عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,699
- ری ایکشن اسکور
- 9,999
- پوائنٹ
- 667
الحمدللہ رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین اما بعد ! جیسے جیسے سردی قریب ارہی ہے ایسے ایسے ہی سوئی گیس کا پریشر کم ہوتا جا رہا ہے اور سردیوں کے عروج پر یہ پریشر نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے بعض لوگ اپنے گھروں میں کمپریسر(مشین) کا استعمال کرتے ہیں جو گیس کو کھینچ کر پریشر پورا کرتا ہے کیا اس کا استعمال درست ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں یا پھر اس کا استعمال درست نہیں ہے ؟ تو صحیح بات یہ ہے کہ اس کا استعمال نہ ہی تو شرعی طور پر جائز ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست ہے کیونکہ جب کسی کے ہاں کمپریسر استعمال ہوتا ہے تو قرب و جوار میں جتنے بھی گھر ہیں اگر ان کے ہاں کمپریسر نہ لگا ہوا ہو تو ان کی گیس بالکل بند ہو جاتی ہے حتی کہ معمولی سی گیس بھی ان کے ہاں نہیں رہتی ہے تو یہ صورتحال واضح طور پر پڑوسیوں کو تکلیف دینا اور ان کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ہے جب کہ پڑوسیوں کو تکلیف دینا شرعی طور پر حرام ہے
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذي جاره .
صحیح البخاری ۔ باب الوصاة بالنساء حديث نمبر۔ (5185)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے
عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يدخل الجنة، من لا يامن جاره بوائقه ".
صحيح مسلم ۔ كتاب الإيمان ۔ حدیث: (172)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ایذاء رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“
عن ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه ".
صحيح مسلم ۔ كتاب البر والصلة والآداب ۔ حدیث: (6687)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل مجھے لگاتار ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے ایسے لگنے لگا کہ وہ اسے (جائیداد میں )وارث (بھی) بنا دیں گے۔“
کمپریسر جب چلایا جاتا ہے تو قرب و جوار کے ہمسایوں اور پڑوسیوں کے گھروں میں گیس انا بالکل بند ہو جاتی ہے وہ بیچارے کھانا پکانے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے لہذا اس کا استعمال شرعا درست نہیں ہے اس سلسلہ میں دوسرا پہلو یہ بھی غور طلب ہے کہ گیس کمپریسر کا استعمال قانونی طور پر بھی جرم ہے کیونکہ حکومت نے اس کے استعمال سے منع کر رکھا ہے ۔۔ یاد رکھیں ولی الامر (حکمران) کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ شریعت نے ہمیں یہ اصول دیا ہے کہ ہم اپنے حکمران کی ہر وہ بات ماننے کے پابند ہیں جو شریعت کے خلاف نہ ہو یعنی ولی الامر (حاکم) کا وہ حکم جو قران و سنت کے خلاف نہ ہو اس کا ماننا ہم پر ہر لحاظ سے فرض ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا :
سورۃ النساء : 59
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے (حاکم) ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔؛؛
اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جب گیس کمپریسر استعمال کیا جاتا ہے اور قرب و جوار کے گھروں میں گیس انا بند ہو جاتی ہے تو گیس نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ گھروں کے چولہے غلطی سے کھلے رہتے ہیں جیسے بعض دفعہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا نل کھلا رہ جاتا ہے اور پانی انے پر پانی ضائع ہوتا ہے ۔۔