (سورۃ المائدہ، آیت 44) ہم نے ہی تورات اتاری جس میں ہدایت اور نور تھا (تورات کے لیے).
﴿وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًي وَّنُوْرٌ﴾ (سورۃ المائدہ، آیت 46) اور ہم نے (سیدنا عیسیٰؑ) کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا (انجیل کے لیے).
جواب نمبر: 2
واؤ عاطفہ دونوں کو الگ الگ بتانے کے لیے نہیں بلکہ تفسیر کے لیے ہے، یعنی کتاب مبین اس نور کی تفسیر ہے، جس کی واضح دلیل ایک تو اس سے بعد والی یہ آیت ہے: «‏‏‏‏يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ» ‏‏‏‏ یعنی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔ اب اس آیت میں اگر نور اور کتاب مبین الگ الگ چیزیں ہوتیں تو بعد والی آیت میں ﴿يَهْدِي بِهِ اللّٰهُ﴾ کے بجائے ﴿يَهْدِيْ بهِمَا اللّٰهُ﴾ (اﷲ ان دونوں کے ساتھ ہدایت دیتا ہے) ہوتے۔ دوسری جگہ خود اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: «فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [الأعراف: ۱۵۷ ] ”سو وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ معلوم ہوا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اترنے والی کتاب ہی نور ہے۔ قرآن مجید کے لیے نور کا لفظ سورۂ نساء اور دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے-
حاصلِ کلام / نتیجہ
لہٰذا سورۃ المائدہ کی اس آیت سے یہ ثابت کرنا کہ نبی کریم ﷺ بشر نہیں بلکہ نور تھے یہ استدلال درست نہیں ہے، بلکہ عربی قواعد اور قرآنی آیات کے باہمی ربط سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں "نور" سے مراد نازل کردہ کتاب قرآن مجید ہی ہے۔ اہلِ اسلام کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ آپ ﷺ بشر بھی تھے اور اللہ کے سب سے افضل رسول بھی، اور آپ ﷺ کی شان و عظمت تمام مخلوقات سے بڑھ کر ہے۔
دلیل نمبر: 2
حدیث نور
1782406762905.png

﴿ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أخْبِرْنِي عَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَبْلَ الْأَشْيَاءِ ، قَالَ : يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُوْرَ نِبِيِّكَ مِنْ نُوْرِهِ ، فَجَعَلَ ذَالِكَ النُّوْرُ يَدُورُ بِالْقُدْرَةِ حَيْثُ شَاءَ اللهُ وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَالِكَ الْوَقْتِ لَوْحٌ وَلَا قَلَمٌ وَلَا جَنَّةٌ وَلَا نَارٌ وَلَا مَلَكٌ وَلَا سَمَاءٌ وَلَا أَرْضٌ وَلَا شَمْسُ وَلَا قَمَرٌ وَلَا جِنِّي وَلَا انْسِي )

حضرت جابر بن عبد اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے اس پہلی چیز سے متعلق بتائے اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں اشیاء سے پہلے پیدا کیا ۔ آپ ملی الم نے فرمایا کہ اے جابر ! اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا اور اس نور کو ایسی قوت دے دی کہ وہ اپنی قدرت سے جہاں اللہ چاہتے گھومتا پھرتا اور اس وقت نہ لوح محفوظ تھی نہ قلم ، نہ جنت نه جهنم ، نه فرشته نه زمین و آسمان ، نه شمس و قمر اور نہ ہی جنات و انسان-
یہ حدیث مصنف عبد الرزاق کی ہے اور بلا سند ہے۔ مصنف عبد الرزاق چوتھے درجہ کی حدیث کی کتاب ہے جس میں ضعیف اور موضوع احادیث کی بھرمار ہے۔ پھر بلا سند حدیث ویسے بھی محدثین کے نزدیک مردود اور ناقابل اعتبار ہوتی ہے۔
اس روایت کو موضوع کہا گیا ہے حوالہ کے لیے مندرجہ ذیل کتابیں دیکھیں:
ضعیف اور منگھڑت واقعات صفحہ نمبر 95
200 ضعیف احادیث صفحہ نمبر 58
سلسلۃ الاحادیث الواھیہ صفحہ نمبر 155
اس روایت کے بارے ناصرالدین البانی فرماتے ہیں کہ یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے ان کے علاوہ بھی بہت سے محدثین نے اس کو باطل کرار دیا ہے-
خلاصہ و نتیجہ
نورِ محمدی کی تخلیق سے متعلق جابر رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت بغیر سند ہونے کی وجہ سے باطل، من گھڑت اور ناقابلِ اعتبار ہے، لہٰذا اسے دین کا حصہ بنانا شرعی طور پر درست نہیں۔ قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے برگزیدہ رسول اور بشر تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے وحی اور نبوت کے شرف سے ممتاز فرمایا (سورۃ الکہف: 110)۔ اس لیے دینی عقائد میں ہمیشہ صحیح اور مستند دلائل کو ترجیح دینی چاہیے اور ضعیف یا موضوع روایات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
دلیل نمبر: 3
نور من نور اللہ کا عقیدہ اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں۔
WhatsApp Image 2026-06-06 at 7.13.49 PM (1).jpeg

