محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
۳۔ دعا:
حالانکہ ایسی نازک صورتحال میں انہیں چاہیے کہ وہ دعا کی قبولیت کے اوقات تلاش کریں اور اللہ کے حضور زیادہ سے زیادہ گڑ گڑائیں کہ اللہ ان کی پریشانی کو دور کردے اور ان کے اختلافات مٹا کے ان کے درمیان ملاپ پیدا کردے۔ اور یہ صرف پریشانی کی صورت میں ہی نہیں بلکہ شادی سے پہلے بھی دونوں فریق کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ انھیں نیک اور صالح میاں بیوی عطا فرمائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بھلا کون ہے جو مصیبت زدہ کی فریاد رسی کرتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور مصیبت کو دور کرتا ہے۔ (۱) (النمل ۷۵)
نیز فرمایا:
اور فرمایا تمہارے رب نے کے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کرں گا۔ (۲) (غافر۶)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: تقدیر کو صرف ٹال سکتی اور نیکی میں بھی اضافہ ہوتا ہے (۳) (ترمذی حدیث حسن ہے)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت شرمیلا اور مہربان ہے۔ جب بندہ دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے شرم آتی ہے کہ وہ اسے خالی ہاتھ بھیجے (۱) (ابو دائود، ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ)
ایک عرب شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
کیا تم دعا سے تمسخر کرتے ہو اور اسے حقیر سمجھتے ہو۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ دعا کیا کچھ کر سکتی ہے۔
رات کے تیز چلنے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کا اپنا وقت ہوتا ہے اور وقت کو بھی گزر جانا ہوتا ہے۔
جب تک میرا رب چاہتا ہے انہیں پکڑے رکھتا ہے۔ اور جب تقدیر کے پورے ہونے کا وقت آتا ہے تو انہیں چھوڑ دیتاہے۔