کفایت اللہ
عام رکن
- شمولیت
- مارچ 14، 2011
- پیغامات
- 5,006
- ری ایکشن اسکور
- 9,809
- پوائنٹ
- 773
ہرنمازکے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ
(کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿
فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق مختلف الفاظ میں متعدد روایات منقول ہیں ان روایات کا اکثر حصہ موضوع من گھڑت ہے صر ف ایک دو روایت سے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض نے اسے صحیح یا حسن یا جید قرار دیا اور بعض نے ضعیف ، یا موضوع و من گھڑت قرار دیا ہے۔
صحیح کہنے والے اہل علم:
امام منذري رحمه الله (المتوفى656)نے کہا:
رواه النسائي والطبراني بأسانيد أحدها صحيح ، وقال شيخنا أبو الحسن هو على شرط البخاري وابن حبان في كتاب الصلاة وصححه ، وزاد الطبراني في بعض طرقه وقل هو الله أحد ، وإسناده بهذه الزيادة جيد أيضا
اسے امام نسائی و امام طبرانی نے کئی اسانیدسے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند صحیح ہے ، اور ہمارے شیخ ابوالحسن کہتے ہیں کہ یہ بخاری کی شرط پر ہے اورابن حبان نے اسے کتاب الصلاۃ میں نقل کیا ہے اور صحیح کہا ہے اورطبرانی کے بعض طرق میں آیۃ الکرسی پڑھنے کے ساتھ ساتھ سورہ اخلاص پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور اس اضافہ والی سند بھی جیدہے۔[الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 299]۔
عرض ہے کہ امام منذری رحمہ اللہ نے ترغیب وترہیب میں بہت ساری ایسی احادیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے جس پرعلامہ البانی رحمہ اللہ نے تعاقب کیا اور ان کا تساہل واضح کیا ہے ۔
نیز یہاں پر امام منذری رحمہ اللہ نے اپنے شیخ سے جو یہ نقل کیا کہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے یہ بہت بڑی غفلت ہے کیونکہ اس حدیث کا کوئی ایک بھی ایسا طریق نہیں ہے جس کے تمام راوۃ صحیح بخاری کے ہوں پھر اسے بخاری کی شرط پر صحیح قرار دینا کیا معنی رکھتاہے ؟ نیز امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح ہرگزنہیں کہا ہے کیونکہ اسے اپنی صحیح میں نقل نہیں کیا بلکہ کتاب الصلاۃ نامی دوسری کتاب میں نقل کیا جس میں صحت کا کوئی التزام نہیں کیا ہے ، اسی طرح قل ھواللہ احد کے اضافہ کے ساتھ والی روایت کو جید قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ اس کی سند واضح طور پر ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے باطل وجھوٹ قرار دیا ہے کماسیاتی۔
اب غور کیا جائے کہ ایسی تصحیح کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے جس کے ساتھ ہی واضح ضعیف روایت کو بھی جید کہا جائے ، ابن حبان کی طرف بلاوجہ تصحیح منسوب کی جائے اور ایسی حدیث کو بخاری کی شرط پربتلایا جائے جس
کے ایک راوی کا بخاری میں سرے سے وجود ہی نہ ہو اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایت بخاری میں شواہد ومتابعات کے پیش نظر ہوں؟؟
امام الدمياطي رحمه الله (المتوفى705)نے کہا:
واسناد الروایتین علی شرط الصحیح
ان دونوں روایات کی سند صحیح کی شرط پرہے[المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح: 643]۔
امام دمیاطی کی یہ کتاب بھی فضائل اعمال پر ہے اورموصوف نے اس کتاب میں بھی بہت ساری موضوع ومن گھڑت و ضعیف احادیث بھر دی ہیں ، ایسے میں ان کی تصحیح کی کوئی اہمیت نہیں بالخصوص جبکہ موصوف نے دو روایات کی سند کو علی شرط الصحیح کہہ دیا جو بالکل خلاف واقعہ ہے۔
امام ابن عبد الهادي رحمه الله (المتوفى744)نے کہا:
وَلم يصب فِي ذكره فِي " الموضوعات " فَإِنَّهُ حَدِيث صَحِيح
جنہوں نے اس حدیث کو من گھڑت احادیث میں ذکر کیا ہے انہوں نے درست نہیں کیا کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے[المحرر في الحديث ص: 209]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی اس تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.
میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
اب خود غور کیا جائے کہ جس روایت کو متقدمین نے کسی ایک نے بھی صحیح نہیں قرار دیا بلکہ اس کے برعکس کئی ایک نے ضعیف و معلول قرار دیا ایسی روایت کو صحیح قرار دینا وہ بھی بغیر کسی مضبوط بنیاد کے قطعا غیر مسموع ہے۔
امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ» " وَفِي رِوَايَةٍ: وَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا جَيِّدٌ
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرفرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں جانے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ، اور ایک روایت میں سورۃ اخلاص کا بھی اضافہ ہے ۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 10/ 102]۔
عرض ہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کے تساہل سے علم حدیث کا ادنی طالب علم بھی واقف ہے ، امام ہیثی رحمہ اللہ سورۃ اخلاص والی روایت کو بھی شامل کرکے جو جید کا حکم لگایا ہے اس پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے تنقید کی ہے اور بتایاہے کہ سورۃ اخلاص والی روایت باطل وجھوٹ ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فالعجب أيضاً من الحافظ الهيثمي؛ فإنه ذكر الحديث في "المجمع" (10/102) بهذه الزيادة، وقال: "رواه الطبراني في "الكبير" و"الأوسط" بأسانيد، وأحدها جيد "! فلم يفرق بين روايته الصحيحة، والرواية الباطلة! وهو في ذلك تابع للمنذري في "الترغيب" (2/261) ، وتبعهما في ذلك جمع؛ منهم: الشوكاني في ، وصاحبنا المعلق على "المعجم الكبير"، والدكتور فاروق في تعليقه على "عمل النسائي"، وأخونا الشيخ الفاضل مقبل بن هادي الوادعي في تعليقه على "تفسير ابن كثير" (1/546 - الكويت) ، فضلاً عن ذاك الجاهل في ما أسماه "صحيح صفة الصلاة ... "! فإنه ذكر فيه (ص 233) أنه يُسنُّ قراءة {قل هو الله أحد} مع المعوذتين۔
حافظ ہیثمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مجمع الزوائد (10/102) میں سورۃ اخلاص کے اضافہ کے ساتھ روایت ذکر کی اور اس کے بعد کہا: ''اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے'' ۔ یہاں انہوں نے صحیح روایت اور جھوٹی روایت میں کوئی تفریق نہیں کی ، اور انہوں نے ایسا کرنے میں ''ترغیب '' (2/261)میں امام منذری کے قول کی پیروی کی ہے اور بہت سارے لوگوں نے ان دنوں کی پیروی میں یہی بات کہہ ڈالی جن میں امام شوکانی "تحفة الذاكرين" (ص 117) میں، دکتور فاروق نے ''عمل النسائی'' پر اپنی تعلیق میں ، اور ہمارے فاضل بھائی شیخ مقبل بن ہادی الوداعی نے "تفسير ابن كثير" (1/546 - الكويت) پر اپنی تعلیق میں یہ بات کہی ہے ۔ اور اس جاہل کی تو بات ہی الگ ہے جس نے ''صحیح صفۃ الصلاۃ'' نامی کتاب لکھی اور اس میں ص (ص 233) پر کہا کہ: معوذتین کے ساتھ سورہ اخلاص بھی پڑھ سکتے ہیں[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 13/ 33] ۔
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
هذا حديث حسن غريب
یہ حدیث حسن غریب ہے [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 294]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق مختلف مقامات پر مختلف باتیں کہیں ہیں ، بلوغ المرام میں کہا ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے [بلوغ المرام من أدلة الأحكام 1/ 58]لیکن دوسرے مقام پر کہا:
وقد أخرجه ابن حبان في كتاب الصلاة المفرد من رواية يمان بن سعيد عن محمد بن حمير ولم يخرجه في كتاب الصحيح۔
ابن حبان نے اسے کتاب الصلاۃ نامی علیحدہ کتاب میں یمان بن سعید کے طریق سے روایت کیا ہے اور اپنی کتاب صحیح میں اسے روایت نہیں کیا[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
بلکہ ایک مقام پر کہا:
سلمنا، لكنه لا يستلزم أن يكون ما رواه موضوعاً
ہم نے تسلیم کرلیا کہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ موضوع ہے[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
امام سيوطي رحمه الله (المتوفى911)نے کہا:
والحديث صحيح على شرطه
یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے[اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210]۔
امام سیوطی کی تصحیحات میں جو تساہل ہے وہ بھی معروف ومشہور ہے، یہ روایت بخاری کی شرط پر کیسے صحیح ہوسکتی ہے جب کہ اس کا ایک راوی بخاری میں سرے سے موجود ہی نہیں اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایات شواہد کے پیش نظر منقول ہیں۔
یادرہے کہ یہ اس روایت کو صحیح یا حسن یا جید کہنے والے سب کے سب متاخرین اہل علم ہیں متقدمین و سلف میں سے کسی ایک بھی محدث نے اسے صحیح نہیں کہا ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.
میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
معاصرین میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے پھر علامہ البانی رحمہ اللہ ہی کی پیروی میں متعدد اہل علم نے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے [ السلسلة الصحيحة :2/ 697:]۔
(کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿
فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق مختلف الفاظ میں متعدد روایات منقول ہیں ان روایات کا اکثر حصہ موضوع من گھڑت ہے صر ف ایک دو روایت سے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض نے اسے صحیح یا حسن یا جید قرار دیا اور بعض نے ضعیف ، یا موضوع و من گھڑت قرار دیا ہے۔
صحیح کہنے والے اہل علم:
امام منذري رحمه الله (المتوفى656)نے کہا:
رواه النسائي والطبراني بأسانيد أحدها صحيح ، وقال شيخنا أبو الحسن هو على شرط البخاري وابن حبان في كتاب الصلاة وصححه ، وزاد الطبراني في بعض طرقه وقل هو الله أحد ، وإسناده بهذه الزيادة جيد أيضا
اسے امام نسائی و امام طبرانی نے کئی اسانیدسے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند صحیح ہے ، اور ہمارے شیخ ابوالحسن کہتے ہیں کہ یہ بخاری کی شرط پر ہے اورابن حبان نے اسے کتاب الصلاۃ میں نقل کیا ہے اور صحیح کہا ہے اورطبرانی کے بعض طرق میں آیۃ الکرسی پڑھنے کے ساتھ ساتھ سورہ اخلاص پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور اس اضافہ والی سند بھی جیدہے۔[الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 299]۔
عرض ہے کہ امام منذری رحمہ اللہ نے ترغیب وترہیب میں بہت ساری ایسی احادیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے جس پرعلامہ البانی رحمہ اللہ نے تعاقب کیا اور ان کا تساہل واضح کیا ہے ۔
نیز یہاں پر امام منذری رحمہ اللہ نے اپنے شیخ سے جو یہ نقل کیا کہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے یہ بہت بڑی غفلت ہے کیونکہ اس حدیث کا کوئی ایک بھی ایسا طریق نہیں ہے جس کے تمام راوۃ صحیح بخاری کے ہوں پھر اسے بخاری کی شرط پر صحیح قرار دینا کیا معنی رکھتاہے ؟ نیز امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح ہرگزنہیں کہا ہے کیونکہ اسے اپنی صحیح میں نقل نہیں کیا بلکہ کتاب الصلاۃ نامی دوسری کتاب میں نقل کیا جس میں صحت کا کوئی التزام نہیں کیا ہے ، اسی طرح قل ھواللہ احد کے اضافہ کے ساتھ والی روایت کو جید قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ اس کی سند واضح طور پر ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے باطل وجھوٹ قرار دیا ہے کماسیاتی۔
اب غور کیا جائے کہ ایسی تصحیح کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے جس کے ساتھ ہی واضح ضعیف روایت کو بھی جید کہا جائے ، ابن حبان کی طرف بلاوجہ تصحیح منسوب کی جائے اور ایسی حدیث کو بخاری کی شرط پربتلایا جائے جس
کے ایک راوی کا بخاری میں سرے سے وجود ہی نہ ہو اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایت بخاری میں شواہد ومتابعات کے پیش نظر ہوں؟؟
امام الدمياطي رحمه الله (المتوفى705)نے کہا:
واسناد الروایتین علی شرط الصحیح
ان دونوں روایات کی سند صحیح کی شرط پرہے[المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح: 643]۔
امام دمیاطی کی یہ کتاب بھی فضائل اعمال پر ہے اورموصوف نے اس کتاب میں بھی بہت ساری موضوع ومن گھڑت و ضعیف احادیث بھر دی ہیں ، ایسے میں ان کی تصحیح کی کوئی اہمیت نہیں بالخصوص جبکہ موصوف نے دو روایات کی سند کو علی شرط الصحیح کہہ دیا جو بالکل خلاف واقعہ ہے۔
امام ابن عبد الهادي رحمه الله (المتوفى744)نے کہا:
وَلم يصب فِي ذكره فِي " الموضوعات " فَإِنَّهُ حَدِيث صَحِيح
جنہوں نے اس حدیث کو من گھڑت احادیث میں ذکر کیا ہے انہوں نے درست نہیں کیا کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے[المحرر في الحديث ص: 209]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی اس تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.
میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
اب خود غور کیا جائے کہ جس روایت کو متقدمین نے کسی ایک نے بھی صحیح نہیں قرار دیا بلکہ اس کے برعکس کئی ایک نے ضعیف و معلول قرار دیا ایسی روایت کو صحیح قرار دینا وہ بھی بغیر کسی مضبوط بنیاد کے قطعا غیر مسموع ہے۔
امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ» " وَفِي رِوَايَةٍ: وَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا جَيِّدٌ
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرفرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں جانے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ، اور ایک روایت میں سورۃ اخلاص کا بھی اضافہ ہے ۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 10/ 102]۔
عرض ہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کے تساہل سے علم حدیث کا ادنی طالب علم بھی واقف ہے ، امام ہیثی رحمہ اللہ سورۃ اخلاص والی روایت کو بھی شامل کرکے جو جید کا حکم لگایا ہے اس پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے تنقید کی ہے اور بتایاہے کہ سورۃ اخلاص والی روایت باطل وجھوٹ ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فالعجب أيضاً من الحافظ الهيثمي؛ فإنه ذكر الحديث في "المجمع" (10/102) بهذه الزيادة، وقال: "رواه الطبراني في "الكبير" و"الأوسط" بأسانيد، وأحدها جيد "! فلم يفرق بين روايته الصحيحة، والرواية الباطلة! وهو في ذلك تابع للمنذري في "الترغيب" (2/261) ، وتبعهما في ذلك جمع؛ منهم: الشوكاني في ، وصاحبنا المعلق على "المعجم الكبير"، والدكتور فاروق في تعليقه على "عمل النسائي"، وأخونا الشيخ الفاضل مقبل بن هادي الوادعي في تعليقه على "تفسير ابن كثير" (1/546 - الكويت) ، فضلاً عن ذاك الجاهل في ما أسماه "صحيح صفة الصلاة ... "! فإنه ذكر فيه (ص 233) أنه يُسنُّ قراءة {قل هو الله أحد} مع المعوذتين۔
حافظ ہیثمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مجمع الزوائد (10/102) میں سورۃ اخلاص کے اضافہ کے ساتھ روایت ذکر کی اور اس کے بعد کہا: ''اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے'' ۔ یہاں انہوں نے صحیح روایت اور جھوٹی روایت میں کوئی تفریق نہیں کی ، اور انہوں نے ایسا کرنے میں ''ترغیب '' (2/261)میں امام منذری کے قول کی پیروی کی ہے اور بہت سارے لوگوں نے ان دنوں کی پیروی میں یہی بات کہہ ڈالی جن میں امام شوکانی "تحفة الذاكرين" (ص 117) میں، دکتور فاروق نے ''عمل النسائی'' پر اپنی تعلیق میں ، اور ہمارے فاضل بھائی شیخ مقبل بن ہادی الوداعی نے "تفسير ابن كثير" (1/546 - الكويت) پر اپنی تعلیق میں یہ بات کہی ہے ۔ اور اس جاہل کی تو بات ہی الگ ہے جس نے ''صحیح صفۃ الصلاۃ'' نامی کتاب لکھی اور اس میں ص (ص 233) پر کہا کہ: معوذتین کے ساتھ سورہ اخلاص بھی پڑھ سکتے ہیں[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 13/ 33] ۔
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
هذا حديث حسن غريب
یہ حدیث حسن غریب ہے [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 294]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق مختلف مقامات پر مختلف باتیں کہیں ہیں ، بلوغ المرام میں کہا ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے [بلوغ المرام من أدلة الأحكام 1/ 58]لیکن دوسرے مقام پر کہا:
وقد أخرجه ابن حبان في كتاب الصلاة المفرد من رواية يمان بن سعيد عن محمد بن حمير ولم يخرجه في كتاب الصحيح۔
ابن حبان نے اسے کتاب الصلاۃ نامی علیحدہ کتاب میں یمان بن سعید کے طریق سے روایت کیا ہے اور اپنی کتاب صحیح میں اسے روایت نہیں کیا[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
بلکہ ایک مقام پر کہا:
سلمنا، لكنه لا يستلزم أن يكون ما رواه موضوعاً
ہم نے تسلیم کرلیا کہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ موضوع ہے[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
امام سيوطي رحمه الله (المتوفى911)نے کہا:
والحديث صحيح على شرطه
یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے[اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210]۔
امام سیوطی کی تصحیحات میں جو تساہل ہے وہ بھی معروف ومشہور ہے، یہ روایت بخاری کی شرط پر کیسے صحیح ہوسکتی ہے جب کہ اس کا ایک راوی بخاری میں سرے سے موجود ہی نہیں اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایات شواہد کے پیش نظر منقول ہیں۔
یادرہے کہ یہ اس روایت کو صحیح یا حسن یا جید کہنے والے سب کے سب متاخرین اہل علم ہیں متقدمین و سلف میں سے کسی ایک بھی محدث نے اسے صحیح نہیں کہا ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.
میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو[نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
معاصرین میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے پھر علامہ البانی رحمہ اللہ ہی کی پیروی میں متعدد اہل علم نے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے [ السلسلة الصحيحة :2/ 697:]۔