محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
ان مسائل میں اختلاف کی دو قسمیں ہیں :فقہی مسائل میں اختلاف کی شرعی حیثیت
۱۔اختلاف تنوع ۲۔ اختلاف تضاد
اختلاف تنوع :
بعض مسائل ایسے ہیں جن میں دو مختلف اقوال ہوتے ہیں اور دونوں ہی شریعت سے ثابت ہوتے ہیں آدمی کو اختیار ہے کہ جو مرضی عمل اختیار کرے مثلاً نماز میں دعائے استفتاح ،رکوع اور سجدے کی تسبیحات اور تشہد کی دعائیں ،سفر میں روزے کا رکھنا یا نہ رکھنا ۔
''بنو نضیر'' سے جنگ کے موقع پر جب صحابہ کرام نے کافروں کے کچھ درخت کاٹے اور کچھ چھوڑدیے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے دونوں عمل کو درست قرار دیتے ہوئے فرمایا:
﴿مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَۃٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْہَا قَاۗىِٕمَۃً عَلٰٓي اُصُوْلِہَا فَبِـاِذْنِ اللہِ وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ۵ ﴾(الحشر:۵)
''تم نے کھجور کے جو بھی درخت کاٹے یا انہیں اپنی جڑوں پر قائم رہنے دیا تو یہ اللہ ہی کے حکم سے تھا اور تاکہ اللہ فاسقوں کو رسوا کرے ۔''
اسی طرح انس سے روایت ہے'' کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں جہاد کا سفر کیا ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا ۔ روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے پر اعتراض نہ کرتا تھا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار پر اعتراض کرتا تھا۔'' (بخاری ۱۹۴۷،مسلم ۱۱۱۸)
اسی اختلاف میں افضل اور مفضول کا اختلاف بھی ہے جیسے کہ عورت کی نماز اگرچہ گھر میں افضل ہے لیکن مسجد میں جا کر نماز پڑھنا اس کے لیے جائز ہے ۔حج و عمرہ کے بعد اگرچہ سر کے بال منڈوانا افضل ہے مگر بال کٹوانا بھی جائز ہے ۔
بعض اوقات آیت یا حدیث کے دو مفہوم نکلتے ہیں اور دونوں ہی معانی پر عمل کرنا جائز ہیں۔
عبداللہ بن عمر؆سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خندق کے بعد فرمایا تم میں سے ہر شخص عصر کی نماز''بنو قریظہ ''میں جا کر پڑھے ۔ اب نماز کا وقت راستے میں ہو گیا تو بعض نے کہا کہ جب تک ہم ''بنو قریظہ'' پہنچ نہ لیں عصر کی نماز نہیں پڑھیں گے اور بعضوں نے کہا ہم نماز پڑھ لیتے ہیں کیونکہ آپ کا یہ مطلب نہ تھا کہ ہم نماز قضا کر دیں ۔ رسول اللہﷺ سے اس امر کا ذکر کیا گیا ۔ آپ نے کسی پر خفگی نہیں کی ۔( بخاری: ۴۱۱۹ مسلم : ۱۷۷۰)
گویا بعض صحابہ کرام ؇ نے یہ سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ عام ہیں جن کا منشا یہ ہے کہ نماز بنو قریظہ کے ہاں جا کر ہی ادا کرنی چاہیے ۔ اگرچہ ایسا کرنے میں نماز کا وقت ہی کیوں نہ چلا جائے۔ اور بعض نے ان کے الفاظ کا یہ مطلب سمجھا کہ وہاں جلد پہنچ کر ''بنو قریظہ'' کا محاصرہ کر لینا چاہیے۔
یہ اس قسم کا اختلاف ہے جس میں دونوں طریقے صحیح ہوتے ہیں البتہ قابل مذمت بات یہ ہے کہ ان مسائل میں اختلاف کی بنا پر جھگڑا کیا جائے ۔
اختلاف تضاد
اس امت کے اہل علم میں فقہی عملی مسائل میں اختلاف ہمیشہ رہا ہے ان مسائل میں حق اگرچہ ایک ہی بات ہوتی ہے اور باقی سب اقوال غلط ہوتے ہیں اس لیے یہ کہنا تو غلط ہے کہ جس اہل علم کا قول چاہو اختیار کر لو بلکہ ان مسائل میں کتاب و سنت کو ہی دیکھنا ہو گا اگر یقین ہو جائے کہ فلاں قول قرآن و سنت کے مطابق ہے تو اسے اختیار کرنا واجب ہے اور باقی اقوال کو چھوڑ دیا جائے گا۔