محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
۲۵۔ دنیوی امور میں بھی اختلاف نہ کریں۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْر (۱) (آل عمران: آیت ۱۸۵)
نیز دوسری جگہ فرمایا:
وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ إِلاَّ لَعِبٌ وَّلَہْوٌ وَّلَلدَّارُ الاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنََ أَفَلَا تَعْقِلُوْنََ (الانعام: آیت ۳۲)
اور فرمایا:
بَلْ تُؤْثِرُوْنََ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَاo وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّأَبْقٰی (۳) (الاعلی: آیت ۱۶)
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا و ما فیھا سے بہتر ہے (۴) (بخاری) اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک کن کہئے مردہ بکری کے بچے پرے ہو اتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے کہیں زیادہ گہری ہوئی ہے جتنا یہ بکری کا بچہ تمہاری نظروں میں گرا ہوا ہے۔ (۵) (مسلم)
دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اگر دنیا اللہ کی نظر میں چھوڑے بڑے برابر بھی ہوتی تو اللہ کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پلاتا (۶) (صحیح الجامع الصغیر و زیادۃ (۵۲۶۲)۔
امام ابن کثیر کو سورۃ اعلیٰ کی آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بلکہ تم اور اس کی اسی چیز سے آگے رکھتے ہو جس میں تمہاری معیشت اور آخرت کے لئے تمہارا فائدہ ہے۔ ''والأخرۃ خیر وابقی'' جبکہ آخرت بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور دنیا گھٹیا اور ختم ہونے والی ہے جبکہ آخرت بہتر نہیں اور باقی رہنے والی ہے پھر ایک عقلمند کس طرح سے ختم ہونے والی چیز کو باقی رہنے والی چیز پر مقدم رکھ سکتا ہے اور ایسی چیز کا اہتمام کرتا ہے جو عنقریب اسے چھوڑنے والی ہے اور آخرت کا اہتمام نہیں کرتا۔ (۷) (تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۵۲۵)
جس دنیا کا حال یہ ہو اس کی وجہ سے آپس میں لڑائی کرنا مناسب نہیں۔ کتنی ہی مرتبہ ہم نے سنا کہ محض فرنیچر کے رنگ یا اس کی نوعیت یا بچے نام وغیرہ پر اختلاف ہونے کے نتیجے میں بات طلاق تک جاپہنچی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی معلون ہے سوائے اللہ کے ذکرکے اور جو اس کے ساتھ ہو اور عالم اور متعلم کے۔ (۱) (صحیح الجامع الصغیر و زیادۃ ارقم ۳۴۱۴) ذیل میں ہم آپ کے لیے ایک سچا واقعہ ذکر کر رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیوی امور پر اختلاف کرنا بعض ایسے تعلق کو ختم کر دیتا ہے جسے قائم رہنا چاہیے تھا۔ شادی کے دوسرے دن میاں بیوی میں اختلاف ہوگیا۔ دلہن چاہتی تھی کہ ہنی مون ملک سے باہر کسی جگہ پر منایا جائے جبکہ دولہا کا خیال تھا کہ ہنی مون ملک کے اندر ہی منانا بہتر ہے۔ دولہا کے بہت سمجھانے پر بھی کہ ہنی مون ملک کے اندر مختلف شہروں میں ہی منانا بہت ہے اور باہر جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن دلہن پر باہر جانے کا بھوت سوار تھا۔ دونوں کے اپنی اپنی بات اصرار اور ڈٹے رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دولہا نے اسی بندھن کو بالآخر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ (۲) (أخبار۔ دنیا مشرق عدد ۱۵۸۔ ۱/ رجب /۱۴۲۷ھ الموافق ۲۶/۷/ ۶۲۶م۔