- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 78
- ری ایکشن اسکور
- 12
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت کیوں نہیں؟
ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت کیوں نہیں؟
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:
محترم سامعین!
آج ہرکس وناکس کی مہنگائی نے کمرتوڑکررکھ دی ہے،یہ دورایسادورہے کہ آج ہرانسان اپنی اپنی حیثیت کے مطابق 400/500/1000/2000 بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ روزانہ کمارہاہے مگرہرانسان کی یہی شکایت ہے اورسب کایہی رونااور یہی کہنا ہے کہ ہماری کمائی میں برکت ہی نہیں ہے،ایک دورتھا کہ لوگ 200/400 کماکرکے بھی بہت خوش رہاکرتے تھے اورآج ایک دور ہے کہ لوگ کماتے تو بہت ہیں مگر ان کے روپئے پیسے میں برکت ہی نہیں ہے!کبھی ہم نےیہ سوچا کہ آخر ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت کیوں نہیں ہے؟ تو آج کے اس خطبۂ جمعہ کے اندرمیں آپ کو یہی بتانے والاہوں کہ ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت کیوں نہیں ہے؟سب سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ یہ برکت نازل کرنایعنی کہ کسی کی زندگی اورکمائی میں برکت رکھ دینا یہ صرف اورصرف اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے،نہ تو کسی انسان کے اختیارمیں ہے اورنہ ہی کسی تعویذ وفلیتے اورطغرے کے اندر اتنی تاثیر اور اتنی طاقت وقوت ہے کہ وہ کسی انسان کی زندگی میں یاپھر کسی کی کمائی اورروزی روٹی میں برکت رکھ دے،یہ برکت ایک خاص اللہ صفت ہےبلکہ اس کی ذات ہی بابرکت ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘ بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اوروہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔(الملک:1)کہیں اللہ نے فرمایاکہ ’’ تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُنِيرًا ‘‘ بابرکت ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اوراس میں آفتاب بنایا اورمنور مہتاب بھی۔(الفرقان:61)اوراسی سورہ فرقان کے اندراس بات کا تذکرہ ہے کہ جب کفارمکہ نے آپﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ اللہ نے اس محمدﷺ کو خزانے کیوں نہیں دئے یاپھر اللہ نے اس محمدﷺ کوباغات وغیرہ کیوں نہیں دئے تو اللہ نے کافروں کو منہ توڑجواب دیتے ہوئے فرمایا کہ’’ تَبَارَكَ الَّذِي إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَلْ لَكَ قُصُورًا ‘‘ اللہ تو ایسابابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے باغات عنایت فرمادے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہترہوں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اورآپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے۔(الفرقان:10)دیکھا اورسنا آپ نے کہ یہ برکت نازل کرنا صرف اورصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے،کسی انسان کے اختیارمیں نہیں ہے کہ وہ کسی کی زندگی میں یاپھرکسی کے مال میں برکت رکھ دے،اسی لئے میرے بھائیو اوربہنو! ہم ہمیشہ اپنے رب سےاپنے لئےبرکت کی دعائیں کرتے رہاکریں،سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ اپنے رزق اوراپنے مال ودولت میں برکت لئے نہ تو اللہ سے دعاکرتے ہیں اورنہ ہی جائز وحلال طوروطریقے کو اپناتے ہیں مگر لوگ اپنی کمائی اوراپنی زندگی میں برکت حاصل کرنے اوربرکت پانے کے لئے کئی طرح کے پتھروں اورتعویذ فلیتوں کا سہارا لیتے ہیں یاپھر غیرشرعی طوروطریقے کو اپناتے ہیں،کوئی اپنے انگلیوں میں فیروزی رنگ کا پتھر والا انگوٹھی پہن لیتاہے تو کوئی اپنے رزق میں برکت کے لئے طغرے لگا لیتاہے تو کوئی اپنے دیگچی کے پاس کھڑے ہوکرکے فاتحہ پڑھتاہے اوریہ سمجھتاہے کہ اس طرح کرنے سے انہیں برکت مل جائے گی !جی نہیں !ہرگز نہیں!ایسی حرکتوں سے برکت ملنے والی نہیں ہےبلکہ ایسی حرکتوں سے اوربے برکتی نازل ہوتی ہے،تو اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں اورہماری روزی روٹی میں برکتیں رکھ دیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے دوررکھنی پڑیں گی جن سے برکتیں رک جاتی ہیں ،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن سے برکتیں رک جاتی ہیں توآئیے ایک ایک کرکے ان تمام باتوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری کمائیوں ،ہماری زندگیوں اورہماری روزی روٹی میں برکت نہیں ہوتی ہے:
(1) ہم ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں نہیں دیتے ہیں:
میرے بھائیو اوربہنو! ابھی آپ نے یہ سنا کہ اللہ کی ذات ہی وہ ذات ہے جو برکت عطاکرنے والی ہےیہی وجہ ہے کہ اللہ اوراس کے رسولﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ایک دوسرے کو ہمیشہ برکت کی دعائیں دیتے رہیں،الله نے حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ‘‘پس تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھروالوں کو سلام کرلیاکرو،دعائے خیر ہے جوبابرکت اورپاکیزہ ہے اللہ کی طرف سے نازل شدہ۔(النور:61)اورآپﷺ نے اس بابرکت تحفۂ الٰہی کےالفاظ کوسکھلاتے ہوئے کہا کہ جب تم ایک دوسرے سے ملاقات کرو تو تم ایک دوسرے کو اس طرح سے سلام کیا کرو ’’ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ‘‘ کہ اے میرے بھائی آپ پر اللہ کی سلامتی اوراس کی رحمتیں اوراس کی برکتیں نازل ہوں۔(صحیح الادب المفرد للألبانیؒ:986)دیکھئے اللہ اوراس کے رسول نے ہمیں کتنی اعلی تعلیم دی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں دیتے رہاکریں مگر افسوس صدافسوس ہم ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں دینے سے کتراتے اورجی چراتے ہیں،دوسروں کو توچھوڑئیے خودہم اپنے بیوی بچوں کو برکت کی دعائیں نہیں دیتے ہیں اورگھرمیں سلام کرکے داخل ہونا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں،یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے آج ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں اورہمارے گھروں میں برکت نہیں ہے،اوریہ صرف ایک وقت اورایک جگہ کی بات نہیں ہے بلکہ ہماری شریعت نے ہمیں یہ باربارحکم دیا ہے کہ جب کبھی بھی ہمیں کوئی چیز اچھی لگے توہم خوداپنے لئے بھی برکت کی دعاکریں اوردوسروں کو بھی برکت کی دعادیں،اب دیکھئے کہ آپﷺ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی برکت حاصل کرنے کی دعائیں سکھائی ہیں اورکہا کہ جب تم نیاپھل دیکھو تو یہ دعا پڑھو’’اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ‘‘کہ اللہ!ہمارے لئے ہمارے پھل میں برکت دے اورہمارے لئے ہمارے شہر میں برکت دے۔(مسلم:1373)اسی طرح سے آپﷺ نے فرمایا کہ جب تم دودھ پیو تو یہ دعاپڑھو’’اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ ‘‘ کہ اے اللہ!تو ہمیں اس میں برکت دےاوریہ زیادہ دے۔(ابن ماجہ:3322)اسي طرح سے آپﷺ نے یہ حکم دیا کہ جب تم دولہے میاں سے ملو تو ان کو بھی برکت کی دعا دو اور کہو ’’ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ ‘‘ یعنی کہ اللہ آپ دونوں میاں بیوی پر برکتیں نازل فرمائے اورآپ دونوں کو خیروبھلائی کے ساتھ تادم حیات اکٹھارکھے۔(ابن ماجہ:1905،اسنادہ صحیح)اسی طرح سے آپﷺ نے یہ تعلیم دی کہ اگر تمہیں کوئی قرضہ دے تو تم قرضہ لوٹاتے وقت تم اس کو برکت کی دعا دو کہ ’’ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ ‘‘ اللہ آپ کے اہل وعیال اورمال میں برکت دے،ادھارکا بدلہ تو قرض کی ادائیگی اورشکریہ اداکرنا ہے۔(ابن ماجہ:2424،اسنادہ صحیح)میرے دوستو!صحابۂ کرامؓ نے ان باتوں کو سنا اورعمل کیا،وہ کبھی بھی ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں دینے سے کتراتے نہیں تھے بلکہ وہ لوگ تو ہرمعاملے میں ایک دوسرے کو برکت کی دعادیتے ہوئے کہتے کہ ’’ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ‘‘اللہ آپ کے مال واہل وعیال میں برکت دے۔ (مسنداحمد:13123) اورصحابۂ کرامؓ کی زندگیاں اس طرح کی دعاؤں سے بھری پڑی تھیں جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ خوشحال تھے اورایک ہم اورآپ ہیں جو ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں نہیں دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے مال واولاد میں بے برکتی کے شکار رہتے ہیں ،آج ہم ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں نہیں دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے ہم ایک دوسرے کی بری نظروں کے بھی شکارہوجاتے ہیں،اورمیں ایسا اس لئے کہہ رہاہوں کہ یہ خود آپﷺ کے فرامین کی روشنی سے واضح ہے کہ بری نظر کاتوڑ صرف اورصرف ماشاء اللہ اوربارک اللہ کہنا ہے جیسا کہ ابن ماجہ کے اندر یہ حدیث موجود ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سہل بن حنیف ؓغسل فرمارہے تھے تو سیدناعامربن ربیعہؓ نے کہا کہ واہ!!کتنا خوبصورت جسم ہے!میں نے تو ایسی خوبصورت جسم کبھی دیکھی ہی نہیں!اتنا کہنا تھا کہ سیدنا سہلؓ کو بری نظر لگ گئی اورسہلؓ بےہوش ہوکر زمین پر گرپڑے تو اسی موقعے سے آپﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو(بری نظر کے ذریعے) قتل کرنے والی حرکت کرتاہے،پھرفرمایا کہ ’’ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ ‘‘ اگرکسی کو اپنے بھائی کی کوئی چیزنظر آئے جواسے اچھی لگے تواسے چاہئے کہ وہ اسے برکت کی دعادے۔(ابن ماجہ:3509اسنادہ صحیح)دیکھا اورسنا آپ نےکہ جب ایک ولی کی نظر دوسرے ولی کو لگ گئی تو ہم اورآپ کس کھیت کے مولی ہیں ؟اس لئے میرے بھائیو اوربہنو! اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں اورہمارے گھروں میں برکتیں نازل فرمادے تو پھر ہم ہمیشہ ایک دوسرے کو برکت کی دعائیں دیتے رہاکریں،اسی طرح سےجب کبھی بھی ہم اپنے گھرمیں داخل ہوں تو سلام ضروربالضرورکرلیا کریں ورنہ ہم ہمیشہ بے برکتی کے شکاررہیں گے۔
(2)ہم ناشکری کرتے ہیں!
