• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"کیا عصر اور فجر کے بعد تحیة المسجد پڑھی جا سکتی ہے؟"

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته


محترم اہلِ علم!


ایک مسئلہ کے بارے میں قرآن و احادیث کی روشنی میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔


رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:
«لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»
(صحیح البخاری: 586، صحیح مسلم: 827)


اور دوسری حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ»
(صحیح البخاری: 444، صحیح مسلم: 714)


میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا ان دونوں احادیث میں کوئی بظاہر تعارض (تکرار) ہے؟
اور اگر کوئی شخص عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہو تو کیا وہ بغیر نماز پڑھے بیٹھ جائے یا پھر تحیة المسجد ادا کر کے بیٹھے؟


براہِ کرم تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اس مسئلے کو بیان فرمائیں۔


جزاکم اللہ خیراً
 
Top