• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم ہجرت کے ہر اول دستے

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہجرت کے ہر اول دستے

جب دوسری بیعت عقبہ مکمل ہو گئی۔ اسلام، کفر و جہالت کے لق و دق صحرا میں اپنے ایک وطن کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو گیا -- اور یہ سب سے اہم کامیابی تھی جو اسلام نے اپنی دعوت کے آغاز سے اب تک حاصل کی تھی -- تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اجازت مرحمت فرمائی کہ وہ اپنے وطن کی طرف ہجرت کر جائیں۔
ہجرت کے معنی یہ تھے کہ سارے مفادات تج کر اور مال کی قربانی دے کر محض جان بچا لی جائے اور وہ بھی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ جان بھی خطرے کی زد میں ہے۔ ابتدائے راہ سے انتہائے راہ تک کہیں بھی ہلاک کی جا سکتی ہے۔ پھر سفر ایک مبہم مستقبل کی طرف ہے۔ معلوم نہیں آگے چل کر ابھی کون کون سے مصائب اور غم والم رونماہوں گے۔
مسلمانوں نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے ہجرت کی ابتدا کر دی۔ ادھر مشرکین نے بھی ان کی روانگی میں رکاوٹیں کھڑی کرنی شروع کیں۔ کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ اس میں خطرات مضمر ہیں۔ ہجرت کے چند نمونے پیش خدمت ہیں:
سب سے پہلے مہاجر حضرت ابو سلمہؓ تھے۔ انہوں نے ابن اسحاق کے بقول بیعت عقبہ کُبریٰ سے ایک سال پہلے ہجرت کی تھی، ان کے ہمراہ ان کے بیوی بچے بھی تھے۔ جب انہوں نے روانہ ہونا چاہا تو ان کے سسرال والوں نے کہا کہ یہ رہی آپ کی جان۔ اس کے متعلق تو آپ ہم پر غالب آ گئے لیکن یہ بتائیے کہ یہ ہمارے گھر کی لڑکی؟ آخر کس بنا پر ہم آپ کو چھوڑ دیں کہ آپ اسے شہر شہر گھماتے پھریں؟ چنانچہ انہوں نے ان سے ان کی بیوی چھین لی۔ اس پر ابو سلمہ کے گھر والوں کو تاؤ آ گیا اور انہوں نے کہا کہ جب تم لوگوں نے اس عورت کو ہمارے آدمی سے چھین لیا تو ہم اپنا بیٹا اس عورت کے پاس نہیں رہنے دے سکتے۔ چنانچہ دونوں فریق نے اس بچے کو اپنی اپنی طرف کھینچا جس سے اس کا ہاتھ اکھڑ گیا اور ابو سلمہ ؓ کے گھر والے اس کو اپنے پاس لے گئے۔ خلاصہ یہ کہ ابو سلمہ ؓ نے تنہا مدینہ کا سفر کیا۔ اس کے بعد حضرت ام سلمہ ؓ کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے شوہر کی روانگی اور اپنے بچے سے محرومی کے بعد روزانہ صبح صبح ابطح پہنچ جاتیں۔(جہاں یہ ماجرا پیش آیا تھا) اور شام تک روتی رہتیں۔ اسی حالت میں ایک سال گزر گیا۔ بالآخر ان کے گھرانے کے کسی آدمی کو ترس آ گیا اور اس نے کہا کہ اس بیچاری کو جانے کیوں نہیں دیتے؟ اسے خواہ مخواہ اس کے شوہر اور بیٹے سے جدا کر رکھا ہے۔ اس پر ام سلمہؓ سے ان کے گھر والوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ۔ حضرت ام سلمہ ؓ نے بیٹے کو ددھیال والوں سے واپس لیا اور مدینہ چل پڑیں۔ اللہ اکبر! کوئی پانچ سو کلومیٹر کی مسافت کا سفر اور ساتھ میں اللہ کی کوئی مخلوق نہیں۔ جب تَنَعِیم پہنچیں تو عثمان بن ابی طلحہ مل گیا۔ اسے حالات کی تفصیل معلوم ہوئی تو مشایعت کرتا ہوا مدینہ پہنچانے لے گیا اور جب قباء کی آبادی نظر آئی تو بولا: تمہارا شوہر اسی بستی میں ہے اسی میں چلی جاؤ۔ اللہ برکت دے۔ اس کے بعد وہ مکہ پلٹ آیا۔ (ابن ہشام ۱/۴۶۸، ۴۶۹، ۴۷۰)
حضرت صہیب ؓ نے جب ہجرت کا ارادہ کیا تو ان سے کفار قریش نے کہا: تم ہمارے پاس آئے تھے تو حقیر و فقیر تھے لیکن یہاں آکر تمہارا مال بہت زیادہ ہو گیا اور تم بہت آگے پہنچ گئے۔ اب تم چاہتے ہو کہ اپنی جان اور اپنا مال دونوں لے کر چل دو تو واللہ ایسا نہیں ہو سکتا، حضرت صہیب ؓ نے کہا: اچھایہ بتاؤ کہ اگر میں اپنا مال چھوڑ دوں تو تم میری راہ چھوڑ دو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں! حضرت صہیب ؓ نے کہا: اچھا تو پھر ٹھیک ہے، چلو میرا مال تمہارے حوالے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: صہیب ؓ نے نفع اٹھایا۔ صہیب ؓ نے نفع اٹھایا۔
(ایضاً ۱/۴۷۷)
"حضرت عمر بن خطابؓ، عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص بن وائل نے آپس میں طے کیا کہ فلاں جگہ صبح صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے مدینہ کو ہجرت کی جائے گی۔ حضرت عمرؓ اور عیاش تو وقت مقررہ پر آ گئے لیکن ہشام کو قید کر لیا گیا۔