میرے دوستو!آج ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت اس لئے نہیں ہے کہ ہم ہروقت اللہ کی ناشکری کرتے رہتے ہیں!ہم اچھا کما رہے ہوتے ہیں،ہم اچھا کھارہے ہوتے ہیں مگر جب کوئی ہم سے یہ پوچھتاہے کہ بھائی کیا حال چال ہے؟تجارت وغیرہ کیسی چل رہی ہےتو ہم فوراً اس کے سامنے میں روناشروع کردیتے ہیں اوریہ کہتے ہیں کہ کیابولوں بھائی صاحب !آج کل بازار کی حالت بہت خراب ہے!دھندہ بہت مندہ چل رہاہے، آج کل تو بیوپار بالکل ہی نہ کے برابر ہے،اوردیکھایہ گیاہے کہ جوانسان جتنا زیادہ کماتاہے وہ انسان اتنا ہی بڑا رب کا ناشکراہوتاہے،بلکہ کچھ لوگوں کےبارے میں تو لوگوں کی زبان پر فوراً یہ بات آ جاتی ہے کہ ارے وہ،وہ تو فقط روتے رہتاہے جب کہ اس کے پاس مال ودولت کی کوئی کمی نہیں ہے،توجولوگ بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں وہ اپنی حرکتوں سے بازآجائے کیونکہ یہی وہ حرکت ہے جس کی وجہ سے ایک انسان کی کمائی چھین لی جاتی ہے اور اس کی زندگی سے برکت روٹھ جاتی ہےبلکہ بسااوقات ایک انسان امیری سے غریبی کی طرف آجاتاہے،اس کا سارا دھندہ چوپٹ ہوجاتاہے،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اگر ہم اورآپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت رکھ دے اورہمیں اپنے فضل وکرم سے خوب نوازتا رہے توہم ہروقت اللہ کا شکربجالاتے رہا کریں کیونکہ یہ اللہ نے وعدہ دے رکھا ہے کہ اگر تم شکرالٰہی بجالاؤگے تومیں تمہیں خوب نوازوں گااوراگر ناشکری کروگے تو پھرتم اپنے مال ومنال کی بربادی کا منظر دیکھنے کے لئے تیاررہو ،فرمان باری تعالی ہے’’وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ‘‘اورجب تمہارے پروردگارنے تمہیں آگاہ کردیاکہ اگرتم شکرگزاری کروگے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اوراگر ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔(ابراہیم:7)جی ہاں میرے بھائیو اوربہنو!ناشکری سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں،امیری غریبی میں تبدیل ہوجاتی ہے اورانسان منٹوں میں سڑک پر آ جاتاہے ،اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہ آرہاہوتو پھر سنئے اللہ کا یہ اعلان کہ ’’ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ‘‘اللہ اس بستی کی مثال بیان فرماتاہے جو پورے امن واطمینان سے تھی،اس کی روزی اس کےپاس بافراغت،ہرجگہ سے چلی آ رہی تھی۔پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیاتو اللہ نے اسےبھوک اورڈر کا مزہ چکھایا جو ان کے کرتوتوں کا بدلہ تھا۔(النحل:112)پتہ یہ چلا کہ جولوگ بھی ناشکری کریں گے تو وہ بھوکے مریں گے اورڈروخوف کے سائے میں زندگی گذاریں گے ،اورآج یہی کچھ منظر ہمارے اورآپ کے آنکھوں کے سامنے میں ہورہاہے کہ فلسطین اورسوڈان کے اندر لوگ کھانے کھانے کو ترس رہے ہیں،بھوک کی وجہ سے بےشمار بچے اورمردوخواتین کی موتیں ہورہی ہیں،سوشل میڈیا کے اوپرابھی کچھ مہینے پہلے آپ نے یہ خبر ضرور پڑھی ہوگی اوردیکھی ہوگی کہ فلسطین کے اندر وہاں کے امام وخطیب صاحب نے جمعہ کے دن سب سے مختصر خطبہ دیا تھا ،انہوں نے حمدوصلاۃ کےبعد یہ کہا کہ بھوک کی وجہ سے میں بول نہیں سکتاہوں اورآپ بھوک کی وجہ سے سن نہیں سکتے ہیں ،اس لئے نماز کھڑی کردی جائے۔اللہ اکبرکبیرا۔اورایسا ہی کچھ منظر پچھلے کچھ دنوں پہلے سوڈان میں بھی دیکھنے کو ملاکہ وہاں کے خطیب صاحب نے بھی یہی خطبہ دیا ،کیا معلوم کہ یہ ان کی ناشکری کا نتیجہ ہو اس لئےمیرے بھائیو اوربہنو! اس طرح کے حالات وواقعات سےعبرت ونصیحت لو اورہمیشہ جس حال میں بھی رہو اللہ کا شکر بجالاتے رہو،ہمیشہ فائدے میں رہوگے اوراگرناشکری کروگے تو پھر اللہ کا یہ فرمان یادرکھ لو کہ اللہ ہماری شکرگذاری کا محتاج نہیں ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ‘‘ کہ اگرتم ناشکری کرو تو(یادرکھوکہ) اللہ تم سب سے بے نیاز ہے،اوروہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اوراگر تم شکرکرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔(الزمر:07)کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ‘‘ہرشکر کرنے والا اپنے نفع کے لئے شکرکرتاہے اورجوبھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ بے نیاز اورتعریفوں والا ہے۔(لقمان:12)
(3)ہم حرام کمائی کرتے ہیں!
