ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 823
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
کیا ربیع مدخلی امام جرح و تعدیل ہے؟ محدثِ اردن شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ کا جواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
موجودہ دور میں اہل حدیثوں کو جن فتنوں نے شدید نقصان پہنچایا، ان میں فتنہ مدخلیت سرفہرست ہے۔ یہ وہ فتنہ ہے جس نے منہجیت کے نام پر نوجوانوں کو علم نافع، فقہ دین، دعوت، اخلاق اور جہاد علمی سے ہٹا کر شخصیات کی اندھی تقلید، طاغوت پرستی اور علمائے حق کی تنقیص کے مرض میں مبتلا کر دیا۔ چنانچہ ہر وہ عالم، داعی یا طالب علم جو ان کے باطل افکار و نظریات کو قبول نہ کرے، فوراً خارجی، اخوانی، تحریکی اور منحرف قرار دے دیا جاتا ہے۔
ربیع مدخلی اور اس کے پیروکاروں کے حلقوں میں لوگوں کی عزتیں اچھالنا، سلفی علماء کی تحقیر کرنا، اور ہر مخالف کو مجروح کرنا ایک منہجی کارنامہ سمجھا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سلفی علماء نے اس فتنہ پرور گروہ سے خبردار کیا، جن میں محدثِ اردن شیخ ابو صہیب خالد الحایک حفظہ اللہ بھی شامل ہیں، جنہوں نے ربیع مدخلی کے متعلق حقیقت پسندانہ کلمات ارشاد فرمائے۔
چناچہ شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ سے سوال ہوا کہ:
ما رأيك أبا صهيب في من يقول عن ربيع المدخلي بأنه إمام الجرح والتعديل في هذا العصر ؟
اے ابو صہیب! آپ اس شخص کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں جو ربیع مدخلی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ وہ اس دور کا امام جرح و تعدیل ہیں؟
اس کے جواب میں شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ نے فرمایا :
هذه ذكر أن الشيخ الألباني قالها وأستغرب - إن صحت عنه- كيف يقولها والشيخ نفسه كان لا ينازعه أحد في الحديث والمدخلي كان يعوم على الشاطئ وقتها !!
یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ یہ بات شیخ البانی نے کہی تھی، اور میں تعجب کرتا ہوں اگر یہ بات واقعی ان سے ثابت ہو کہ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اس وقت خود شیخ البانی کا مقام ایسا تھا کہ ان کے علم حدیث میں کسی کو کلام نہ تھا، اور ربیع مدخلی تو اس وقت علم کے ساحل ہی پر تیر رہا تھا!!
ويمكن أن يُطلق على ربيع المدخلي بأنه «إمام التجريح»! فإنه لم يبق أحدا إلا جرحه !! ولا يوجد عنده «تعديل» !! ومن تعلم منه طريقة التجريح انقلبوا عليه فجرحهم وجرحوه !! والله المستعان .
اور اگر ربیع مدخلی کو "امام التجریح" کہا جائے تو شاید یہ زیادہ مناسب ہو! کیونکہ اس نے کسی کو نہیں چھوڑا جس پر جرح نہ کی ہو!! اس کے پاس "تعدیل" (کسی کی توثیق) کا تو کوئی تصور ہی نہیں!! اور جس نے اس سے فن جرح کا طریقہ سیکھا، وہی اس کے خلاف ہو گیا تو اس نے اسے بھی مجروح کر دیا، اور انہوں نے بھی اس پر جرح کر دی!! والله المستعان۔
[الأجوبة الحايكية على الأسئلة الحديثية، ص : ١٣٦]
یعنی میں تعجب کرتا ہوں اگر یہ بات واقعی ان سے ثابت ہو کہ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اس وقت خود شیخ البانی کا مقام ایسا تھا کہ ان کے علم حدیث میں کسی کو کلام نہ تھا، اور ربیع مدخلی تو اس وقت علم کے ساحل ہی پر تیر رہا تھا!!
شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ کے اس کلام سے واضح ہوا کہ ربیع مدخلی کو اس دور کا امام جرح و تعدیل کہنا ایک مبالغہ آمیز، غیر متوازن اور خود ساختہ باطل دعویٰ ہے۔ کیونکہ اہل علم کے نزدیک جرح و تعدیل ایک عظیم اور انتہائی عدل و تقویٰ کا متقاضی باب ہے، جس میں تعصب، خواہشِ نفس، حزبیت، اندھی تقلید اور شخصی دشمنیوں کی کوئی گنجائش نہیں جس میں ربیع مدخلی مبتلا تھا۔
اسی لئے شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ نے واضح الفاظ میں فرمایا: "ويمكن أن يُطلق على ربيع المدخلي بأنه إمام التجريح! فإنه لم يبق أحدا إلا جرحه !! ولا يوجد عنده تعديل !!" یعنی ربیع مدخلی کو امام تجریح کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس نے تقریباً کسی کو نہیں چھوڑا مگر اس پر جرح کر ڈالی، جبکہ اس کے یہاں تعدیل نام کی کوئی چیز نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مدخلیت نے اصلاح سے زیادہ فساد پیدا کیا، علم سے زیادہ شور پیدا کیا پھر اس فتنے کا انجام بھی عبرتناک ہوا۔ چنانچہ شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ فرماتے ہیں: "ومن تعلم منه طريقة التجريح انقلبوا عليه فجرحهم وجرحوه !!" یعنی جنہوں نے اسی سے تجریح کا فن سیکھا، وہی بعد میں اس پر پلٹ پڑے؛ پھر اس نے ان پر جرح کی اور انہوں نے اس پر جرح کی۔
یہی ہوتا ہے جب ایک شخص نوجوانوں کی تربیت علم، عدل اور تقویٰ پر نہیں بلکہ تجریح، تعصب اور اندھی دشمنی پر کرے۔ پھر ہر شاگرد اپنے شیخ کی طرح زبان دراز، طعنہ زن اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے والا بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدخلی حلقوں باہمی تبديع، تفسیق اور تجریح کے جھگڑے برپا رہتے ہیں۔
لہٰذا اہل حدیثوں پر لازم ہے کہ وہ مدخلیت کے اس فتنہ سے ہوشیار رہے، نوجوانوں کو اس کے زہر سے بچائے، اور کتاب و سنت اور فہم سلف صالحین کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔ کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے، علماء کرام کی عزت کریں، عدل و انصاف کو لازم پکڑیں، اور ایسے فتنوں سے بچیں جو دعوتِ سلفیہ کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔
والله المستعان، وعليه التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بالله۔