• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا باجماعت نمازتراویح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ایجادہے؟

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,800
پوائنٹ
773
ماہ رمضان میں اکثر لوگ کہاکرتے ہیں کہ جماعت کے ساتھ تراویح عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایجاد کی ہے۔اوراسی پربس نہیں بلکہ بعض لوگ یہ بات کہہ کراس سے بدعت حسنہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ یہ بات ہی سرے سے غلط ہے کہ جماعت کے ساتھ تراویح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ایجاد ہے اور سچائی یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ تراویح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں بھی ہوتی بلکہ ابوبکررضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی جماعت کے ساتھ تراویح ہوتی تھی بلکہ اس سے بھی قبل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی باجماعت تراویح ہوتی تھی۔
اوراس بات کی دلیل کہیں اور نہیں بلکہ عین اسی حدیث میں موجود ہے جسے پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ باجماعت تراویح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ایجاد ہے ۔ یہ بخاری کی حدیث ہے۔
آئیے پوری حدیث دیکھتے ہیں:
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ» يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، اور کوئی اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ایک جماعت نماز پڑھ رہی تھی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور (رات کا) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ (کی فضیلت) سے تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے۔[صحیح البخاری(٣/٤٥):ـکتاب صلاة التراویح: باب فضل من قام رمضان،رقم ٢٠١٠]

اس حدیث میں غور کیجئے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ جب پہلی رات عبدالرحمن بن عبدالقاری کے ساتھ مسجد میں آئے تو مسجد میں یہ منظر دیکھا:
فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ،
لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسی رات مسجد میں یہ منظر بھی دیکھا:
وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ،
اورکوئی اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ایک جماعت نماز پڑھ رہی تھی۔

صحیح بخاری کی شرح کرنے والے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَحَاصِلُهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ كَانَ يُصَلِّي مُنْفَرِدًا وَبَعْضَهُمْ يُصَلِّي جَمَاعَةً
اس کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اکیلے نماز پڑھ رہے تھے اور بعض جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے[فتح الباري لابن حجر 4/ 252]

غورکریں بخاری کی اسی روایت میں صاف دلیل موجود ہے کہ لوگ شروع ہی سے جماعت کے ساتھ نماز تراویح پڑھ رہے تھے ۔ یعنی اس رات مسجد میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی آمدسے قبل ہی لوگ جماعت سے نمازتراویح پڑھ رہے تھے اورلوگوں کا یہی عمل عہد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں بھی تھا بلکہ عہد رسالت سے ہی یہ عمل جاری تھا۔
ایسی صورت میں یہ کہنا قطعا درست نہیں کہ باجماعت نماز تراویح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ایجاد ہے؟
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,800
پوائنٹ
773
اب رہا سوال یہ کہ پھر اس رات عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ کیا تھا وہ کیا تھا؟ توعرض ہے کہ اس رات عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ یہ تھا کہ جو لوگ اکیلے اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں انہیں بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے یعنی مسجد میں باجماعت نماز کی شکل باقی رکھی جائے اور جو لوگ اکیلے اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں ان سب کو پابند کیا جائے کہ وہ بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں ۔
چناں چہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حکم صادر کردیا کہ سب لوگ جماعت میں شامل ہوکر ایک ہی امام کے ساتھ اکٹھا ہوکر نماز پڑھیں ۔
یہ ہے تراویح سے متعلق عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کی حقیقت اس میں یہ کہیں نہیں ہے کہ جماعت سے تراویح کی نماز عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایجاد کی ہے بلکہ اس کے برعکس اس میں اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ جماعت کے ساتھ تراویح شروع ہی سے ہورہی تھی ۔ اور یہ سلسلہ عہدرسالت ہی سے چلا آرہا تھا۔
واضح رہے کہ بعض احادیث میں جو یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رات جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائی اس کے بعد آپ نے تراویح کی امامت نہیں کروائی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے قبل یا اس کے بعد جماعت سے تراویح کا کوئی ثبوت ہی نہیں تھا ۔بلکہ کئی احادیث سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ان تین راتوں کے علاوہ بھی صحابہ کرام جماعت کے ساتھ تراویح پڑھتے تھے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا تھا۔ ملاحظہ ہو :