میرے دوستو!آج جوہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت نہیں ہے اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ آج کل اکثر لوگ حرام کمائی کرتے ہیں ،اورحرام کمائی میں کبھی بھی برکت نہیں ہوتی ہے گرچہ ایک انسان اربوں کھربوں روپیہ ہی کیوں نہ جمع کرلے،یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کے اندر اللہ رب العالمین نے جگہ جگہ پر ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم ہمیشہ حلال کو اپنائیں اورحرام کے قریب بھی نہ جائیں جیسا کہ ایک جگہ اللہ نے فرمایا ’’ يَاأَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا ‘‘ لوگو!زمین میں جتنی بھی حلال اورپاکیزہ چیزیں ہیں ان میں سے کھاؤ اورپیو۔(البقرۃ:168) کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ‘‘اے ایمان والو!جوپاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ،پیواوراللہ کا شکر کرو،اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔ (البقرۃ:172) سنا آپ نے کہ اللہ نے ہمیں صرف حلال روزی کمانے اورحلال کھانے پینے کا حکم دیا ہے،اسی کے برعکس اللہ نے ہمیں حرام کمائی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ‘‘ اے ایمان والو!اپنے آپس کے مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ۔(النساء:29)اس آیت کے اندر اللہ تعالی نے کہا کہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال مت کھاؤ تو باطل کے اندر دھوکہ،فریب،جعل سازی،ملاوٹ کے علاوہووہ تمام کاروباربھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے(احسن البیان،ص:185) اب ذرا سوچئے کہ جو انسان کسی کو دھوکا دے کر کے یا پھر کسی کے ساتھ فراڈ کرکےکمائے گا تو کیا اس کی کمائی اوراس کی زندگی میں برکت رہے گی؟ہرگز نہیں!اورآج کل تو لوگوں کو بس روپیہ پیسہ چاہئے ،چاہے وہ جس طریقے سے بھی حاصل ہو،اوراسی بات کی پیشین گوئی توجناب محمدعربیﷺ نے آج سے چودہ سوسال پہلےہی کردی تھی کہ ایک دور ایسا آئے گا ،جب لوگ حلال وحرام کی فکرکئے بغیر بس مال کمانے کے چکر میں رہیں گے جیسا کہ صحیح بخاری کے اندر سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ روایت موجود ہے ، آپﷺ نے فرمایا کہ’’ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يُبَالِي المَرْءُ بِمَا أَخَذَ المَالَ أَمِنْ حَلاَلٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ ‘‘ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک انسان اس بات کی قطعی فکرنہیں کرے گاکہ وہ مال کہاں سے کمارہاہے،آیا حلال طریقے سے کمارہاہے یا پھر حرام طریقے سے کمارہاہے۔(بخاری:2083)یقیناً یہی وہ دورہے جس کے بارے میں آپﷺ نے پیشین گوئی کی تھی اوریہ منظر آج ہم اورآپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہرانسان حلال وحرام کی تمیز کئے بغیربس اسی فکر میں جی رہاہے کہ کس طرح سے وہ شارٹ کٹ کے ذریعے کروڑپتی اورارب پتی بن جائے،اور اس کے لئے ایک انسان کسی کا مرڈر بھی کررہاہے تو کسی کے ساتھ فراڈ بھی کررہاہے ،کسی کا حق بھی ماررہاہے تو کسی کے مال میں خیانتیں بھی کررہاہے،اورپھر جب خوب مال دولت جمع کرلیتاہے تو کہتاپھرتاہے کہ میری زندگی میں اورمیری کمائی میں برکت ہی نہیں ہے،بھائی برکت آئے گی کیسے ؟جب کہ اس نے ساری دولت حرام کمائی سے جمع کی ہے،مال ودولت جمع کرنے کے نشے میں ایک انسان یہ بھول جاتاہے کہ حرام کمائی میں برکت نہیں ہوتی ہے،آج آپ یہ بات اچھی طرح سے اپنے اپنے دل میں بیٹھاکرجائیں کہ حرام کمائی اورحرام مالوں میں اللہ نے برکت نہیں رکھی ہے،آئیے میں آپ کو اس کی ایک بہترین مثال دیتاہوں کیاآپ نے کبھی کتوں کا مَندہ(ریوڑ)دیکھا ہے ؟نہیں دیکھا ہوگا!جب کہ کتیا بیک وقت 6/8/10 بچوں کو جنم دیتی ہیں اورتو اورہے اس جانور کو انسان کھاتابھی نہیں ہے مگر پھر بھی آپ کواس کا مندہ (ریوڑ) نظر نہیں آئےگا !کیوں؟ کیونکہ یہ ایک حرام جانور ہے جس میں خیروبرکت نہیں ہوتی ہے،اسی کے برعکس آپ ایک بکری کی مثال لے لیجئے جو سال میں ایک یا پھر دو یا پھر کبھی کبھی الا مشاءاللہ 3 بچوں کو جنم دیتی ہے،اورمزید حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس بکری کو روزانہ اربوں اورکھربوں کی تعداد میں ذبح بھی کیاجاتاہے مگر پھر بھی آپ کو بکریوں کا مَندہ(ریوڑ) ہرجگہ نظر آئے گا،کیوں؟کیونکہ یہ ایک حلال جانورہے اورحلال چیزوں میں اللہ نے برکت رکھی ہے تو بس اسی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح سے یادرکھ لیں کہ حرام کمائیوں میں بالکل بھی برکت نہیں ہوتی ہے ،حرام مال جہاں سے آتاہے وہیں چلاجاتاہے،فارسی میں ایک کہاوت بہت مشہورہے کہ ’’ مالِ حرام بُوَد بجائے حرام رَفْت ‘‘ کہ ایک انسان جس طرح سے حرام طریقے سے پیسہ کماتا ہےاسی طرح سے وہ ناجائز طریقے سے ہی خرچ ہوجاتاہے یا پھر ضائع وبرباد ہوجاتاہے،صرف یہی نہیں کہ حرام کمائی ضائع وبرباد ہوجاتی ہے بلکہ حرام کمائی تو اپنے ساتھ آفت ومصیبت اور بددعا اورجان لیوا بیماریاں لاتی ہیں،حرام مال اپنے ساتھ غم و الم اورٹینشن لاتی ہے،حرام مال نافرمان اولادپیداکرتی ہے!اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے ؟تو بالکل ہی سیدھی اورواضح بات ہے کہ ایک انسان جب مال جھوٹ بول کریا پھردھوکا اورفراڈ کرکےیاپھرکسی کا حق مار کرکےکماتاہے توکسی نہ کسی کی آہ وبددعا اسے ضرورلگ جاتی ہے،پھر کیا ہوتاہے یہی کہ وہ ہاسپیٹلوں کا چکرلگاتارہتاہےیہاں تک کہ ایک دن بسترمرگ پر پڑجاتاہے،اس لئے میرے بھائیو!حرام کمائی سے بچو!یہ حرام کمائی جہاں ایک انسان کی دنیا بربادکردیتی ہے وہیں اس سے ایک انسان کی آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے،اورحرام کمائی کرنے والا پہلے پہل جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا’’ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ ‘‘کہ وہ جسم جنت میں داخل نہ ہوگا جو حرام کمائی سے پروان چڑھا ہو۔اورایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’كُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ ‘‘ کہ ہروہ جسم جو حرام کمائی سے پالاپوساگیا ہو تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہی بہتر ہے۔ (صحیح الترغیب والترھیب:1728، صحیح الجامع:4519، الصحیحۃ:2609، صحیح الترغیب والترھیب:2242، ترمذی:614) اللہ کی پناہ!صرف یہی نہیں بلکہ حرام مال تو ایک انسان کے خلاف میدان محشر میں گواہی بھی دے گا اور کہے گا کہ اے اللہ!یہی وہ انسان ہے جو مجھے حرام طریقے سے جمع کیا تھا!اللہ اکبر کبیرا!جو پیسہ اورجومال ودولت آج ہمارےجیبوں میں ہے اورجس سے ہم آج موج ومستی کررہے ہیں کل یہی ہمارے خلاف ہوجائے گا جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ وَمَنْ لَمْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ فَهُوَ كَالْآكِلِ الَّذِي لاَ يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ القِيَامَةِ ‘‘ کہ جو انسان اس مال کو ناجائز طریقے سے حاصل کرتا اورجمع کرتاہے تو وہ اس بیمار انسان کی طرح ہے جو کتنا ہی کھالے مگر اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا،اورناجائز وحرام طریقے سے جمع کیاگیا مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ بن کر آئے گا۔(بخاری:2842)اس لئے اے میرے بھائیو!خوب کماؤ مگرحلال طریقے سے کماؤ اور حرام کے قریب بھی نہ جاؤ،ورنہ ہمیشہ بے برکتی کے شکار رہوگے اوریہ بات بھی اچھی طرح سے یادرکھ لو کہ آج جو کچھ بھی کماؤگے اورجو کچھ بھی خرچ کروگے ان سب کے بارے میں کل بروزقیامت ایک ایک پائی کا حساب دیناہے۔
(4)ہم اپنی تجارتوں میں دو ناجائز کام کرتے ہیں!
میرے دوستو!آج جوہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں برکت نہیں ہے اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی تجارتوں میں جھوٹ بولتے ہیں،کسٹومراورگاہک کو رجھانے اوریقین دلانے کے لئے جھوٹی قسمیں بھی کھاتے ہیں،اے میرے تاجربھائیو!یہ بات آپ جان لیں کہ آپ اپنی تجارت میں بالکل بھی آزاد ہیں ،آپ دس روپئے کی چیز 100 روپئے میں بیچ سکتے ہیں یہ آپ کی مرضی ہے اورخریدنے والے کی مرضی ہے مگر آپ جھوٹ بول کر اورجھوٹی قسمیں کھاکر سامان نہیں بیچ سکتے ہیں،جوتاجراپنی تجارت میں جھوٹ بولے گا تو اس کی تجارت سے خیروبرکت روٹھ جائے گی،اوریہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ جناب محمدعربیﷺ کا فرمان ہے کہ بیچنے والے اورخریدنے والے جب تک جدا نہ ہوں ان کو اپنالین دین توڑنے کا اختیارہے ،اگر وہ دونوں سچ بولیں گے اورہرچیز کی وضاحت کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جائے گی ’’ وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ‘‘ لیکن اگر وہ دونوں جھوٹ بولیں گے اورمال کی حقیقت کی بارے میں کچھ چھپائیں گے تو ان کے سودے سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔(بخاری:2110،مسلم:1532)آج اکثر یہی تو ہورہاہے کہ بازار میں سامان لینے والا بھی جھوٹ بولتے ہوئے کہتاہے کہ یہ سامان تو فلاں دوکان میں اتنے میں ملتی ہےاوردوکان والا بھی جھوٹ بولتاہے کہ میں جتنے کم میں تم کو مال دے رہاہوں اتنے کم میں پورے بازار میں کوئی نہیں دے گا،یا پھر دوکان والا قسمیں کھاتے ہوئےیہ کہتاہے کہ اللہ کی قسم!یہ مال تو میں نے اتنے میں خریدی ہے اورتم سے بہت کم منافع لے رہاہوں،الغرض جھوٹ بول کردونوں گراہک اوردوکانداراپنی اپنی چالاکیاں دکھاکر مال لیتے اوربیچتے ہیں تو یہی تو وہ وجہ ہے جس سے مال سے برکت ختم ہوجاتی ہے،اسی سلسلے میں ایک دوسری حدیث سنئے،جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ ‘‘ قسم کھانے سے مال تو بِک جاتاہے لیکن تجارت سے برکت مٹ جاتی ہے۔ (بخاری:2087،مسلم:1606،ابوداؤد:3335) میرے دوستو!جھوٹی قسمیں کھاکرمال بیچنے سے صرف دنیا کا ہی نقصان نہیں ہے کہ بلکہ ایسے لوگوں کی آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے ،جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایاکہ جھوٹی قسمیں کھاکرجوتجارتیں کرے گا تو کل بروز قیامت اللہ رب العالمین نہ تو اس سے بات کرے گا اورنہ ہی اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اورنہ ہی اس کو پاک وصاف کرے گا بلکہ ایسے لوگوں کو تو اللہ رب العالمین دردناک عذاب دے گا۔ (مسلم:106)اس لئے اے میرے تاجربھائیو ! اپنی اپنی تجارتوں میں جھوٹی قسمیں کھانے سے ہمیشہ بچواورہاں ایک اوربات یاد رکھ لیں کہ تجارتوں میں صرف جھوٹی قسمیں ہی نہیں کھانا ہے بلکہ سچی قسمیں بھی نہیں کھانی چاہئے کیونکہ قسمیں کھانے سے مال ودولت میں کمی ہوجاتی ہےجیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا’’ إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ ‘‘کہ خریدوفروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ اس سےتجارتیں تو خوب چلتی ہیں لیکن پھر وہ ختم ہوجاتی ہیں۔(مسلم:1607)پتہ یہ چلا کہ تجارتوں میں قسمیں کھانے( چاہے و ہ سچی قسم ہو یا پھر جھوٹی قسم )سےتجارتیں برباد ہوجاتی ہیں اوراس سے برکتیں مٹ جاتی ہیں یعنی کہ مال تو انسان کے پاس بہت ہوں گے مگر اس کی ضرورت پوری نہیں ہوگی،یاپھر ایسا بھی ممکن ہے کہ مال کسی بیماری یاپریشانی میں ضائع ہوتارہے گا،اس لئے اے میری بھائیو!اگرہم اورآپ اپنی اپنی تجارتوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اوراگر یہ چاہتے ہیں کہ ہماری تجارتوں میں برکتیں ہوں تو پھر ہرطرح کی قسمیں کھانے سے ہمیشہ بچاکریں۔
(5)ہم مال کے حریص ولالچی ہیں!
میرے دوستو!آج جو ہماری زندگیوں اورہماری کمائیوں میں بالکل ہی برکت نہیں ہے اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم سب مال ودولت کے بہت ہی زیادہ لالچی ہوچکے ہیں،آج ہرانسان کی نظر بس مال ودولت پرہےاورہرانسان ہرمعاملے میں بس روپیہ وپیسہ اورمال ودولت کو دیکھتاہے،آج سب کوبس مال و دولت جمع کرنے کی فکر اورحرص وہوس ہے،سماج ومعاشرے کے اندردیکھا یہ جارہاہے کہ اگر کوئی رشتہ دیکھتابھی ہے تو پہلے مال ودولت کی جانچ وپڑتال کرتاہے اورپوچھتاہے کہ پہلے یہ بتاؤمال کتنا ملے گا،بلکہ بسااوقات تو یہ بھی دیکھا اورسنا گیا ہے کہ کسی نے مال ودولت کی حرص وہوس میں بدنام اور عیب دارلڑکی سے بھی شادی رچالی ،اوررشتہ لگانے والےبھی لڑکی کی تصویر دکھانےسے پہلے لڑکے والے کو مال ودولت کاہی لالچ دلاتے ہیں، اورلوگ مال دولت کی لالچ میں آکر شادی تو کرلیتے ہیں مگر پھر زندگی بھر ہنسیوں اورخوشیوں کے لئے ترستے رہتے ہیں،اس لئے میرے بھائیو!مال ودولت کے حریص ولالچی نہ بنو کیونکہ جوانسان حرص وہوس میں آکر مال ودولت کو حاصل کرتاہےتو ایسے لوگوں کے مال ودولت میں برکت نہیں ہوتی ہے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے یہ اعلان کردیا ہے ’’ إِنَّ هَذَا المَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ‘‘کہ بےشک یہ مال ودولت بڑی ہی میٹھی چیز ہے،پس جس نے اس مال ودولت کودل کی سخاوت کے ساتھ لیا تو اس کے لئے اس مال ودولت میں برکت رکھ دی جائے گی ،لیکن اگرکوئی شخص’’وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ‘‘اس مال ودولت کو اپنے نفس کو ذلیل کرکے یعنی حرص وہوس اورلالچ کے ساتھ حاصل کرے گا تو اس کے لئے اس کے مال ودولت میں بالکل بھی برکت نہیں ہوگی اورایسا انسان’’ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ‘‘ اس انسان کی طرح ہوجاتاہے جو کھاکربھی سیر نہیں ہوتاہے۔ (ترمذی:2463، بخاری:1472، مسلم:1035) اس حدیث کے تحت شارح بخاری دادؤد رازؒ نے کیا ہی خوب لکھاہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’ اس حدیث میں حکیم انسانیت رسول کریمﷺ نے قانع اورحریص کی مثال بیان فرمائی کہ جو بھی کوئی دنیاوی دولت کے سلسلے میں قناعت سے کام لے گا اورحرص اورلالچ کی بیماری سے بچے گا اس کے لئے برکتوں کے دروازے کھلیں گے اورتھوڑا مال بھی اس کے لئے کافی ہوسکے گا،اس کی زندگی بڑے ہی اطمینان اورسکون کی زندگی ہوگی،اورجوشخص حرص کی بیماری اورلالچ کے بخارمیں مبتلا ہوگا اس کا پیٹ بھرہی نہیں سکتا خواہ اس کو ساری دنیا کی دولت حاصل ہوجائے وہ پھر بھی اسی چکر میں رہے گا کہ کسی نہ کسی طرح سے اورزیادہ مال حاصل ہوجائے،ایسے طماع لوگ نہ اللہ کے نام پر خرچ کرنا جانتے ہیں نہ مخلوق کوفائدہ پہنچانے کا جذبہ رکھتے ہیں،نہ کشادگی کے ساتھ اپنے اوراپنے اہل وعیال ہی پر خرچ کرتے ہیں۔اللہ کی پناہ!سنا آپ نے اوریہی کچھ تو ہم اورآپ اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ سماج ومعاشرے میں جو جتنا بڑا مالدار ہے وہ اتنا بڑا کنجوس ہے ، کنجوس ہی نہیں بلکہ مکھی چوس ہے،اب آپ ہی فیصلہ کرلیں کہ ایسی مالداری کا کیا فائدہ جس سے ایک انسان خود اپنی ذات اوراپنی آل واولاد کوبھی فائدہ نہ پہنچاسکے۔اس لئے اے میرے بھائیو!جو مال بھی کمانا ہے بغیر حرص وہوس اوربغیر لالچ کے کماؤ ورنہ تمہارے مال میں برکت نہیں رہے گی۔
(6) ہم برکت کے وقت میں سوئے رہتے ہیں!
