السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
محترم اہلِ علم!
ایک مسئلہ کے بارے میں قرآن و احادیث کی روشنی میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
«لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»
(صحیح البخاری: 586، صحیح مسلم: 827)
اور دوسری حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ»
(صحیح البخاری: 444، صحیح مسلم: 714)
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا ان دونوں احادیث میں کوئی بظاہر تعارض (تکرار) ہے؟
اور اگر کوئی شخص عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہو تو کیا وہ بغیر نماز پڑھے بیٹھ جائے یا پھر تحیة المسجد ادا کر کے بیٹھے؟
براہِ کرم تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اس مسئلے کو بیان فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
محترم اہلِ علم!
ایک مسئلہ کے بارے میں قرآن و احادیث کی روشنی میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
«لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»
(صحیح البخاری: 586، صحیح مسلم: 827)
اور دوسری حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ»
(صحیح البخاری: 444، صحیح مسلم: 714)
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا ان دونوں احادیث میں کوئی بظاہر تعارض (تکرار) ہے؟
اور اگر کوئی شخص عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہو تو کیا وہ بغیر نماز پڑھے بیٹھ جائے یا پھر تحیة المسجد ادا کر کے بیٹھے؟
براہِ کرم تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اس مسئلے کو بیان فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً