• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہی وہ یہودی ملت فاسدہ کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے کھلم کھلا سرکشی اور حسد و بغض کی بنا پر اُس شریعت مطہرہ کا انکار کردیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ عزوجل کی طرف سے نازل کی گئی تھی۔ کہنے لگے: ہم تو اُس شریعت پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر اتاری گئی ہے۔ اور جو ہمارے اوپر تورات اتری ہے ہمیں اُس پر ایمان لانا ہی کفایت کرتا ہے۔ ہم تو صرف اسی بات کا اقرار کرتے ہیں۔ یوں کہہ کر وہ تورات کے بعد والی کتابوں اور شریعتوں کا انکار کردیتے۔ (اور آج بھی کر رہے ہیں) تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُنہیں عار دلاتے ہوئے فرمایا:
{وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَکْفُرُُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ وَ ہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآئَ اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo} [البقرہ:۹۱]
''اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس پر ایمان لائو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو اس کے علاوہ ہے اسے وہ نہیں مانتے، حالانکہ وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔ کہہ دے پھر اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے، اگر تم مومن تھے؟''
یہ یہودیوں کی ملت وہ قوم ہے کہ دنیا جہان میں ان سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنے والا اور معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں۔ ان میں سے ایک انصاف پسند، حق بات کرنے والے عالم آدمی نے جب انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ عزوجل سے عہد کر رکھا ہے اور پکا پختہ وعدہ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوجائیں گے تو وہ بلاچون و چرا آپ کی اطاعت کریں گے؟ تو یہودی کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے ہم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کوئی عہد نہیں لے رکھا۔ یعنی اُنہوں نے جان بوجھ کر نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کردیا۔ تب اللہ عزوجل نے وحی نازل فرمائی۔
{اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَo} [البقرہ:۱۰۰]
''اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہودیوں کی یہ فطرت ہے کہ دنیا میں انہوں نے کبھی کوئی کسی کے ساتھ عہد معاہدہ نہیں کیا مگر یہ کہ انہوں نے ضرور اس کی خلاف ورزی کی اور اسے توڑ دیا۔ آج کوئی معاہدہ کریں گے اور کل اُسے توڑ رہے ہوں گے۔ چنانچہ ان کی اس خصلت بد کی بنا پر اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں:
{فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ لَعَنّٰہُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قٰسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعَہٖ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنْہُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَ اصْفَحْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَo} [المائدہ:۱۳]
''تو ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ ہی سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتا رہے گا، سوائے ان کے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انھیں معاف کردے اور ان سے درگزر کر۔ بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ''
اس آیت کریمہ میں اللہ عزوجل اپنے حبیب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: اے محمد! تم ان یہود و نصاریٰ میں سے چند آدمیوں کے سوا ہمیشہ ایک نہ ایک چوری، خیانت اور غداری پر مطلع ہوتے رہو گے۔ اسی طرح آپ کو ان کی تمہارے اور تمہارے اصحاب، مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور غداری کا علم بھی ہوتا رہے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہی وہ یہودی لوگ ہیں کہ جن کو ڈانٹ پلاتے اور ان کو لعن طعن کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے فرماتے ہیں:
{اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنo}[البقرہ:۴۴]
''کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟''
یہودیوں کے علماء اپنے پیروکاروں کو تورات کی پیروی کرنے کا حکم دیتے جبکہ وہ خود نبی کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بیان کردہ صفات کے بارے میں جان بوجھ کر، دانستہ تورات کی مخالفت کرتے۔ اسی طرح وہ یہودیوں کو اللہ کی اطاعت پر ترغیب دلاتے مگر خود معاصی و جرائم کا ارتکاب کرتے۔