میرے دوستو!آج جو ہماری کمائیوں اورہماری زندگیوں میں برکت نہیں ہے وہ اس لئے کہ ہم صبح بہت تاخیر سے اٹھتے ہیں،افسوس صدافسوس ہمار ے نبیﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ ہم صبح جلدی اٹھیں مگر آج ہماری اورہماری نسلوں کی صبح 8/9 بجے ہوتی ہے،دیکھا یہ جاتاہے کہ غیرقوم کے لوگ صبح 4/5 بجے سے ہی اپنے کام کاج میں لگ جاتے ہیں اوردوڑدھوپ کرنا شروع کردیتے ہیں مگر ایک مسلم قوم جس کے اوپر صبح میں اٹھنا فرض اورواجب ہے وہ اپنے فرائض کو چھوڑکر، گھوڑا بیچ کرسوجاتی ہے ،توآج آپ یہ فرمان مصطفیﷺ کی روشنی میں جان لیں کہ جوانسان صبح جلدی نہیں اٹھے گا وہ ہمیشہ پریشان رہے گا اوراس کی ساری زندگی اوراس کی ساری کمائی میں بے برکتی رہے گی،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے ایساکیوں؟توسنئے ،ایسااس لئے کہ صبح کے اوقات میں ہمارے نبیﷺ نے ہمارے لئے برکت کی دعاکی ہے اوریہ کہا ہے کہ اے میر ےرب!تومیری امت کے لئے صبح سویرے کے وقتوں میں برکت رکھ دے،جیسا صحابیٔ رسول سیدنا صخرغامدیؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے یہ دعاکی کہ ’’ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا ‘‘اے اللہ ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطافرما۔ایسا آپﷺ نے دعا کیا اور اس دعا کو سیدنا صخر غامدیؓ نے سنا اورعمل کرنا شروع کردیا ،پھر کیاہوا خود سنئے ،راویٔ حدیث کہتے ہیں کہ ’’ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا ‘‘سیدنا صخرؓ ایک تاجرآدمی تھے اس لئے یہ حدیث سن کرسیدنا صخرؓ نے ’’ فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ‘‘اپنا تجارت کا مال صبح سویرے ہی بھیجتے تھے،پھر کیا ہوا خود سنئے،راویٔ حدیث کہتے ہیں کہ ’’ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ ‘‘ کچھ ہی دنوں میں وہ مالدار ہوگئے اوران کی دولت بڑھ گئی۔(ابن ماجہ:2236،اسنادہ صحیح)اب ذرا سوچئے کہ جو انسان صبح سویرے سویارہے گا اور7/8/9 بجے اٹھے گا تو کیا اس کی زندگی میں کبھی برکت آئے گی ؟ہرگز نہیں،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اگر اپنی زندگی اوراپنی کمائی میں برکت چاہتے ہو تو پھراپنے لائف اسٹائل کو بدلو،اپنے گھرکے ماحول کو بدلو،سارے فیملی والے لوگ فجرکے نماز کی پابندی کرنے والےبن جاؤ،ورنہ ہمیشہ بے برکتی کے شکار رہوگے۔اورمیرے دوستو!یہ تو ہمارے نبیﷺ نے برسوں پہلے کہہ دیا تھا کہ صبح کے وقت میں برکت ہی برکت ہے جب کہ آج میڈیکل سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمارے نبیﷺ کی بات صد فیصد حقیقت پر مبنی ہے،میڈیکل سائنس کا یہ کہنا ہے کہ صبح جلدی اٹھنے سے انسان کی دماغی صلاحیت میں اضافہ ہوتاہے،اورمیڈیکل سائنس کا یہ بھی کہنا اورماننا ہے کہ صبح سویرے جلدی اٹھنے سےایک انسان کو نیند بھی اچھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی صحت بھی اچھی ہوتی ہےاسی طرح سےمیڈیکل سائنس کا یہ بھی کہنا ہے کہ صبح سویرے جلدی اٹھنے سے ہمارا جسم اورہمارا دماغ دن بھر تروتازہ رہتاہے،میڈیکل سائنس کا یہ بھی کہنا ہے کہ صبح کے وقت میں ہمارا جسم کورٹیسول(تناؤ کا ہارمون) نامی ہارمون پیداکرتاہےجوتناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتاہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کورٹیسول ہارمون کیا ہے تو کورٹیسول ایک ہارمون ہے جو جسم میں مختلف اہم کام کرتا ہے، جیسے تناؤ کا جواب دینا، میٹابولزم کو منظم کرنا یعنی جسم میں چربی کو کنٹرول میں رکھنا، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا، اور مدافعتی نظام کو سپورٹ کرنا،سبحان اللہ دیکھئے صبح جلدی اٹھنے کے کتنے عظیم فائدے ہیں،مگر ہم اورآپ دیری سے اٹھ کر بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں اوراپنی صحت خود اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کررہے ہیں مگر ہمیں اس کی کانوں کان خبر نہیں ہے،آپ کو سائنسی انکشافات کو سن کر حیرانی ہورہی ہوگی کہ صبح کے وقت میں اللہ نے کتنی برکت رکھ دی ہے مگر انہیں تمام باتوں کی وضاحت تو ہمارے نبیﷺ نے برسوں پہلے کردی تھی جیسا کہ بخاری کے اندرسیدنا ابوہریرہؓ سے یہ حدیث مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ ‘‘کہ جب ایک انسان رات میں سوتاہے تو شیطان اس کے گدی پر تین گرہیں لگاتاہے اور پھر ’’ يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ مَكَانَهَا ‘‘ہرگرہ اورہرگانٹھ پر ایک منتر پڑھتا رہتاہے کہ ’’ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ ‘‘سوجا منا سوجا!سوجامنی سو جا!ابھی رات بہت لمبی ہے،پھر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ‘‘اب اگر کوئی انسان فجر کے وقت میں اٹھ جاتاہے اوراللہ کا ذکر کرلیتاہے یعنی سبحان اللہ وغیرہ یا پھرنیندسے بیدارہونے کی دعا پڑھ لیتاہےتو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے،پھر آگے آپﷺ نے فرمایا کہ اب ایک انسان اپنے بستر پر سے اٹھ جاتاہے اور ’’ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ‘‘پھر جیسے ہی وضو کرلیتا ہے تو اس کی دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے،شیطان کے تین گرہوں میں سے دوگرہیں تو کھل گئیں مگر ابھی ایک گرہ باقی ہوتی ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا ‘‘ اب اگر وہ انسان نماز (فجر)پڑھ لیتاہے تو اس کی تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے،اب کیا ہوتاہے وہ ذرا غورسے سنئے،ابھی اس بارے میں آپ نے سائنسی انکشافات کو بھی سن لیا ہے کہ صبح سویرے جلدی اٹھنے سے کیا ہوتا ہےاب اپنے نبیﷺ کی بات کو غورسے سنئے اوراپنے دل ودماغ میں اتار لیجئے،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ ‘‘جو انسان صبح سویرے جلدی اٹھتاہے اورفجر کی نماز ادا کرلیتاہے تو وہ انسان اس حال میں صبح کرتاہے کہ وہ دن بھرفِٹ اور ہشاش وبشاش اورخوش مزاج رہتاہےاور جو انسان دن کا اجالا ہونے تک 7/8/9 بجے تک سوتارہتاہے تو ’’ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ ‘‘ایسا انسان اس حال میں صبح کرتاہے کہ وہ دن بھر سست وکاہل اور دن بھر منحوس رہتاہے۔اللہ کی پناہ! (بخاری:3269،مسلم:776)
(07)ہم بڑوں اوربزرگوں کو اپنی زندگی میں اہمیت نہیں دیتے ہیں :
میرے دوستو!اب جو میں بیان کرنے جارہا ہوں اس کو تمام مردوخواتین غورسے سنیں کہ ہماری زندگیوں میں بے برکتی کی اصل وجہ کیا ہے؟آج جو ہماری زندگیوں میں برکت نہیں ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سماج ومعاشرے کے اندر اکثرلوگ اپنے اپنے بزرگوں کواپنے ساتھ رکھنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ لوگ تواپنےبوڑھے ماں باپ اوربوڑھے دادا دادی یاپھر بوڑھے نانا نانی کو بوجھ سمجھتے ہیں،کتنے ایسے ناہنجار اولاد ہیں جنہوں نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو ان کے بڑھاپے کی بچکانہ حرکتوں سے تنگ آکران کو اولڈ ایج ہوم میں پھینک دیا ہے،اورکتنے ایسے لوگ ہیں جو اپنی بیوی کی باتوں میں آکر کے اپنے ہی بوڑھے ماں باپ کو اپنے گھر سے بے گھر کردیا ہےاورکتنی ایسی خواتین ہے بلکہ پڑھی لکھی عالمہ خواتین ہیں جو آج جوانی میں یہ کہتی ہیں کہ اسلام میں ساس سسر کے ساتھ رہنے کا حکم نہیں ہے اورنہ ہی مجھ پر ان کی خدمت فرض وواجب ہے، سماج ومعاشرے کے اندر تو یہ برائی اوریہ فتنہ بہت ہی زوروں پر ہے کہ بہو اپنے ساس اورسسر کے ساتھ نہ تو رہنا چاہتی ہے اورنہ ہی ان کی خدمت کرنا چاہتی ہے بلکہ بلاجھجھک ببانگ دہل یہ کہتی ہیں کہ اسلام ہمیں نہ تو اس کا حکم دیتاہے اورنہ ہی اسلام نےہمیں اس کا مکلف کیا ہے مگریادرکھ لیجئے کہ جب یہی خواتین بوڑھی ہوجائیں گی تو اپنی اولاد کو قرآن وحدیث کی تعلیم دیں گی اور تب قرآن وحدیث کی پاٹھ پڑھائیں گی اوراللہ کا واسطہ دے کراپنی اولاد کو کہیں گی کہ اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھنی چاہئے،اور تو اورہے ان خواتین کا دوغلا معیار دیکھئے کہ اس طرح کی باتیں کہنے والی خواتین اپنے اپنے بھائیوں کو یہ نصیحت کرتی ہیں کہ ماں باپ کے ساتھ رہنا اور اپنےبھابھیوں کو ڈرا دھمکا کر یہ نصیحت اوریہ وصیت کرتی ہیں کہ ساس سسر کی دیکھ بھال کرنا،۔استغفر اللہ۔عورتوں کی یہ کیسی منافقت اورکیسا دوغلاپن ہے،تو جوعورتیں بھی ایسا کرتی ہیں اورجو مرد بھی اپنی بیوی کی باتوں میں آکر ایسا کرتا ہے وہ یہ کان کھول کرسن لے کہ وہ بھی ایک نہ ایک دن کسی کے ساس و سسر بنیں گے تب انہیں پتہ چلے گا کہ بڑھاپے میں کسی کو تنہااوربے سہارا چھوڑدینے سے ان پر کیا مصیبت ٹوٹتی ہے،صحابہ وصحابیات نے بھی شادیاں کی تھیں اورجب شادیاں کی تھیں تو ظاہرسی بات ہے کہ ان کے بھی ساس وسسر ہوں گے مگر کسی ایک سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی زندگی میں ایک باربھی یہ مطالبہ کیاہو کہ ہم اپنے ساس وسسر کے ساتھ نہیں رہیں گے،ذراسوچئے کہ کیا وہ قرآن وحدیث ۔نعوذ باللہ۔نہیں جانتے تھے ؟کیا آج کل کی عورتیں ان سے زیادہ دیندار ہیں؟نہیں! ہرگز نہیں !بلکہ وہ لوگ تو تاقیامت تمام لوگوں سے زیادہ خداترس اور دیندار لوگ تھےمگر پھر بھی وہ لوگ اس طرح کی باتیں اپنی زبان پر کبھی نہ لایاکرتے تھے ،اب دیکھئے سیدنا جابرؓ کی جو بیوی تھی وہ اپنے نندوں کے ساتھ ہی رہاکرتی تھی اور ان کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی،جیسا کہ صحیح بخاری کے اندر یہ حدیث موجود ہے کہ آپﷺ سے سیدنا جابرؓ نے کہا کہ میں نے ایک بیوہ یاپھر طلاق شدہ عورت سے شادی کرلی ہے توآپﷺ نے ان سے کہا کہ آپ کو تو کنواری لڑکی سے شادی کرنی چاہئے تھی !تو انہوں نے کہاکہ دراصل بات یہ ہے کہ میری نونو بہنیں ہیں تو میں نے سوچا کہ میری یہ تجربہ کار بیوی میری بہنو ں اوراپنے نندوں کی خدمت کرے گی ،ان كو ادب وسليقه سکھائے گی،ان کے بالوں میں کنگھی کرے گی بلکہ ان کی ہرطرح سےدیکھ بھال کرے گی،بخاری کے الفاظ ہیں کہ انہوں نے کہا ’’ وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ‘‘بلکہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی دیکھ بھال کرسکے اوران کی صفائی وستھرائی کا خیال رکھے،اوران کے بالوں میں کنگھی کرسکے۔(بخاری:4052)اورمسلم شریف کے الفاظ ہیں کہ انہوں نے کہاکہ ’’ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ ‘‘میں نے ایسی عورت سے اس لئے نکاح کرلیاہے تاکہ وہ میری بہنوں کی اچھی پرورش کرسکے اوران کو ادب سکھاسکے۔(مسلم:715)جب آپﷺ نے ایسا سنا تو بلاجھجھک فرمایا کہ ’’ أَصَبْتَ ‘‘ آپ نے بہت اچھا کیا،آپ نے بہت ٹھیک کیا۔(بخاری:4052)اب ذرا سوچئے اورخود فیصلہ کیجئے کہ اگر اسلام میں ایسا کچھ ہوتاتوآپﷺ ان کی تعریف کیوں کرتے اوریہ کیوں کہتے کہ آپ نے ٹھیک کیا اوراچھا کیا،بلکہ یہ کہتے کہ تم نےبہت غلط کیا،وہ نندوں کے ساتھ کیوں رہے گی ؟تم اس کو الگ رکھو ،ایسا اورایساکہتے مگر آپﷺ کا ایسا کچھ نہ کہنا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسااسلام میں کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ تو آج کل کی ماڈرن لڑکیوں نے اس کو گڑھ لیا ہے،اوریہ سوچ وفکر اب سماج ومعاشرے میں بہت تیزی کے ساتھ پھیلتی جارہی ہےجس کا نتیجہ یہ ہورہاہے کہ ہرآئے دن مسلم قوم میں کثرت کے ساتھ خلع وطلاق کے معاملات پیش ہورہے ہیں،اورسماج ومعاشرے کے اندر اس کی آڑ میں توکہیں کہیں پر عورتوں پربھی ظلم ہورہاہے،ادھر سے ساس اپنے بہوکے خلاف اپنے بیٹے کے کان میں زہرگھولتی ہے تو کہیں پر نندیں اپنے بھابھی کے خلاف اپنے بھائی کے کان بھرتی ہے تو کہیں پرسب مل کر یہ کام کرتے ہیں،اورعورت کے اوپر اتنا ظلم وستم ڈھاتے ہیں کہ وہ عورت خودکشی کرنےیاپھر خلع لینے پر مجبورہوجاتی ہے،تو جولوگ بھی اس طرح کی حرکتوں میں ملوث ہیں تو ایسے لوگ یہ سن لیں اورجان لیں کہ آج جو کسی کو اس طرح سے تکلیف دے گاتو اللہ بھی اسے تکلیف دے گا،جودوسروں کی بیٹیوں کو ستائے گاتو وہ بھی کسی نہ کسی شکل میں ستایا جائے گاکیونکہ قدرت کا یہ اصول ہے ’’ كَمَا تَدِينُ تُدَانْ ‘‘ جیسا بوؤگے ویساکاٹوگے یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی۔توخیر میں یہ کہہ رہاتھا کہ اسلام نہ تو ہمیں اس کی تعلیم دیتاہے اورنہ ہی ہمیں یہ حکم دیتاہے کہ ہم بیوی کے لئے اپنے والدین کو چھوڑدے اورنہ ہی اسلام ہمیں یہ حکم دیتاہے کہ ہم والدین کے چکر میں اپنی بیوی کو چھوڑدیں بلکہ اسلام تو ہمیں سب کے حقوق اداکرنے اورسب کے ساتھ الفت ومحبت کے ساتھ رہنے کا حکم دیتا ہے،مگر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ اپنی بیوی کے چکر میں اپنے والدین کو چھوڑدیتے ہیں یاپھر اپنے والدین اورخاص کراپنی ماں کے چکر میں اپنی بیوی کو چھوڑدیتے ہیں،ایسے میں کتنے واقعات جانتاہوں کہ ایک ماں کی وجہ سے ہی ایک بہونے خلع لے لی،اورنہ جانے سماج ومعاشرے کے اندر ایسے کتنے خاندان وگھرانے تباہ وبرباد ہوئے صرف اورصرف اسی وجہ سے کہ ہم اپنے بڑوں اوربزرگوں کے ساتھ نہیں رہیں گے،تو جولوگ بھی اپنے اپنے بوڑھے والدین یا پھر اپنے بڑےبزرگوں کوتکلیف دیں گے تو ایسے لوگ آپﷺ کی یہ وارننگ سن لے اورجان لے کہ ایسے لوگ مسلمان کہلائے جانے کے لائق و حقدار نہیں ہیں ،جیسا کہ سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ‘‘وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اورہمارے بڑے بزرگوں کا احترام نہ کرے۔ (ترمذی:1919، الصحیحۃ:2196)یہ تو عزت واحترام کی بات ہے مگر کئی احادیث کے اندر آپﷺ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جو بزرگوں کے حقوق کو ادا نہیں کرے گا تو وہ مسلمان کہلائے جانے کے لائق نہیں ہے جیسا کہ ابوداؤد کے اندر سیدنا عبداللہ بن عمروؓ سےیہ صحیح حدیث مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا ‘‘ کہ جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اورہمارے بڑوں کے حق کو نہ پہچانے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ابوداؤد:4943،اسنادہ صحیح)اورترمذی شریف کے الفاظ ہیں کہ ’’ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا ‘‘وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے اورہمارے بڑوں کی عزت نہ جانے اورنہ ہی پہچانے۔(ترمذی:1920،اسنادہ صحیح)ذرا غورکیجئے کہ آپﷺ نے کتنا سخت جملہ ارشاد فرمایا ہے کہ’’ لَيْسَ مِنَّا ‘‘ ایسا مسلمان ہم میں سے نہیں ہے اہل علم لکھتے ہیں کہ ’’ لَيْسَ مِنَّا ‘‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آپﷺ کی سنت اورآپﷺ کے طریقے پر نہیں ہے،بلکہ ایسے انسان کا دین ناقص اورنامکمل ہے،اورایسا انسان مکمل مسلمان نہیں ہے جو بڑے بزرگوں کی عزت وتوقیر اور ان کی دیکھ ریکھ نہ کرے ،اب حدیثوں کو سننے کے بعد ذرا آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کیا ایسا انسان مسلمان کہلائے جانے کے لائق ہے جو اپنے والدین یا پھراپنے بزرگوں کو ان کے بڑھاپے میں تکلیف دیتاہے،تو جولوگ بھی اپنے اپنے بوڑھے والدین یا پھر اپنے بزرگوں کے ساتھ نہیں رہیں گےتو ایسے لوگ ہمیشہ بے برکتی کے شکاررہیں گےاورایسے لوگوں کی زندگیوں اورایسے لوگوں کے گھروں اورمکانوں میں ہمیشہ بے برکتی رہے گی ،اوریہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ ایسا توخودجناب محمدعربیﷺنے کہا ہے کہ ’’ الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ ‘‘برکت تو بڑوں اوربزرگوں کے ساتھ رہنےسہنے،ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے،ان کے ساتھ کھانے پینے اوران کی دیکھ بھال کرنے اوران کی عزت وتوقیرکرنے سے آتی ہے۔(الصحیحۃ:1778)
(08)ہم سنت کے مطابق کھانا نہیں کھاتے ہیں:
