عکرمہ
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 27، 2012
- پیغامات
- 658
- ری ایکشن اسکور
- 1,871
- پوائنٹ
- 157
ایران میں شیعہ مذہب کی ترویج کا سبب
’’الشیعہ والسنہ‘‘سے ماخوذ
ایران(فارس)کی سرزمین پرحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں توحید کا پرچم بلند ہوا،حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایرانیوں کی قوت وشوکت کو پارہ پارہ کیا،انہیں ان کی سرزمین پر شکست دی،وہاں سے مجوسیت کا قلع قمع کیا اور صدیوں سے حکومت کرتے ہوئےالوہیت کے دعویدار ساسانی خاندان کا خاتمہ کیا۔اسی وجہ سے مجوسیت کے پیروکارحضرت عمررضی اللہ عنہ کے خلاف ہوگئے اورانہیں اپنا دشمن اول گرداننے لگے۔چنانچہ یہودیوں نےاپنے ناپاک عقائد کی ترویج اور اسلامی حکومت کے خلاف فتنہ وفساد کے بیج بونے کے لیےایران کی سرزمین کو زرخیز خیال کیا اور پھر اتفاق سے ایرانی شہنشاہ یزدجرد کی بیٹی شہر بانو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے عقد میں آگئی کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےفتح ایران کے بعدایرانی قیدیوں کے ساتھ آنے والی یزدجرد کی بیٹی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ہبہ کر دی تھی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کر لی تھی،ایرانیوں نے جب دیکھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے،شیعہ کے چوتھے امام علی زین العابدین شہر بانو کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں اور اس اعتبار سے ماں کی طرف سےان کی رگوں میں ایرانی خون گردش کر رہا ہے۔چنانچہ انہوں نے شیعہ مذہب کو قبول کرنے میں ذرا سا بھی تامل نہ کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف انتقامی جذبات کو تسکین دینے اورساسانی خون کی تقدیس کے لیےفوراابن سبا یہودی کے ہمنوا بن گئے،
ابن سبا نے ایرانی شہر کوفہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر مجوسیوں کے تعاون سے خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے خلاف محاذ بنا لیا اور یہودی ومجوسی عقائد کی ترویج شروع کردی۔
برطانوی مستشرق جس نے ایران میں طویل عرصہ گزارکر وہاں کی ثقافت وتاریخ کا گہرا مطالعہ کیا اپنی تصنیف میں لکھتا ہے:
ایک دوسری جگہ رقمطراز ہے:’’ایرانیوں کی طرف سے مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ عمر بن خطاب کی مخالفت ومعاندت کا سبب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے فارس کو فتح کیا اور ان کی قوت وشوکت کو کمزور کرکے وہاں اسلام کا پرچم بلند کیاتھا۔البتہ ایرانی کھل کر عمر بن خطاب کی مخالفت نہیں کرسکے اور انہوں نے اسے مذہبی رنگ دے کر اور کچھ خود ساختہ عقائد کا سہارا لے کر ان سے بغض و عداوت کا اظہار کیا۔(1)
’’اہل ایران کی طرف سے عمر بن خطاب کی مخالفت کا سبب یہ نہ تھا کہ انہوں نے علی اور فاطمہ کے حقوق غصب کیے تھے بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ عمر بن خطاب نے ایران کو فتح کرکے ساسانی خاندان کا خاتمہ کیا تھا۔۔۔اس سلسلہ میں برطانوی مصنف ڈاکڑ براؤن نے ایک ایرانی شاعر کے فارسی شعر بھی نقل کیے ہیں:
بشکست عمر پشت ہزبران اجم را
برباد فناد ادرگ وربشہ رجم را
ایں عربدہ بر غصب خلافت زعلی نیست
با آل عمر کینہ قدیم است عجم را
برباد فناد ادرگ وربشہ رجم را
ایں عربدہ بر غصب خلافت زعلی نیست
با آل عمر کینہ قدیم است عجم را
یعنی عمر انے ایرانیوں کی کمر توڑ دی اورآل جمشید(شہنشاہ فارس کا نام) کی بیخ کنی کی۔علی سے خلافت کا غصب کرنا ایک بہانا ہے عمر کی مخالفت کا اصل سبب تو ان عجمیوں کا وہ کینہ وحسد ہے جو زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔(2)
نیز’’جب ایرانیوں نے دیکھا کہ علی بن حسین زین العابدین میں ایرانی خون کی آمیزش ہے تو یہ بات ان کے عقیدے کی پختگی کا باعث بنی کہ ملوکیت اسی خاندان کا حق ہے۔(3)
حواشی:
(1)تاریخ ادبیات ایران مصنفہ ڈاکڑ براؤن ج1ص217 اردو ترجمہ مطبوعہ بھارت
(2)تاریخ ادبیات ایران ج3ص49
(3)ایضاً،ج1ص215