• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا تکفیر المشرکین اصل الدین میں سے ہے، یا یہ صرف رسالت کے بعد ہی معلوم ہوتی ہے؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
846
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
هل تكفير المشركين من أصل الدين أم لا يعلم إلا بعد الرسالة؟

فتوى شيخنا العلامة حسان حسين آدم أبي سلمان الصُّومالي -حفظه الله تعالى-

السائل أبو محمد المصري:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
لي سؤال: هل تكفير المشركين من أصل الدين أم لا يعلم إلا بعد الرسالة؟

میرا سوال ہے: کیا تکفیر المشرکین اصل الدین میں سے ہے، یا یہ صرف رسالت کے بعد ہی معلوم ہوتی ہے؟

الجواب: وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته.

هذه مسألة كثر فيها النزاع في عصرنا ولا تسع التغريدات لتفصيل أمرها، لكن أحاول أن أفتح لك فيها بابا من العلم تستشرف به على خفاياها إن شاء الله.

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں ہمارے دور میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، اور ٹویٹس میں اس کی تفصیل سما نہیں سکتی۔ تاہم، میں کوشش کرتا ہوں کہ تمہارے لیے اس میں علم کا ایک باب کھول دوں، تاکہ ان شاء اللہ تم اس کے مخفی پہلوؤں پر بصیرت حاصل کر سکو۔

يُحتاج في المسألة الفرق بين الأحكام العقلية وبين الأحكام الشرعية، وبيان هذا:
اس مسئلے میں عقل پر مبنی احکام اور شرعی احکام کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے، اور اس فرق کی وضاحت درج ذیل ہے:

(1) أن من عبد مع الله غيره فهو مشرك لغة وعقلا وشرعا قبل الرسالة وبعدها.
جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرے، تو وہ لغوی، عقلی اور شرعی اعتبار سے مشرک ہے، چاہے رسالت سے پہلے ہو یا بعد میں۔

- أما لغة؛ فلأن الشرك من الشِرْكة وهي المساهمة في الشيء وإثبات النصيب فيه؛ فالمشرك في اللغة من أشرك بين أمرين في شيء، فمن عبد مع الله غيره فهو مشرك لغة. هذا حكم لغوي لا يحتاج إلى سمع.
لغوی اعتبار سے: "شِرک" کا مادہ "شِرْکَۃ" (شراکت) سے ہے، جس کا مطلب ہے کسی چیز میں شریک کرنا اور اس میں حصہ مقرر کرنا۔ چنانچہ لغت میں "مشرک" وہ شخص ہے جو کسی چیز میں دو کو شریک کرے۔ لہٰذا، جو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرے وہ لغوی اعتبار سے مشرک ہے، اور یہ ایک لغوی حکم ہے جو کسی سمعی (نقلی) دلیل کا محتاج نہیں۔

- أما عقلا فلأن الأوصاف والأسماء المعنوية لا تجب لمحالّها إلا لمُوجِب؛ فإذا رأينا من يشرك مع الله غيره في العبادة حكم العقل بوجود الإشراك وانتفاء التفريد فالمشرك عقلا من قام به وصف الشرك وإلا لم يكن مشركا إلا تقديراً لا تحقيقا.
عقلی لحاظ سے: معنوی اوصاف و اسماء (یعنی باطنی صفات) اپنے محل (جسم یا ذات) پر صرف اسی وقت ثابت ہوتے ہیں جب ان کا کوئی سبب موجود ہو۔ پس جب ہم دیکھیں کہ کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت میں شریک کر رہا ہے، تو عقل اس پر "شرک" کا حکم لگاتی ہے اور "توحید" کا انکار کرتی ہے۔ لہٰذا عقلی اعتبار سے مشرک وہ ہے جس میں شرک کی صفت پائی جائے، بصورتِ دیگر وہ محض فرضی طور پر مشرک ہو گا، حقیقی طور پر نہیں۔

