• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوت دین کے تقاضے - 02

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,013
پوائنٹ
289
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عزیز ساتھیو !
۔۔۔ حق کو پیش کرنے کا اسلوب کیا ہے؟ وہ کون سے موضوعات ہیں کہ جن کو امت مسلمہ کو آج ضرورت ہے؟ آخر وہ کون سی چیز ہے جو امت مسلمہ کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کے قریب لائے؟ اور موجودہ پرآشوب حالات میں اس قربت کی ہمیں جو سخت ضرورت لاحق ہے ، اس کا احساس ہم میں سے ہر ایک کو کیوں نہیں ہے؟

لندن میں مقیم ہمارے ایک ساتھی سے ایسی ہی کچھ جذباتی گفتگو ہوتی ہے تو فرماتے ہیں :
فورم [Forum] جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ کے ذریعے تبلیغ کے میدان میں اترنے کا ایک بڑا بنیادی اور اصولی مقصد یہ ہے کہ دورِ حاضر کی اس جدید تکنیکی سہولت (online social networking) کے سہارے ہر مسلک و طبقہ تک پہنچا جائے ، انہیں اپنے ہاں بلایا جائے اور سلف الصالحین کے حوالے سے انہیں دین کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔ کسی کو فلاں فلاں جماعت میں شامل کر لینا یا انہیں اپنا ہم مسلک بنا لینا اصل مقصد نہیں بلکہ ان شفاف تعلیمات کی طرف ہر طبقہ کے ایک ایک فرد کو متوجہ کرنا اصل مقصد ہے جو سلف الصالحین کا خاصا رہی ہیں۔
جب یہ اصولی غرض و مقصد ذہن میں بٹھا لیا جائے تو ہمارا ذہن خود بخود مفید اور تعمیری کاموں کی طرف متوجہ ہو جائے گا وگرنہ ایک دوسرے کے مسالک کی خامیوں ، علماء و اکابرین کی کوتاہیوں اور لغزشوں ، بدعت و شرک کے فتوؤں اور فروعی و اجتہادی مسائل کے طول طویل مباحث کی جنگ میں ہی وقت ضائع ہوتا رہے گا۔ اور جب ان چیزوں کو دیکھ کر کسی بھی مسلک یا طبقہ کا عام مسلمان ہمارے پاس پھٹکے گا ہی نہیں تو پھر ۔۔۔۔ سلف الصالحین کی تعلیمات کی تبلیغ کی خاطر آن لائن سوشل نیٹ ورکنگ جیسے جدید میدان کو منتخب کرنے کا مرکزی مقصد ہی فوت ہو کر رہ جائے گا !!
کچھ ایسی ہی باتیں ڈاکٹر صہیب حسن (حفظہ اللہ) بھی اپنے ایک مقالہ بعنوان "دورِ حاضر ميں اُمت مسلمہ كے مسائل اور ان کا حل" میں فرماتے ہیں ۔۔۔

فرقہ بازى کى تباہ کارياں ہرکس و ناکس کے سامنے عياں ہيں-
کسى بهى خارجى يلغار کے وقت وقتى طور پر مسلمانوں کى صفوں ميں اتحاد دکهائى ديتا ہے، ليکن جونہى سياہ بادل چھٹتے ہيں ، دينى علم سے وابستہ افراد پهر ايک دوسرے کے خلاف چاند مارى شروع کرديتے ہيں، گويا اللہ تعالىٰ کا يہ فرمان کسى اور کے لئے نازل ہوا ہے :
﴿وَاعْتَصِمُوْا بَحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا﴾
اللہ کى رسى کو مضبوطى سے پکڑ لو اور پهوٹ نہ ڈالو-
(آل عمران:103)

﴿وَأطِيْعُوْا اللهَ وَرَسُوْلَه وَلاَ تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا، إنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِيْنَ﴾
اور الله اور اس کے رسول کى فرماں بردارى کرتے رہو، آپس ميں اختلاف نہ کرو، ورنہ بزدل ہوجاوٴ گے اور تمہارى ہوا اُکهڑ جائے گى اور صبر کرتے رہو- يقينا اللہ تعالىٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-
(الانفال:46)

کيا علما، مشائخ اور طلبہ علم کا يہ فرض نہيں ہے کہ موجودہ پُرآشوب حالات ميں اُمت مسلمہ کى صفوں ميں مزيد افتراق پيداکرنے کے بجائے ايک دوسرے کو قريب کرنے کى کوشش کريں؟
اس آيت ميں اللہ اور اس کے رسول کى اطاعت کا حکم ديا گيا ہے- کيا قرآن و حديث اُن اصولوں کى طرف رہنمائى نہيں کرتے جن سے آپس ميں اتحاد پيدا کيا جاسکتا ہے!!


اللہ کے رسول کو کہا گيا کہ اہل کتاب کو چيلنج کيا جائے کہ جس 'کلمہ سواء' کا اقرار تمہیں بهى ہے اور مسلمانوں کو بهى، اس پر جمع ہوجاؤ تاکہ حق قبول کرنے کے لئے تمہارا سینہ کشادہ ہو سکے، کيا مسلمانوں کے پاس قرآن، احاديث ِصحیحہ اور اسوۂ حسنہ کى شکل ميں اتحاد کى واضح اساسات موجود نہيں کہ صرف اُمت کى بهلائى کى خاطر اپنے مسلکى اختلافات کو اپنے گروہ کى حد تک محدود رکهيں اور ملکى سطح پراتحاد و يگانگت کا مظاہرہ کريں؟؟

۔۔۔ يہ اتحاد صرف بغضِ معاويہ (رضی اللہ عنہ) کى بنياد پر نہيں ہونا چاہئے، اس کا مقصد صرف اسلام آباد کے ايوانوں تک پہنچنا نہ ہو، بلکہ اسے اپنى مساجد ، اپنے مدارس اور اپنى خانقاہوں تک وسعت دى جائے تاکہ عوام الناس تک اسلام کى اعلىٰ تعلیمات کے عملى مظاہر سامنے آسکيں-

قرآن و سنت، اسوۂ رسول اور تعاملِ صحابہ اُمت کا مشترکہ سرمايہ ہيں-
يہ ہمارے اتحاد اور طاقت کا باعث ہيں-
اگر مسلمانوں کے تمام فرقے ان اساسات پر جمع نہيں ہوسکتے تو پهر انہيں محکوميت، اغيار کى غلامى، عمومى ذلت اور نکبت سے کوئى طاقت نہيں بچا سکتى-
 
Top