امام أبو یعلی رحمہ اللہ (المتوفی٣٠٧)نے کہا:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟»، قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي، قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورکہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گذشتہ رات (یعنی رمضان کی رات) مجھ سے ایک چیز سرزد ہوئی ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا وہ کیا چیز ہے ؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گھر میں خواتین نے مجھ سے کہا کہ ہم قران نہیں پڑھ سکتیں لہٰذا ہماری خواہش ہے کہ آپ کی اقتداء میں نماز پڑھیں ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے انہیں آٹھ رکعات تراویح جماعت سے پڑھائی پھر وتر پڑھایا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پرکوئی نکیر نہ کی گویا اسے منظور فرمایا۔
[مسند أبي يعلى الموصلي 3/ 336 واسنادہ صحیح]

یہ واقعہ ان تین راتوں کا نہیں ہے جن میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت نماز تراویح پڑھائی تھی ۔اس سے معلوم ہوا کہ عہدرسالت میں ہی جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے پر صحابہ کرام کا عمل تھا اور اسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منظوری حاصل تھی ۔

بلکہ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں بھی صحابہ کرام جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے پر عمل پیرا تھے چناں چہ:
امام أبوداؤد رحمہ اللہ (المتوفی٢٧٥) نے کہا:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ [ص:51]: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟»، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ رمضان میں مسجد کی ایک جانب میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا کررہے ہیں؟ کہا گیا کہ ان لوگوں کو قرآن یاد نہیں ہے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے درست کیا اور بہت خوب کیا۔ [سنن ابی داؤد:٢/٥٠ رقم ١٣٧٧وھو حسن]

یہ واقعہ بھی ان تین راتوں کا نہیں ہے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت نماز تراویح پڑھائی تھی ۔اس سے معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں باجماعت تراویح پر صحابہ کرام کا عمل تھا ۔اوریہ عمل عہدرسالت کے بعد عہد ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک بھی جاری تھا جیساکہ بخاری کی حدیث سے واضح کیا جاچکا ہے ۔اس لئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے باجماعت تراویح کی بنیاد ڈالی۔

البتہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے جوحکم صادر کیا تھا اس میں خاص بات یہ تھی کہ آپ نے مسجد میں فردا فردا تراویح پڑھنے سے منع کیا تھا اورمسجد میں صرف جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا ۔اوریہ طریقہ بھی عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اپنا ایجاد کردہ نہیں تھا بلکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اسے صرف جاری کیا تھا اور طریقہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ۔چنانچہ یہ بات متفق علیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رات تراویح کی جماعت اس طرح کرائی تھی کہ ان تین راتوں میں سب کے سب جماعت میں شریک تھے اور اکیلے پڑھنے والا کوئی نہ تھا لیکن اگلے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر یہ عمل روک دیا کہیں یہ نماز فرض نہ ہوجائے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دین مکمل ہوگیا اوراب اس نماز کے فرض ہونے کا امکان نہیں تھا اس لئے عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طریقہ کو جاری کردیا ۔ کیونکہ اس کے بند کرنے کی جو وجہ تھی وہ اب باقی نہیں رہ گئی تھی۔
الغرض یہ کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے جو طریقہ جاری کیا تھا وہ ان کا اپنا ایجاد کردہ نہیں تھا بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ تھا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,800
پوائنٹ
773
یہاں پر ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ اگر یہ طریقہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اپنا ایجاد کردہ نہیں تھا تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اسے:

نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ،
یعنی یہ نیا طریقہ بہت اچھا ہے

کیوں کہا؟

توعرض ہے کہ یہاں عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ''بدعت'' کا لفظ شرعی واصطلاحی معنی میں استعمال نہیں کیا ہے بلکہ لغوی معنی میں استعمال کیا ہے ۔دراصل شریعت میں'' بدعت'' اس طریقہ کو کہتے ہیں جو جو ایجاد کے اعتبار سے نیا ہو نہ کہ عمل کے اعتبار سے ۔یعنی کسی طریقہ کی ایجاد عہدرسالت کے بعد ہوئی ہے تو وہی طریقہ شریعت میں'' بدعت'' قرار پائے گا ۔ لیکن اگر کسی طریقہ کی ایجاد عہدرسالت میں ہی ہوئی ہو لیکن اس پر عمل بعد میں شروع ہوا تو اس طریقہ کو شریعت کی اصطلاح میں'' بدعت'' نہیں کہیں گے کیونکہ یہ عمل ایجاد کے اعتبار سے نیا نہیں بلکہ صرف عمل کے اعتبار سے نیا ہے۔
لیکن لغت میں بدعت ہرطرح کی نئی چیز کو کہتے ہیں یعنی لغت کے اعتبار سے ہر نئے طریقہ کو بدعت کہہ سکتے ہیں خواہ وہ ایجاد کے اعتبار سے نیا ہو یا عمل کے اعتبار سے ۔

اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ مغرب سے قبل دو رکعت سنت پڑھنے کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا طریقہ ہے ۔ اور آج کے دور میں بہت ساری مساجد میں اس طریقہ پر عمل نہیں ہورہا ہے اب اگر کوئی شخص ایسی کسی مسجد میں اس طریقہ پر عمل جاری کرادے تو یہ طریقہ عمل کے اعتبار سے نیا ہوگا اس لئے لغوی اعتبار سے اسے '' بدعت '' یعنی نیا طریقہ کہ سکتے ہیںلیکن ایجاد کے اعتبار سے یہ نیا نہیں ہے اس لئے شرعی اعتبار سے اسے ''بدعت'' نہیں کہہ سکتے ۔

دوسری مثال یوں سمجھیں کہ کسی کمپنی ایریا میں یا راستے میں کوئی ایسی مسجد ہو جہاں فجر کے علاوہ بقیہ صرف چار وقت کی نماز ہوتی ہے اور فجر کی نماز نہیں ہوتی ۔لیکن کچھ دنوں کے بعد اس مسجد کے آس پاس مسلمان آباد ہوجائیں اور اس مسجد میں فجرکی نماز بھی شروع کردیں تو یہ طریقہ اس مسجد میں نیا طریقہ ہوگا اورلغوی اعتبار سے اسے'' بدعت '' یعنی نیا طریقہ کہہ سکتے ہیں لیکن شرعی اعتبار سے اسے'' بدعت'' نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ طریقہ ایجاد کے اعتبار سے نیا نہیں ہے بلکہ صرف عمل کے اعتبار سے نیا ہے۔

ٹھیک اسی طرح کا معاملہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے جاری کردہ طریقہ کا ہے یہ طریقہ عمل کے اعتبار سے نیا تھا اس لئے لغوی اعتبار سے اسے ''بدعت'' یعنی نیا طریقہ کہہ سکتے ہیں جیساکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن شرعی اعتبار سے اس طریقہ کو'' بدعت ''نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ طریقہ ایجاد کے اعتبار سے نیا نہیں ہے بلکہ صرف عمل کے اعتبار سے نیا ہے۔اس کی ایجاد تو عہد رسالت میں ہوئی ہے جیساکہ ماقبل میں تفصیل پیش کی گئی ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,000
ری ایکشن اسکور
9,800
پوائنٹ
773
اورحیرت کی بات ہے کہ لوگ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے بدعت حسنہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے بدعت حسنہ کی تائید نہیں بلکہ تردید ہوتی ہے ۔
غور کریں کہ ایک طریقہ پر عمل کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے روک دیا تھا کہ کہیں اس میں اضافہ نہ ہوجائے یعنی یہ فرض نہ ہوجائے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دین میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا اس حقیقت پر ایمان ہی کی وجہ سے عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اس طریقہ کو جاری کردیا کیونکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا یہ اعتقاد تھا کہ عہد رسالت کے بعد دین میں اب نئی چیز کی گنجائش نہیں ہے،اس لئے اس نبوی طریقہ میں بھی اب کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا ہے لہذا اسے جاری کرنے میں دین میں نئی چیز کے اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔
گویا کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ میں یہ اعلان موجود ہے کہ دین میں اب کسی نئی چیز کی گنجائش نہیں ہے ، لیکن افسوس کہ عین اس کے برعکس عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اسی فیصلہ سے بدعت حسنہ کے جواز پر استدلال کیا جارہا ہے ۔اسے کہتے ہیں تفسیر القول بما لایرضی بہ القائل ۔

ختم شد
 

razzakhan

رکن
شمولیت
مئی 31، 2015
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
43
مشكورة على هذا مساعدة تسلمي بارك الله فيك
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,480
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا و بارک فیکم شیخ کفایت اللہ صاحب ۔

مشكورة على هذا مساعدة تسلمي بارك الله فيك
بھائی لگتا ہے یہ کہیں سے آپ نے کاپی پیسٹ کیا ہے ، اتفاق سے یہ کسی عورت کا شکریہ ادا کیا جارہا ہے کسی معاملے میں تعاون کرنے پر ۔
شیخ کے لیے آپ اس طرح کی عبارت یوں کہہ سکتے ہیں :
مشكور على هذا الجهد ، تسلم ، بارك الله فيك -
يا
شكر الله لك هذا الجهد و بارك فيك ، سلمت يمينك ۔
 

ابو عبدالله

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 28، 2011
پیغامات
723
ری ایکشن اسکور
448
پوائنٹ
135
جزاک اللہ خیرا
شیخ کفایت اللہ صاحب، اللہ آپ کے علم و عمل اور ایمان میں برکت عطا فرمائے۔ آمین
 
Top