• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم ابو طالب کی خدمت میں قریش کا آخری وفد

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ابو طالب کی خدمت میں قریش کا آخری وفد

رسول اللہ ﷺ نے شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد پھر حسبِ معمول دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور اب مشرکین نے اگرچہ بائیکاٹ ختم کر دیا تھا لیکن وہ بھی حسب معمول مسلمانوں پر دباؤ ڈالنے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اور جہاں تک ابو طالب کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی دیرینہ روایت کے مطابق پوری جاں سپاری کے ساتھ اپنے بھتیجے کی حمایت و حفاظت میں لگے ہوئے تھے لیکن اب عمر اَسّی سال سے متجاوز ہو چلی تھی۔ کئی سال سے پے در پے سنگین آلام و حوادث نے خصوصاً محصوری نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے قویٰ مضمحل ہو گئے تھے اور کمر ٹوٹ چکی تھی، چنانچہ گھاٹی سے نکلنے کے بعد چند ہی مہینے گزرے تھے کہ انہیں سخت بیماری نے آن پکڑا۔ اس موقع پر مشرکین نے سوچا کہ اگر ابو طالب کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد ہم نے اس کے بھتیجے پر کوئی زیادتی کی تو بڑی بدنامی ہو گی۔ اس لیے ابو طالب کے سامنے ہی نبی ﷺ سے کوئی معاملہ طے کر لینا چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ بعض ایسی رعائتیں بھی دینے کے لیے تیار ہو گئے جس پر اب تک راضی نہ تھے۔ چنانچہ ان کا ایک وفد ابو طالب کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ان کا آخری وفد تھا۔
ابن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب ابو طالب بیمار پڑ گئے اور قریش کو معلوم ہوا کہ ان کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے تو انہوں نے آپس میں کہا: دیکھو! حمزہ اور عمر مسلمان ہو چکے ہیں اور محمد ﷺ کا دین قریش کے ہر قبیلے میں پھیل چکا ہے۔ اس لیے چلو ابو طالب کے پاس چلیں کہ وہ اپنے بھتیجے کو کسی بات کا پابند کریں اور ہم سے بھی ان کے متعلق عہد لے لیں۔ کیونکہ واللہ! ہمیں اندیشہ ہے لوگ ہمارے قابو میں نہ رہیں گے۔ ایک روایت یہ ہے کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ بڈھا مر گیا اور محمد (ﷺ) کے ساتھ کوئی گڑبڑ ہو گئی تو عرب ہمیں طعنہ دیں گے۔ کہیں گے کہ انہوں نے محمد (ﷺ) کو چھوڑے رکھا۔ (اور اس کے خلاف کچھ کرنے کی ہمت نہ کی) لیکن جب اس کا چچا مر گیا تو اس پر چڑھ دوڑے۔
بہرحال قریش کا یہ وفد ابو طالب کے پاس پہنچا اور ان سے گفت و شنید کی۔ وفد کے ارکان قریش کے معزز ترین افراد تھے، یعنی عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام ، امیہ بن خلف، ابو سفیان بن حرب اور دیگر اشرافِ قریش جن کی کل تعداد تقریبا پچیس تھی۔
انہوں نے کہا:
اے ابو طالب! ہمارے درمیان آپ کا جو مرتبہ و مقام ہے اسے آپ بخوبی جانتے ہیں۔ اور اب آپ جس حالت سے گزر رہے ہیں وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ آپ کے آخری ایام ہیں، ادھر ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے اس سے بھی آپ واقف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ انہیں بلائیں اور ان کے بارے میں ہم سے کچھ عہد و پیمان لیں اور ہمارے بارے میں ان سے عہد و پیمان لیں، یعنی وہ ہم سے دستکش رہیں اور ہم ان سے دستکش رہیں۔ وہ ہم کو ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم ان کو ان کے دین پر چھوڑ دیں۔
اس پر ابو طالب نے آپ ﷺ کو بلوایا اور آپ ﷺ تشریف لائے تو کہا: بھتیجے! یہ تمہاری قوم کے معزز لوگ ہیں، تمہارے ہی لیے جمع ہوئے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں کچھ عہد و پیمان دے دیں اور تم بھی انہیں کچھ عہد و پیمان دے دو۔ اس کے بعد ابو طالب نے ان کی یہ پیشکش ذکر کی کہ کوئی بھی فریق دوسرے سے تعرض نہ کر ے۔
جواب میں رسول اللہ ﷺ نے وفد کو مخاطب کر کے فرمایا: آپ لوگ یہ بتائیں کہ اگر میں ایک ایسی بات پیش کروں جس کے اگر آپ قائل ہو جائیں تو عرب کے بادشاہ بن جائیں اور عجم آپ کے زیرِ نگیں آ جائے تو آپ کی رائے کیا ہو گی؟ بعض روایتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ابو طالب کو مخاطب کر کے فرمایا: میں ان سے ایک ایسی بات چاہتا ہوں جس کے یہ قائل ہو جائیں تو عرب ان کے تابع فرمان بن جائیں اور عجم انہیں جزیہ ادا کریں۔ ایک روایت میں یہ مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: چچا جان! آپ کیوں نہ انہیں ایک ایسی بات کی طرف بلائیں جو ان کے حق میں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: تم انہیں کس بات کی طرف بلانا چاہتے ہو؟۔ آپ نے فرمایا: میں ایک ایسی بات کی طرف بلانا چاہتا ہوں جس کے یہ قائل ہو جائیں تو عرب ان کا تابع فرمان بن جائے اور عجم پر ان کی بادشاہت ہو جائے...ابن اسحاق کی ایک روایت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ لوگ صرف ایک بات مان لیں جس کی بدولت آپ عرب کے بادشاہ بن جائیں گے اور عجم آپ کے زیر نگیں آ جائے گا۔
بہر حال جب یہ بات آپ ﷺ نے کہی تو وہ لوگ کسی قدر توقف میں پڑ گئے اور سٹپٹا سے گئے۔ وہ حیران تھے کہ صرف ایک بات جو اس قدر مفید ہے اسے مسترد کیسے کر دیں؟ آخر کار ابو جہل نے کہا: اچھا بتاؤ تو وہ بات کیا ہے؟ تمہارے باپ کی قسم! ایسی ایک بات کیا دس باتیں بھی پیش کرو تو ہم ماننے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ لوگ لا الٰہ الا اللّٰہ کہیں اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہیں اسے چھوڑ دیں۔ اس پر انہوں نے ہاتھ پیٹ پیٹ کر اور تالیاں بجا بجا کر کہا: محمد! (ﷺ) تم یہ چاہتے ہو کہ سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالو؟ واقعی تمہارا معاملہ بڑا عجیب ہے۔
پھر آپس میں ایک دوسر ے سے بولے: اللہ کی قسم! یہ شخص تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔ لہٰذا چلو اور اپنے آباء و اجداد کے دین پر ڈٹ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس شخص کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی اپنی راہ لی۔ اس واقعے کے بعد انہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں:
ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ﴿١﴾ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ﴿٢﴾ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ﴿٣﴾ وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ﴿٤﴾ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ﴿٥﴾ وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ ﴿٦﴾ مَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ﴿٧﴾ (۳۸: ۱تا۷)
"ص، قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں اِن سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور جب اُن کی شامت آئی ہے) تو وہ چیخ اٹھے ہیں، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا منکرین کہنے لگے کہ "یہ ساحرہے، سخت جھوٹا ہے کیا اِس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے" اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ "چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جا رہی ہے یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات"
(ابن ہشام ۱/۴۱۷ تا ۴۱۹ ، ترمذی حدیث نمبر ۳۲۳۲ (۵/۳۴۱) مسند ابی یعلیٰ حدیث نمبر ۲۵۸۳ (۴/۴۵۶ ) تفسیر ابن جریر)

****​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غم کا سال

ابو طالب کی وفات:
ابو طالب کا مرض بڑھتا گیا اور بالآخر وہ انتقال کر گئے۔ ان کی وفات شعب ابی طالب کی محصوری کے خاتمے کے چھ ماہ بعد رجب ۱۰ نبوی میں ہوئی۔ (سیرت کے مآخذ میں بڑا اختلاف ہے کہ ابو طالب کی وفات کس مہینے میں ہوئی؟ ہم نے رجب کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ بیشتر مآخذ کا اتفاق ہے کہ ان کی وفات شعب ابی طالب سے نکلنے کے چھ ماہ بعد ہوئی اور محصوری کا آغاز محرم ۷ نبوی کی چاند رات سے ہوا تھا۔ اس حساب سے ان کی موت کا زمانہ رجب ۱۰ نبوی ہی ہوتا ہے)