اسی طرح جب گیس بحال ہوتی ہے تو ضائع ہوتی ہے اور بعض دفعہ یہ غلطی حادثات کا سبب بھی بن جاتی ہے اس لحاظ سے بھی اس کا استعمال درست نہیں اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ گیس نہ ہونے کی شکل میں شروع شروع میں کمپریسر میں ہوا کراس ہوتی رہتی ہے جس سے میٹر چلتا رہتا ہے اس لحاظ سے یہ مالی نقصان کا باعث بھی ہے اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ یہ کمپریسر حادثات کا سبب بھی بن جاتے ہیں لہذا اس سے احتراز کرنا چاہیے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم گیس کا بل پورا ادا کرتے ہیں جو ہزاروں روپوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ گیس اتی ہی نہیں لہذا ہم اس لیے کمپریسر استعمال کرتے ہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر گیس نہیں اتی اور گورنمنٹ بل بھی پورا وصول کر لیتی ہے تو اس میں ہمسائیوں اور پڑوسیوں پر ظلم کرنے کا تو کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا کہ ہم ان کے حق پر ڈاکہ ڈالیں اور انہیں پریشان کریں
سوال یہ ہے کہ آیا اس مسئلہ سے نپٹنے کا کوئی مثبت حل بھی ہے یا نہیں ۔۔۔ تو اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کھانا پکانا اور دیگر ضروریات ان اوقات میں پوری کی جائیں جب گیس کا پریشر کچھ ٹھیک ہوتا ہے ۔۔ یا پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کمپریسر لگانے کی بجائے گیس سلنڈر استعمال کیا جائے جو کسی بہترین کمپنی سے خریدا جائے اور اسے کسی ایسی جگہ رکھا جائے جہاں نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو جب گیس کا پریشر پورا نہ ہو تو متبادل کے طور پر اس کو استعمال کیا جائے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ پڑوسیوں کو تکلیف دی جائے یہ پریشانی سردیوں کے چند مہینے رہتی ہے جس کا یہ بہترین حل ہے یاد رہے جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے اس کا کوئی نہ کوئی نقصان ہوجاتا ہے اور جو دوسروں کے لیے سختی کا باعث بنتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے سختیاں ہوتی ہیں
عَنْ أَبِي صِرْمَةَ- صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: >مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ
سیدنا ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” جس نے ( اپنے مسلمان بھائی کو ) نقصان پہنچایا اللہ اس کا نقصان کرے ۔ اور جس نے کسی ( مسلمان ) کو مشقت ( اور پریشانی ) سے دوچار کیا اللہ اسے مشقت ( اور پریشانی ) میں ڈالے ۔ “
اس حدیث کی رو سے یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بننے والا ہمیشہ اس خطرے میں رہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بد دعا کا شکار ہو جائے دوسروں کے لیے اسانیاں پیدا کریں اللہ تعالی اپ کے لیے اسانیاں پیدا کرے گا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ : جامع ترمذی ۔ بَاب مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ ۔
حدیث نمبر ۔ (1930)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دورکی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دورفرمادے گا، جس نے دنیامیں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اورآخرت دونوں میں آسانی کرے گا ، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اورآخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مددمیں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مددمیں ہوتا ہے اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذي جاره .
صحیح البخاری ۔ باب الوصاة بالنساء حديث نمبر۔ (5185)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے
عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يدخل الجنة، من لا يامن جاره بوائقه ".
صحيح مسلم ۔ كتاب الإيمان ۔ حدیث: (172)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ایذاء رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔“
عن ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه ".
