رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
اسلام علیکم۔
ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 40 صفحہ نمبر 45 میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں موجود حدیثِ نور کی سند کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے پہلے راوی اور امام بیہقی کے استاد کو مجہول کہہ کر حدیث کو ضعیف قرار دے دیا۔ جبکہ یہی حدیث امام السراج نے چھوٹی سند سے بھی روایت کی ہے، جس میں وہ مجہول راوی بھی نہیں، اور اس کے تمام راوی بھی ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ خَبَرَ آدَمُ بَنِيهِ فَجَعَلَ يَرَى فَضَائِلَ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ قَالَ : فَرَأَى نُورًا سَاطِعًا فِي أَسْفَلِهِمْ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ أَحْمَدُ هُوَ الأَوَّلُ ، وَهُوَ الآخِرُ ، وَهُوَ أَوَّلُ شَافِعٍ " .
http://www.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=2022&hid=2168&pid=0
شیخ البانی نے اس سند کو اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کا ارتقاب کرتے تھے۔ (سلسلۃ الضعیفہ: 6482)
جبکہ شیخ زبیر کے نزدیک ان پر تدلیس تسویہ کا الزام ثابت نہیں (فتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین: ص 59)
لہذا شیخ زبیر کے اصول کے مطابق تو یہ حدیث حسن ٹھہرتی ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ مبارک بن فضالہ کی تدلیس پر روشنی ڈالیں۔ اور کیا یہ حدیث واقعی حسن درجے کی ہے؟
جزاک اللہ خیرا۔
ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 40 صفحہ نمبر 45 میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں موجود حدیثِ نور کی سند کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے پہلے راوی اور امام بیہقی کے استاد کو مجہول کہہ کر حدیث کو ضعیف قرار دے دیا۔ جبکہ یہی حدیث امام السراج نے چھوٹی سند سے بھی روایت کی ہے، جس میں وہ مجہول راوی بھی نہیں، اور اس کے تمام راوی بھی ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ خَبَرَ آدَمُ بَنِيهِ فَجَعَلَ يَرَى فَضَائِلَ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ قَالَ : فَرَأَى نُورًا سَاطِعًا فِي أَسْفَلِهِمْ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ أَحْمَدُ هُوَ الأَوَّلُ ، وَهُوَ الآخِرُ ، وَهُوَ أَوَّلُ شَافِعٍ " .
http://www.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=2022&hid=2168&pid=0
شیخ البانی نے اس سند کو اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کا ارتقاب کرتے تھے۔ (سلسلۃ الضعیفہ: 6482)
جبکہ شیخ زبیر کے نزدیک ان پر تدلیس تسویہ کا الزام ثابت نہیں (فتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین: ص 59)
لہذا شیخ زبیر کے اصول کے مطابق تو یہ حدیث حسن ٹھہرتی ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ مبارک بن فضالہ کی تدلیس پر روشنی ڈالیں۔ اور کیا یہ حدیث واقعی حسن درجے کی ہے؟
جزاک اللہ خیرا۔