• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ رب العالمین کو مذکر کہنا؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اہل الحدیث اللہ جل جلالہ کے لیے صرف انہی صفات کا اثبات کرتے ہیں جن کا کتاب وسنت نے اثبات کیا ہے اور اللہ کی ذات سے صرف انہی صفات کی نفی کرتے ہیں کہ جن کی نفی کتاب وسنت نے کی ہے۔ اور جن کے بارے کتاب وسنت خاموش ہے تو اس بارے خاموش رہتے ہیں اور اس کے بارے سوال کو بدعت قرار دیتے ہیں۔
پس اللہ تعالی نے کتاب وسنت میں اپنے لیے نہ تو صفت مذکر کا اثبات کیا ہے اور نہ ہی نفی کی ہے لہذا اس بارے اصل اصول خاموشی ہے اور سوال بدعت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے یہ عربی لنک ملاحظہ فرمائیں۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
2,024
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
437
جزاک اللہ شیخ محترم۔
کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے اپنے لئے مذکر ہی کے صیغے کیوں استعمال کئے ہیں جبکہ مونث کے صیغے بھی ہیں اور ایسے صیغے بھی موجود ہیں جو مذکر اور مونث دونوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اس کی حکمت اگر کسی عالم، محدث یا صحابی نے بیان کی ہوتو بتائیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اس کی حکمت اگر کسی عالم، محدث یا صحابی نے بیان کی ہوتو بتائیں۔
جو لنک ہم نے دیا تھا اس میں اس کی حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔تذکیر وتانیث زبان کے لوازمات ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے مثلا سورج اردو زبان میں مذکر استعمال ہوتا ہے یعنی ہم کہتے ہیں:
سورج طلوع ہوتا ہے
اور
عربی زبان میں یہ مونث استعمال ہوتا ہے یعنی عرب کہتے ہیں
تطلع الشمس
اب سورج نہ تو مذکر ہے نہ ہی مونث، یعنی جس معنی میں ہم مذکر ومونث مراد لیتے ہیں۔
اسی طرح سائیکل، گاڑی، دہی، میز، کرسی وعلی ھذا القیاس ہزاروں اشیاء کے بارے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذکر یا مونث ہیں اگرچہ ان کے لیے صیغے مذکر یا مونث ہی کے استعمال ہوتے ہیں اور یہ زبان کے اسالیب ہیں۔
علم نحو کے امام ، امام سیبویہ نے کہا ہے کہ مذکر ومونث کے صیغوں میں سے اصل مذکر کا صیغہ ہے کیونکہ مونث کا صیغہ مذکر سے بنتا ہے لہذا مذکر کا صیغہ افضل واشرف ہے۔
پس اسی لیے اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے اشرف صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔واللہ اعلم بالصواب
جہاں تک مذکر ومونث کا تعلق ہے تو یہ اجناس اللہ کی مخلوق ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
( وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى ) (النجم:45) .
اور بلاشبہ اللہ تعالی نے جوڑے پیدا کیے ہیں یعنی مذکر اور مونث۔
پس اللہ کی مخلوق کو اللہ کی صفت بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top