میرے دوستو!آج جوہماری زندگیوں،ہماری کمائیوں اورہمارے گھروں میں برکت نہیں ہے اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہم رزق کی ناقدری کرتے ہیں ،وہ اس طرح سے کہ جب ہم کھانا وغیرہ کھاتے ہیں توسنت کے خلاف کھاتے ہیں یاپھر آدھاادھورا کھاکراٹھ جاتے ہیں،نہ توہم اپنی انگلیاں چاٹتے ہیں اورنہ ہی ہم اپنی پلیٹوں اوررکابیوں کو چاٹتے ہیں بلکہ لوگ تو اپنی انگلیاں اوراپنی پلیٹوں اوراپنی رکابیوں کو چاٹنا معیوب اوراپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں جبکہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نے یہ کہا ہے کہ برکتیں تو انگلیوں اورپلیٹوں اوررکابیوں کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہیں جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ حدیث مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ‘‘کہ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنی انگلیوں کو چاٹ لے کیونکہ ’’ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ ‘‘وہ نہیں جانتاہے کہ برکت اس کے کس انگلیوں میں ہے۔(مسلم:2035)اورمیرے بھائیو اوربہنو !اس بارے میں تو کئی احادیث ہیں ،کسی حدیث کے اندر ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ دیکھو جب تم کھانے کے لئے بیٹھتے ہوتو وہاں شیطان حاضرہوجاتاہے اس لئے اگر کبھی کھانا وغیرہ گرجائے تو اسے صاف کرکے کھالو اورشیطان کے لئے نہ چھوڑو ،پھر آپﷺ نے فرمایا کہ جب تم کھانے سےفارغ ہوجاؤ تو اپنے پلیٹوں اوراپنے انگلیوں کو چاٹ لیا کرو کیونکہ ’’ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ ‘‘تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی ہوئی ہے۔(مسلم:2034،2033)دیکھا اورسنا آپ نے کہ انگلیوں اورپلیٹوں میں تو برکتیں چپکی ہوئی ہوتی ہیں مگر ہم اپنی اپنی انگلیوں کو چاٹنے سے پہلے ہی ٹشوپیپر سے اپنے ہاتھوں کو صاف کر لیتے ہیں یاپھر اپنے پلیٹوں کو چاٹنے سے پہلے ہی اسی میں ہاتھ دھولیتے ہیں تو ہمیں برکت کیسے ملے گی؟لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پلیٹ میں ہاتھ دھونے سے برکت چلی جاتی ہے یہ بالکل ہی جھوٹی اوربکواس بات ہے ،پلیٹ میں ہاتھ دھونے سے نہیں بلکہ پلیٹ نہ چاٹنے سے برکت چلی جاتی ہے اورتو اور ہے سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا اورسنا یہ گیا ہے کہ لوگ نہ تو اپنی انگلیوں کو چاٹتے ہیں اورنہ ہی اپنی پلیٹوں کوچاٹتے ہیں مگر اگر کوئی پیرصاحب کھانا کھاکرپلیٹ میں اپنا ہاتھ دھوکر اورکلی وغیرہ کرکے پلیٹ میں دے توپیرصاحب کے مرید اس کو بڑے ہی شوق وذوق سے پیتے ہیں۔اللہ کی پناہ۔
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ آج جوہمارے کھانوں میں برکت نہیں ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی انگلیوں اورپلیٹوں کو چاٹتے نہیں ہیں،اسی طرح سے ایک اوردوسرا سبب بھی ہے جس کی وجہ سے ہمارے کھانوں میں برکت نہیں ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو پلیٹ کے کنارے سے نہیں کھاتے ہیں بلکہ سیدھا بیچ میں ہی ہاتھ ڈال دیتے ہیں،اوریہی وہ کیفیت وطریقہ ہے جس سے آپﷺ نے روکا ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آپﷺ نےایسا کرنے سے کیوں روکا ہے تو سنئے حدیث ،جناب محمدعربی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَاعْفُوا رَأْسَهَا ‘‘بسم اللہ بول کر کھانا کے کنارے سے کھاؤاوراس کا درمیان والاحصہ ابھی شروعات میں چھوڑدو یعنی بعد میں کھاؤ کیونکہ ’’ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا ‘‘ کھانے میں برکت اوپر سے آتی ہے۔(ابن ماجہ:3276،اسنادہ صحیح)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ وَذَرُوا وَسَطَهُ ‘‘ کہ جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے کھایاکرو اور اس کا درمیانی حصہ چھوڑدو کیونکہ ’’ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ ‘‘برکت تو کھانے کے بیچ میں ہی نازل ہوتی ہے۔(ابن ماجہ:3277،اسنادہ صحیح)پتہ یہ چلا کہ بسم اللہ نہ بولنے اور پلیٹ اوررکابیوں کے بیچ سے کھانےسے کھانے پینے کی چیزوں سے برکت اٹھالی جاتی ہے ۔
میرے بھائیو اوربہنو!اور ایک چیز ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے کھانوں میں برکت نہیں ہے وہ ہے کہ ہم سب الگ الگ کھاتے ہیں،ہم ایک ساتھ ایک ہی گھرمیں رہتے اورایک ساتھ زندگی گذارتے توہیں مگر ہم سب ایک ساتھ مل بیٹھ کر کبھی کھانا نہیں کھاتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری زندگیوں اورہمارے کھانے پینے کی چیزوں میں برکت نہیں ہےاور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ اس بات کی جانکاری تو جناب محمدعربیﷺ نے دی ہے جیسا کہ ابن ماجہ کے اندر یہ حدیث موجود ہے ،سیدنا وحشی بن حربؓ بیان کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام ؓ نے آپﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ ’’ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ ‘‘ ہم کھانا تو بہت کھاتے ہیں مگر ہم سیراب ہی نہیں ہوپاتے ہیں!توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ ‘‘ شاید تم لوگ الگ الگ کھانا کھاتے ہو؟ تو صحابۂ کرامؓ نے کہا کہ ہاں! تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ ‘‘ بسم اللہ بول کر اورمل کر کھانا کھایا کرو،تمہارے لئے اس میں برکت رکھ دی جائے گی۔(ابن ماجہ:3286،اسنادہ حسن)اور ایک دوسری حدیث کے اندر ہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ‘‘ مل جل کر کھایا کرو اورالگ الگ بیٹھ کر نہ کھاؤ،کیونکہ ’’ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ ‘‘ برکت تو جماعت کے ساتھ ہوتی ہے۔(ابن ماجہ:3287،صحیح الجامع للألبانیؒ :4500،اسنادہ حسن) اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!ہم جب بھی کھائیں تو سنت کے مطابق کھائیں ورنہ ہمیشہ بے برکتی کے شکار رہیں گے۔
(09) ہم اپنی کمائی سے خوش نہیں رہتے ہیں:
محترم سامعین!آج جو ہماری کمائیوں اورہماری زندگیوں میں برکت نہیں ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جتنا کماتے ہیں اس سے خوش نہیں رہتے ہیں،ہم اچھا کماتے ہیں ،ہم اچھا کھاتے ہیں ،ہم اچھا پہنتے ہیں،ہمارے پاس خود اپنا ذاتی مکان بھی ہوتا ہے اورتواور ہے ہمارے پاس لاکھوں روپئے بینک بیلنس بھی ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ہم اپنی زندگی اوراپنی کمائی سے خوش نہیں رہتے ہیں اورہروقت دوسروں کے سامنے میں مگرمچھ کے آنسو بہاکرگلے شکوےکرتے رہتے ہیں،سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ ایک انسان کے پاس بہت کچھ ہوتاہے مگر وہ اس کو چھپا کرہمیشہ دوسروں کے سامنے میں روتا رہتاہے اورکہتا رہتاہے کہ بھائی میری حالت تو بہت خراب ہے،کمائی بالکل بھی نہیں ہے،تو جولوگ بھی اپنی کمائی اوراپنی روزگار اوراپنی نوکریوں سے خوش نہیں رہیں گے تو ان کی زندگیوں اوران کی کمائیوں میں برکت بالکل بھی نہیں رہے گی ،اور اس بات کی جانکاری تو خود جناب محمدعربیﷺ نے دی ہے کہ ’’ إِنَّ اللهَ تَعَالىٰ يَبْتَلِي الْعَبْدَ فِيْمَا أَعْطَاهُ فَإِنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَهُ بُوْرِكَ لَهُ فِيْهِ وَوَسَعَهُ ‘‘بے شک کہ اللہ تعالی اپنے بندے کو اس چیز میں آزماتاہے جو اسے عطاکیا رہتاہے تو اب اگر وہ اللہ کی تقسیم پر خوش رہے تو اللہ اس کے لئے اس میں برکت ڈال دیتاہے اوراس کی روزی روٹی میں اللہ کشادگی رکھ دیتاہے ،لیکن ’’ وَإِنْ لَّمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى مَا كَتَبَ لَهُ ‘‘اگر وہ اللہ کی آزمائش پر راضی نہیں رہتا ہے تو اللہ اس کے مال سے برکت کو چھین لیتاہے اور اسے تو بس اتنا ہی رزق ملتاہے جتنا کہ اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ دیا ہوتاہے۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:1869،الصحیحۃ:1658)اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے !اگر ہم خوش رہیں گے تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے اوراگر ناخوش رہیں گےتو پھر اس میں ہمارا ہی نقصان ہے کہ ہم ہمیشہ بے برکتی کے شکار رہیں گے۔