- وأما شرعا فلأن الشرع لا يرد بنفي الحقائق الوجودية ومخالفة العقول بل يرد بتقرير الحقائق وتأكيد أحكام العقل الصريح؛ فيستحيل نفي الشارع للحقائق الشركية الوجودية قبل الرسالة!
اور شرعی لحاظ سے: شریعت کبھی موجودہ حقائق کا انکار نہیں کرتی اور نہ ہی عقلِ سلیم کی مخالفت کرتی ہے، بلکہ یہ حقائق کی تصدیق اور عقل کے درست فیصلوں کی توثیق کے لیے آتی ہے۔ پس شریعت کا رسالت سے پہلے موجود شرک کی حقیقت کی نفی کرنا محال (ناممکن) ہے۔

(2) كذلك من أفرد الله بالعبادة قبل الرسالة فهو مسلم موحد لغة وعقلا وشرعا.
اسی طرح جس شخص نے رسالت سے پہلے عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کر دیا، وہ لغت، عقل اور شریعت کے مطابق "مسلم" اور "موحد" ہے۔

- أما لغة فلأن من أفرد الله بالعبادة فهو موحّد مفرد له بالعبادة في اللغة.
لغوی اعتبار سے: جو اللہ کو عبادت میں اکیلا ٹھہرائے، وہ لغت میں "موحد" اور "عبادت میں اللہ کے لیے اخلاص برتنے والا" کہلاتا ہے۔

- وأما عقلا فلأن التوحيد والتفريد لا يكون إلا لمعنى قائم بالشخص أوجب أن يقال: هذا الشخص موحد مفرد له بالذبح والدعاء مثلا؛ لأن التوحيد والتفريد وصف خارجي لا بد له من محل لا تقدير ذهني.
رہی بات عقل کی روشنی میں: تو اس لیے کہ توحید اور تفرید (یعنی کسی کو یکتا ٹھہرانا) صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کسی شخص میں کوئی قائم بالذات معنی یا وصف موجود ہو، جو اس بات کا مقتضی ہو کہ کہا جائے: 'یہ شخص اس (الٰہ) کو ذبح، دعا وغیرہ میں یکتا ٹھہراتا ہے۔' کیونکہ توحید اور تفرید ایک خارجی صفت ہے، جس کا کوئی محل ہونا لازم ہے؛ محض ذہنی تخیل میں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

- وأما شرعا فلأن الشرع لا يأتي بإنكار الحقائق وإنما بتقريرها وهذا واضح لا يحتاج إلى تعليق.
اور شریعت کے اعتبار سے: شریعت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حقائق کا انکار نہیں کرتی بلکہ ان کی تصدیق کرتی ہے، اور یہ بات واضح ہے جسے کسی شرح و وضاحت کی حاجت نہیں۔

(3) فاتضح بهذا التقرير: أن الإسلام والتوحيد والشرك والتنديد من الأحكام العقلية كالتماثل والاختلاف لا من الأحكام الشرعية؛ ولهذا قال علماء الأحناف: «والإسلام عندنا من الأحكام العقلية».
پس اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اسلام، توحید، شرک اور تندید (اللہ کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہرانا) یہ سب عقلی احکام ہیں، جیسے کہ مماثلت اور اختلاف عقلیات میں شامل ہیں، نہ کہ صرف شرعی احکام۔ اسی لیے احناف کے علماء نے کہا ہے: "ہمارے نزدیک اسلام عقل کے احکام میں سے ہے۔"

(4) أما العقوبة على الإشراك وترك التوحيد قبل الرسالة فمن الأحكام الشرعية؛ لأن القتل والتعذيب من العقوبات، وهي سمعية، لكن سقوط الحكم السمعي إن قيل بالسقوط في بعض الأحوال لا يوجب سقوط الحكم العقلي.
لیکن رسالت سے پہلے شرک کرنے یا توحید کو ترک کرنے پر جو سزا دی جاتی ہے، وہ شرعی حکم ہے؛ کیونکہ قتل و تعذیب جیسی سزائیں سمعی (نقلی) احکام میں سے ہیں۔ تاہم، اگر کسی صورت میں سمعی حکم ساقط ہو جائے، تو اس سے عقلی حکم ساقط نہیں ہوتا۔