پھر جب یہ دونوں حضرات مدینہ پہنچ کر قبا میں اتر چکے تو عیاش کے پاس ابو جہل اور اس کا بھائی حارث پہنچے۔ تینوں کی ماں ایک تھی۔ ان دونوں نے عیاش سے کہا: تمہاری ماں نے نذر مانی ہے کہ جب تک وہ تمہیں دیکھ نہ لے گی سر میں کنگھی نہ کرے گی اور دھوپ چھوڑ کر سائے میں نہ آئے گی۔ یہ سن کر عیاش کو اپنی ماں پر ترس آ گیا۔ حضرت عمرؓ نے یہ کیفیت دیکھ کر عیاش سے کہا: عیاش! دیکھو اللہ کی قسم یہ لوگ تم کو محض تمہارے دین سے فتنے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان سے ہوشیار رہو۔ اللہ کی قسم! اگر تمہاری ماں کو جوؤں نے اذیت پہنچائی تو کنگھی کر لے گی اور اسے مکہ کی ذرا کڑی دھوپ لگی تو وہ سائے میں چلی جائے گی۔ مگر عیاش نہ مانے، انہوں نے اپنی ماں کی قسم پوری کرنے کے لیے ان دونوں کے ہمراہ نکلنے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: اچھا جب یہی کرنے پر آمادہ ہو تو میری یہ اونٹنی لے لو۔ یہ بڑی عمدہ اور تیز رو ہے۔ اس کی پیٹھ نہ چھوڑنا اور لوگوں کی طرف سے کوئی مشکوک حرکت ہو تو نکل بھاگنا۔
عیاش اونٹنی پر سوار ان دونوں کے ہمراہ نکل پڑے۔ راستے میں ایک جگہ ابو جہل نے کہا: بھئی میرا یہ اونٹ تو بڑا سخت نکلا۔ کیوں نہ تم مجھے بھی اپنی اس اونٹنی پر پیچھے بٹھا لو۔ عیاش نے کہا: ٹھیک ہے اور اس کے بعد اونٹنی بٹھا دی۔ ان دونوں نے بھی اپنی اپنی سواریاں بٹھائیں۔ تاکہ ابو جہل عیاش کی اونٹنی پر پلٹ آئے، لیکن جب تینوں
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
زمین پر آ گئے تو یہ دونوں اچانک عیاش پر ٹوٹ پڑے اور انہیں رسی سے جکڑ کر باندھ دیا اور اسی بندھی ہوئی حالت میں دن کے وقت مکہ لائے اور کہا کہ اے اہلِ مکہ! اپنے بیوقوفوں کے ساتھ ایسا ہی کرو جیسا ہم نے اپنے اس بیوقوف کے ساتھ کیا ہے۔ ہشام اور عیاش کفار کی قید میں پڑے رہے۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما چکے تو آپ نے ایک روز کہا۔ کون ہے جو میرے لیے ہشام اور عیاش کو چھڑا لائے۔ ولید بن ولید نے کہا: میں آپ کے لیے ان کو لانے کا ذمہ دار ہوں۔ پھر ولید خفیہ طور پر مکہ گئے اور ایک عورت (جو ان دونوں کے پاس کھانا لے جا رہی تھی اس کے) پیچھے پیچھے جا کر ان کا ٹھکانا معلوم کیا۔ یہ دونوں ایک بغیر چھت کے مکان میں قید تھے۔ رات ہوئی تو حضرت ولید دیوار پھلانگ کر ان دونوں کے پاس پہنچے۔ اور بیڑیاں کاٹ کر اونٹ پر بٹھایا اور مدینہ بھاگ آئے۔ (ابن ہشام ۱/۴۷۴ -۴۷۶ اور حضرت عمرؓ نے بیس صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ صحیح بخاری ۱/۵۵۸)
عازمین ہجرت کا علم ہو جانے کی صورت میں ان کے ساتھ مشرکین جو سلوک کرتے تھے۔ اس کے یہ تین نمونے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود لوگ آگے پیچھے پے در پے نکلتے ہی رہے۔ چنانچہ بیعت عقبہ کبریٰ کے صرف دو ماہ چند دن بعد مکہ میں رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت علی ؓ کے علاوہ ایک بھی مسلمان باقی نہ رہا -- یہ دونوں حضرات رسول اللہ ﷺ کے حسب ارشاد رکے ہوئے تھے، البتہ کچھ ایسے مسلمان ضرور رہ گئے تھے جنہیں مشرکین نے زبردستی روک رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ بھی اپنا ساز و سامان تیار کر کے روانگی کے لیے حکم خداوندی کا انتظار کر رہے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ کا رخت سفر بھی بندھا ہوا تھا۔ (زاد المعاد ۲/۵۲)
صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا: مجھے تمہارا مقامِ ہجرت دکھلایا گیا ہے۔ یہ لاوے کی دو پہاڑوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے۔ اس کے بعد لوگوں نے مدینے کی جانب ہجرت کی۔ عام مہاجرین حبشہ بھی مدینہ ہی آ گئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے بھی سفرِ مدینہ کے لیے سازوسامان تیار کر لیا۔ (لیکن) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ذرا رُکے رہو کیونکہ توقع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ ابو بکرؓ نے کہا: میرے باپ آپ پر فدا۔ کیا آپ کو اس کی امید ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس کے بعد ابو بکرؓ رکے رہے۔ تاکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کریں۔ ان کے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ انھیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا۔ (صحیح البخاری ، باب ہجرۃ النبیﷺ واصحابہ ۱/۵۵۳)
****​
 
Top