- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
اولیاء اللہ کے طبقات
اولیاء اللہ کے دو طبقے ہیں۔ سابقین مقربین (نیکیوں میں سبقت کرنے والے، اللہ کے جناب محمد رسول اللہ مقرب) اور اصحاب یمین (دائیں جانب والے میانہ رو) مقتصدین۔ ان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں متعدد مقامات پر فرمایا۔ سورہ واقعہ کے اوّل میں اور اس کے آخر میں۔
سورہ دہر میں ، سورہ مطففین میں اور سورہ فاطر میں۔ چنانچہ سورہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کبریٰ کا ذکر اس کے آغاز میں فرمایا اور قیامت صغریٰ کا ذکر آخر میں فرمایا۔ اس کے آغاز میں فرمایا:
إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿١﴾ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ﴿٢﴾ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ﴿٣﴾ إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ﴿٤﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ﴿٥﴾ فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ﴿٦﴾ وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ﴿٧﴾ فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿٨﴾ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿٩﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴿١٠﴾ أُولَـٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ﴿١١﴾ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿١٢﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾ الواقعۃ
یہ تقسیم قیامت کبریٰ کے قائم ہونے پر ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں اور پچھلے لوگوں کو جمع کر دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں کئی مقامات پر فرما دیا ہے۔’’جب قیامت جو ضرور ہونے والی ہے واقع ہوگی۔ اور اس کے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں (اس وقت لوگوںکا فرق مراتب ظاہرہوگا)۔بعضوں کو نیچا کرنے والی اور بعضوں کو بلند کرنے والی جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ٹوٹ کر اڑتی ہوئی دھول ہوجائیں گے اور اس وقت تم تین قسمیں ہو جائو گے ایک تو داہنے ہاتھ والے سو داہنے ہاتھ والوں کا کیا کہنا ہے اور ایک بائیں ہاتھ والے سو بائیں ہاتھ والوں کا کیا ہی برا حال ہے اور تیسرے جو سب سے آگے سامنے بٹھائے گئے ہیں۔ سو یہ آگے بٹھانے کے قابل ہیں۔ یہ بارگاہِ الٰہی کے مقرب ہیں۔ ان کو بہشت کے آرام و آسائش کے باغوں میں جگہ دی جائے گی۔ اس گروہ میں بہت تو اگلے لوگوں سے ہوں گے اور تھوڑے پچھلوں سے بھی۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ کے آخر میں فرمایا:
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿٨٣﴾ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ﴿٨٤﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿٨٥﴾ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿٨٦﴾ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٨٧﴾ فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ﴿٨٨﴾ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ﴿٨٩﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩٠﴾ فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿٩١﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ﴿٩٢﴾ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ﴿٩٣﴾ وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ﴿٩٤﴾ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ﴿٩٥﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴿٩٦﴾ الواقعہ
سورۃ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’تو کیا جب جان بدن سے کھچ کر گلے میں آپہنچے اور تم اس وقت ٹکر ٹکر پڑے دیکھتے ہو اور ہم، تم (تیمارداروں) سے اس (بیمار جاں بلب) کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں مگر تم دیکھتے نہیں۔ ہاں! اگر تم کسی کو حساب دینے والے نہیں تو کیوں اس کو لوٹا نہیں لیتے؟ اگر اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔ اگر وہ بارگاہ الٰہی کے مقربوں میں سے ہے۔ تو اس کے لیے آرام اور خوشبود ار پھول، اور نعمتوں بھری بہشت ہے اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے، تو اس سے کہا جائے گا کہ اے شخص جو داہنے ہاتھ والوں میں ہے۔ تجھ پر سلام اور اگر وہ جھٹلانے والے ، گمراہوں میں سے ہے تو اس کے لیے کھولتے پانی کی ضیافت ہے اور جہنم میں دھکیلا جانا بے شک آخرت کا حال جو بیان کیا گیا ہے بالکل سچ اور یقینی ہے۔ پس اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ﴿٣﴾ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا ﴿٤﴾ إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴿٦﴾ يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ﴿٧﴾ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ﴿٨﴾ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّـهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ﴿٩﴾ إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا ﴿١٠﴾ فَوَقَاهُمُ اللَّـهُ شَرَّ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ﴿١١﴾ وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا ﴿١٢﴾ الدھر
