رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
اسلام علیکم،
ان دہ احادیث کا مطلب سمجھا دیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ
معرور بن سوید، ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے خبر دی یا خوشخبری دی کہ جو شخص میری امت میں سے اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوگا، تو جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا کہ اگرچہ زنا اور چوری کرے،ہاں اگرچہ زنا اور چوری کرے۔
دوسری حدیث
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا کَانَتْ حَائِضًا فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاشِرَهَا أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا قَالَتْ وَأَيُّکُمْ يَمْلِکُ إِرْبَهُ کَمَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِکُ إِرْبَهُ تَابَعَهُ خَالِدٌ وَجَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ
اسمعیل بن خلیل، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسو داپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم میں سے جب کسی بیوی کو حیض آجاتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اختلاط کرنا چاہتے، تو اسے حکم دیتے تھے کہ اپنے حیض کے غلبہ کی حالت میں ازار پہن لے، اس کے بعد آپ اس سے اختلاط کرتے تھے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پر کوئی اس قدر قابو نہیں رکھتا ہے، جس قدر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی خواہش پر قابو رکھتے تھے۔
یہ اختلاط کیا ہے؟
دونوں احادیث بخاری کی ہیں۔
ان دہ احادیث کا مطلب سمجھا دیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ
معرور بن سوید، ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے خبر دی یا خوشخبری دی کہ جو شخص میری امت میں سے اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوگا، تو جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا کہ اگرچہ زنا اور چوری کرے،ہاں اگرچہ زنا اور چوری کرے۔
دوسری حدیث
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا کَانَتْ حَائِضًا فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاشِرَهَا أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا قَالَتْ وَأَيُّکُمْ يَمْلِکُ إِرْبَهُ کَمَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِکُ إِرْبَهُ تَابَعَهُ خَالِدٌ وَجَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ
اسمعیل بن خلیل، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسو داپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم میں سے جب کسی بیوی کو حیض آجاتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اختلاط کرنا چاہتے، تو اسے حکم دیتے تھے کہ اپنے حیض کے غلبہ کی حالت میں ازار پہن لے، اس کے بعد آپ اس سے اختلاط کرتے تھے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پر کوئی اس قدر قابو نہیں رکھتا ہے، جس قدر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی خواہش پر قابو رکھتے تھے۔
یہ اختلاط کیا ہے؟
دونوں احادیث بخاری کی ہیں۔