یہی وہ یہود قوم ہے کہ جنہوں نے تورات میں تحریف (تبدیلی اور کمی بیشی) کر ڈالی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کتاب الٰہی میں حرام کردہ چیزوں اور حرام افعال کو حلال کر ڈالا۔ اور اس میں حلال کردہ امور اور چیزوں کو حرام میں تبدیل کردیا۔ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہوئے حق کو باطل سے بدل دیا اور باطل کو حق سے۔ یہ لوگ اپنی طرف سے کوئی کتاب اپنے ہاتھوں سے لکھ لیتے ہیں پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے تاکہ وہ اس کی کوئی چھوٹی موٹی قیمت وصول کرسکیں۔ جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو اُوپر اُوپر سے ان سے کہتے ہیں۔ تمہارے یہ صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ مگر جب یہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو سچائی تمہارے اوپر منکشف کی ہے اس کے متعلق محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب سے بات نہ کرنا۔ یعنی تمہاری کتاب میں ان کے متعلق جو درج ہے اس کے بارے میں ان کو بتانا نہیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے اس ضمن میں تمہارے رب کے ہاں جھگڑا نکال بیٹھیں اور اللہ کے سامنے دلیل پیش کریں کہ: اے اللہ! ان کو سب معلوم تھا مگر پھر بھی یہ تیرے حبیب و خلیل نبی پر ایمان نہ لائے اور وہاں یہ تم سے مخاصمہ جیت جائیں۔ تم لوگ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اعلانِ نبوت سے پہلے اس نبی کا اللہ سے واسطہ دے کر اِنہیں عربوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے اور یہ پیغمبر مبعوث بھی انہی میں سے ہوگئے۔
یہ یہودی وہی ملت ہیں کہ جو ہمیشہ جھوٹے دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں:
{وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَہْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَo} [البقرہ:۸۰]
''اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔ کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ ''
کبھی جنت کی ٹھیکہ داری کا دعویٰ کرنے لگتے:
{وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ o} [البقرہ:۱۱۱]
''اور انھوں نے کہا جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، کہہ دے لائو اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔ ''
اب ان کا ایک اور خبیثانہ دعویٰ سنیے اور اس پر ربّ کائنات کا جواب ملاحظہ ہو کیجیے:
{وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ وَ النَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَہُمَا وَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُo} [المائدہ:۱۸]
''اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دے پھر وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سے سزا کیوں دیتا ہے، بلکہ تم اس (مخلوق) میں سے ایک بشر ہو جو اس نے پیدا کی ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔''
یوں اللہ عزوجل نے ان کو جھٹلا کر انہیں پابند کردیا کہ وہ اپنے اس دعویٰ پر کوئی دلیل پیش کریں اور اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے کہیں:
{قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَo} [البقرہ:۹۴]
''کہہ دے اگر آخرت کا گھر اللہ کے ہاں سب لوگوں کو چھوڑ کر خاص تمھارے ہی لیے ہے تو موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو۔ ''
صورتِ حال یہ ہے کہ ان کے ہاں دنیاوی زندگی بہت محبوب چیز ہے۔ اس لیے کہ ان کو موت کے بعد اپنی بداعمالیوں پر سزا کے بارے میں خوب علم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدً ا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَo وَ لَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ث وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ وَ مَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَo} [البقرہ:۹۵،۹۶]
''اور وہ ہر گز اس کی آرزو کبھی نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ اور بلاشبہ یقینا تو انھیں سب لوگوں سے زیادہ زندہ رہنے پر حریص پائے گا اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا۔ ان کا (ہر) ایک چاہتا ہے کاش! اسے ہزار سال عمر دی جائے، حالانکہ یہ اسے عذاب سے بچانے والا نہیں کہ اسے لمبی عمر دی جائے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہ یہود وہ قوم ہے کہ اہل ایمان کے حسد و بغض اور مسلمانوں کے خلاف ان کے منصوبوں کے بارے میں اللہ رب العالمین نے خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے:
{وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیِ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌo} [البقرہ:۱۰۹]
''بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کاش! وہ تمھیں تمھارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہو چکا۔ سو تم معاف کرو اور در گزر کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔''
یہی وہ خبیث ترین لوگ ہیں کہ جو کچھ وہ اپنے سینوں میں اللہ تعالیٰ کے حبیب و خلیل نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے خلاف چھپائے پھرتے ہیں اور جو وہ آرزو، خواہش رکھتے ہیں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر ان کا منصوبہ منکشف کردیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
{وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتِہُمْ قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْہُدٰی وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَ ہُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیِّ وَّ لَا نَصِیْرٍo} [البقرہ:۱۲۰]
''اور تجھ سے یہودی ہر گز راضی نہ ہوں گے اور نہ نصاریٰ، یہاں تک کہ تو ان کی ملت کی پیروی کرے۔ کہہ دے بے شک اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو تیرے لیے اللہ سے (چھڑانے میں) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔ ''
