• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہاد فی سبیل اللہ - اللہ تعالی کی پسندیدہ عبادت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جہاد فی سبیل اللہ - اللہ تعالی کی پسندیدہ عبادت

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:
"أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" (أخرجہ البخاري في کتاب الأدب، باب: البر والصلۃ، رقم: ۲۷۸۲)
"کون سا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ جواب دیا: نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ جواب دیا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔"
شریعت اسلامیہ میں جہاد کا بہت مقام و درجہ ہے۔ چنانچہ فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ‎﴿١١١﴾‏ (سورۃ التوبہ)
"بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے اموال کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی، وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، چنانچہ وہ قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت، انجیل اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے تو تم لوگ اپنے اس سودے پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔"
خرید و فروخت کا انسانی طریقہ یہ ہے کہ جو چیز دی گئی ہے وہ ہاتھوں سے نکلی ہوئی چیز سے زیادہ نفع مند ہو یا کم از کم اس کے برابر ہو چنانچہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنا مال و جان قربان کر دیتا ہے تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ اسے جنت جیسی نعمت سے نوازتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا بدلہ ہے کہ خرچ کی ہوئی چیز (جان و مال) اس کے مقابلہ میں پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی آسانی کے لیے اس کو مجازی طور پر خرید و فروخت سے تشبیہ دی تو انسان کے ذمہ مال اور جان کو سپرد کرنا اور اللہ کے ذمہ اس کے بدلہ میں دل کھول کر ثواب دینا ہے۔ اسی کا نام خرید و فروخت رکھا گیا ہے۔
جملہ {یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ} میں اس چیز کا بیان ہے کہ لڑائی کس وجہ سے کی جاتی ہے اور اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کوئی بھی نہیں چنانچہ اپنی بیع کی وجہ سے خوشی کا اظہار کرو۔ کیونکہ لفظ بشارت اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی انسان کے جسم سے خوشی کا اظہار ہو۔
{وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ} یعنی جنت کا ملنا اور اس میں ہمیشہ رہنا یہی بڑی کامیابی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" (أخرجہ البخاري في کتاب الجہاد، باب: الغدوۃ والروحۃ في سبیل اللّٰہ، رقم: ۲۷۹۲)
"اللہ کے راستہ میں صبح کے وقت ایک مرتبہ یا شام کے وقت ایک مرتبہ نکلنا، دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔"
غَدْوَۃ: دن چڑھنے سے لے کر نصف دن تک کسی بھی وقت میں ایک مرتبہ نکلنا، اس کو عربی زبان میں غَدْوَۃٌ کہتے ہیں۔ زوال شمس سے لے کر غروب آفتاب تک کے درمیان کسی بھی وقت میں ایک مرتبہ نکلنے کو رَوْحَۃٌ کہتے ہیں۔ یہ بات جہاد فی سبیل اللہ کی ہے۔
ماحصل یہ ہے کہ دنیا کا معاملہ ہلکا قرار دیا گیا ہے اور جہاد کا معاملہ بہت بڑا ہے یعنی اگر کسی انسان کو تمام کی تمام دنیا مل جائے اور وہ اسے اللہ کی اطاعت میں خرچ کردے تو اس سے بھی بڑا ثواب اور بدلہ اللہ کے راستہ میں تھوڑی دیر کے لیے جہاد کرنے میں ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جس انسان کو جنت میں ایک چھڑی کی جگہ بھی مل گئی تو گویا اسے ساری دنیا سے افضل اور اعلیٰ چیز مل گئی، تو جس آدمی کو جنت میں اعلیٰ درجات ملیں گے اس کا کیا مقام اور کیا خوشی ہو گی؟
نکتہ…: اس میں یہ نکتہ ہے کہ انسان دنیا کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہتا ہے تو اس کو بتایا گیا ہے کہ جنت میں تھوڑی سی جگہ بھی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے افضل اور اعلیٰ ہے۔
ارشاد الٰہی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ‎﴿٣٨﴾ (سورۃ التوبہ)
"اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو تم زمین پر ڈھیر ہو جاتے ہو، کیا تم آخرت کے عوض دنیا کی زندگانی پر ہی ریجھ گئے ہو؟ سنو! دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلہ میں بالکل تھوڑا سا ہی ہے۔"
مَا لَکُمْ میں (ما) استفہام توبیخی ہے، یعنی اس کے ساتھ ڈانٹا گیا ہے۔ پوشیدہ عبارت حسب ذیل ہے: اَیُّ شَیْئٍ یَمْنَعُکُمْ عَنْ کَذَا… یعنی اس کام سے تمہیں کون سی چیز روکتی ہے؟
اِثَّا قَلْتُمْ اصل میں تَثَاقَلْتُمْ تھا۔ مفسرین اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ تم زمین کی نعمتوں پر ریجھ گئے ہو یا زمین میں قیام کرنے پر ریجھ گئے ہو۔ یہ بھی ترک جہاد پر ڈانٹ اور جہاد کے لیے جلدی نہ نکلنے پر عتاب ہے کیونکہ یہ ایسے انسان کی طرح ہو گیا ہے جو زمین پر ہمیشہ رہنا چاہتا ہے۔
أَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ … یعنی آخرت کی نعمتوں کے بدلے کیا تم دنیا کی نعمتوں کو پسند کرتے ہو؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کی راحت چھوڑ کر دنیا کی راحت کے پیچھے اپنے آپ کو ہلکان کرنے کی وجہ سے ڈانٹا۔ کیونکہ آخرت کا آرام دنیا کی مشقت کی وجہ سے ہی ملتا ہے۔
إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‎﴿٣٩﴾ (سورۃ التوبہ)
"اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلے تو تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل کر لائے گا، تم اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"
اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے لیے نہ نکلنے پر یہ سخت ترین وعید اور ڈانٹ ہے۔ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے جہاد میں نکلنا چاہیے وگرنہ دنیا میں دشمن کی فتح کی وجہ سے دردناک عذاب اور آخرت میں آگ کے عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔
وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُم ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تم نہ نکلے تو تمہاری جگہ ایسی قوم لے آؤں گا جو جہاد سے پیچھے نہ رہے گی۔ جیسا کہ فرمایا:
وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم ‎﴿٣٨﴾ (سورۃ محمد)
"اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔"
مذکورہ آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ ضرورت کے وقت اور جب کافروں کی شان و شوکت بڑھ جائے اس وقت جہاد کے لیے نکلنا واجب ہے۔ یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب امام کسی خاص قوم کو جہاد کے لیے حکم دے تو وہ تعیین کے بعد پیچھے نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ امام اور خلیفہ جب کسی قوم کو خاص کر دے تو ان کا نکلنا فرض اور واجب ہو جاتا ہے اور یہ نکلنا اس کی اطاعت کی وجہ سے ہے نہ کہ جہاد کی وجہ سے ہے۔ (واللہ اعلم)
 
Top