ایک قول یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ ؓ کی وفات سے صرف تین دن پہلے ماہ رمضان میں وفات پائی۔
صحیح بخاری میں حضرت مسیبؒ سے مروی ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، وہاں ابو جہل بھی موجود تھا۔ آپ نے فرمایا: چچا جان! آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجیے۔ بس ایک کلمہ جس کے ذریعے میں اللہ کے پاس آپ کے لیے حجت پیش کر سکوں گا۔ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ نے کہ: ابو طالب! کیا عبد المطلب کی ملت سے رخ پھیر لو گے؟ پھر یہ دونوں برابر ان سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو ابو طالب نے لوگوں سے کہی یہ تھی کہ ''عبد المطلب کی ملت پر۔'' نبی ﷺ نے فرمایا: میں جب تک آپ سے روک نہ دیا جاؤں آپ کے لیے دعائے مغفر ت کرتا رہوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ ﴿١١٤﴾ (۹: ۱۱۳)
''نبی (ﷺ) اور اہل ایمان کے لیے درست نہیں کہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ اگرچہ وہ قربت دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ لوگ جہنمی ہیں۔''
اور یہ آیت بھی نازل ہوئی:
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ (۲۸: ۵۶)
''آپ جسے پسند کریں ہدایت نہیں دے سکتے۔'' (صحیح بخاری باب قصۃ ابی طالب ۱/۵۴۸)
یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابو طالب نے نبی ﷺ کی کس قدر حمایت و حفاظت کی تھی۔ وہ درحقیقت مکے کے بڑوں اور احمقوں کے حملوں سے اسلامی دعوت کے بچاؤ کے لیے ایک قلعہ تھے لیکن وہ بذاتِ خود اپنے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بزرگ آباء و اجداد کی ملت پر قائم رہے۔ اس لیے مکمل کامیابی نہ پا سکے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ اپنے چچا کے کیا کام آ سکے؟ کیونکہ وہ آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے (دوسروں پر) بگڑتے (اور ان سے لڑائی مول لیتے) تھے۔ آپ نے فرمایا: وہ جہنم کی ایک چھچھلی جگہ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے گہرے کھڈ میں ہوتے۔ (صحیح بخاری باب قصۃ ابی طالب ۱/۵۴۸)
ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ ایک بار نبی ﷺ کے پاس آپ کے چچا کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا: ممکن ہے قیامت کے دن انہیں میری شفاعت فائدہ پہنچا دے اور انہیں جہنم کی ایک اوتھلی جگہ میں رکھ دیا جائے، جو صرف ان کے دونوں ٹخنوں تک پہنچ سکے۔ (صحیح بخاری باب قصۃ ابی طالب ۱/۵۴۸)
حضرت خدیجہ ؓ جوارِ رحمت میں:
جناب ابو طالب کی وفات کے دو ماہ بعد یا صرف تین دن بعد ...علی اختلاف الاقوال... حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ ؓ بھی رحلت فرما گئیں۔ ان کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہِ رمضان میں ہوئی۔ اس وقت وہ ۶۵ برس کی تھیں اور رسول اللہ ﷺ اپنی عمر کی پچاسویں منزل میں تھے۔ (رمضان میں وفات کی صراحت ابن جوزی نے تلقیح الفہوم ص ۷ میں اور علامہ منصور پوری نے رحمۃ للعالمین ۲/۱۶۴ میں کی ہے)
حضرت خدیجہؓ رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی گرانقدر نعمت تھیں۔ وہ ایک چوتھائی صدی آپ ﷺ کی رفاقت میں رہیں اور اس دوران رنج و قلق کا وقت آتا تو آپ کے لیے تڑپ اٹھتیں۔ سنگین اور مشکل ترین حالات میں آپ ﷺ کو قوت پہنچاتیں۔ تبلیغ رسالت میں آپ ﷺ کی مدد کرتیں اور اس تلخ ترین جہاد کی سختیوں میں آپ کی شریک کار رہتیں اور اپنی جان و مال سے آپ ﷺ کی خیر خواہی و غمگساری کرتیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس وقت لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا وہ مجھ پر ایمان لائیں۔ جس وقت لوگوں نے مجھے جھٹلایا انہوں نے میری تصدیق کی۔ جس وقت لوگوں نے مجھے محروم کیا انہوں نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی اور دوسری بیویوں سے کوئی اولاد نہ دی۔ (مسند احمد ۶/۱۱۸)