(5) على التقرير السابق: من سمّى المشرك مسلما موحدا فقد كذب لغة وعقلا وسمعا لإخباره خلاف الواقع، ومن جعل المسلم الموحد مشركا غير موحد فقد كذب لغة وعقلا وسمعا أيضا.
پچھلے بیان کی روشنی میں: جو شخص مشرک کو "مسلم" یا "موحد" کہے، اس نے لغت، عقل اور شریعت تینوں کے لحاظ سے جھوٹ بولا؛ کیونکہ اس نے حقیقت کے خلاف بات کہی۔ اسی طرح جو شخص "مسلم موحد" کو "مشرک" کہے، وہ بھی لغت، عقل اور سمع تینوں اعتبار سے جھوٹا ہے۔

(6) هذا الكاذب يستحق الذم والعقوبة عقلا كما يستحق الصادق المدح والثناء عقلا لكن إيقاع العقوبة عليه وجوبا شرعي، وجواز الإيقاع عقلي.
ایسا جھوٹا شخص عقلًا مذمت اور سزا کا مستحق ہے، جیسے کہ سچ بولنے والا شخص عقلًا مدح و ستائش کا حقدار ہوتا ہے۔ البتہ اس جھوٹے پر سزا کو نافذ کرنا شرعی اعتبار سے واجب ہے، اور عقلًا اس کا نفاذ جائز ہے۔

(7) تكفير ذاك الكاذب الذي يسمّي المشرك مسلما حكم سمعي لا عقلي، والتكفير السمعي: الحكم بتخليده في النار على التأبيد واستباحة الدم والمال وما يتبع ذلك من الأحكام التي لا تُدرك بالعقل بل بالسمع فقط.
ایسے جھوٹے شخص کی تکفیر، جو مشرک کو مسلمان کہے، سمعی (نقلی) حکم ہے، عقلی نہیں۔ سمعی تکفیر سے مراد ہے: اُسے ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈالے جانے کا فیصلہ، اس کا خون اور مال مباح قرار دینا، اور دیگر وہ تمام احکام جن کا ادراک صرف سمع سے ہوتا ہے، عقل سے نہیں۔

(8) قد دلّ السمع على كفر جاعل المشرك مسلما. لكن تقرير هذه الفقرة من أدلة الكتاب والسنة والإجماع والقياس يطول. والمقصود: تنبيه السائل على الفرق بين الحقائق العقلية وبين الأحكام الشرعية لكثرة الخلط بينها في عصرنا.
سمعی دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جو مشرک کو مسلمان بنائے، وہ کافر ہے۔ البتہ اس نکتے کی تفصیل کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کی روشنی میں بیان کرنا طویل بحث ہے۔ یہاں مقصود صرف یہ ہے کہ سائل کو عقل سے متعلق حقائق اور شریعت کے احکام میں فرق سمجھا دیا جائے، کیونکہ ہمارے زمانے میں ان دونوں کے درمیان خلط ملط بہت عام ہو گیا ہے۔

الخلاصة:

تكفير المشرك بمعنى عدم الحكم بإسلام المشرك حكم عقلي سمعي؛ لأن الإسلام نقيض الشرك، والنقيضان لا يجتمعان ولا يرتفعان، والنتاقض حكم عقلي لا سمعي.

مشرک کی تکفیر بمعنیٰ اس کے اسلام کا انکار، ایک عقلی و سمعی حکم ہے؛ کیونکہ اسلام شرک کی نقيض ہے، اور دو نقيض چیزیں نہ جمع ہو سکتی ہیں اور نہ ہی ایک ساتھ ختم ہو سکتی ہیں، اور تناقض ایک عقلی قاعدہ ہے، سمعی نہیں۔

وتكفير المشرك بمعنى الحكم عليه بالتعذيب والتخليد واستباحة الدماء والأموال ونحوها فحكم سمعي لا يدرك بالعقل.
جبکہ مشرک کی تکفیر بمعنیٰ اس پر عذاب، ہمیشہ کے لیے جہنم، خون و مال کی حلت وغیرہ کا فیصلہ، یہ سب سمعی احکام ہیں جنہیں عقل سے نہیں جانا جا سکتا۔

ومن خلط بين البابين فمن نفسه أوتي.
اور جو شخص ان دونوں قسموں میں فرق نہ کر سکے، وہ خود اپنی کم فہمی کا شکار ہے۔

والله الموفق للصواب.

[قناة: فتاوى فضيلة الشيخ حسان حسين آدم (حفظه الله) ]
 
Top