صحيح مسلم ۔ كتاب البر والصلة والآداب ۔ حدیث: (6687)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل مجھے لگاتار ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے ایسے لگنے لگا کہ وہ اسے (جائیداد میں )وارث (بھی) بنا دیں گے۔“
کمپریسر جب چلایا جاتا ہے تو قرب و جوار کے ہمسایوں اور پڑوسیوں کے گھروں میں گیس انا بالکل بند ہو جاتی ہے وہ بیچارے کھانا پکانے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے لہذا اس کا استعمال شرعا درست نہیں ہے اس سلسلہ میں دوسرا پہلو یہ بھی غور طلب ہے کہ گیس کمپریسر کا استعمال قانونی طور پر بھی جرم ہے کیونکہ حکومت نے اس کے استعمال سے منع کر رکھا ہے ۔۔ یاد رکھیں ولی الامر (حکمران) کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ شریعت نے ہمیں یہ اصول دیا ہے کہ ہم اپنے حکمران کی ہر وہ بات ماننے کے پابند ہیں جو شریعت کے خلاف نہ ہو یعنی ولی الامر (حاکم) کا وہ حکم جو قران و سنت کے خلاف نہ ہو اس کا ماننا ہم پر ہر لحاظ سے فرض ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا :
سورۃ النساء : 59
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے (حاکم) ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔؛؛
اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جب گیس کمپریسر استعمال کیا جاتا ہے اور قرب و جوار کے گھروں میں گیس انا بند ہو جاتی ہے تو گیس نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ گھروں کے چولہے غلطی سے کھلے رہتے ہیں جیسے بعض دفعہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا نل کھلا رہ جاتا ہے اور پانی انے پر پانی ضائع ہوتا ہے ۔۔اسی طرح جب گیس بحال ہوتی ہے تو ضائع ہوتی ہے اور بعض دفعہ یہ غلطی حادثات کا سبب بھی بن جاتی ہے اس لحاظ سے بھی اس کا استعمال درست نہیں اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ گیس نہ ہونے کی شکل میں شروع شروع میں کمپریسر میں ہوا کراس ہوتی رہتی ہے جس سے میٹر چلتا رہتا ہے اس لحاظ سے یہ مالی نقصان کا باعث بھی ہے اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ یہ کمپریسر حادثات کا سبب بھی بن جاتے ہیں لہذا اس سے احتراز کرنا چاہیے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم گیس کا بل پورا ادا کرتے ہیں جو ہزاروں روپوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ گیس اتی ہی نہیں لہذا ہم اس لیے کمپریسر استعمال کرتے ہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر گیس نہیں اتی اور گورنمنٹ بل بھی پورا وصول کر لیتی ہے تو اس میں ہمسائیوں اور پڑوسیوں پر ظلم کرنے کا تو کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا کہ ہم ان کے حق پر ڈاکہ ڈالیں اور انہیں پریشان کریں
سوال یہ ہے کہ آیا اس مسئلہ سے نپٹنے کا کوئی مثبت حل بھی ہے یا نہیں ۔۔۔ تو اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کھانا پکانا اور دیگر ضروریات ان اوقات میں پوری کی جائیں جب گیس کا پریشر کچھ ٹھیک ہوتا ہے ۔۔ یا پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کمپریسر لگانے کی بجائے گیس سلنڈر استعمال کیا جائے جو کسی بہترین کمپنی سے خریدا جائے اور اسے کسی ایسی جگہ رکھا جائے جہاں نقصان کا خطرہ کم سے کم ہو جب گیس کا پریشر پورا نہ ہو تو متبادل کے طور پر اس کو استعمال کیا جائے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ پڑوسیوں کو تکلیف دی جائے یہ پریشانی سردیوں کے چند مہینے رہتی ہے جس کا یہ بہترین حل ہے یاد رہے جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے اس کا کوئی نہ کوئی نقصان ہوجاتا ہے اور جو دوسروں کے لیے سختی کا باعث بنتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے سختیاں ہوتی ہیں
عَنْ أَبِي صِرْمَةَ- صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: >مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ
سیدنا ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” جس نے ( اپنے مسلمان بھائی کو ) نقصان پہنچایا اللہ اس کا نقصان کرے ۔ اور جس نے کسی ( مسلمان ) کو مشقت ( اور پریشانی ) سے دوچار کیا اللہ اسے مشقت ( اور پریشانی ) میں ڈالے ۔ “
اس حدیث کی رو سے یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بننے والا ہمیشہ اس خطرے میں رہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بد دعا کا شکار ہو جائے دوسروں کے لیے اسانیاں پیدا کریں اللہ تعالی اپ کے لیے اسانیاں پیدا کرے گا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ : جامع ترمذی ۔ بَاب مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ ۔
حدیث نمبر ۔ (1930)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دورکی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دورفرمادے گا، جس نے دنیامیں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اورآخرت دونوں میں آسانی کرے گا ، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اورآخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مددمیں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مددمیں ہوتا ہے اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے
محمد اختر صدیق
Last edited: