محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۱۲۱ۙ اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا۰ۙ وَاللہُ وَلِيُّہُمَا۰ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۱۲۲ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ۰ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۱۲۳
اورجب توصبح اپنے گھرسے نکلا اورمسلمانوں کو لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھلانے لگا اورخدا سنتا جانتا ہے۔(۱۲۱) جب تم میں سے دو جماعتوں نے بزدل ہونا چاہا حالانکہ اللہ ان کامددگار تھا اور چاہیے کہ مومن خدا ہی پر بھروسہ کریں۔(۱۲۲) اور خدا بدر کی لڑائی میں جب تم ذلیل تھے، تمہاری مدد کرچکا ہے ۔ سو اللہ سے ڈرو۔ شاید کہ تم شکر گزار ہو۔۱؎ (۱۲۳)
آپ ﷺ نے فرمایا۔ خدا کا بہادر پیغمبر جب ایک دفعہ مسلح ہو جائے تو ہتھیار نہیں اتارتا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے کوچ فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ساتھ ساتھ چلے۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں تو سخت مایوس ہوا اور اپنے تین سوآدمی لے کر الگ ہو گیا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام وہاں پہنچے۔ صفیں درست کیں۔ ایک ایک سپاہی کی جگہ مقرر کی۔ عبداللہ بن جبیرؓ کو تیر اندازوں کا امیر مقرر کیا اور فرمایا۔ اس درے پر مضبوطی سے کھڑے رہنا۔ جب جنگ شروع ہوئی اور مسلمان مخالفین پرچھاگئے توغنیمت کے لالچ میں اوریہ سمجھ کر کہ اب تو میدان ہمارے ہی ہاتھ میں ہے ۔ مسلمان مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہوگئے ۔مخالفین نے مسلمانوں کے تغافل سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں پر پل پڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلما نوںمیں بھاگڑ مچ گئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چوٹیں آئیں۔ اگلے دانت ٹوٹ گئے اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا۔ عام مسلمانوں میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ حضورﷺ شہید کردیئے گئے ہیں جس سے سخت بددلی پھیل گئی۔ اس کے بعد چند جاں نثار حضور تک پہنچ گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے۔
ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہی ہیں۔ دیکھو بدر میں تمہاری تعداد بہت کم تھی اور کفار کا ایک لشکر جرار مقابلہ پرتھا۔ پھر بھی فتح اسلام کے شیدائیوں کو ہوئی۔
فرشتوں کا نزول خدا پرستوں کی تائید وتثبیت کے لیے تھا۔ مادیت پرست لوگ ممکن ہے اس کو تسلیم نہ کریں، مگر واقعہ یہ ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے عقیدت مندوں کو عزت وغلبہ سے نوازتا رہتا ہے ۔فرشتے بدر میں نازل ہوئے تھے ۔جیسا کہ جمہور مفسرین کا خیال ہے اور سیاق کلام سے بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ احد میں نہیں۔
اِذْغَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ الخ میں یہ بتایا ہے کہ نبی صرف محراب و منبر میں ہی نہیں گرجتا بلکہ میدان جنگ میں بھی وہ سپاہیانہ حصہ لیتا ہے ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ جامعیت کبریٰ کے وصف سے متصف تھے، اس لیے ضروری تھا کہ وہ تدابیر جنگ سے بھی کماحقہ، واقف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ میں دین ودنیا کی خوبیاں جمع ہیں۔ ایک طرف مسجد میں امام ہیں اور دوسری طرف جنگ میں بطل فنا۔
اورجب توصبح اپنے گھرسے نکلا اورمسلمانوں کو لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھلانے لگا اورخدا سنتا جانتا ہے۔(۱۲۱) جب تم میں سے دو جماعتوں نے بزدل ہونا چاہا حالانکہ اللہ ان کامددگار تھا اور چاہیے کہ مومن خدا ہی پر بھروسہ کریں۔(۱۲۲) اور خدا بدر کی لڑائی میں جب تم ذلیل تھے، تمہاری مدد کرچکا ہے ۔ سو اللہ سے ڈرو۔ شاید کہ تم شکر گزار ہو۔۱؎ (۱۲۳)
۱؎ غزوہ بدر کے بعد مقام احد پر کفار جمع ہوئے۔مقصود یہ تھا کہ بدر کا انتقام لیاجائے۔ حضورعلیہ الصلوٰہ والسلام کو اطلاع ملی تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ طلب کیا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کو خصوصیت سے بلایا۔ اس نے مشورہ دیا کہ آپ مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کریں، اس لیے کہ ہم جب بھی مدینہ سے باہر رہ کرلڑے ہیں، ہمارا نقصان ہوا ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ مخالف آسانی سے مدینہ پرقبضہ کرلیں۔ یہ ایک چال تھی۔دیگرصحابہ رضی اللہ علیہم نے فرمایا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ میدان میں نکل کرجام شہادت پئیں۔ ایسا نہ ہوکہ مخالف ہمیں بزدل سمجھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے۔ اس سے میں نے نیک فال اخذ کی ہے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار آگے سے ٹوٹ گئی ہے۔ اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ قدرے شکست ہوگی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے زوردیا کہ آپﷺ باہر نکل کر لڑیں۔ انھیں شوق ِ شہادت نے بے قرار کررکھاتھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اندر گئے اورمسلح ہوکر باہر نکلے۔ اب صحابہ رضی اللہ عنہ پچھتائے کہ کہیں ہم نے حضور ﷺ کے ارادہ کے خلاف تو انھیں مجبور نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ حضورﷺ کی جو خواہش ہو وہ بہتر ہے ۔غزوۂ احد
آپ ﷺ نے فرمایا۔ خدا کا بہادر پیغمبر جب ایک دفعہ مسلح ہو جائے تو ہتھیار نہیں اتارتا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے کوچ فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ساتھ ساتھ چلے۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں تو سخت مایوس ہوا اور اپنے تین سوآدمی لے کر الگ ہو گیا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام وہاں پہنچے۔ صفیں درست کیں۔ ایک ایک سپاہی کی جگہ مقرر کی۔ عبداللہ بن جبیرؓ کو تیر اندازوں کا امیر مقرر کیا اور فرمایا۔ اس درے پر مضبوطی سے کھڑے رہنا۔ جب جنگ شروع ہوئی اور مسلمان مخالفین پرچھاگئے توغنیمت کے لالچ میں اوریہ سمجھ کر کہ اب تو میدان ہمارے ہی ہاتھ میں ہے ۔ مسلمان مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہوگئے ۔مخالفین نے مسلمانوں کے تغافل سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں پر پل پڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلما نوںمیں بھاگڑ مچ گئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چوٹیں آئیں۔ اگلے دانت ٹوٹ گئے اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا۔ عام مسلمانوں میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ حضورﷺ شہید کردیئے گئے ہیں جس سے سخت بددلی پھیل گئی۔ اس کے بعد چند جاں نثار حضور تک پہنچ گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے۔
ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہی ہیں۔ دیکھو بدر میں تمہاری تعداد بہت کم تھی اور کفار کا ایک لشکر جرار مقابلہ پرتھا۔ پھر بھی فتح اسلام کے شیدائیوں کو ہوئی۔
فرشتوں کا نزول خدا پرستوں کی تائید وتثبیت کے لیے تھا۔ مادیت پرست لوگ ممکن ہے اس کو تسلیم نہ کریں، مگر واقعہ یہ ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے عقیدت مندوں کو عزت وغلبہ سے نوازتا رہتا ہے ۔فرشتے بدر میں نازل ہوئے تھے ۔جیسا کہ جمہور مفسرین کا خیال ہے اور سیاق کلام سے بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ احد میں نہیں۔
اِذْغَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ الخ میں یہ بتایا ہے کہ نبی صرف محراب و منبر میں ہی نہیں گرجتا بلکہ میدان جنگ میں بھی وہ سپاہیانہ حصہ لیتا ہے ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ جامعیت کبریٰ کے وصف سے متصف تھے، اس لیے ضروری تھا کہ وہ تدابیر جنگ سے بھی کماحقہ، واقف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ میں دین ودنیا کی خوبیاں جمع ہیں۔ ایک طرف مسجد میں امام ہیں اور دوسری طرف جنگ میں بطل فنا۔
{اَذِلَّۃٌ} جمع ذلیل۔ کمزور ۔ بے سروسامان ۔حل لغات