WhatsApp Image 2026-06-06 at 7.13.25 PM.jpeg

﴿ أَنَا مِنْ نُوْرِ اللَّهِ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنِّي وَ الْخَيْرُ فِي وَفِي أُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ )
"میں اللہ کے نور سے (ایک نور) ہوں اور مومن مجھ سے ہیں۔ خیر مجھ سے اور میری امت میں تاقیامت ہے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 205]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت کو غیر معروف کہا ہے۔
علامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ [تذكرة الموضوعات ص: 86]
شیخ البانی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ [السلسلة الضعفة 30]، مزید دیکھئے: [المصنوع فى معرفة الحديث الموضوع ص: 99]، [أسنی المطالب فى أحاديث مختلفة المراتب 317]، [المقاصد الحسنة ص: 336]
خلاصہ:
’میں اللہ کے نور سے ہوں اور مومن مجھ سے ہیں‘ کی روایت بے اصل ہے (شیخ البانیؒ)، اس لیے اسے ’نور من نور اللہ‘ کے عقیدے کے ثبوت میں پیش کرنا درست نہیں۔
دلیل نمبر: 4
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ :
استعرت من حفصة بنت رواحة إبره، كنت أخيط بها ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسقطت مني الإبرة، فطلبتها، فلم أقدر عليها، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتبينت الإبرة من شعاع نور وجهه، فضحكت، فقال : يا حميراء ! لم ضحكت؟ قلت : كان كيت وكيت، فنادٰي بأعلٰي صوته : يا عائشة ! الويل ثم الويل، ثلاثا، لمن حرم النظر إلٰي هٰذا الوجه، ما من مؤمن ولا كافر، إلا ويشتهي أن ينظر إلٰي وجهي
’’میں نے حفصہ بنت رواحہ سے ایک سوئی ادھار لی، جس کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سی رہی تھی۔ وہ سوئی گر گئی، میں نے تلاش کیا، لیکن نہ مل سکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے چہرے کے نور سے وہ سوئی چمک اٹھی۔ میں ہنس دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حمیرا ! آپ کیوں ہنسی ہیں ؟ میں نے واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے بلند آواز سے پکار کر تین مرتبہ فرمایا : عائشہ ! اس شخص کے لیے ویل ہے، جو اس چہرے کو دیکھنے سے محروم رہا۔ ہر مؤمن اور ہر کافر میرے چہرے کو دیکھنا چاہتا ہے۔“
تحریر: علامہ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
لیکن یہ جھوٹی روایت ہے، کیونکہ :
➊ مسعدہ بن بکر فرغانی کی اس روایت کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ [ميزان الاعتدال: 98/4، ت : 8464] اور ابن عراق کنانی [تنزيه الشريعه: 117/1، الرقم: 327] نے جھوٹ کہا ہے۔
اس کی ایک اور روایت کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے باطل (جھوٹی ) قرار دیا ہے۔ [لسان الميزان: 22/6]
➋ اس میں محمد بن اسحاق کی ’’ تدلیس“ بھی ہے، سماع کی تصریح نہیں ملی۔
لہٰذا یہ جھوٹی روایت ہے۔
تحقیق و حکم
یہ روایت کہ "سیدہ عائشہؓ کی گری ہوئی سوئی رسول اللہ ﷺ کے چہرے کے نور سے مل گئی،" بالکل جھوٹی ہے۔ اس کی سند میں 'مسعدہ بن بکر فرغانی' نامی راوی ہے جسے کذاب (جھوٹا) کہا ہے۔ لہذا، حضور ﷺ کو نور ثابت کرنے کے لیے اس من گھڑت واقعے کو دلیل بنانا جائز نہیں۔
دلیل نمبر: 5
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشادفرمایا: اول ما خلق اللہ نوری و من نوری خلق کل شیئ۔ و فی روایة خلق جمیع الکائنات
اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا اور میرے نورسے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ میرے نور سے تمام کائنات کو پیدا کیا۔ (مطالع المسرات ، صفحہ 121، مطبوعہ مکتبہ نوریہ۔ میلاد النبوی لابن جوزی، صفحہ 22، مطبوعہ بیروت)
امام سیوطیؒ نے صراحت کی ہے کہ اس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند نہیں ہے۔
سنن ابوداؤد حدیث نمبر: 4700 صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے بے شک اللہ تعالی نے سب سے پہلے جس چیز کو پیدا فرمایا، وہ قلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو اس کے علاوہ (کسی اور عقیدے) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں“۔
دلیل نمبر: 6
Hadees noor 1.jpg

