• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟

شمولیت
مئی 23، 2013
پیغامات
213
ری ایکشن اسکور
381
پوائنٹ
90
چند روز پہلے اخبار میں ایک خبر پڑھی ویسے تو اخبار پڑھ کر ہر روز دل بجھ سا جاتا ہے مگر اس خبر نے دل کو واقعی زخمی کر کے رکھ دیا کیونکہ خبر ایک بیٹی کے حوالے سے تھی اس لیے فطری طور پر اس خبر کو پڑھ کر میرے دل پر بھی کاری ضرب لگی جس کا درد اب تک میں محسوس کر رہی ہوں مجھے تو یوں لگا جیسے ابن آدم کی طرف سے بنت حوا کے گال پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا گیا ہے ۔ جس کی سرخی ابھی تک میرے چہرے سے نہیں ہٹی۔ پڑھے لکھے جاہل لوگوں کو شاید یہ تحریر عبث ہی لگے مگر میرے نزدیک بلکہ ہر بیٹی کے نزدیک یہ خبر ایک غلیظ گالی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔
یہ گالی کسی غیر نے نہیں دی بلکہ یہ گالی ایک بیٹی کو اس کے حقیقی باپ نے دی ہے یہ غلیظ گالی ہر بیٹی بلکہ ہر عورت کی ذات پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس ترقی یافتہ اور روشن خیال دنیا میں جس میں ایک عورت کو لامتناہی حقوق حاصل ہیں ۔ ہر طرف عورت کے حق اور عورت کے احترام کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے ۔ برابری کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ اس دنیا کی بھٹی میں جلنے کو کہا جا رہا ہے ۔ اسی دنیا میں ایک باپ اپنی چوتھی بیٹی کی پیدائش پر اس کا نام "مس کال" رکھ دیتا ہے ۔
عورت ذات کی اس قدر تذلیل اس قدر توہین جی ہاں قارئین! خبر کچھ یوں ہی تھی کہ
"ایک شخص نے مسلسل چوتھی بیٹی کی پیدائش پر اس کا نام "مس کال" رکھ دیا ۔ جس پر اس کی بیوی روٹھ کر میکے چلی گئی اور مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نام تبدیل کرے"۔
مجھے دکھ اس بات پر ہوا کہ قابل احترام والد صاحب مسلمان بھی ہیں ، شاید ان کی نظر سے سورة شوریٰ کی آیت نمبر 49 اور 50 نہیں گزری جس میں اللہ رب العزت فرما رہے ہیں کہ
"آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے ، یا انہیں ملا کر دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ بنا دیتا ہے وہ بڑا جاننے والا بڑی قدرت والا ہے"۔
اللہ رب العزت اپنی ہی اس مقدس ترین کتاب کی سورة النحل آیت نمبر 59,58 میں ارشاد فرماتا ہے : "ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کاچہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے سوچتا ہے کہ کیا اس ذلت کو لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے ۔ آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟"۔
سورة الزخرف آیت نمبر 17میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ
"جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس (اللہ) نے رحمن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غمگین ہو جاتا ہے"۔
ایک طرف تو ہم عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے دعوے دار ہیں اور دوسری طرف ہم فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سرے سے ہی بھلا بیٹھتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو بیٹی کی آمد پر اپنی چادر بچھاتے اپنی جگہ پر بٹھاتے ۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا ہے کہ
"جس آدمی کو بچیاں دے کر آزمایا گیا پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا برتاﺅ کیا تو یہ بچیاں آگ اور اس کے درمیان (قیامت کے دن) رکاوٹ بن جائیں گی"۔
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش دلی سے بیٹیوں کی پرورش کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے کہ
"جس کسی نے جوان ہونے تک دو بچیوں کی پرورش کی میں اور وہ قیامت کے دن ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے اور آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملایا ایک جگہ پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
"جس کسی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں پھر وہ اللہ کا خوف کھا کر ان کی پرورش کرتا رہے وہ میرے ساتھ اس طرح جنت میں ہو گا ۔ آپ نے درمیان اور شہادت والی دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ کیا ۔
واہ! بیٹیوں کی بدولت کیا "ساتھ" نصیب ہو گا ۔ کاش! کوئی اس طرف بھی دھیان کرے ۔
بیٹیوں کی آمد پر ناگواری کا اظہار کرنا، ان کی تذلیل کرنا، ان سے بیزاری ظاہر کرنا نہ صرف مشرکانہ فعل ہے بلکہ اس سے قرآن وسنت کی بھی نفی ہوتی ہے اس کے علاوہ اس خواہش کے ہوتے ہوئے نسل انسانی کی بقاءممکن نہیں ہے بہتر معاشرتی نظام اور نسل انسانی کی بقاءکے لیے جہاں بیٹوں کی ضرورت ہے وہاں بیٹیوں کی بھی ضرورت ہے ۔
