محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,047
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر انسان اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی، بلکہ یہ جملہ ظہار کے الفاظ میں سے ہے جو ظہار کے معنی میں واضح نہیں ہے، اس سے ظہار بھی مراد ہو سکتا ہے اور ظہار کے علاوہ کوئی اور مطلب بھی ہو سکتا ہے، لہذا خاوند کی نیت اور قرائن سے فیصلہ کیا جائے گا۔
وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (3) فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (المجادلة: 3- 4)
’’اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کرلیتے ہیں جو انھوں نے کہا ،تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاؤ گے،اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پور ی طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔‘‘
سیدہ خولہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مجھ سے اس مسئلے میں بحث فرمانے لگے۔ آپ کہتے تھے: ”اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا چچا زاد ہے۔“ میں وہاں سے نہ ہٹی تھی کہ قرآن نازل ہو گیا )) قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا(( بیان کفارہ تک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” وہ گردن آزاد کرے۔“ اس نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھا ہے، روزے کہاں رکھ سکتا ہے؟ فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ اس نے کہا: اس کے پاس کچھ نہیں ہے کہ صدقہ کرے۔ بیان کرتی ہیں کہ اسی وقت آپ کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا آ گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اور ٹوکرے (کھجور) سے اس کی مدد کر سکتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بہت بہتر ہے۔ جاؤ اور اس کی طرف سے یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور اپنے چچا زاد کی طرف لوٹ جاؤ۔“ (سنن أبي داود، الطلاق: 2214) (صحيح)
الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ (المجادلة: 2)
’’وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
اگر انسان اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی، بلکہ یہ جملہ ظہار کے الفاظ میں سے ہے جو ظہار کے معنی میں واضح نہیں ہے، اس سے ظہار بھی مراد ہو سکتا ہے اور ظہار کے علاوہ کوئی اور مطلب بھی ہو سکتا ہے، لہذا خاوند کی نیت اور قرائن سے فیصلہ کیا جائے گا۔
- اگر خاوند کی نیت یہ ہو کہ بیوی میرے لیے ایسے ہی حرام ہے جیسے میری ماں حرام ہے، تو یہ ظہار ہو گا اور اسے ظہار کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ اگر اس کا مقصد یہ ہو کہ تیری (بيوی) عزت وتکریم اور محبت میرےدل میں ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کی ہے تو یہ ظہار نہیں ہو گا اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ لازم ہو گا۔
- ایسے ہی یہ جملہ کہتے ہوئے صورت حال کو بھی دیکھا جائے گا ، اگر خاوند کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو رہا تھا ، اسی دوران اس نے یہ الفاظ کہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو اپنے اوپر اپنی ماں کی طرح حرام کر رہا ہے ،یہ ظہار ہو گا اور اس کا کفارہ ادا کرنا لازمی ہو گا۔ اگر نارمل حالات ہیں تو پھر خاوند کی نیت کے اعتبار سے فیصلہ ہو گا جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (3) فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (المجادلة: 3- 4)
’’اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کرلیتے ہیں جو انھوں نے کہا ،تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاؤ گے،اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پور ی طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔‘‘
سیدہ خولہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مجھ سے اس مسئلے میں بحث فرمانے لگے۔ آپ کہتے تھے: ”اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا چچا زاد ہے۔“ میں وہاں سے نہ ہٹی تھی کہ قرآن نازل ہو گیا )) قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا(( بیان کفارہ تک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” وہ گردن آزاد کرے۔“ اس نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھا ہے، روزے کہاں رکھ سکتا ہے؟ فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ اس نے کہا: اس کے پاس کچھ نہیں ہے کہ صدقہ کرے۔ بیان کرتی ہیں کہ اسی وقت آپ کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا آ گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اور ٹوکرے (کھجور) سے اس کی مدد کر سکتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بہت بہتر ہے۔ جاؤ اور اس کی طرف سے یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور اپنے چچا زاد کی طرف لوٹ جاؤ۔“ (سنن أبي داود، الطلاق: 2214) (صحيح)
- واضح رہے کہ خاوند کا اپنی بیوی سے ظہار کرنا حرام ہے، اللہ تعالی نے اسے منکر اور جھوٹی بات قرار دیا ہے۔
الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ (المجادلة: 2)
’’وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.