محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
بلاشبہ مریض کی عیادت کرنا افضل ترین عمل ہے، بلکہ بعض علماء نے اسے فرض کفایہ قرار دیا ہے، کیونکہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت کرنے کا حکم دیا ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا المَرِيضَ، وَفُكُّوا العَانِيَ (صحيح البخاري، المرضى: 5649)
”بھوکے کو کھانا کھلاؤ مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے :
مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ (سنن ترمذی، أبواب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 969) (صحيح)
’’جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتاہے تو شام تک سترہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اورجو شام کو عیادت کرتاہے تو صبح تک سترہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔‘‘
غیر محرم مرد یا عورت کی عیادت کرنا:
کسی مرد کا غیر محرم عورت کی عیادت کرنا یا کسی عورت کا غیر محرم مرد کی عیادت کرنا درج ذیل شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، قُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الحُمَّى، يَقُولُ: (صحیح البخاری، المرضی: 5654)
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت بلال ؓ کو بخار ہو گیا۔ میں ان دونوں کے پاس (مزاج پرسی کے لیے) گئی تو میں نےکہا: اباجان! آپ کا کیا حال ہے؟ بلال! آپ کی صحت کیسی ہے؟
سيدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: آئیں حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف چلیں، اور انہیں مل کر آئیں، جس طرح رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے جاتے تھے۔ (صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ: 2454)
والله أعلم بالصواب.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا المَرِيضَ، وَفُكُّوا العَانِيَ (صحيح البخاري، المرضى: 5649)
”بھوکے کو کھانا کھلاؤ مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے :
مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ (سنن ترمذی، أبواب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 969) (صحيح)
’’جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتاہے تو شام تک سترہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اورجو شام کو عیادت کرتاہے تو صبح تک سترہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔‘‘
غیر محرم مرد یا عورت کی عیادت کرنا:
کسی مرد کا غیر محرم عورت کی عیادت کرنا یا کسی عورت کا غیر محرم مرد کی عیادت کرنا درج ذیل شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
- پردے کا مکمل خیال رکھا جائے۔
- فتنے کا خدشہ نہ ہو۔
- عیادت کے دوران خلوت اختیار نہ کی جائے ۔
لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، قُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الحُمَّى، يَقُولُ: (صحیح البخاری، المرضی: 5654)
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت بلال ؓ کو بخار ہو گیا۔ میں ان دونوں کے پاس (مزاج پرسی کے لیے) گئی تو میں نےکہا: اباجان! آپ کا کیا حال ہے؟ بلال! آپ کی صحت کیسی ہے؟
سيدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: آئیں حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف چلیں، اور انہیں مل کر آئیں، جس طرح رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے جاتے تھے۔ (صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ: 2454)
والله أعلم بالصواب.