نے کہا: اچھا تو ایک آدمی اور موجود ہے۔ پوچھا: کون ہے؟ کہا: میں ہوں۔ زہیر نے کہا: اچھا تو اب تیسرا آدمی تلاش کرو۔
اس پر ہشام، مُطعم بن عدی کے پاس گیا اور بنو ہاشم اور بنو مطلب سے جو کہ عبد مناف کی اولاد تھے مطعم کے قریبی نسبی تعلق کا ذکر کر کے اسے ملامت کی کہ اس نے اس ظلم پر قریش کی ہم نوائی کیونکر کی؟ ...یاد رہے کہ مطعم بھی عبد مناف ہی کی نسل سے تھا۔ مطعم نے کہا : افسوس! میں تن تنہا کیا کر سکتا ہوں۔ ہشام نے کہا: ایک آدمی اور موجود ہے۔ مطعم نے پوچھا: کون ہے؟ ہشام نے کہا: میں۔ مطعم نے کہا: اچھا ایک تیسرا آدمی تلاش کرو۔ ہشام نے کہا: یہ بھی کر چکا ہوں۔ پوچھا: وہ کون ہے؟ کہا: زہیر بن ابی امیہ، مطعم نے کہا: اچھا تو اب چوتھا آدمی تلاش کرو۔ اس پر ہشام بن عمرو، ابو البختری بن ہشام کے پاس گیا اور اس سے بھی اسی طرح کی گفتگو کی جیسی مطعم سے کی تھی۔ اس نے کہا: بھلا کوئی اس کی تائید بھی کرنے والا ہے؟ ہشام نے کہا: ہاں۔ پوچھا: کون؟ کہا: زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی اور میں۔ اس نے کہا: اچھا تو اب پانچواں آدمی ڈھونڈو ...اس کے لیے ہشام، زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد کے پاس گیا اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے بنو ہاشم کی قرابت اور ان کے حقوق یاد دلائے۔ اس نے کہا: بھلا جس کام کے لیے مجھے بلا رہے ہو اس سے کوئی اور بھی متفق ہے؟ ہشام نے اثبات میں جواب دیا اور سب کے نام بتلائے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے حجون کے پاس جمع ہو کر آپس میں یہ عہد و پیمان کیا کہ صحیفہ چاک کرنا ہے۔ زہیر نے کہا: میں ابتدا کروں گا، یعنی سب سے پہلے میں ہی زبان کھولوں گا۔
صبح ہوئی تو سب لوگ حسب ِ معمول اپنی اپنی محفلوں میں پہنچے۔ زہیر بھی ایک جوڑا زیبِ تن کیے ہوئے پہنچا۔ پہلے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر بولا: مکے والو!کیا ہم کھانا کھائیں، کپڑے پہنیں اور بنو ہاشم تباہ و برباد ہوں۔ نہ ان کے ہاتھ کچھ بیچا جائے نہ ان سے کچھ خریدا جائے۔ اللہ کی قسم !میں بیٹھ نہیں سکتا یہاں تک کہ اس ظالمانہ اور قرابت شکن صحیفے کو چاک کر دیا جائے۔
ابو جہل ...جو مسجد حرام کے ایک گوشے میں موجود تھا- بولا: تم غلط کہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اسے پھاڑا نہیں جا سکتا۔
اس پر زمعہ بن اسود نے کہا: واللہ! تم زیادہ غلط کہتے ہو۔ جب یہ صحیفہ لکھا گیا تھا تب بھی ہم اس سے راضی نہ تھے۔
اس پر ابو البختری نے گرہ لگائی: زمعہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے نہ ہم راضی ہیں نہ اسے ماننے کو تیار ہیں۔ اس کے بعد مطعم بن عدی نے کہا: تم دونوں ٹھیک کہتے ہو اور جو اس کے خلاف کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ ہم اس صحیفہ سے اور اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اس سے اللہ کے حضور براءت کا اظہار کرتے ہیں۔
پھر ہشام بن عمرو نے بھی اسی طرح کی بات کہی۔
یہ ماجرا دیکھ کر ابوجہل نے کہا: ہونہہ۔ یہ بات رات میں طے کی گئی ہے اور اس کا مشورہ یہاں کے بجائے کہیں اور کیا گیا ہے۔
اس دوران ابو طالب بھی حرم پاک کے ایک گوشے میں موجود تھے۔ ان کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اس صحیفے کے بارے میں یہ خبر دی تھی کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے کیڑے بھیج دیئے ہیں۔ جنہوں نے ظلم و ستم اور قرابت شکنی کی ساری باتیں چٹ کر دی ہیں اور صرف اللہ عزوجل کا ذکر باقی چھوڑا ہے۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے چچا کو یہ بات بتائی تو وہ قریش سے یہ کہنے آئے تھے کہ ان کے بھتیجے نے انہیں یہ اور یہ خبر دی ہے اگر وہ جھوٹا ثابت ہوا تو ہم تمہارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جائیں گے اور تمہارا جو جی چاہے کرنا، لیکن اگر وہ سچا ثابت ہوا تو تمہیں ہمارے بائیکاٹ اور ظلم سے باز آنا ہو گا اور اس پر قریش نے کہا تھا: آپ انصاف کی بات کہہ رہے ہیں۔
ادھر ابو جہل اور باقی لوگوں کی نوک جھونک ختم ہوئی تو مطعم بن عدی صحیفہ چاک کرنے کے لیے اٹھا۔ کیا دیکھتا ہے کہ واقعی کیڑوں نے اس کا صفایا کر دیا ہے۔ صرف باسمک اللّٰھم باقی رہ گیا ہے اور جہاں جہا ں اللہ کا نام تھا وہ بچا ہے، کیڑوں نے اسے نہیں کھایا تھا۔
اس کے بعد صحیفہ چاک ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ اور بقیہ تمام حضرات شعب ابی طالب سے نکل آئے اور مشرکین نے آپ کی نبوت کی ایک عظیم الشان نشانی دیکھی، لیکن ان کا رویہ وہی رہا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے:
وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿٢﴾ (۵۴:۲)
''اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو رخ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ توچلتا پھرتا جادو ہے۔''
چنانچہ مشرکین نے اس نشانی سے بھی رخ پھیر لیا اور اپنے کفر کی راہ میں چند قدم اور آگے بڑھ گئے۔ (بائیکاٹ کی یہ تفصیل حسب ذیل مآخذ سے مرتب کی گئی ہے۔ صحیح بخاری باب نزول النبی ﷺ بمکۃ ۱/۲۱۶ باب تقاسم المشرکین علی النبی ﷺ ۱/۵۴۸ زاد المعاد ۲/۴۶۔ ابن ہشام ۱/۳۵۰، ۳۵۱، ۳۷۴ تا ۳۷۷، ان مآخذ میں قدرے اختلاف بھی ہے۔ ہم نے قرائن کی روشنی میں راجح پہلو درج کیا ہے۔)
الرحیق المختوم