• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یتیم پوتے کی وراثت کاحکم

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,088
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
شرعی حکم کے مطابق اگر مرنے والے کا اپنا سگا بیٹا موجود ہو تو پوتا وارث نہیں ہوتا۔

سیدنا ابن عباس رضی الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر)) (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).

’’ تم جن ورثا کا حصہ متعین ہے انہیں ان کا حصہ پورا پورا ادا کر دو ، پھر جو مال بچ جائے اسے میت کے قریبی ترین رشتےدار کو دے دو‘‘۔

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

((وَلايَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ)). (صحيح البخاري: بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ (8/151).

’’ بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں ہو گا‘‘۔

اگر دادا صاحب ثروت ہو، اس کے سگے بیٹوں کو مال کی زیادہ ضرورت نہ ہو ، اور پوتا فقیر اور محتاج ہو تو دادے کو چاہیے کہ وہ اپنے پوتے کے لیے اپنے مال سے ایک تہائی یا اس سے کم کی وصیت کردے۔

سیدنا خالد بن عبید السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاكُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ)). (صحيح الجامع: 1721).

’’ بلاشبہ اللہ تعالی نے تمہیں موت کے وقت ایک تہائی مال تک اختیار دیا ہے تاکہ تمہارے اعمال میں اضافہ ہو سکے‘‘۔

والله أعلم بالصواب.
 
Top