- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
دوسری بیعت عقبہ
نبوت کے تیرہویں سال موسم حج - جون ۶۲۲ء - میں یثرب کے ستر سے زیادہ مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ تشریف لائے۔ یہ اپنی قوم کے مشرک حاجیوں میں شامل ہو کر آئے تھے اور ابھی یثرب ہی میں تھے، یا مکے کے راستے ہی میں تھے کہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کب تک رسول اللہ ﷺ کو یوں ہی مکے کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے، اور خوفزدہ کیے جاتے چھوڑے رکھیں گے؟
پھر جب یہ مسلمان مکہ پہنچ گئے تو درپردہ نبیﷺ کے ساتھ سلسلۂ جنبانی شروع کی اور آخر کار اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ دونوں فریق ایام تشریق (ماہ ذی الحجہ کی گیارہ بارہ، تیرہ تاریخوں کو ایامِ تشریق کہتے ہیں) کے درمیانی دن - ۱۲ ذی الحجہ کو - منیٰ میں جمرہ اولیٰ، یعنی جمرہ عقبہ کے پاس جو گھاٹی ہے اسی میں جمع ہوں اور یہ اجتماع رات کی تاریکی میں بالکل خفیہ طریقے پر ہو۔
آیئے اب اس تاریخی اجتماع کے احوال، انصار کے ایک قائد کی زبانی سنیں کہ یہی وہ اجتماع ہے جس نے اسلام و بت پرستی کی جنگ میں رفتارِ زمانہ کا رخ موڑ دیا۔
حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں:
''ہم لوگ حج کے لیے نکلے۔ رسول اللہ ﷺ سے ایام تشریق کے درمیانی روز عَقَبہ میں ملاقات طے ہوئی اور بالآخر وہ رات آ گئی جس میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات طے تھی۔ ہمارے ساتھ ہمارے ایک معزز سردار عبد اللہ بن حرام بھی تھے (جو ابھی اسلام نہ لائے تھے) ہم نے ان کو ساتھ لے لیا تھا - ورنہ ہمارے ساتھ ہماری قوم کے جو مشرکین تھے ہم ان سے اپنا سارا معاملہ خفیہ رکھتے تھے - مگر ہم نے عبد اللہ بن حرام سے بات چیت کی اور کہا: اے ابو جابر! آپ ہمارے ایک معزز اور شریف سربراہ ہیں اور ہم آپ کو آپ کی موجودہ حالت سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کل کلاں کو آگ کا ایندھن نہ بن جائیں۔ اس کے بعد ہم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور بتلایا کہ آج عقبہ میں رسول اللہ ﷺ سے ہماری ملاقات طے ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ہمارے ساتھ عقبہ میں تشریف لے گئے اور نقیب بھی مقرر ہوئے۔''
حضرت کعبؓ واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہم لوگ حسبِ دستور اس رات اپنی قوم کے ہمراہ اپنے ڈیروں میں سوئے، لیکن جب تہائی رات گزر گئی تو اپنے ڈیروں سے نکل نکل کر رسول اللہ ﷺ