• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا شک کی بنا پر وضو دوبارہ کرنا چاہیے۔

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں؛
سوال:برائے مہربانى مجھے دوران وضوء يا بعد ميں ہوا خارج ہونے كے بارہ ميں احاديث كے متعلق معلومات فراہم كريں، اور اس سوچ كے متعلق بھى معلومات فراہم كريں كہ اگر انسان كے معدہ ميں كوئى حركت محسوس ہو يا ہوا خارج ہونے كى آواز سنے تو اس كے ليے وضوء كرنا ضرورى ہے ؟
الحمد للہ:
جب انسان كو ہوا خارج ہونے كا يقين ہو تو اس سے وضوء كرنا واجب ہے، ليكن اگر صرف پيٹ ميں حركت يا ہوا خارج ہونے كا وہم ہو تو اس كى طرف توجہ نہيں كى جائيگى، پيٹ ميں صرف حركت يا ہوا خارج ہونے كا وہم ہونے سے وضوء نہ ٹوٹنے كى دليل صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے:
عبد اللہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے ايك شخص نے شكايت كى كہ اسے نماز ميں كچھ محسوس ہوتا، تو كيا وہ نماز ترك كر دے؟
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" نہيں حتى كہ تم آواز سنو يا ہوا خارج ہونے كى آواز سنو "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1915 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 540 )۔
امام نووى رحمہ اللہ اس حديث كى شرح ميں ہتے ہيں:
يہ حديث اشياء كو اپنى اصل پر باقى ركھنے كى دليل ہے حتى كہ اس اصل كے خلاف كوئى دليل مل جائے، اور اس پر پيدا ہونے والا شك كوئى ضرر و نقصان نہيں ديگا. اھـ
اور ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" جمہور علماء كرام نے اس حديث پر عمل كيا ہے " اھـ
ان شكوك و شبہات كى طرف توجہ دينے سے وسوسہ پيدا ہوتا ہے اس ليے اس كى طرف توجہ ہى نہيں كرنى چاہيے، صرف ہوا خارج ہونے كے يقين ہونے كى صورت ميں ہى وضوء كرنا واجب ہوگا۔
امام نووى رحمہ اللہ كہتےہيں:
" قولہ صلى اللہ عليہ وسلم : " حتى كہ وہ آواز سنے يا پھر بدبو پائے "
ان كا كہنا ہے: ان دو اشياء ميں سے كسى ايك كا وجود معلوم كر لے مسلمانوں كے اجماع كے مطابق سننا اور سونگنا شرط نہيں. اھـ
يہاں علم سے مراد يقين كرنا ہے۔
واللہ اعلم ۔
الشيخ محمد صالح المنجد
 
Top