- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
انبیاء کی دو قسمیں ، عبد و رسول، اور بادشاہ و نبی
اسی طرح انبیاء کی دو قسمیں کی گئی ہیں، ایک بندہ پیغمبر اور دوسرا بادشاہ نبی۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا کہ اگر چاہیں تو بندہ اور رسول بنیں اور چاہیں تو بادشاہ اور نبی بنیں۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندہ اور رسول بننا پسند کر لیا۔
(مشکوٰۃ باب فی اخلاقہ صلی اللہ علیہ وسلم بحوالہ شرح السنۃ رقم: ۳۶۸۳۔من حدیث عائشة مسند امام احمد ۲۳۱/۲ من حدیث ابی ہریرة)
بادشاہ نبی کی مثالیں دائود علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام اور ان کی طرح کے دوسرے انبیاءعلیہم السلام ہیں۔ سلیمان علیہ السلام کے قصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے دعا کی:
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ﴿٣٥﴾ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ﴿٣٦﴾ وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ﴿٣٧﴾ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ﴿٣٨﴾ هَـٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿٣٩﴾ ص
فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَاب۔’’اے میرے پروردگار! میرا قصور معاف فرما اور مجھ کو ایسی سلطنت عنایت کر کہ میرے بعد کسی کو سزا وار نہ ہو بے شک تو بڑا فیاض ہے تو ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہاں تک پہنچنا چاہتے ، ان کے حکم کے مطابق اسی طرف کو نرمی سے چلتی اور اسی طرح جتنے دیو معمار، غوطے خور تھے، سب کو ان کا تابع کر دیا اور ان کے علاوہ دوسرے دیوئوں کو بھی ان کا تابع کر رکھا تھا۔ جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے۔ ہم نے سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ یہ ہے ہمارا بے حساب انعام، اب تم چاہو تو اس سے لوگوں پر احسان کرو یا تم سازوسامان اپنے پاس رکھو۔‘‘
سے مراد یہ ہے کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہو محروم کر دو تم سے کوئی حساب نہیں پوچھا جائے گا۔ پس بادشاہ نبی وہ کام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہو اور اس کام کو چھوڑ دیتا ہے، جو اللہ نے اس پر حرام کر دیا ہو اور وہ اپنے ملک و مال میں اپنی پسند اور اختیار کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ اسے گناہ نہیں ہوتا اور بندہ رسول کسی کو اپنے پروردگار کے حکم کے سوا کچھ نہیں دیتا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق نہ کسی کو کچھ دیتا ہے اور نہ کسی کو محروم کرتا ہے۔ بلکہ جسے دینے کا حکم اس کو اپنے پروردگار کی طرف سے ملے، اس کو دیتا ہے اور جسے والی اور عامل بنانے کا حکم اس کو اپنے پروردگار کی طرف سے ملے اسی کو مقرر کرتا ہے، اس کے سارے کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کی عبادت ہیں
جیسا کہ صحیح بخاری میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنِّیْ وَاللہِ لاَ اُعْطِیْ اَحَدًا وَّلاَ اَمْنَعُ اَحَدًا اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ اَضَعُ حَیْثُ اُمِرْتُ
(مسند احمد ج ۲، ص ۴۸۲، بخاری کتاب فرض الخمس باب قول اللہ تعالیٰ فان للہ خمسہ وللرسول رقم] ۳۱۱۷، بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ ہے ’’ما اعطیکم ولا امنعکم انا قاسم اضع حیث امرت‘‘۔)
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے شرعی اموال کی نسبت اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’مجھے اللہ کی قسم کہ میں کسی کو کچھ دیتا اور نہ کسی سے کچھ باز رکھتا ہوں۔ میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں وہاں خرچ کرتا ہوں جہاں حکم ہو۔‘‘
قُلِ الْاَنْفَالُ لِلہِ وَالرَّسُوْلِ۔
الانفال
اور فرمایا:’’اے رسول! کہوغنیمت کا مال اللہ اور رسول کے لیے ہے۔‘‘
مَآاَفَاۗءَاللہُ عَلٰي رَسُوْلِہ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وللرسول
الحشر
اور فرمایا:’’جو مال اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان بستیوں کے لوگوں سے مفت میں دلوا دے وہ اللہ کا حق ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا‘‘۔ الخ
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہ وَلِلرَّسُوْلِ
الانفال
اسی لیے علماء کا ظاہر ترین قول یہ ہے کہ اس طرح کے مال اسی جگہ خرچ کیے جائیں جہاں پر خرچ کرنا اولوالامر کے اجتہاد کے مطابق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند ہو جیسا کہ امام مالک اور دیگر سلف صالحین کا مذہب ہے۔ امام احمد سے ایک روایت ذکر کی جاتی ہے اور خمس کے بارہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پانچ پر تقسیم کیا جائے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے اور امام احمدکا مشہور قول بھی یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ تین پر تقسیم کیا جائے جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے بہرحال یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ بندہ رسول، بادشاہ نبی سے افضل ہے چنانچہ ابراہیم علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوسف علیہ السلام ، دائود علیہ السلام اور سلیمان علیہم السلام سے افضل ہیں، جس طرح مقربین سابقین ان ابرار اصحاب الیمین سے افضل ہیں جو کہ مقربین سابقین نہ ہوں جس شخص نے واجبات ادا کیے اور مباحات میں سے جو پسند ہوا اسے بھی کر گزرے وہ ابرار اصحاب الیمین میں سے ہے اور جو صرف وہی کرے جو اللہ کو پسند ہو اور مباحات سے بھی اسی کام میں مدد لینے کا ارادہ کرے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وہ مقربین سابقین سے ہے۔’’اور جان رکھو کہ جو چیز تم لڑائی میں بطورِ غنیمت پاؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ کا اور رسول کا۔‘‘ الخ
الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