• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم دوسری بیعت عقبہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دوسری بیعت عقبہ

نبوت کے تیرہویں سال موسم حج - جون ۶۲۲ء - میں یثرب کے ستر سے زیادہ مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ تشریف لائے۔ یہ اپنی قوم کے مشرک حاجیوں میں شامل ہو کر آئے تھے اور ابھی یثرب ہی میں تھے، یا مکے کے راستے ہی میں تھے کہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کب تک رسول اللہ ﷺ کو یوں ہی مکے کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے، اور خوفزدہ کیے جاتے چھوڑے رکھیں گے؟
پھر جب یہ مسلمان مکہ پہنچ گئے تو درپردہ نبیﷺ کے ساتھ سلسلۂ جنبانی شروع کی اور آخر کار اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ دونوں فریق ایام تشریق (ماہ ذی الحجہ کی گیارہ بارہ، تیرہ تاریخوں کو ایامِ تشریق کہتے ہیں) کے درمیانی دن - ۱۲ ذی الحجہ کو - منیٰ میں جمرہ اولیٰ، یعنی جمرہ عقبہ کے پاس جو گھاٹی ہے اسی میں جمع ہوں اور یہ اجتماع رات کی تاریکی میں بالکل خفیہ طریقے پر ہو۔
آیئے اب اس تاریخی اجتماع کے احوال، انصار کے ایک قائد کی زبانی سنیں کہ یہی وہ اجتماع ہے جس نے اسلام و بت پرستی کی جنگ میں رفتارِ زمانہ کا رخ موڑ دیا۔
حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں:
''ہم لوگ حج کے لیے نکلے۔ رسول اللہ ﷺ سے ایام تشریق کے درمیانی روز عَقَبہ میں ملاقات طے ہوئی اور بالآخر وہ رات آ گئی جس میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات طے تھی۔ ہمارے ساتھ ہمارے ایک معزز سردار عبد اللہ بن حرام بھی تھے (جو ابھی اسلام نہ لائے تھے) ہم نے ان کو ساتھ لے لیا تھا - ورنہ ہمارے ساتھ ہماری قوم کے جو مشرکین تھے ہم ان سے اپنا سارا معاملہ خفیہ رکھتے تھے - مگر ہم نے عبد اللہ بن حرام سے بات چیت کی اور کہا: اے ابو جابر! آپ ہمارے ایک معزز اور شریف سربراہ ہیں اور ہم آپ کو آپ کی موجودہ حالت سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کل کلاں کو آگ کا ایندھن نہ بن جائیں۔ اس کے بعد ہم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور بتلایا کہ آج عقبہ میں رسول اللہ ﷺ سے ہماری ملاقات طے ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ہمارے ساتھ عقبہ میں تشریف لے گئے اور نقیب بھی مقرر ہوئے۔''
حضرت کعبؓ واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہم لوگ حسبِ دستور اس رات اپنی قوم کے ہمراہ اپنے ڈیروں میں سوئے، لیکن جب تہائی رات گزر گئی تو اپنے ڈیروں سے نکل نکل کر رسول اللہ ﷺ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کے ساتھ طے شدہ مقام پر جا پہنچے۔ ہم اس طرح چپکے چپکے دبک کر نکلتے تھے جیسے چڑیا گھونسلے سے سکڑ کر نکلتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم سب عقبہ میں جمع ہو گئے۔ ہماری کل تعداد پچھتّر تھی۔ تہتر مرد اور دو عورتیں ایک ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں۔ جو قبیلہ بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھتی تھیں اور دوسری ام منیع اسماء بنت عمرو تھیں۔ جن کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا۔
ہم سب گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنے لگے اور آخر وہ لمحہ آہی گیا جب آپ تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب بھی تھے۔ وہ اگر چہ ابھی تک اپنی قوم کے دین پر تھے مگر چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے معاملہ میں موجود رہیں اور ان کے لیے پختہ اطمینان حاصل کر لیں۔ سب سے پہلے بات بھی انہیں نے شروع کی۔ (ابن ہشام ۱/۴۴۰، ۴۴۱)
گفتگو کا آغاز اور حضرت عباس ؓ کی طرف سے معاملے کی نزاکت کی تشریح :
مجلس مکمل ہو گئی تو دینی اور فوجی تعاون کے عہد و پیمان کو قطعی اور آخری شکل دینے کے لیے گفتگو کا آغاز ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس نے سب سے پہلے زبان کھولی۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ پوری صراحت کے ساتھ اس ذمہ داری کی نزاکت واضح کر دیں جو اس عہد و پیمان کے نتیجے میں ان حضرات کے سر پڑنے والی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کہا:
خزرج کے لوگو! عام اہل عرب انصار کے دونوں ہی قبیلے، یعنی خزرج اور اوس کو خزرج ہی کہتے تھے - ہمارے اندر محمد ﷺ کی جو حیثیت ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ ہماری قوم کے جو لوگ دینی نقطۂ نظر سے ہمارے ہی جیسی رائے رکھتے ہیں۔ ہم نے محمد ﷺ کو ان سے محفوظ رکھا ہے۔ وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں قوت و عزت اور طاقت و حفاظت کے اندر ہیں۔ مگر اب وہ تمہارے یہاں جانے اور تمہارے ساتھ لاحق ہونے پر مصر ہیں۔ لہٰذا اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تم انہیں جس چیز کی طرف بلا رہے ہو اسے نبھا لو گے اور انہیں ان کے مخالفین سے بچا لو گے تب تو ٹھیک ہے۔ تم نے جو ذمے داری اٹھائی ہے اسے تم جانو لیکن اگر تمہارا یہ اندازہ ہے کہ تم انہیں اپنے پاس لے جانے کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ کر کنارہ کش ہو جاؤ گے تو پھر ابھی سے انہیں چھوڑ دو۔ کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں بہر حال عزت و حفاظت سے ہیں۔
حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عباس ؓ سے کہا کہ آپ کی بات ہم نے سن لی۔ اب اے اللہ کے رسول! آپ گفتگو فرمائیے اور اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے جو عہد و پیمان پسند کریں۔ (ابن ہشام ۱/۴۴۱، ۴۴۲)
اس جواب سے پتہ چلتا ہے کہ اس عظیم ذمے داری کو اٹھانے اور اس پر خطر نتائج کو جھیلنے کے سلسلے میں انصار
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کے عزمِ محکم، شجاعت و ایمان اور جوش و اخلاص کا کیا حال تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے گفتگو فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قرآن کی تلاوت کی، اللہ کی طرف دعوت دی اور اسلام کی ترغیب دی، اس کے بعد بیعت ہوئی۔
بیعت کی دفعات:
بیعت کا واقعہ امام احمدؒ نے حضرت جابرؓ سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حضرت جابر ؓ کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے کس بات پر بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات پر کہ:
چستی اور سستی ہر حال میں بات سنو گے اور مانو گے۔
تنگی اور خوشحالی ہر حال میں مال خرچ کرو گے۔
بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے۔
اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہو گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرو گے۔
اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں گا تو میری مدد کرو گے اور جس چیز سے اپنی جان اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو اس سے میری بھی حفاظت کرو گے۔ اور تمہارے لیے جنت ہے۔ (اسے امام احمد بن حنبل نے حسن سند سے روایت کیا ہے ۳/۳۲۲، بیہقی نے سنن کبریٰ میں روایت کیا ہے ۹/۹ اور اما م حاکم اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ ابن اسحاق نے قریب قریب یہی چیز حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت کی ہے۔ البتہ اس میں ایک دفعہ کا اضافہ کیا ہے جو یہ ہے کہ ہم اہلِ حکومت سے حکومت کے لیے نزاع نہ کریں گے۔ دیکھئے: ابن ہشام ۱/۴۵۴)
