• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زمین پر اگر لقمہ گر جائے تو کیا اٹھا کر کھا لینا چاہیے یا نہیں؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جی ہاں، کھا لینا چاہیے کیونکہ صحیح احادیث میں اس کی تاکید ہے کہ جب تم سے کسی ایک کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا کر کھا لے اور اگر اس پر کچھ گندگی لگ گئی ہو تو اسے صاف کر دے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اس عمل کو واجب قرار دیا ہے۔بعض اہل علم نے اس کی یہ فوائد گنوائے ہیں کہ
اس سے سنت پر عمل ہوتا ہے۔
شیطان کو اپنے کھانے میں شرکت سے محروم رکھا جاتا ہے۔
تکبر جاتا رہتا ہے اور تواضع حاصل ہوتی ہے۔
اللہ کی نعمتوں کا استخفاف نہیں ہوتا ہے اور کمال شکر ادا ہوتا ہے۔
اور کھانے کی برکت حاصل ہوتی ہے۔

شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں؛
وقد جاءت النصوص تأمر برفع الطعام الساقط على الأرض :
فعَنْ جَابِرٍ بن عبد الله رضي الله عنه قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
( إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ ، حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ، ثُمَّ ليَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ ) رواه مسلم (2033)
وعَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه : ( أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ ، قَالَ وَقَالَ : إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةُ ) رواه مسلم (2034)
يقول النووي رحمه الله في "شرح مسلم" (13/206) :
" معناه والله أعلم : أن الطعام الذى يحضره الإنسان فيه بركة ، ولا يُدرى أن تلك البركة فيما أكله ، أو فيما بقي على أصابعه ، أو في ما بقي في أسفل القصعة ، أو فى اللقمة الساقطة ، فينبغي أن يحافظ على هذا كله لتحصل البركة ، وأصل البركة الزيادة وثبوت الخير والإمتاع به ، والمراد هنا والله أعلم : ما يحصل به التغذية ، وتسلم عاقبته من أذى ، ويُقَوِّي على طاعة الله تعالى وغير ذلك " انتهى .
وقد نص الفقهاء في كتبهم على هذا الأدب العظيم ، حتى قال ابن حزم في "المحلى" (6/117) بوجوبه ، وانظر : المبسوط (30/268) ، حاشية تحفة المحتاج (7/438) ، الإنصاف (8/327) ، الموسوعة الفقهية (6/121) .
كما ذكروا لهذا الأدب حكما عديدة ، وفوائد كثيرة ، منها :
1- امتثال أمر النبي صلى الله عليه وسلم وسنته .
2- التواضع وعدم التكبر .
3- احترام نعم الله تعالى وتعظيمها وشكرها وعدم الاستخفاف بها .
4- تحصيل البركة التي قد تكون في اللقمة الساقطة .
5- حرمان الشيطان من ذلك الطعام ، حتى قال النووي رحمه الله في "شرح مسلم" (13/204) :
" فان وقعت على موضع نجس فلا بد من غسلها إن أمكن ، فإن تعذر أطعمها حيوانا ولايتركها للشيطان " انتهى .
 
Top