• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قلم سے کیا مراد ہے۔

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قلم ظاہر ہو گا۔قلم سے کیا مراد ہے؟

ارسلان بھائی، ازراہ کرم اپنی پوسٹس میں ہیڈنگ ون کا ٹیگ مت لگایا کریں۔ انتظامیہ
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,356
پوائنٹ
800
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قلم ظاہر ہو گا۔قلم سے کیا مراد ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
براہ مہربانی یہ ذکر کر دیں کہ یہ حدیث مبارکہ آپ نے کہاں پڑھی ہے؟
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
براہ مہربانی یہ ذکر کر دیں کہ یہ حدیث مبارکہ آپ نے کہاں پڑھی ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ وبرکاتہ
علامات قیامت کا بیان از محمد اقبال کیلانی صفحہ نمبر 21
حدیث کی کتاب کا حوالہ (احمد) یعنی کے مسند احمد
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔مسند احمد کی جس روایت کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس کی عبارت کچھ یوں ہے:
3947- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوساً فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ قَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعاً فِى مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا ثُمَّ مَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِى صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ. فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ فَقَالَ طَارِقٌ أَنَا أَسْأَلُهُ فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلِى التِّجَارَةِ وَقَطْعَ الأَرْحَامِ وَشَهَادَةَ الزُّورِ وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ وَظُهُورَ الْقَلَمِ ». {1/408} تحفة 9323 معتلى 5556
٢۔ اس روایت کی سند کو شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے ”صحیح‘‘ اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’اسنادہ صحیح علی شرط مسلم‘‘ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے درج ذیل لنک دیکھیں:
الدرر السنية - الموسوعة الحديثية
٣۔اس روایت میں قلم کے ظہور سے مراد شیخ احمد شاکر اور علامہ البانی رحمہما اللہ کے نزدیک پڑھنا اور لکھنا ہے یعنی پڑھنے لکھنے کا فن اس قدر عام ہو جائے گا کہ اکثر یت پڑھنے اور لکھنے والوں میں سے ہو گی۔یہ واضح رہے کہ پڑھنا لکھنا ایک فن ہے اور ’علم‘ ایک اور شیئ ہے۔ پڑھے لکھے کی ضد اردو میں ’ان پڑھ‘ ہے اور ”جاہل‘ کی ضد ’عالم‘ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں پڑھنے لکھنے کے عام ہونے کو گنوایا ہے نہ کہ علم کے عام ہونے کو۔ بلکہ علم کا اٹھایا جانا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ذیل میں ہم علامہ البانی رحمہ اللہ کی عبارت نقل کر رہے ہیں:
و لاسيما و قد فسرها علي بن معبد بقوله : " يعني الكتاب " أي الكتابة . قال العلامة أحمد شاكر : " يريد الكتابة " . قلت : ففي الحديث إشارة قوية إلى اهتمام الحكومات اليوم في أغلب البلاد بتعليم الناس القراءة و الكتابة ، و القضاء على الأمية حتى صارت الحكومات تتباهى بذلك ، فتعلن أن نسبة الأمية قد قلت عندها حتى كادت أن تمحى ! فالحديث علم من أعلام نبوته صلى الله عليه وسلم ، بأبي هو و أمي . و لا يخالف ذلك - كما قد يتوهم البعض - ما صح عنه صلى الله عليه وسلم في غير ما حديث أن من أشراط الساعة أن يرفع العلم و يظهر الجهل لأن المقصود به العلم الشرعي الذي به يعرف الناس ربهم و يعبدونه حق عبادته ، و ليس بالكتابة و محو الأمية كما يدل على ذلك المشاهدة اليوم ، فإن كثيرا من الشعوب الإسلامية فضلا عن غيرها ، لم تستفد من تعلمها القراءة و الكتابة على المناهج العصرية إلا الجهل و البعد عن الشريعة الإسلامية ، إلا ما قل و ندر ، و ذلك مما لا حكم له . و إن مما يدل على ما ذكرنا قوله صلى الله عليه وسلم : " إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ، و لكن يقبض العلم بقبض العلماء ، حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤوسا جهالا فسئلوا ، فأفتوا بغير علم فضلوا و أضلوا " . رواه الشيخان و غيرهما من حديث ابن عمرو و صدقته عائشة ، و هو مخرج في " الروض النضير " ( رقم 579 ) . ثم بدا لي أن الحديث صحيح من جهة أخرى ، و هي أنه وقع عند الطيالسي تماما لحديث البخاري الذي صرح فيه الحسن بالسماع . و الله تعالى أعلم . (السلسلۃ الصحیحۃ :جلد٦، ص ٢٦٦)
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
وقت کی کمی کے باعث عربی عبارات کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اس عبارت سے پہلے اس کا ایک خلاصہ نقل کر دیا جاتا ہے۔ پس عربی عبارت سے پہلے جو اردو عبارت ہے وہ اس عربی عبارت کا خلاصہ ہے۔یعنی یہ ؛
٣۔اس روایت میں قلم کے ظہور سے مراد شیخ احمد شاکر اور علامہ البانی رحمہما اللہ کے نزدیک پڑھنا اور لکھنا ہے یعنی پڑھنے لکھنے کا فن اس قدر عام ہو جائے گا کہ اکثر یت پڑھنے اور لکھنے والوں میں سے ہو گی۔یہ واضح رہے کہ پڑھنا لکھنا ایک فن ہے اور ’علم‘ ایک اور شیئ ہے۔ پڑھے لکھے کی ضد اردو میں ’ان پڑھ‘ ہے اور ”جاہل‘ کی ضد ’عالم‘ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں پڑھنے لکھنے کے عام ہونے کو گنوایا ہے نہ کہ علم کے عام ہونے کو۔ بلکہ علم کا اٹھایا جانا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ذیل میں ہم علامہ البانی رحمہ اللہ کی عبارت نقل کر رہے ہیں:
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
جزاک اللہ خیرا
اس کے بارے میں محمد اقبال کیلانی صاحب نے لکھا ہے کہ:۔
قلم جو کہ دنیا میں نشرواشاعت کا سب سے قدیم ذریعہ ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی موجود تھا لیکن آنے والے وقت میں قلم کے ظہور کی پیش گوئی سے مراد ذرائع ابلاغ کی نئی نئی ایجادات ہیں جو آج ہمارے سامنے اخباررات،جرائد،رسائل،کتب،ریڈیو،ٹی وی،ویڈیو،انٹرنیٹ،ٹیلی فون اور موبائل وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں اور معلوم نہیں آئندہ ان ذرائع میں اور کس کس چیز کا اضافہ ہو گا۔(علامات قیامت کا بیان از محمد اقبال کیلانی صفحہ نمبر٢١)
 
Top