یعنی یہ یہودی لوگ جو کبھی بعض آیات کو پسند کرنے لگتے ہیں تو ان کی غرض ان پر ایمان لانے کی نہیں ہوتی۔ بلکہ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ ان کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب بھی دیتے رہیں وہ کبھی بھی آپ سے خوش، راضی ہونے والے نہیں ہیں۔ بلکہ انہیں تو اس بات سے خوشی ہوگی کہ آپ جس دین حنیف، اسلام پر قائم ہیں اور آپ کے ساتھی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آپ کی امت کے دیگر پختہ ایمان والے مسلمان بھی، اس دین کو آپ چھوڑ دیں اور آپ کے ساتھی بھی۔ اس کے علاوہ یہ لوگ کبھی بھی آپ سے راضی ہونے والے نہیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
انہی یہود کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مسلمان، مومن بندوں کو خبر دیتے اور انہیں ان اعداء اللہ کے بارے میں خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
{لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَo}[آل عمران:۱۱۱]
''وہ تمھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے مگر معمولی تکلیف اور اگر تم سے لڑیں گے تو تم سے پیٹھیں پھیر جائیں گے، پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے۔''
قرآن حکیم کے ایک مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان اور اسلام کے خلاف ان یہودیوں کی ایک چال اور سازش کا انکشاف کرتے ہوئے اپنے مومن، مسلمان بندوں کو اس سے خبردار فرمایا ہے:
{وَ قَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَ اکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَo} [آل عمران:۷۲]
''اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا تم دن کے شروع میں اس چیز پر ایمان لائو جو ان لوگوں پر نازل کی گئی ہے جو ایمان لائے ہیں اور اس کے آخر میں انکار کردو، تاکہ وہ واپس لوٹ آئیں۔''
یہ وہ سازش تھی کہ جس کا انہوں نے ارادہ کیا تاکہ کمزور قسم کے مسلمانوں پر ان کے دین کا معاملہ خلط ملط کرسکیں اور یوں وہ اپنے دین سے پھر جائیں۔ اللہ عزوجل نے یہودیوں کی اس سازش کے پیچھے ان کا عقیدہ اور راز بھی افشاء کردیا ہے۔
چنانچہ ان کی بات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں:
{وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمo} [آل عمران:۷۳]
''اور کسی کے لیے یقین نہ کرو، سوائے اس کے جو تمھارے دین کی پیروی کرے۔ کہہ دے اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے، (یہ یقین نہ کرو ) کہ جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا، یا وہ تم سے تمھارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے۔ کہہ دے بے شک سب فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔''
یعنی وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: صرف اسی کی بات کی تصدیق کرو جو تمہارے دین کی اتباع کرے اور وہ یہودی ہو اور یہودیوں کے علاوہ کسی دوسرے آدمی پر اپنا راز نہ کھولو اور نہ ہی کسی پر یقین کرو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہی وہ یہودی قوم ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا:
{وَ مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ ڑاِلَیْکَ وَ مِنْہُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَآئِمًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَo} [آل عمران:۷۵]
''اور اہل کتاب میں سے بعض وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک خزانہ امانت رکھ دے وہ اسے تیری طرف ادا کر دے گا اور ان میں سے بعض وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک دینار امانت رکھے وہ اسے تیری طرف ادا نہیں کرے گا مگر جب تک تو اس کے اوپر کھڑا رہے، یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ہم پر اَن پڑھوں کے بارے میں (گرفت کا) کوئی راستہ نہیں اور وہ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔''
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو بھی یہودیوں سے دھوکہ کھاجانے سے متنبہ فرما رہے ہیں اور بتلایا ہے کہ ان یہودیوں میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے کہ جن کو اگر تم ایک دینار بھی بطور قرض و امانت دو گے تو وہ تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ تو اندازہ کیجئے کہ جب ایک دینار کے بارے میں ان کا یہ کردار ہے تو پھر اس سے بڑی رقموں کے متعلق ان کا کیا حال ہوگا؟ صاف ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ مال تو وہ بالاولیٰ ہڑپ کرجائیں گے۔ ان یہودیوں کا کسی کے حق کو دانستہ طور پر دبا جانے کے لیے ان کے اس نظریہ کا بڑا عمل دخل ہے۔ وہ کہتے ہیں: ہمارے مذہب میں عربوں کے اموال کھاجانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے اموال اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے حلال کر رکھے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہ یہود ایسی قوم کے لوگ ہیں کہ جو اہل ایمان و اسلام پر کافروں کو فضیلت دیتے ہیں۔ ان یہودیوں کے سردار مکہ والے مشرکوں سے کہا کرتے تھے کہ: تمہارا دین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین سے بہتر ہے۔ تم محمد اور اس کے اطاعت گزاروں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اللہ عزوجل اُن کی اس خباثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآئِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًاo اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِِدَلَہٗ نَصِیْرًاo اَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاo اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ اٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًاo} [النساء:۵۱تا۵۴]
''کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہی لو گ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جس پر اللہ لعنت کرے پھر تو کوئی اس کی مدد کرنے والا ہر گز نہ پائے گا۔ یا ان کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہے؟ تو اس وقت تو وہ لوگوں کو کھجور کی گٹھلی کے نقطہ کے برابر نہ دیں گے۔ یا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، تو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں بہت بڑی سلطنت عطا فرمائی۔''
ان یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی لگانے سے منع کرتے ہوئے اللہ رب العالمین نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرکے فرمایا:
{ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَo} [المائدہ:۵۱]
''اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا تو یقینا وہ ان میں سے ہے، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔''
اسی سورۃ المائدہ میں آگے اللہ عزوجل نے اپنے ان دشمنوں کی ایک نہایت ہی رذیل قسم کی عادت بتلاتے ہوئے انہیں خوب سرزنش بھی کی ہے اور ان پر اپنے ایک نہایت برے عذاب کا تذکرہ بھی سخت الفاظ میں فرمایا ہے۔ مزید برآں اہل ایمان و اسلام کو ایک بار پھر ان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
{یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآئَج وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًاط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَo قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ ہَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَ اَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَo قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِط مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَ جَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَط اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًاوَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِo وَ اِذَا جَآئُ وْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْکُفْرِ وَ ہُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖط وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَکْتُمُوْنَo وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَکْلِہِمُ السُّحْتَط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo لَوْ لَا یَنْہٰہُمْ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِہِمُ السُّحْتَط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَo وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌط غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآئُط وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًاط وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآئَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِط کُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللّٰہُ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاط وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَo} [المائدہ:۵۷تا۶۴]
''اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بنائو اور اللہ سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔ اور جب تم نماز کی طرف آواز دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔ کہہ دے اے اہل کتاب! تم ہم سے اس کے سوا کس چیز کا انتقام لیتے ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو اس سے پہلے نازل کیا گیا اور یہ کہ بے شک تمھارے اکثر نافرمان ہیں۔ کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتائوں، وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، حالانکہ یقینا وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے اور یقینا اسی کے ساتھ وہ نکل گئے اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے تھے۔ اور تو ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ گناہ اور زیادتی اور اپنی حرام خوری میں دوڑ کر جاتے ہیں۔ یقینا برا ہے جو وہ عمل کرتے تھے۔ انھیں رب والے لوگ اور علماء ان کے جھوٹ کہنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ یقینا برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور یہود نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، ان کے ہاتھ باندھے گئے اور ان پر لعنت کی گئی، اس کی وجہ سے جو انھوں نے کہا، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے، اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی وہ لڑائی کی کوئی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور وہ زمین میں فساد کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ ''
