• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ثقہ کا تفرد بھی منکر ہو سکتا ہے؟

شمولیت
جون 21، 2019
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
22
⚠کیا ثقہ کا تفرد بھی منکر ہو سکتا ہے؟

✒محمد عبد الرحمن اڑیشوی

مثال سے اس مسئلے کو سمجھتے ہیں۔

✒اسحق بن ابراہیم بن ہانئ نیشاپوری نے مسائل الامام احمد میں فرمایا:
مجھے ابو عبد اللہ نے کہا کہ مجھے یحیی بن سعید نے بتلایا: مجھے معلوم نہیں کہ عبید اللہ نے نافع سے روایت کرنے میں کبھی چوک کی ہو سوائے ایک مرتبہ کے۔
اور وہ یہ روایت ہے:
حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال:
{{ لا تسافر امرأة فوق ثلاثة أيام }}
پھر ابو عبد اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے یحیی بن سعید نے کہا: میں نے العمری الصغیر کو نافع سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے پایا ، اور وہ روایت کرتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے۔

پھر ابو عبد اللہ یعنی احمد بن حنبل نے کہا: میں نے اس روایت کو صرف عبید اللہ کے طریق سے سنا ہے، پس جب العمری کے واسطے سے خبر پہونچی تو اس کی تصحیح کر دی۔(❶ حاشیہ دیکھیں)

یعنی ہوا یہ کہ سب سے پہلے تو ثقہ راوی کی حدیث پر یہ حکم لگایا گیا کہ اس سے چوک ہوئی ہے بر بنائے تفرد کے۔ پھر جب اس روایت کا ایک متابع ملا تو صحت کا حکم لگایا گیا۔ اور یہ متابعت عبد اللہ العمری کی ہے جو ضعیف راوی ہے، لیکن لائق اعتبار بھی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ضعیف روایت جو شدید ضعیف نہ ہو، اس کے ذریعہ کسی ثقہ راوی کی روایت کو ترجیح یا تفرد کی صورت میں فائدہ پہونچ سکتا ہے۔اور وہ حدیث شذوذ و نکارت کے دائرے سے نکل جاتی ہے۔

اس پر امام احمد کا یہ قول دلالت کرتا ہے۔
*الحدیث عن الضعغاء قد يحتاج إليه في وقت، و المنكر أبدا منكر.*

ذکر کردہ مثال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ائمہ متقدمین کے یہاں کبھی کبھار کسی ثقہ راوی کے تفرد پر بھی نکارت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

معلوم ہوا کہ راوی کے ثقہ یا صدوق ہونے کے با وجود متقدمین بڑی دقت نظری کے ساتھ تفردات کی صورت میں احکام صادر کرتے تھے۔ اور یہ امر مثال سے واضح ہو چکا۔❷
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❶ اس کو مختصرا بیان کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبد اللہ العمری کی روایت موقوف ہے اور انہوں نے اپنے بھائی عبید اللہ کی مرفوع حدیث کی مخالفت کی ہے۔ لیکن اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ عبید اللہ کی متابعت صحیح مسلم کے اندر ضحاک بن عثمان راوی سے بھی ہو جاتی ہے جو اس حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں۔فلا غبار علی الحدیث۔

❷ اس مسئلے میں مزید تفصیلات ہیں، جنہیں بآسانی تقویۃ الحدیث بالمتابعات و الشواہد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مقدمۂ کتاب صفحہ ۲۹ میں رفع اور وقف کے اختلاف اور خلاصے کو بڑے عمدہ انداز میں شیخ طارق بن عوض اللہ نے تحریر فرمایا ہے)

جاری۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔
 
Top