خصائص الکبری، المواہب اللدنیہ، شرح المواہب، السیرة الحلبیہ، کشف الخفاء میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:
’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں حضرت آدمؑ کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے ربّ کی بارگاہ میں نور کی صورت میں موجود تھا۔‘‘ (خصائص الکبری، باب خصوصیة النبی، جلد 01، صفحہ 07، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
محدثینِ کرام جیسے امام ابن الجوزی، حافظ ابن کثیر، اور علامہ البانی نے اس حدیث کی سند پر جرح کی ہے یہ روایت سنداً ثابت نہیں ہے اور اسے سخت ضعیف (بہت کمزور) یا موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
دلیل نمبر: 7
حضرت سیّدنا ابوہریرہرضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: جب نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسکراتے تو درو دیوار روشن ہو جایا کرتے تھے۔ (مصنف عبدالرزاق، جلد 10،صفحہ 242، حدیث: 20657)
روایت کی حیثیت: اسے علمائے حدیث نے "شدید ضعیف" (بہت کمزور) یا "موضوع" (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
امام ابن الجوزی نے اسے 'الموضوعات' (من گھڑت احادیث کے مجموعے) میں ذکر کیا ہے۔
علامہ البانی نے 'ضعیف الجامع' (حدیث نمبر 4381) میں اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
دلیل نمبر: 8
1782406927475.png

حضرت سیّدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا : نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےسامنےکے مبارک دانتوں میں کُشادَگی تھی، جب آپ گفتگو فرماتے تو اُن میں سے نور دکھائی دیتا تھا۔ [مشكاة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5797]
اسنادہ ضعیف جذا، رواہ الدارمی۔
تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الدارمي (1/ 30 ح 59) و الترمذي في الشمائل (15 بتحقيقي)
فيه عبد العزيز بن أبي ثابت الزھري: متروک
اس میں عبدالعزیز بن ابی ثابت الزہری ہے: وہ مردود ہے (یعنی اس کی روایتیں رد ہیں)۔
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
شیخ الاسلام علّامہ عبدالرءوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : یہ نور محسوس ہوتا تھا اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کُل ذاتِ شریفہ ظاہری و باطنی طور پر نور تھی حتّٰی کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے اصحاب میں سے جس کو چاہتے اُسے نور عطا فرماتے جیسا کہ حضرت سیّدنا طفیل بن عَمرو دَوسی رضی اللہ تعالٰی عنہ کوعطافرمایا ۔ (فیض القدیر، ج5،ص93 ،چشتی)
خلاصۂ:
سیّدناعبداللہ بن عباس روایت میں نبی کریم ﷺ کے مبارک دانتوں سے نور دکھائی دیتا تھاٰ، سند کے اعتبار سے یہ روایت بہت ضعیف ہے اور اس سے عقیدہ یا شرعی حکم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
دلیل نمبر: 9
قال تعالی یا ادم ! ارفع راسک فرفع راسہ فرای نور محمد فی سرادق العرش فقال: یارب! ماھذا النور؟ قال: ھذا نور نبی من ذریتک اسمہ فی السماء احمد و فی الارض محمد لو لاہ ما خلقتک و لا خلقت سماء و لا ارضا
ترجمہ: اللہ تعالی نے فرمایا: اے آدم! اپنے سر کو اٹھاؤ، پس انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا اور نورِ محمد صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کو عرش کے پایوں میں جلوہ گر دیکھا، تو عرض کی: اے میرے رب! یہ کس کا نور ہے؟ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے ایک نبی کا نورہے، جن کا آسمان میں نام احمد ہوگا اور زمین میں محمد ہوگا، اگر میں انہیں پیدا نہ کرتا، تو نہ تمہیں پیدا کرتا، نہ آسمان و زمین کو پیدا کرتا۔ (المواھب اللدنیہ، جلد 01، صفحہ 09، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اس متن سے ملتی جلتی اور بھی روایات ملتی ہیں اور سب کی سب باطل اور جھوٹی روایات ہیں.
اس حوالے سے حضرت ابن عباس، حضرت عمر، حضرت سلمان رضی اللہ عنہم سے مرفوع روایات اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک اثر بھی پیش کرتے ہیں. (تاریخ ابن عساكر : 518/3 ، الموضوعات لابن الجوزي : 288/1، 289) ( سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني :450/1 ) (المستدرك على الصحيحين للحاكم : 4227)
قرآن اور صحیح احادیث سے موضوعات کا رد:
دلیل نمبر: 1
نبی اکرم ﷺ بشر تھے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا.

آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے- (سورۃ الکہف: 110)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا ایک قرآن تم بھی بنا کر پیش کر دو۔ دیکھو میں کوئی غیب داں تو نہیں، تم نے مجھ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کیا، اصحاب کہف کا قصہ پوچھا تو میں نے ان کے صحیح واقعات تمہارے سامنے بیان کر دئیے جو نفس الامر کے مطابق ہیں۔ اگر میرے پاس اللہ کی وحی نہ آتی تو میں ان گزشتہ واقعات کو جس طرح وہ ہوئے ہیں، تمہارے سامنے کس طرح بیان کر سکتا؟ سنو تمام تر وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تم موحد بن جاؤ۔ شرک کو چھوڑ دو۔ میری دعوت یہی ہے جو بھی تم میں سے اللہ سے مل کر اجر و ثواب لینا چاہتا ہو، اسے شریعت کے مطابق عمل کرنے چاہئیں اور شرک سے بالکل بچنا چاہیئے۔ ان دونوں ارکان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، خلوص ہو اور مطابقت سنت ہو۔ (تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 110)
یہ آیت ایک اہم اصول کو قائم کرتی ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان تھے، قرآن پاک میں متعدد مقامات پر واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی خلقت اور جنس کے لحاظ سے بشر (انسان) تھے۔ یہ آپ ﷺ کے مرتبہ و مقام کی کمی نہیں، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ انسانوں کے لیے بہترین نمونہ بن کر آئے۔ قرآن بار بار اس حقیقت پر زور دیتا ہے تاکہ پچھلی قوموں کے ان باطل عقائد کی تردید کی جا سکے جو انبیاء کی حیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے۔ میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں اس مسئلے کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیے آئیے اب ہم اپنے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔ بشری تقاضوں کے مطابق آپ ﷺ کا سایہ ہونا ایک فطری امر تھا۔ اور اس بات کو بخوبی سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سایہ ہونا کوئی عیب کی بات بھی نہیں ہے.
دلیل نمبر: 2
وَ مَا جَعَلۡنٰہُمۡ جَسَدًا لَّا یَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَ مَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ
ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ (سورۃ الانبیاء: 8)
اب کفار مکہ کے ایک بنیادی اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ یہ نبی ہم ہی جیسا ایک بشر ہے۔ سب بشری کمزوریاں اور بشری تقاضے اس میں بھی موجود ہیں جو ہم میں ہیں۔ وہ ہماری طرح ہی کھانے پینے اور چلنے پھرنے کا محتاج ہے اور ہماری طرح نکاح شادیاں بھی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اسے نہ تو کوئی دنیی جاہ چشم میسر ہے اور نہ ہی کوئی فرشتہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا انھیں جواب یہ دیا گیا کہ تم لوگ جو اہل کتاب سے پوچھ پوچھ کر اس نبی سے کئی طرح کے سوال اور کئی طرح کے اعتراض کرتے ہو تو ایک سوال یہ بھی پوچھ لو کہ آیا موسیٰ علیہ السلام بشر تھے یا نہیں ؟ ان کے جواب سے تمہیں تسلی ہوجائے گی کہ موسیٰ علیہ السلام خود بھی اور ان کے علاوہ دوسرے تمام انبیاء بھی سب کے سب بشر ہی تھے۔ سب بشری تقاضے ان کے ساتھ بھی لگے ہوئے تھے۔ کھانے پینے کے علاوہ وہ سب کے سب موت سے بھی دوچار ہوئے اور آج ان میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں ہے۔
دلیل نمبر: 3
لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہار ی مضر ت نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔ (سورہ التوبہ آیت 128)
سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں وہ نور یا اور کچھ نہیں جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔
دلیل نمبر: 4
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ
بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالٰی کا بڑا احسان ہے کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سُناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سِکھاتا ہے ، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھُلی گُمراہی میں تھے۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 164)
نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالیٰ ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور قریب ہونگے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے۔
دلیل نمبر: 5
ابوحفصہ کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو اس کے علاوہ (کسی اور عقیدے) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں“۔ سنن أبي داود،كتاب السنة،باب في القدر،حدیث نمبر: 4700 قال الشيخ الألباني: صحيح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو نہیں بلکہ قلم کو پیدا فرمایا تھا۔
دلیل نمبر: 6
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی (کا ذریعہ) اور رحمت بنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6616]
حاصلِ کلام: عربی قواعد، قرآنی آیات کے باہمی ربط اور صحیح احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بشر تھے جنہیں اللہ نے وحی اور نبوت کے اعلیٰ ترین مقام سے سرفراز فرمایا۔ عقائد کی بنیاد صرف مستند اور صحیح احادیث پر ہوتی ہیں۔
 

اٹیچمنٹس

Top