ان یہودیوں پر اللہ ذوالجلال کی ایک پھٹکار یہ بھی ہے کہ ان میں باہم فرقہ بندی اور عداوت پائی جاتی ہے۔ اپنی اس عداوت کا تجربہ مسلمانوں پر کرتے ہوئے یہ ہمیشہ دنیا میں فساد پھیلانے، دہشت گردی عام کرنے اور جنگ کے شعلے بھڑکانے میں رات دن منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ مگر یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جتنے منصوبے یہ اللہ کے دشمن بناتے ہیں انہیں اللہ عزوجل کی طرف سے ناکام بنا دیا جاتا ہے اور ان کی سازش اُلٹی انہیں پر پلٹا دی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف آج تک جتنی شرارتیں کی ہیں اور ان سے جتنی جنگیں لڑی ہیں ان سب کی تاریخ اس حقیقت کی کھلی شہادت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہودیوں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں آخری جملہ جو بیان فرمایا کہ: ''اور یہ لوگ اللہ کی زمین میں فساد برپا کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو ناپسند کرتے ہیں۔'' تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عادتِ بد اور فطرتِ رذیلہ میں شامل ہے کہ یہ لوگ اللہ کی زمین میں فساد پھیلانے اور دہشت گردی عام کرنے کے لیے رات دن بھاگ دوڑ کرتے پھرتے ہیں۔ ان ظالموں کا سب سے بڑا فسادی منصوبہ دنیا سے اسلام کو مٹانا ہے۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اللہ کریم نے یہ خبر بھی دی ہے کہ یہ لوگ دنیا میں دو بار بہت بڑا فساد مچائیں گے اور دونوں بار لوگوں پر بہت بڑی چڑھائی کریں گے۔ (دیکھیے: سورۃ الاسراء آیت نمبر ۴ تا نمبر ۷ اور ان کی تفسیر) یہ دونوں واقعات رونما ہوچکے ہیں اور دونوں بار ان اللہ کے دشمنوں نے لوگوں پر اپنی بڑائی جتلاتے ہوئے ان کا قتل عام کیا۔
ان یہودیوں کی اہل ایمان سے عداوت کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاط وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُہْبَانًا وَّ اَنَّہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَo} [المائدہ:۸۲]
''یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بے شک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بے شک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بے شک وہ تکبر نہیں کرتے۔''
یہاں اس آیت کریمہ میں جو بیان ہوا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ساری دنیا میں سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے اوّل درجہ پر یہودی ہیں اور اس کے بعد دنیا جہان کے مشرک۔'' تو اس کی وجہ یہ ہے کہ: یہودیوں کا کفر دراصل بغض و عناد، دانستہ طور پر حق کا انکار، دوسرے لوگوں کو حقیر جاننے اور اہل علم کی تنقیص کرنے کی بنا پر ہے۔ اسی لیے ان ظالموں نے اپنے بہت سارے انبیاء کو قتل کر ڈالا تھا۔ حتیٰ کہ انہوں نے کئی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی، آپ کو زہر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظالموں نے جادو بھی کیا۔ یہاں تک ہی بس نہیں بلکہ کفار و مشرکینِ عرب میں سے اپنے جیسے لوگوں کا انتخاب کرکے انہیں بھی اس کام پر جم کر لگادیا۔ اپنے ان بھائیوں دوستوں سے انہوں نے اہل ایمان کے خلاف بڑے بڑے وعدے کیے۔ اسی طرح منافقوں نے ان سے گٹھ جوڑ کرلیا اور انہیں اپنی بھرپور مدد کا یقین دلایا۔ ان کی اس خباثت کو اللہ عزوجل نے یوں بیان فرمایا ہے:
{اَلَمْ تَری اِِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِِخْوَانِہِمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلَا نُطِیعُ فِیکُمْ اَحَدًا اَبَدًا وَّاِِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَo لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ وَلَئِنْ قُوتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ وَلَئِنْ نَّصَرُوْہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ o واَنْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ اللّٰہِ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَہُوْنَo یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِِلَّا فِیْ قُرًی مُحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَائِ جُدُرٍ بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَعْقِلُوْنَo} [الحشر:۱۱تا۱۴]
''کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے منافقت کی، وہ اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، یقینا اگر تمھیں نکالا گیا تو ضرور بالضرور ہم بھی تمھارے ساتھ نکلیں گے اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کی بات نہیں مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ضرور بالضرور ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔ یقینا اگر انھیں نکالا گیا تو وہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور یقینا اگر ان سے جنگ کی گئی تو وہ ان کی مدد نہ کریں گے اور یقینا اگر انھوں نے ان کی مدد کی تو وہ ضرور بالضرور پیٹھیں پھیریں گے، پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے۔ بلا شبہ تم ان کے سینوں میں خوف کے اعتبار سے اللہ سے زیادہ سخت ہو، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ وہ اکٹھے ہو کر تم سے نہیںلڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں، یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے۔ تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ ''
یعنی یہ یہودیوں کی قوم اس قدر بزدل ہے کہ اے مسلمانو! یہ لوگ کبھی بھی اور کسی بھی میدان جنگ میں اسلامی لشکر کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بظاہر تو یہ لوگ تمہیں ملت واحدہ نظر آئیں گے مگر درحقیقت یہ گروہ بندیوں کا شکار ہیں اور ان کے مابین سخت قسم کی عداوت ہے۔ آپس میں ان کا اختلاف بہت شدید قسم کا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
