محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا جَمِيْعًا۰ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۳۸ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۳۹ۧ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِىْٓ اُوْفِ بِعَہْدِكُمْ۰ۚ وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ۴۰ وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍؚ بِہٖ۰۠ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَمَنًا قَلِيْلًا۰ۡ وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ۴۱
۲؎ اولاد یعقوب علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے ۔ ان میں متعدد رسول آئے ہیں اور ان پر بے شمار نعمتیں ہیں کہ جن کا ظہور ہوا لیکن یہ ویسے کے ویسے ہی رہے۔ ان آیات میں زمانۂ رسالت کے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مت بھولو۔ اس کے عہد کی تصدیق کرو۔ یعنی تم سے وعدہ تھا کہ ہرسچائی کو قبول کروگے۔پھرتمھیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ اس بہت بڑی صداقت کا انکار کرتے ہو۔
۳؎ ان آیات میں بنی اسرائیل کو دعوت دی ہے کہ وہ قرآن کی آواز پر لبیک کہیں، کیوں کہ قرآن حکیم تمام پہلی کتابوں کا مصدق ہے ۔ تمام سابقہ سچائیوں کا معترف ہے ۔ وہ اس پر ایمان لائیں، کیوں کہ اس میں وہی روشنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو وادیٔ ایمن میں نظرآئی، اس میں وہی صداقت ہے جس کا اظہار صبح ناصری نے کیا۔ اس کے بعد ان کے تحجر قلبی پر انھیں ملامت کی اور فرمایا کہ دنیا طلبی کو صرف سفلی خواہشات تک محدود رکھو۔ مذہب کو اور صداقت کو کسی قیمت پر بھی نہ بیچو اس لیے کہ دیانتداری کو جس قیمت پر بھی فروخت کیا جائے گا وہ غلط ہوگی اور کم ہوگی اور فرمایا کہ صرف مجھ سے ڈرو۔ رسم ورواج کے ڈر کو، قوم کی مخالفت کے ڈر کو، دلوں سے نکال دو۔ اگر اسلام میں تمھیں کوئی نقص نظر نہیں آتا تو پھر قوم کی مخالفت کی چنداں پروا نہیں، قبول کرلو۔ وَلاَ تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍم بہ۔
{اِھْبِطُوْا}اترجاؤ ۔ مصدر ھبوط۔اترنا ۔ نازل ہونا۔ {اُوْلـٰـٓئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ} جہنم میں رہنے والے۔ {اَوَّلَ} پہلے یعنی تم کفر میں اوروں کے لیے نمونہ نہ بنو۔ اوّل کے معنی ہیں۔ من یؤل الیہ الامر کے۔
۱؎ ان آیات میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا جذبہ ٔ فیض ربوبیت تمھیں زمین کی پستی سے اٹھانے میں ہمیشہ کوشاں رہے گا۔ اس کی طرف سے رہنمائی کے سارے سامان مہیا ہوں گے۔ رسول بھی آئیں گے۔ مصلح اور ہادی بھی پیدا ہوں گے تمہارا فرض ہے کہ ان کو مانو اور یادرکھو۔ وہی لوگ جو ایمان دار ہوں گے ۔بے خوف وخطرزندگی بسر کرسکیں گے اور وہ جو اللہ کے احکام کی تکذیب کریں گے اور رسولوں کو جھٹلائیں گے کسی طرح بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکیں گے۔ہم نے کہا۔ تم سب یہاں سے نیچے اترو۔ پھر جو میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے گی تو جو کوئی میری ہدایت پرچلے گا۔انھیں نہ کچھ خوف ہوگااور نہ وہ غم کھائیں گے۔۱؎(۳۸) اور جو منکر ہوئے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ وہی دوزخی ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(۳۹)اے بنی اسرائیل۔ میرا وہ احسان یاد کرو۲؎ جو میں نے تم پر کیا اور میرے عہد کو پورا کرو۔ میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔(۴۰) جو کچھ میں نے نازل کیا ہے اسے مان لو۔ سچ بتاتا ہے اس چیز کو جو تمھارے پاس ہے اور تم اس کے پہلے منکر نہ بنواور میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔۳؎(۴۱)
۲؎ اولاد یعقوب علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے ۔ ان میں متعدد رسول آئے ہیں اور ان پر بے شمار نعمتیں ہیں کہ جن کا ظہور ہوا لیکن یہ ویسے کے ویسے ہی رہے۔ ان آیات میں زمانۂ رسالت کے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مت بھولو۔ اس کے عہد کی تصدیق کرو۔ یعنی تم سے وعدہ تھا کہ ہرسچائی کو قبول کروگے۔پھرتمھیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ اس بہت بڑی صداقت کا انکار کرتے ہو۔
قرآن حکیم تمام سچائیوں کا معترف ہے
حل لغات