- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
ابتدائی مسلمانوں کا صبر و ثبات اور اس کے اسباب و عوامل
یہاں پہنچ کر گہری سوجھ بوجھ اور مضبوط دل و دماغ کا آدمی بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور بڑے بڑے عقلاء دم بخود ہو کر پوچھتے ہیں کہ آخر وہ کیا اسباب و عوامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اس قدر انتہائی اور معجزانہ حد تک ثابت قدم رکھا؟ آخر مسلمانوں نے کس طرح ان بے پایاں مظالم پر صبر کیا جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل لرز اٹھتا ہے۔ بار بار کھٹکنے اور دل کی تہوں سے ابھرنے والے اس سوال کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان اسباب و عوامل کی طرف ایک سرسری اشارہ کر دیا جائے۔
ان میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ کی ذاتِ واحد پر ایمان اور اس کی ٹھیک ٹھیک معرفت ہے۔ کیونکہ جب ایمان کی بشاشت دلوں میں جانشیں ہو جاتی ہے تو وہ پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور اسی کا پلہ بھاری رہتا ہے اور جو شخص ایسے ایمانِ محکم اور یقین کامل سے بہرہ ور ہو وہ دنیا کی مشکلات کو ...خواہ وہ جتنی بھی زیادہ ہوں اور جیسی بھی بھاری بھرکم، خطرناک اور سخت ہوں...اپنے ایمان کے بالمقابل اس کائی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا جو کسی بند توڑ اور قلعہ شکن سیلاب کی بالائی سطح پر جم جاتی ہے۔ اس لیے مومن اپنے ایمان کی حلاوت، یقین کی تازگی اور اعتقاد کی بشاشت کے سامنے ان مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ:
فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (۱۳: ۱۷)
''جو جھاگ ہے وہ تو بیکار ہو کر اڑ جاتا ہے اور جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وہ زمین میں برقرار رہتی ہے۔''
پھر اسی ایک سبب سے ایسے اسباب وجود میں آتے ہیں جو اس صبر و ثبات قدمی کو قوت بخشتے ہیں۔ مثلاً:
پر کشش قیادت:... معلوم ہے کہ نبی ﷺ جو امت اسلامیہ بلکہ ساری انسانیت کے سب سے بلند پایہ قائد و رہنما تھے۔ ایسے جسمانی جمال، نفسانی کمال، کریمانہ اخلاق، باعظمت کردار اور شریفانہ عادات و اطوار سے بہرہ ور تھے کہ دل خود بخود آپ ﷺ کی جانب کھنچے جاتے تھے اور طبیعتیں خود بخود آپ ﷺ پر نچھاور ہوتی تھیں کیونکہ جن کمالات پر لوگ جان چھڑکتے ہیں ان سے آپ ﷺ کو اتنا بھر پور حصہ ملا تھا کہ اتنا کسی اور انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔ آپ ﷺ شرف و عظمت اور فضل و کمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے۔ عفت و امانت، صدق و صفا اور جملہ امورِ خیر میں آپ ﷺ کا وہ امتیازی مقام تھا کہ رفقاء تو رفقاء آپ ﷺ کے دشمنوں کو بھی آپ ﷺ کی یکتائی و انفرادیت پر کبھی شک نہ گزرا۔ آپ ﷺ کی زبان سے جو بات نکل گئی، دشمنوں کو بھی یقین ہو گیا کہ وہ سچی ہے اور ہو کر رہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دو ساتھیوں سے چھپ چھپا کر تن تنہا قرآن مجید سنا تھا لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہو گیا تھا۔ انہی تینوں میں سے ایک ابو جہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابو جہل سے دریافت کیا کہ بتاؤ تم نے جو کچھ محمد (ﷺ) سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ ابو جہل نے کہا: میں نے کیا سنا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبد مناف نے شرف و عظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے (غرباء و مساکین کو) کھلایا تو ہم نے بھی کھلایا۔ انہوں نے داد و دہش میں سواریاں عطا کیں تو ہم نے بھی عطا کیں۔ انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا یہاں تک کہ جب ہم اور وہ گھنٹوں گھنٹوں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہو گئے اور ہماری اور ان کی حیثیت ریس کے دو مقابل گھوڑوں کی ہو گئی تو اب بنو عبد مناف کہتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک نبی (ﷺ) ہے جس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ بھلا بتایئے ہم اسے کب پا سکتے ہیں؟ اللہ کی قسم! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے، اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے۔ (ابن ہشام ۱/۳۱۶)
چنانچہ ابو جہل کہا کرتا تھا: اے محمد (ﷺ) ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے لیکن تم جو کچھ لے کر آئے ہو اس کی تکذیب کرتے ہیں اور اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٣٣﴾ (۶: ۳۳)
''یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔'' (ترمذی: تفسیر سورۃ الانعام ۲/۱۳۲)
اس واقعے کی تفصیل گزر چکی ہے کہ ایک روز کفار نے نبی ﷺ کو تین بار لعن طعن کی اور تیسری دفعہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت! میں تمہارے پاس ذبح لے کر آیا ہوں تو یہ بات ان پر اس طرح اثر کر گئی کہ جو شخص عداوت میں سب سے بڑھ کر تھا۔ وہ بھی بہتر سے بہتر جو جملہ پا سکتا تھا اس کے ذریعہ آپ ﷺ کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ اسی طرح اس کی بھی تفصیل گزر چکی ہے کہ جب حالت سجدہ میں آپ ﷺ پر اوجھڑی ڈالی گئی، اور آپ ﷺ نے سر اٹھا نے کے بعد اس حرکت کے کرنے والوں پر بد دعا کی تو ان کی ہنسی ہوا ہو گئی اور ان کے اندر غم و قلق کی لہر دوڑ گئی، انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہم بچ نہیں سکتے۔
یہ واقعہ بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ آپ ﷺ نے ابو لہب کے بیٹے عتیبہ پر بد دعا کی تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ آپ ﷺ کی بد دعا کی زد سے بچ نہیں سکتا۔ چنانچہ اس نے ملک شام کے سفر میں شیر کو دیکھتے ہی کہا: واللہ! محمد (ﷺ) نے مکہ میں رہتے ہوئے مجھے قتل کر دیا۔
ابی بن خلف کا واقعہ ہے کہ وہ بار بار آپ ﷺ کو قتل کہ دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ ایک بار آپ ﷺ نے