• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا سر کو ڈھانپ کر رکھا جائے یا ننگا رکھا جائے؟

شمولیت
فروری 19، 2016
پیغامات
51
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
40
سوال:سر بھی انسانی جسم کا حصہ ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟آیا اس کو ننگا رکھا جائے یا کسی نہ کسی چیز سے ڈھانپ کر؟نبیﷺ کی احادیث میں یا آپ کے اسوہ حسنہ میں اس کی بابت کچھ رہنمائی ملتی ہے یا نہیں؟

جواب:ہماری ناقص رائے میں سر کو مستقل طور پر ننگا رکھنا نا پسندیدہ صورت ہے۔پسندیدہ اور مستحن صورت سر کو ڈھانپ کر ہی رکھنا ہے۔نماز کی حالت میں بھی اور دیگر حالات میں بھی نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔
اس کے مختصر دلائل حسب ذیل ہیں:
1۔ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی، وہ ابوسلمہ سے، وہ جعفر بن عمرو سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔(صحیح بخاری)
2۔عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔(سنن الترمذي)قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (716)
ایک آیت کی تشریح:
يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ 31؀ۧ
اے اولاد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت پر اپنا لباس پہن لیا کرو (١) اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بیشک اللہ تعالٰی حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا (٢)۔(الاعراف)
وضاحت:اس آیت کا مفاد بھی یہی ہے کہ نماز کے وقت انسان خصوصی طور پر اپنے پورے لباس میں موجود ہو۔جو رسولﷺ اور صحابہ کا
عام لباس تھا ۔اس لیے کہ ان ہے کا لباس وہ زینت ہے جسے اختیار کرنے کا حکم ہمیں اس آیت میں دیا گیا ہے۔نہ کہ بعد والوں کا لباس اور زینت
جو بدلتا رہاہے اور بدلتا رہے گا ۔قرانی زینت وہی زینت ہے جو رسولﷺ اور ان کے صحابہ نے اپنے نبی کی اتباع میں اختیار کیا۔اور یاد رکھا جائے
کہ یہ زینت نماز میں بھی مطلوب ہے اور نماز کے علاوہ دیگر حالتوں میں بھی اور اس سے مختلف زینت نہ نماز میں پسندیدہ ہے نہ نماز کہ علاوہ۔اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے محدث العصر شیخ علامہ ناصر الدین البانی نے اپنی الصحیحۃمیں زکر کیااس کا ترجمہ اس طراح ہے۔
"جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑہے تو اس کو چاہیے کہ اپنے دو کپڑے پہن لے اس لیے کہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہےکہ اس کے لئے زینت اختیار کی جائے۔(حدیث:1369)
شیخ البانی نے ننگے سر نماز پڑھنے کے مسلے میں بھی انھوں نے بڑی پیاری رائے کا اظہار کیا ہے۔اور یہ ہم سب کے لیے بہت اہم ہے۔
"میری رائے میں ننگے سر نماز پڑھنے والے کی نماز مکروہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات مسلم ہے کہ ایک مسلمان کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ نماز ایسی حالت میں پڑہے جو مکمل اسلامی ہیت کی ایئنہ دار ہو۔جیسا کہ (اوپر والی حدیث) کا تقاضا ہے۔اور عرف سلف میں ننگے سر میں رہنے کو اور ننگے سر ہی بزاروں میں پھرنے کو اسی طراح عبادت گاہوں میں (نماز کے لیے) آجانے کو عادت بنا لینا اچھی ہیت تصور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ یہ اجنبی
(غیر اسلامی)عادت ہے جو اکثر بلاد اسلامیہ میں اس وقت آئی ہے جب کافر اس پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے اپنی فاسد عادتیں وہا ں پھیلادیں
اور مسلمانوں نے ان کی نقلی میں ان کو اپنایا اور یوں انھوں نے اپنے اسلامی تشخص کو ضائع کر دیا ،اس لیے اس عادت بد (ننگے سر رہنے)کا کوئی جواز نہیں، کیونکہ یہ سلف کے اسلامی عرف کے خلاف ہے ،اسی طرح اس کو ننگے سر نماز پڑھنے کے لیے حجت بنانا بھی درست نہیں۔"
بہر حال ننگے سر رہنا اور ننگے سر نماز پڑھنا نبیﷺ،صحابہ کرام اور عام اسلاف کے معمول اور طریقے کے خلاف ہے۔و اللہ اعلم
 
Top