مون لائیٹ آفریدی
مشہور رکن
- شمولیت
- جولائی 30، 2011
- پیغامات
- 640
- ری ایکشن اسکور
- 409
- پوائنٹ
- 127
السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
ایک جگہ پر مندرجہ ذیل روایات پڑھی ۔ اور ان کو ضعیف ثابت کیا گیا ہیں ۔ کیا یہ واقعی ایسا ہیں ؟
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
ایک جگہ پر مندرجہ ذیل روایات پڑھی ۔ اور ان کو ضعیف ثابت کیا گیا ہیں ۔ کیا یہ واقعی ایسا ہیں ؟
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
توضا النبی صلی اللہ علیہ وسلم ومسح علی الجور بین والنعلین
(جامع الترمذی:ج1 ص29 باب المسح علی الجوربین و النعلین، سنن ابی داؤد: ج1ص21 باب المسح علی الجوربین)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”حسن صحیح“
امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”حسن صحیح“
(جامع الترمذی: ج1 ص29)
یہ روایت ضعیف ہے :
1: مشہور محدثین کرام مثلاً امام سفیان ثوری (م161ھ)،امام عبد الرحمٰن بن المہدی (م198ھ)، امام یحییٰ بن معین (م233ھ) ، امام علی بن مدینی (م458ھ)، امام احمد بن حنبل (م241ھ)، امام مسلم بن الحجاج (م261ھ) وغیرہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ چنانچہ امام ابو بکرالبیہقی رحمہ اللہ (م 458ھ) لکھتے ہیں:
1: مشہور محدثین کرام مثلاً امام سفیان ثوری (م161ھ)،امام عبد الرحمٰن بن المہدی (م198ھ)، امام یحییٰ بن معین (م233ھ) ، امام علی بن مدینی (م458ھ)، امام احمد بن حنبل (م241ھ)، امام مسلم بن الحجاج (م261ھ) وغیرہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ چنانچہ امام ابو بکرالبیہقی رحمہ اللہ (م 458ھ) لکھتے ہیں:
وذاك حديث منكر ، ضعفه سفيان الثوري ، وعبد الرحمن بن مهدي ، وأحمد بن حنبل ، ويحيى بن معين ، وعلي بن المديني، ومسلم بن الحجاج ، والمعروف عن المغيرة ، حديث المسح على الخفين
(معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج1ص349 کتاب الطہارۃ- باب ما روی فی المسح علی النعلین)
ترجمہ: یہ حدیث منکر ہے ۔ اسے امام سفیان الثوری ، امام عبد الرحمٰن بن مہدی ، امام احمد بن حنبل ، امام یحییٰ بن معین ، امام علی بن المدینی اور امام مسلم بن حجاج نے ضعیف قرار دیا ہے ۔