محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
۲۶۔ معذرت کرنے کا فن:
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جلیل القدر صحابی سواد بن عزیہ کا ایک واقعہ پیش کر دیا جائے جو غزوہ بدر کے دوران پیش آیا۔ آپ صف میں تھوڑا سا آگے نکلے ہوئے تھے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں برابر فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تیرے کے ذریعے پیچھے کیا اور تیر سے ان کو پیٹ کو دبایا اور فرمایا: برابر ہوجائو سواد، سواد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم: آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق و عدل کے ساتھ بھیجا ہے اس لیے مجھے قصاص چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ کو کھول کر فرمایا: تم قصاص لے سکتے ہو۔ سواد آپ کے پیٹ کو چومتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ سے چمٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیوں ایسا کیا؟ سواد نے فرمایا: آپ کو معلوم ہے کیا ہونے والا ہے تو میں نے چاہا کہ میرا آپ سے آخری تعلق یہ ہو کہ میری کھال نے آپ کی کھال کو چھوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعائے خیر فرمائی۔ (۱) (ھذا الحبیب یا محب شیخ ابو بکر الجزائری ص۲۲۰)
یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معذرت کرنے کے فن ابھر کر سامنے آتا ہے۔ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے سواد کو ''مجھے افسوس ہوا یا معذرت غلطی ہوگئی کے الفاظ کہہ کر صف مکمل کرنے نہیں چلے کہ صفوف کا برابر کرنا معذرت سے زیادہ اہم ہے بلکہ آپ وہیں کھڑے ہوگئے اور سواد کے لئے اپنا پیٹ کھولا اور ان کے قصاص لینے کو کہا: اس لیے میاں بیوی کو بھی چاہیے کہ ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرنے کے مختلف طریقے استعمال کریں مثال کے طور پر معذرت کے ساتھ تحفہ دے دینا۔ یا بیوی کے لیے تھوڑا ٹائم نکالنا یا اس کے ساتھ پیار محبت کے پر لطف لمحات گزارنا وغیرہ۔