انہی یہودیوں کی نبی مکرم و معظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خفیہ دشمنی والے راز کو بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے:
{اَلَمْ تَرَی اِِلَی الَّذِیْنَ نُہُوا عَنِ النَّجْوَی ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُہُوا عَنْہُ وَیَتَنَاجَوْنَ بِالْاِِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَۃِ الرَّسُوْلِ وَاِِذَا جَائُوکَوَاِِذَا جَائُوکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہٖ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْ اَنفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُo} [المجادلہ:۸]
''کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں سر گوشی کرنے سے منع کیا گیا، پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا اور آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے ، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔''
یہ خاص طور پر یہودیوں کی عادت تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو معروف طریقے سے ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ'' کہنے کی بجائے ''اَلسَّامُ عَلَیْکَ'' کہتے۔ السّام کے معنی: موت کے ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی کہ: آپ کو موت آجائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں صرف ''وَعَلَیْکُمْ'' (یعنی تم پر وہی ہو جو تم نے ہمارے لیے کہا) فرما دیتے۔ بعض اوقات یہودی اپنی ان حرکات کا اعتراف بھی کرلیتے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ''جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں سلام کرے تو اس کے جواب میں ''وَعَلَیْکَ'' کہا کرو۔''
ایک مرتبہ چند یہودی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے حسب عادت ''اَلسَّامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْقَاسِمِ'' کہا۔ اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں ان کے جواب میں : ''عَلَیْکُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَۃُ'' کہا۔ یعنی تم پر موت اور لعنت ہو۔'' اس پر نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عائشہ! اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا۔ اگر وہ ایسا کہیں تو تم ان کے جواب میں صرف ''وَعَلَیْکُمْ'' کہہ دیا کرو۔'' (تفسیر شوکانی عند ھذہ الآیۃ)
اور یہودیوں نے یہ جو اپنے نفسوں میں کہا ہے کہ، اگر یہ سچے پیغمبر ہیں تو اللہ تعالیٰ ہماری بات (اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہنے) پر ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا؟ تو انہیں اللہ کا پیغام پہنچا دو کہ: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ تمہیں ایسی سزا ملے گی کہ اس کے ہوتے کسی دوسری سزا کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اب رہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت؟ تو اس کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ اسے تمہارے دلوں کی بات کا پتہ چل گیا اور ایسا وحی الٰہی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
ان یہودیوں کے بارے میں اہل ایمان کی اس خواہش کو مایوسی میں بدل دیا کہ شاید یہ لوگ بھی اسلام میں گروہ در گروہ اور جماعتوں کی جماعتیں داخل ہوجائیں گے۔ بلکہ صورتِ حال یوں ہوئی کہ یہودیوں کے عام لوگوں میں سے چند لوگ ایمان لائے تھے۔ حالانکہ تمام یہودیوں کو معلوم تھا کہ اسلام ہی حق، سچ والا دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں یا پھر اکا دکا ان کے علماء مسلمان ہوگئے۔ البتہ یہ ہے کہ جو سلام لے آئے ان کا اسلام بہت اعلیٰ درجے کا رہا۔ جیسے کہ سیّدنا عبد اللہ بن سلام اور جناب کعب الاحبار رضی اللہ عنہم تھے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَوْ آمَنَ بِيْ عَشْرَۃٌ مِنَ الْیَھُوْدِ لَآمَنَ بِيْ الْیَھُوْدُ۔)) وفي روایۃ أخری: ((لَوْ تَابَعَنِيْ عَشْرَۃٌ مِنَ الْیَھُوْدِ، لَمْ یَبْقَ عَلٰی ظَھْرِھَا یَھُوْدِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ۔)) 1
''اگر یہودیوں کے دس (عالم، سردار اور سمجھ دار) آدمی میرے اُوپر ایمان لے آئے تو پھر تمام یہودی مسلمان ہوجاتے۔''دوسری (صحیح مسلم کی) روایت میں ہے کہ فرمایا: اگر یہودیوں کے دس آدمی (بڑے لوگ اور علماء، ایک ہی نشست میں) میری اتباع کرلیتے تو روئے زمین پر ایک یہودی بھی اسلام لائے بغیر نہ رہتا۔''
یہاں ان دونوں احادیث میں یہود کے دس آدمیوں سے مراد اُن کے کبار علماء اور قائدین مراد ہیں۔ اس لیے کہ عام یہود میں سے کئی ایک مجلسوں میں دس افراد سے بھی زیادہ لوگ اسلام لاچکے تھے۔ یہاں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے کہ : اگر یہودیوں میں سے دس آدمی ایمان لے آئے تو ان کی اتباع میں تمام قوم یہود مسلمان ہوجاتی۔
دیگر مشرکین و کفار کی ملتوں سمیت یہود کے بارے میں بھی اللہ رب العزت نے اپنے حبیب و خلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس فیصلے کو کھول کر بیان کردیا ہے کہ یہ لوگ قیامت والے دن جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 أخرجہ البخاري، في کتاب مناقب الأنصار، باب: إتیان الیھود النبي صلی اللہ علیہ وسلم حین قدم المدینۃ۔ ۳۹۴۱۔ أخرجہ مسلم في کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب: نزل أھل الجنۃ۔ (حدیث:۷۰۵۸)۔
 
Top