(10) ہمارے گھروں میں تصاویرہوتی ہیں:
میرے دوستو!آج جو ہمارے گھروں ،ہماری تجارتوں اورہماری کمائیوں میں برکت نہیں ہے اس کا ایک سبب تو یہ بھی ہے کہ ہمارے دوکانوں،ہمارے گھروں میں تصاویریں لٹکی ہوئی ہوتیں ہیں، سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جارہاہے کہ اب مسلمان بھی غیروں کی نقل اتارتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں اپنے والدین یا پھر اپنے اپنے بچوں کی تصویریں شوقیہ لگالیتے ہیں بلکہ آج کل تو لوگ اپنے اپنے پیروں اورفقیروں کی تصویریں اپنے گھرومکان اوردوکان کی دہلیز کے سامنے لٹکاکررکھ لیتے ہیں،اورگھر میں داخل ہونے کے وقت یاپھر اپنی دوکان کی شٹرکھولنے کے وقت میں سب سے پہلے انہیں کی تصویروں کوبڑے ہی عقیدت مندی کے ساتھ دیدارکرتے ہیں اورپھر داخل ہوتے ہیں،اوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایساکرنے سے ہمارے گھرومکان اوردوکان میں برکت ہی برکت آ جائے گی مگر کائنات کے رب کی قسم!ایسا کرنے سے بے برکتی نازل ہوتی ہے اوریہ میرا دعوی نہیں ہے بلکہ رب کے محبوب جناب محمدعربی ﷺنے یہ اعلان کردیا ہے کہ جس گھر ومکان اورجس دوکان میں بھی تصویریں ہوں گی وہاں سے برکت روٹھ جائے گی،اورایسی جگہوں پر رحمت وبرکت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے ہیں جیسا کہ نسائی شریف کے اندرکے یہ حدیث موجود ہے ،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ اسْتَأْذَنَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے آپ کے پاس آپ کے گھر میں آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ’’ ادْخُلْ ‘‘ داخل ہوجائیے! تو جبرئیل امین نے کہا کہ ’’ كَيْفَ أَدْخُلُ وَفِي بَيْتِكَ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ ‘‘ میں آپ کے گھرمیں کیسے داخل ہوجاؤں یہاں تو ایک ایسا پردہ لٹکاہوا ہے جس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں،’’ فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُوسُهَا أَوْ تُجْعَلَ بِسَاطًا يُوطَأُ ‘‘ یا تو آپ ان تصویروں کی سر وں کو کاٹ دیجئے یا پھر انہیں بچھونا بنالیجئے تا کہ یہ تصویریں ہروقت روندی جاتی رہے یعنی کہ ایسا کرنے سے ان تصویروں کی عزت نہیں رہے گی ،پھر آگے جبرئیل امین نے کہا کہ ’’ فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِكَةِ لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ ‘‘ ہم فرشتے یعنی رحمت وبرکت کے ایسے گھروں میں داخل نہیں ہوتے ہیں جن میں تصویریں ہوں۔(نسائی :5365اسنادہ صحیح)دیکھئے جبرئیل امین نے کہا کہ آپ تصویروں کو پاؤں سے روندئے اورآج کا مسلمان اسے عزت واحترام کے ساتھ اپنے اپنے گھرومکان اوردوکان کی دیواروں پر چسپاں کرلیتاہے،اورصحیح بخاری اورصحیح مسلم کے اندر یہ حدیث موجود ہے کہ حضرت جبرئیل امین نے کہا کہ ’’ إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ ‘‘ ہم فرشتے ایسے گھروں میں داخل ہی نہیں ہوتے ہیں جس میں کتا اورتصویریں ہوں۔(بخاری:3227،مسلم:2104)یہ تو تصویروں اورکتوں کی بات ہوگئی ،سماج ومعاشرے کے اندر ایک اورچیز بھی ہے جو بطور فیشن یا پھر شوقیہ کیا جاتاہے کہ مسلمان اپنے اپنے گھروں کی الماریوں میں انسانوں کے پتلے یاپھر کم از کم لافنگ بدھا کا پتلا ضرورسجاکررکھتے ہیں تو یہ بھی اسی کے اندر شامل ہے،اور اس طر ح کے پتلے اگر گھر میں ہوں تو بھی رحمت وبرکت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے ہیں کہ جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ کا یہ فرمان صحیح حدیث کے اندر موجود ہے کہ ’’ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ ‘‘ اس بات میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کہ اس گھر میں رحمت وبرکت کے فرشتے داخل ہی نہیں ہوتے ہیں جس گھر میں تصویریں ہوں یا پھر مجسمہ ہوں۔(مسند احمد:11858،ترمذی:2805،اسنادہ صحیح)سنا آپ نے تصویروں ،کتوں اورمجسموں سے رحمت وبرکت کے فرشتے نہیں آتے ہیں مگر اب تو مسلمان بھی اپنے اپنے گھروں میں تصویریں اورمجسمے رکھنے لگے ہیں بلکہ اب تو مسلمان بھی کتےپالنے لگے ہیں بلکہ کتنے ایسے پیروفقیر بھی ہیں جو کتے پالتے ہیں اوروہ اسی نام سے مشہور بھی ہیں، تو اب آپ ہی خود بتائیے کہ جہاں رحمت وبرکت کے فرشتے نہیں داخل ہوں گے وہاں کے لوگوں اوروہاں کے لوگوں کی زندگیوں اوران کی کمائیوں میں برکت کیسےرہے گی؟اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!ایساکرنے سے بچو ورنہ ہمیشہ بے برکتی سے پریشان رہوگے۔
(11) ہم مقروض ہوتے ہیں:
میرے دوستو:آج جو ہماری کمائیوں اورہماری زندگیوں میں برکت نہیں ہے اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ہم بلاوجہ میں اپنی آن بان اوراپنی شان دکھانے کے لئے قرضے پر قرضے لیتے رہتے ہیں،اورپھر جب بھرپائی کا وقت آتاہے تو ہم اپنی کمائی کا زیادہ تر حصہ اپنے لئے ہوئے قرضے کو چکانے میں دے دیتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہماری کمائی آدھی رہ جاتی ہے جو ہمارے لئے ناکافی ہوتاہے،اب آپ ہی خود فیصلہ کرلیجئے کہ جب ایک انسان مقروض ہوگا تو اس کی کمائی میں برکت کیسے رہے گی؟لوگ قرضے تو بڑے شوق سے لیتے ہیں مگر قرضہ چکانے میں ان کی ساری کمائی ختم ہوجاتی ہے اس لئے میرے بھائیو اور بہنو جہاں تک ہوسکے قرضے سے اپنے آپ کو دور رکھو،یہ قرضہ لینا ایک انسان کے لئے کتنا خطرناک اور کتنا نقصان دہ ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ جناب محمدعربیﷺ ہرنماز کے تشہد میں ،جس وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں اس وقت یہ دعا ہمیشہ کیا کرتے تھے کہ اے میرے رب!’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ ‘‘ تو مجھے گناہوں سے اورقرض کے بوجھ سے بچاکر اپنی حفاظت میں رکھنا۔(بخاری:832،مسلم:589)اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!قرضہ لینے سے بچواوراپنی شان دکھانے یا پھراپنی اولاد کی شادیوں کے لئے قرضے نہ لیا کرو ورنہ تم ہمیشہ پریشان رہوگے اورہمیشہ بے برکتی کے شکار رہوگے،اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے ؟قرضے کا بے برکتی سے کیالینا دینا؟تو اس بات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھئے،مثال کے طور پر ایک آدمی روزانہ 1000/ہزارروپئے کماتا ہےلیکن اس نے کچھ پیسے قرضے اورادھارلے رکھے ہیں جس کی وجہ سے اسے روزانہ 500/پانچ سو روپئے جمع کرنا ہے یا پھر قرضے والے کو دے دینا ہے،ایسی صورت میں اب آپ ہی سوچئے اورخود فیصلہ کرلیجئے کہ اس کی کمائی میں برکت کیسے رہے گی ؟وہ تو اپنی کمائی کا نصف حصہ قرضہ اداکرنے میں دے دیتاہے،جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ نہ تو اس کی زندگی کی گاڑی ٹھیک سے چلتی ہے اورنہ ہی اس کا قرضہ کبھی ادا ہوپاتاہے،ایک قرضہ کو اداکرنے یاپھر اپنی دوسری ضروریات کو پوری کرنے کے لئے ایک اورقرضہ لیتاہے،اس لئے اے میرے بھائیو !قرضہ لینے سے ہمیشہ بچاکرو،جتنا اللہ نے دے رکھا ہے اسی میں قناعت کے ساتھ زندگی گذارو،مثل مشہور ہے کہ جتنی چادرہو اتنی ہی پاؤں پھیلانی چاہئے،اوراگر آپ کو پاؤں پھیلانی ہی ہے تو پھر دوسری چادر خریدنے کی کوشش کیجئے یعنی کہ کمائی میں محنت کیجئے کیونکہ آپ نے یہ مشہور محاورہ تو ضرورسنا ہی ہوگا کہ حرکت میں برکت ہے،تو جتنی حرکت کروگے اتنی ہی برکت کھاؤگے ،اسی کو ہمارے بڑے کہاکرتے تھے کہ کرمحنت توکھانعمت۔
اب آخر میں اللہ سے دعاگوہوں کہ اے بارالہ تو ہمیں اپنی طرف سے برکتیں اوررحمتیں عطافرما۔آمین۔ثم آمین یارب العالمین۔
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
اٹیچمنٹس
-
1 MB مناظر: 42