• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا تفرد راوی سے حدیث ضعیف ٹھہرتی ہے؟

شمولیت
جون 21، 2019
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
22
سلسلۂ علل حدیث

تفرد کی بنیاد پر حدیث کا معل ہونا۔

✒محمد عبد الرحمن اڑیشوی

⬅اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نقاد کے نزدیک تفرد ایک علت ہے. اس تفرد کی وجہ سے کبھی حدیث ضعیف ٹهہرتی ہے، بشرطیکہ تفرد ایسے راوی سے واقع ہو جو تفرد کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

متاخرین اور اکثر معاصرین کے یہاں ثقہ کا تفرد حدیث میں قادح نہیں ہوتا بلکہ :

* اس کی حدیث صحیح ہوتی ہے، اگرچہ درمیانی طبقے میں ہی تفرد واقع کیوں نہ ہوا ہو۔

* کبھی حدیث حسن ہوتی ہے ۔

* کبھی کسی ضعیف راوی کے تفرد کی بنا پر واقع ضعف کا ازالہ بھی کسی ضعیف شاہد یا متابع سے کر دیا جاتا ہے۔

لیکن متقدمین کے یہاں معاملہ مختلف تھا، وہ حضرات تو ثقہ کے تفرد کو بھی منکر سے تعبیر کرتے تھے۔ جیسے وہ حضرات امام مالک کے تفردات پر شاذ اور منکر کا لفظ استعمال کر دیتے تھے۔

متقدمین کے یہاں کوئی ریاضی فارمولے کے تحت احکام صادر نہیں ہوتے تھے جس میں بائیں طرف حساب لگایا اور داہنی طرف جواب حاصل ہو گیا۔

البتہ ان کے نزدیک احکام "قرائن اور مشاہدات" پر مبنی ہوتے تھے۔
جو اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ راوی نے حفظ کیا یا نہیں، کہیں غلطی اور وہم کا شکار تو نہیں ہوا ہے وغیرہ۔

اس سلسلے میں امام ابوداود رحمہ اللہ کا قول ملاحظہ فرمائیں۔ یہ قول "رسالة أبي داود إلی أهل مكة في وصف سننه " میں درج ہے:
لا يحتج بحديث غريب ولو كان من رواية مالك ويحيى بن سعيد والثقات من أئمة العلم.
ولو احتج رجل بحديث غريب وجدت من يطعن فيه، ولا يحتج بالحديث الذي قد احتج به إذا كان الحديث غريبًا شاذًا.

کسی غريب حدیث سے احتجاج نہ کیا جائے، چاہے وہ امام مالک کے طریق سے مروی ہو یا یحیی بن سعید کے طریق سے یا کوئی اور ثقہ راوی کے طریق سے۔

اگر کوئی غریب روایت آ جائے، جسے کسی شخص نے حجت سمجھ لیا ہو، تو ضرور آپ اس روایت کے متعلق کسی دوسرے شخص کو پہلے شخص پر طعن کرتے ہوئے پائیں گے، جو غرابت و شذوذ کی بنیاد پر اس روایت کو ناقابل احتجاج قرار دینے والا ہوگا۔

حافظ ذہبی نے بھی موقظہ میں بیان کیا ہے:
وقد يسمِّي جماعةٌ من الحفاظ الحديثَ الذي ينفرد به مثلُ هُشَيْم وحفص بن غِياثٍ: (منكرًا)

محدثين کی ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ حدیث جس میں ہشیم اور حفص بن غیاث جیسے لوگ منفرد ہوں تو وہ منکر ہوگی۔

مطلب یہ کہ اگر چہ یہ رواۃ ثقات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تفرد کی صورت میں متابع اور شواہد تلاش کرنا ہی پڑےگا۔

یعنی جس روایت کے نچلے طبقے میں( اصل) شہرت ہونے کے باوجود غرابت پائی جاتی ہے، تو ایسی صورت میں ماہرین علل کی جانب سے بھی خوب جانچ پڑتال کا معاملہ ہوتا ہے۔
 
Top