اللہ رب العزت نے کائنات میں ایسی کوئی شے نہیں بنائی جو عبث ہو ۔ مجھے ان والدین سے جو بیٹیوں کی آمد پر خوش نہیں ہیں یا نہیں تھے ان سے صرف اتنا کہنا ہے کہ توبہ کر لیں اور صرف اتنا سوچیں کہ
خطائیں دیکھتا بھی ہے عطائیں کم نہیں کرتا
سمجھ میں نہیں آتا وہ اتنا مہرباں کیوں ہے؟
بیٹی اللہ رب العزت کی رحمت ہے اور اللہ رب العزت کی رحمت کو ٹھکرانے والوں کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ آگہی اور یاددہانی کے بعد اپنی بہتری اور فلاح کے لیے اپنے اعمال کو درست کرنا ہی عقل مندی ہے ۔ ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔
بیٹے بیٹی کے فرق کو تم مٹا دو آج
یہ ہے برسوں کی گتھی اسے سلجھا دو آج
صرف چاہت سے سینے سے لگاﺅ اس کو
صدقہ جاریہ بس صرف بناﺅ اس کو
گزارش ہے اس محترم باپ سے جس نے اپنی بیٹی کا نام "مس کال" رکھا ہے کہ وہ لمحے بھر سے پہلے اپنی بیٹی کا نام تبدیل کرے اور اپنے اس فعل پہ اللہ رب العزت سے معافی کا طلبگار ہو ۔
بشکریہ-سدرہ پرویز
http://www.karachiupdates.com/v3/khawateen/48-2009-07-09-08-48-14/91-2009-07-09-08-56-59.html
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,346
پوائنٹ
437
اس پوری تحریر میں فرد واحد کی خطاء نے ہر مرد کو تنقید کا نشانہ بنادیا ہے۔۔۔
میں نے خواتیں کے ایسے نام بھی سننے ہیں مثال کے طور پر جنت بی بی، رحمت بی بی، عابدہ خاتون، سرتاج بیگم۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اگر ہم ان ناموں کے معنوں پر جائیں تو اندازہ ہوگا کے کتنی گہری سوچ اور فکر کو سامنے رکھ کر یہ نام تجویز کئے اور رکھے گئے۔۔۔ معاشرے میں پروان چڑھنے والے اس سوچ کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ ہمیں اُن پر بات کرنی چاہئے۔۔۔ اچھے بُرے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔۔۔ ایک باپ نے مسلمان ہوکر اگر بیٹی کا نام مس کال رکھ دیا تو یہ اُس کا انفرادی عمل ہے جسے ہم اس کی لاعلمی یا دین سے دوری شمار کریں گے۔۔۔ اور ایسی لاتعداد مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔۔۔ کے مسلمان ہیں سود خور ہیں، مسلمان ہیں چور ہیں، مسلمان ہیں راشی ہیں۔۔۔ مسلمان ہیں دودھ میں ملاوٹ کررہے ہیں۔۔۔ مسلمان ہیں جعلی دوایاں بنارہے ہیں۔۔۔ مسلمان ہیں حدیث پر امام کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں۔۔۔ تو محترمہ یہ جہالت کے وہ نادر نمونے ہیں جو انفرادیت سے شروع ہوئے اور اجتماعیت کی شکل اختیار کرگئے اب یہاں پر کون ذمہ دار ہے؟؟؟۔۔۔ علماء حضرات کی بات کریں تو ہر کسی نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنارکھی ہے۔۔۔ ہمارا المیہ جو اب تک میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں آج تک صحیح سمت دکھانے والے علماء حضرات میسر نہیں ہوئے اچھا جو میسر ہیں اُن کو کسی نہ کسی خاص مکتبہ فکر سے منسوب کرکے ان پراعتراضات کی یلغار ہوجاتی ہے۔۔۔ جس سے ایک عامی تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔ اب تیسری طرف ہمارے اپنے صدر صاحب کا کارنامہ دیکھیں۔۔۔ کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام بلاول زرداری سے بلاول بھٹو زرداری رکھ دیا یعنی جس ماں کا وہ بیٹا تھا اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس کا ہی بھائی بنا دیا۔۔۔ اور افسوس کے کسی بھی مکتبہ فکر سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔۔۔ تو ہمیں خود تعین کرنا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔۔۔
 
شمولیت
مئی 23، 2013
پیغامات
213
ری ایکشن اسکور
381
پوائنٹ
90
ہمارے اپنے صدر صاحب کا کارنامہ دیکھیں۔۔۔ کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام بلاول زرداری سے بلاول بھٹو زرداری رکھ دیا یعنی جس ماں کا وہ بیٹا تھا اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس کا ہی بھائی بنا دیا۔۔۔ اور افسوس کے کسی بھی مکتبہ فکر سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔۔۔
حرب بن شداد بھائی -اعتراض کون کریگا کیونکہ اعتراض کرنے کے لیئے تو ہمت چاہئے- اور صدر صاحب کی اس حرکت کے ثمرات انہوں نے پچھلے 5 سالوں میں حاصل کر لیئے ہیں- رہی بات کہ بلاول "بھٹو" ہے یا "زرداری" تو یہ فیصلہ ہمیں صدر صاحب پر ہی چھوڑ دینا چاہیئے انہیں زیادہ علم ہوگا-
 
Top