اسی طرح سورہ مطففین میں فرمایا:’’ہم نے اس کو راستہ دکھایا (پھر اب دو قسم کے آدمی ہیں)۔ یا تو شکر گزار ہے (یعنی مسلمان) یا ناشکرا اور احسان فراموش (یعنی کافر) ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ بے شک جو لوگ نیکوکار ہیں، آخرت میں ایسی شراب کے جام پئیں گے، جس میں کافور کے پانی کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ جس کا پانی اللہ کے خاص بندے پئیں گے۔ اور اس میں سے نہریں نکال لیں گے اور وہ لوگ ہیں جو اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس روزِ قیامت سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبتِ عام، سب طرف پھیلی ہوئی ہوگی اور خود کو خواہش اور ضرورت کے باوجود اپنا کھانا محتاج اور یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو تم کو صرف لوجہ اللہ کھلاتے ہیں، تم سے نہ کچھ بدلہ درکار ہے نہ شکر گزاری ہم کو اپنے پروردگار سے اداس، سخت دن کا ڈر لگ رہا ہے۔ نتیجتاً اللہ نے بھی اُس دن کی مصیبت سے ان کو بچا لیا اور ان کو تازگی اور مسرت سے لا ملایا۔ اور ان کے صبر کے بدلے میں رہنے کو بہشت اور پہننے کو ریشمی پوشاک عنایت کی۔‘‘
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ ﴿٧﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ ﴿٨﴾ كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ﴿٩﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٠﴾ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿١١﴾ وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾ كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿١٤﴾ كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ ﴿١٦﴾ ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿١٧﴾ كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ ﴿١٨﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿١٩﴾ كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ﴿٢٠﴾ يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ ﴿٢١﴾ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾ عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ ﴿٢٣﴾ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ ﴿٢٤﴾ يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾ خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ﴿٢٦﴾ وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ ﴿٢٧﴾ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ ﴿٢٨﴾ المطففین
اسی طرح ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دوسرے سلف صالحین سے مروی ہے۔’’سن لو! بدکار لوگوں کے نامہ اعمال سجین میں ہیں اور تم کیا سمجھے کہ سجین کیا ہے؟ وہ ایک کتاب ہے جس میں لکھا جاتا ہے اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ جو روز جزا کو جھوٹ جانتے ہیں اور اس کو وہی جھوٹ جانتا ہے جو حد سے نکل جانے والا بد ہو۔ جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہے کہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔ نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان ہی کے اعمال بد کے زنگ بیٹھ گئے ہیں، سنو! یہی لوگ ہیں جو اس دن اپنے پروردگار (کے دیدار سے محروم) اوٹ میں ہوں گے پھر یہ لوگ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہی تو وہ چیز ہے جس کو تم دنیا میں جھوٹ جانتے تھے۔ سنو! نیک لوگوں کے نامہ اعمال علیین میں ہیں اور تم کیا سمجھے کہ علییون کیا ہے؟ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس پر مقرب فرشتے تعینات ہیں۔ بے شک نیک لوگ بڑے آرام میں ہوں گے۔ تختوں پر بیٹھے (بہشت کے نظارے) دیکھ رہے ہوں گے تو ان کے چہروں سے خوشحالی کی تازگی صاف پہچان لے گا۔ ان کو شرابِ خالص سربند پلائی جائے گی۔ جس کی بوتل کی مہر مشک کی ہوگی اور ریس کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی ریس کیا کریں اور اس شراب میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی۔ تسنیم بہشت کا ایک چشمہ ہے۔ جس میں سے خاص کر مقرب لوگ پئیں گے۔‘‘
(تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر سورہ دہر اور سورہ مطففین۔)وہ فرماتے ہیں۔ تسنیم کا پانی اصحاب یمین کے لیے ملایا جائے گا اور مقربین اسے خالص پئیں گے اور واقع بھی یہی ہے
اللہ تعالیٰ نے {یَشْرَبُ بِھَا} فرمایا اور {یَشْرَبُ مِنْھَا} نہیں فرمایا۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے قول یشرب کے ساتھ یَرْوَی بِھَا(سیر ہو کرپیئے گا) کا معنی بھی ملا دیا کیونکہ شارب (پینے والا) کبھی پیتا تو ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور جب {یَشْرَبُ مِنْھَا} کہا جائے تو اس سے سیر ہونے پر دلالت نہیں ہوتی اور جب {یَشْرَبُ بِھَا} کہا جائے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے سیر ہو کر پیتے ہیں۔ سو مقربین اسے سیر ہو کر پیتے ہیں اور اس کے ہوتے ہوئے انہیں کسی اور مشروب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اسے بغیر آمیزش کے پیتے ہیں۔ اس کے خلاف اصحاب یمین کے لیے اس شراب میں آمیزش کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ دہر میں فرمایا:
إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴿٦﴾ الدھر
عباداللہ سے مراد مقربین ہیں، جن کا ذکر اسی سورت میں آیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بدلہ خیر و شر کا عمل کی جنس کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’وہ چشمہ جس میں کافور ملی ہوئی ہے۔ اس سے اللہ کے بندے سیر ہو کر پئیں گے اس سے نہریں نکالیں گے۔‘‘
مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُوْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسَرٍ یَسَّرَ اللہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاَخِرَۃِ و مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَّلْتَمِسُ فِیھَا عِلْمًا سَھَّلَ اللہُ لَہ بِہ طَرِیْقًا اِلٰی الْجَنَّۃِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِّنْ بُیُوْتِ اللہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہ بَیْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَ غشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَ حَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللہُ فِیْمَنْ عِنْدَہ وَمَنْ بَطَّاَ بِہ عَمَلُہ لَمْ یُسْرِعْ بِہ نَسَبُہ
(مسلم کتاب الذکر والدعا باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، رقم: ۲۶۹۹۔ ابوداؤد کتاب الادب باب فی المعونۃ للمسلم، رقم: ۴۹۴۔ ترمذی کتاب الحدود باب ماجاء فی الستر علی المسلم، رقم: ۱۴۳۵)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے کسی مومن کی کوئی دنیوی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ اس کی ایک اخروی تکلیف دور کرے گا اور جس نے کسی تنگدست کی مشکل آسان کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے اور جو شخص طلب علم کے لیے کچھ راستہ طے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب کبھی لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کی درس و تدریسِ باہمی کرتے ہیں تو ان پر تسکین نازل ہوتی ہے اور ان پر رحمت ِ الٰہی چھا جاتی ہے۔ فرشتے ان کے گرد حلقہ بنا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے درباریوں میں ان کا ذکر خیر کرتا ہے اور جسے اس کا عمل پیچھے ڈال دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھاتا ، اسے مسلم نے صحیح میں روایت کیا۔‘‘
اَلرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ۔
(ترمذی کتاب البروالصلۃ باب فی رحمۃ الناس رقم: ۱۹۲۴۔ ابوداؤد کتاب الادب باب فی الرحمۃ ۴۹۴۱ اور مجمع الزوائد ج ۸ ص ۱۸۷ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ حدیث ۹۳۵)
ترمذی کا قول ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔’’رحم کرنے والوں پر خدا رحم کرتا ہے۔ رحم کرو تم اہل زمین پر تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے‘‘
سنن میں ایک دوسری صحیح حدیث ہے۔
یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی اَنَا الرَّحْمٰنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَھَا اِسْمًا مِّنْ اِسْمِیْ فَمَنْ وَصَلَھَا وَصَلْتُہ وَمَنْ قَطَعَھَا بَتَتُّہ۔
(الادب المفرد حدیث ۵۳ ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب فی صلۃ الرحم، رقم: ۱۷۹۴۔ ترمذی کتاب البروالصلۃ باب فی قطیعۃ الرحم۔ ۱۹۰۷، مسند احمد ج ۱، ص ۱۹۴)
اورفرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں رحمن ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے مشتق کر کے رکھا ہے، جو شخص صلہ رحمی کرے گا میں اس کو ملائے رکھوں گا اور جو قطع رحمی کرے گا اسے کاٹ دوں گا۔‘‘
مَنْ وَصَلَھَا وَصَلَہُ اللہُ وَمَنْ قَطَعَھَا قَطَعَہُ اللہ
(بخاری کتاب التفسیر باب وتقطعوا ارحامکم و کتاب الادب باب من وصل وصلہ اللہ حدیث ۵۹۸۹، باب من وصل وصلہ اللہ۔ مسلم کتاب البروالصلۃ باب صلۃ الرحم ، رقم ۲۵۵۵۔)
اور اس کی مثالیں بہت ہیں:’’جس نے ان (رشتوں) کو ملایا۔ اللہ تعالیٰ اسے ملاتا ہے اور جو ان کو توڑتا ہے اللہ تعالیٰ اسے توڑ دیتا ہے۔‘‘
اولیاء اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ مقربین اور اصحاب یمین جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں ہر دو قسم اولیاء کے اعمال کی تشریح کر دی ہے۔ فرمایا:
یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَۃِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِمِثْلِ اَدَاء مَا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَلَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہ فَاِذَا اَحْبَبْتُہ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَ رِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا۔
(تخریج کے لئے دیکھیے ص:۱۷)
ابرار یا اصحاب الیمین نیکوکاروں میں سے وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جو فرائض ادا کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کر دیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو مستحبات کی زحمت نہیں دیتے اور نہ غیر ضروری مباحات اور جائز امور سے باز رہتے ہیں۔’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی اس نے میرے ساتھ جنگ کا اعلان کیا اور کوئی بندہ فرائض ادا کرنے سے جس قدر میرے قریب ہوتا ہے، اتنا کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوتا اور میرا بندہ نوافل ادا کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں نوافل کے ذریعہ سے اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پائوں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔‘‘
الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