• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں بھری راہ ہے

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,115
پوائنٹ
412
یہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں بھری راہ
ہے

____________________

تحریر: عبدالغفار سلفی، بنارس

ہم میں سے ہر شخص جنت کا طالب ہے. جنت سے کم پر کوئی راضی نہیں ہے. لیکن کیا جنت صرف تصورات اور خیالات سے ہمیں مل جائے گی؟ خواہ ہم جنت کے حصول کے لیے کوشش کریں یا نہ کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ جنت اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا وہ عظیم الشان مرکز ہے جو ہمارے تصورات سے بالاتر ہے. جنت کے بارے میں کتاب وسنت میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ہماری ذہنی سطح کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے ورنہ جنت حقیقت میں کیسی ہوگی ہم سوچ بھی نہیں سکتے. نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ

میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے (ایسی ایسی چیزیں) تیار کر رکھی ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا (اور وہ نعمتیں ان کے لئے) جمع کر رکھی ہیں. ان کا ذکر چھوڑو جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اطلاع دے رکھی ہے (جنت ان سے بھی کہیں زیادہ عظیم تر ہے) ۔
(صحیح مسلم:7028)

سوال یہ ہے کہ اس جنت کے طلبگار تو ہم سب ہیں لیکن اس کے حصول کے لیے ہم کر کیا رہے ہیں؟ کیا اپنی من مانی والی زندگی گزار کر ہم جنت میں چلے جائیں گے. کیا دخول جنت اتنی ہی آسان چیز ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَکَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ

جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے اور جہنم کو خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔
(صحیح مسلم:7025)

گویا خواہشات کی پیروی ہمیں جہنم کے راستے پر تو لے کر جا سکتی ہے جنت میں نہیں. جنت میں جانے کے لیے ہمیں بہت ساری خواہشات کا گلا گھونٹ کر اپنی زندگی کو اپنے رب کی رضا کے مطابق گزارنا ہوگا. اس سلسلے میں ایک اور انتہائی اہم حدیث اپنے سامنے رکھیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

مَنْ خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ

جو دشمن کے حملہ سے ڈرا اور شروع رات ہی میں سفر میں نکل پڑا وہ منزل کو پہنچ گیا، سنو! اللہ تعالیٰ کا سامان بہت قیمتی ہے، سنو! اللہ تعالیٰ کا سامان جنت ہے.
(سنن الترمذی:2450،صحیح)

اس حدیث کی شرح میں شارحِ ترمذی علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ امام طیبی رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کرتے ہیں. امام طیبی کہتے ہیں:

"یہ ایک مثال ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آخرت کی راہ پر چلنے والے کے لیے بیان کی ہے. آخرت کی اس راہ میں شیطان بیٹھا ہوا ہے اور انسان کا نفس اور جھوٹی خواہشات شیطان کے مددگار کا کام کرتی ہیں. لہذا انسان اگر اپنے سفر میں ہوشیار رہے اور اپنے اعمال میں اپنی نیت خالص رکھے تو وہ شیطان سے اور اس کے مکر و فریب سے محفوظ رہے گا اور جو شیطان کے مددگاروں کے ہی کے ساتھ یہ راستہ طے کرے گا وہ بالآخر شیطان کے پھندے میں جا پھنسے گا.
(تحفۃ الاحوذی:7/124)

اسی لیے اسی حدیث میں آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حصول جنت کی راہ کو مشکل قرار دیتے ہوئے فرمایا: سنو! اللہ کا سامان یعنی جنت بہت قیمتی اور گراں قدر چیز ہے. ظاہر ہے اتنی قیمتی اور گراں قدر چیز کے حصول کے لیے ہمیں کوشش بھی اسی معیار کی کرنی ہوگی.

کاش جس طرح ہم سب اپنے دلوں میں دخولِ جنت کی شدید خواہش رکھتے ہیں ہم ایسے اعمال بھی کریں کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو کر اپنے کرم سے ہمیں اپنی جنت میں داخل کر دے.

اے اللہ ہم تجھ سے جنت کا اور ہر اس قول وعمل کا سوال کرتے ہیں جو ہمیں جنت سے قریب کر دے اور ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم سے اور ہر اس قول وعمل سے جو ہمیں جہنم سے قریب کر دے. آمین یا رب العالمین
 
Last edited:
Top