صحیح بخاری میں سیّدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ؓ تشریف لا رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آ پہنچیں تو آپ انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور و شغب ہو گا نہ درماندگی و تکان۔ (صحیح بخاری باب تزویج النبی ﷺ خدیجہ وفضلہا ۱/۵۳۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غم ہی غم:
یہ دونوں الم انگیز حادثے صرف چند دنوں کے دوران پیش آئے۔ جس سے نبی ﷺ کے دل میں غم و الم کے احساسات موجزن ہو گئے اور اس کے بعد قوم کی طرف سے بھی مصائب کا طومار بندھ گیا کیونکہ ابو طالب کی وفات کے بعد ان کی جسارت بڑھ گئی اور وہ کھل کر آپ ﷺ کو اذیت اور تکلیف پہنچانے لگے۔ اس کیفیت نے آپ ﷺ کے غم و الم میں اور اضافہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے ان سے مایوس ہو کر طائف کی راہ لی کہ ممکن ہے وہاں لوگ آپ ﷺ کی دعوت قبول کر لیں۔ آپ ﷺ کو پناہ دے دیں۔ اور آپﷺ کی قوم کے خلاف آپ ﷺ کی مدد کریں لیکن وہاں نہ کوئی پناہ دہندہ ملا نہ مدد گار بلکہ الٹے انہوں نے سخت اذیت پہنچائی اور ایسی بد سلوکی کہ خود آپ ﷺ کی قوم نے ویسی بد سلوکی نہ کی تھی۔(تفصیل آگے آ رہی ہے)
یہاں اس بات کا اعادہ بے محل نہ ہو گا کہ اہل مکہ نے جس طرح نبی ﷺ کے خلاف ظلم و جور کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ اسی طرح وہ آپ ﷺ کے رفقاء کے خلاف بھی ستم رانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے ہمدم و ہمراز سیّدنا ابو بکر صدیقؓ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور حبشہ کے ارادے سے تن بہ تقدیر نکل پڑے، لیکن برکِ غَماَد پہنچے تو ابن دغنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ اپنی پناہ میں آپ کو مکہ واپس لے آیا۔ (اکبر شاہ نجیب آبادی نے صراحت کی ہے کہ یہ واقعہ اسی سال پیش آیا تھا۔ دیکھئے: تاریخ اسلام ۱/۱۲۰، اصل واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ ابن ہشام ۱/۳۷۲ تا ۳۷۴ اور صحیح بخاری ۱/۵۵۲، ۵۵۳ میں مذکور ہے)
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب ابو طالب انتقال کر گئے تو قریش نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی اذیت پہنچائی کہ ابو طالب کی زندگی میں کبھی اس کی آرزو بھی نہ کر سکے تھے حتیٰ کہ قریش کے ایک احمق نے سامنے آ کر آپ ﷺ کے سر پر مٹی ڈال دی۔ آپ ﷺ اسی حالت میں گھر تشریف لائے۔ مٹی آپ ﷺ کے سر پر پڑی ہوئی تھی آپ ﷺ کی ایک صاحبزادی نے اٹھ کر مٹی دھلی، وہ دھلتے ہوئے روتی جا رہی تھیں اور رسول اللہ ﷺ انہیں تسلی دیتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے۔ بیٹی! روؤ مت، اللہ تمہارے ابا کی حفاظت کرے گا۔ اس دوران آپ یہ بھی فرماتے جا رہے تھے کہ قریش نے میرے ساتھ کوئی ایسی بد سلوکی نہ کی جو مجھے ناگوار گزری ہو یہاں تک کہ ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ (ابن ہشام ۱/۴۱۶)
اسی طرح کے پے در پے آلام و مصائب کی بنا پر اس سال کا نام ''عام الحزن'' یعنی غم کا سال پڑ گیا اور یہ سال اسی نام سے تاریخ میں مشہور ہو گیا۔
حضرت سَودَہ ؓ سے شادی:
اسی سال - شوال ۱۰ نبوت - میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ سے شادی کی۔ یہ ابتدائی دور
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میں مسلمان ہو گئی تھیں اور دوسری ہجرت حبشہ کے موقع پر ہجرت بھی کی تھی۔ ان کے شوہر کا نام سکران بن عمرو تھا۔ وہ بھی قدیم الاسلام تھے اور حضرت سودہ نے انہیں کی رفاقت میں حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی لیکن وہ حبشہ ہی میں ... اور کہا جاتا ہے کہ مکہ واپس آکر... انتقال کر گئے ، اس کے بعد جب حضرت سودہؓ کی عدت ختم ہو گئی تو نبی ﷺ نے ان کو شادی کا پیغام دیا اور پھر شادی ہو گئی۔ یہ حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد پہلی بیوی ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے شادی کی۔ چند برس بعد انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی تھی۔ (رحمۃ للعالمین ۲/۱۶۵،تلقیح الفہوم ص ۶)
****​


الرحیق المختوم
 
Top