حضرت کعبؓ کی روایت میں ...جسے ابنِ اسحاق نے ذکر کیا ہے...صرف آخری دفعہ (۵) کا ذکر ہے۔ چنانچہ اس میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی تلاوت، اللہ کی طرف دعوت اور اسلام کی ترغیب دینے کے بعد فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اس چیز سے میری حفاظت کرو گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اس پر حضرت براء ؓ بن معرور نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے! ہم یقینا اس چیز سے آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں...لہٰذا اے اللہ کے رسول! آپ ہم سے بیعت لیجئے۔ ہم اللہ کی قسم! جنگ کے بیٹے ہیں اور ہتھیار ہمارا کھلونا ہے۔ ہماری یہی ریت باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔
حضرت کعب ؓ کہتے ہیں کہ حضرت براء رسول اللہ ﷺ سے بات کر ہی رہے تھے کہ ابو الہثیم بن تیہان نے بات کاٹتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اور کچھ لوگوں...یعنی یہود...کے درمیان -عہد و پیمان کی- رسیاں ہیں اور اب ہم ان رسیوں کو کاٹنے والے ہیں، تو کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ ہم ایسا کر ڈالیں پھر اللہ آپ ﷺ کو غلبہ و ظہور عطا فرمائے تو آپ ﷺ ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کی طرف پلٹ آئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا، پھر فرمایا: (نہیں) بلکہ آپ لوگوں کا خون میرا خون اور آپ لوگوں کی بربادی میری بربادی ہے۔ میں آپ سے ہوں اور آپ مجھ سے ہیں۔ جس سے آپ جنگ کریں گے اس سے میں جنگ کروں گا اور جس سے آپ صلح کریں گے اس سے میں صلح کروں گا۔ (ابن ہشام ۱/۴۴۲)
خطرناکیء بیعت کی مکرر یاد دہانی:
بیعت کی شرائط کے متعلق گفت و شنید مکمل ہو چکی، اور لوگوں نے بیعت شروع کرنے کا ارادہ کیا تو صفِ اول کے دو مسلمان جو ۱۱ نبوت اور ۱۲ نبوت کے ایام حج میں مسلمان ہوئے تھے۔ یکے بعد دیگرے اٹھے تاکہ لوگوں کے سامنے ان کی ذمے داری کی نزاکت اور خطرناکی کو اچھی طرح واضح کر دیں اور یہ لوگ معاملے کے سارے پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد ہی بیعت کریں۔ اس سے یہ بھی پتہ لگانا مقصود تھا کہ قوم کس حد تک قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب لوگ بیعت کے لیے جمع ہو گئے تو حضرت عباس ؓ بن عبادہ بن نضلہ نے کہا: تم لوگ جانتے ہو کہ ان سے (اشارہ نبی ﷺ کی طرف تھا) کس بات پر بیعت کر رہے ہو؟ جی ہاں کی آوازوں پر حضرت عباسؓ نے کہا: تم ان سے سرخ اور سیاہ لوگوں سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو۔ اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ جب تمہارے اموال کا صفایا کر دیا جائے گا اور تمہارے اشراف قتل کر دیئے جائیں گے تو تم ان کا ساتھ چھوڑ دو گے تو ابھی سے چھوڑ دو۔ کیونکہ اگر تم نے انہیں لے جانے کے بعد چھوڑ دیا تو یہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ہو گی اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تم مال کی تباہی اور اشراف کے قتل کے باوجود عہد نبھاؤ گے جس کی طرف تم نے انہیں بلایا ہے تو پھر بے شک تم انہیں لے لو۔ کیونکہ یہ اللہ کی قسم دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔
اس پر سب نے بیک آواز کہا: ہم مال کی تباہی اور اشراف کے قتل کا خطرہ مول لے کر انہیں قبول کرتے ہیں۔ ہاں! اے اللہ کے رسول! ہم نے یہ عہد پورا کیا تو ہمیں اس کے عوض کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جنت۔ لوگوں نے عرض کی: اپنا ہاتھ پھیلائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیلا یا اور لوگوں نے بیعت کی۔ (ایضاً ۱/۴۴۶)
حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ اس وقت ہم بیعت کرنے اٹھے تو حضرت اسعد بن زرارہ نے ... جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے...آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل یثرب! ذرا ٹھہر جاؤ۔ ہم آپ کی خدمت میں اونٹوں کے ۲ کلیجے مار کر (لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آج آپ ﷺ کو یہاں سے لے جانے کے معنی ہیں سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل، اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انہیں لے چلو۔ اور تمہارا اجر اللہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انہیں ابھی سے چھوڑ دو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابلِ قبول عذر ہو گا۔ (مسند احمد حضرت جابرؓ سے ۳/۳۲۲۔ بیہقی، سنن کبریٰ ۹/۹)
بیعت کی تکمیل:
بیعت کی دفعات پہلے ہی طے ہو چکی تھیں ، ایک بار نزاکت کی وضاحت بھی ہو چکی تھی۔ اب یہ تاکید مزید ہوئی تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اسعد بن زرارہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ۔ اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ (ایضاً سابقہ حوالے)
اس جواب سے حضرت اسعدؓ کو اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ قوم کس حد تک اس راہ میں جان دینے کے لیے تیار ہے -- درحقیقت حضرت اسعد بن زرارہ حضرت مُصعب بن عُمیر کے ساتھ مل کر مدینے میں اسلام کے سب سے بڑے مبلغ تھے۔ اس لیے طبعی طور پر وہی ان بیعت کنندگان کے دینی سربراہ بھی تھے اور اسی لیے سب سے پہلے انہی نے بیعت بھی کی۔ چنانچہ ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ بنو النجار کہتے ہیں کہ ابو امامہ اسعدبن زرارہ سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے آپ ﷺ سے ہاتھ ملایا۔ (ابن اسحاق کا یہ بھی بیان ہے کہ بنو عبد الاشہل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ابو الہثیم بن تیہان نے بیعت کی اور حضرت کعب بن مالک کہتے ہیں کہ براء بن معرور نے کی (ابن ہشام ۱/۴۴۷) راقم کا خیال ہے کہ ممکن ہے بیعت سے پہلے نبی ﷺ سے حضرت ابو الہثیم اور براء کی جو گفتگو ہوئی تھی۔ لوگوں نے اسی کو بیعت شمار کر لیا ہو۔ ورنہ اس وقت آگے بڑھائے جانے کے سب سے زیادہ حقدار حضرت اسعد بن زرارہ ہی تھے۔ واللہ اعلم) اور اس کے بعد بیعتِ عامہ ہوئی۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک ایک آدمی کر کے اٹھے اور آپ ﷺ نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض جنت کی بشارت دی۔ (مسند احمد ۳/۳۲۲)
باقی رہیں دو عورتیں جو اس موقعے پر حاضر تھیں تو ان کی بیعت صرف زبانی ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی اجنبی عورت سے مصافحہ نہیں کیا۔ (دیکھئے : صحیح مسلم باب کیفیۃ بیعۃ النساء ۲/۱۳۱)
بارہ نقیب:
بیعت مکمل ہو چکی تو رسول اللہ ﷺ نے یہ تجویز رکھی کہ بارہ سربراہ منتخب کر لیے جائیں۔ جو اپنی اپنی قوم کے نقیب ہوں اور اس بیعت کی دفعات کی تنفیذ کے لیے اپنی قوم کی طرف سے وہی ذمے دار اور مکلف ہوں۔ آپ کا ارشاد تھا کہ لوگ اپنے اندر سے بارہ نقیب پیش کیجیے تاکہ وہی لوگ اپنی اپنی قوم کے معاملات کے ذمہ دار ہوں۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد پر فوراً ہی نقیبوں کا انتخاب عمل میں آ گیا۔ نو خَزَرج سے منتخب کیے گئے اور تین اَوس سے۔ نام یہ ہیں :
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خزر ج کے نقباء:
۱۔ اسعد بن زرارہ بن عدس ۲۔ سعد بن ربیع بن عَمرو
۳۔ عبد اللہ بن رواحہ بن ثعلبہ ۴۔رافع بن مالک بن عجلان
۵۔ براء بن معرور بن صخر ۶۔ عبد اللہ بن عَمرو بن حرام
۷۔ عبادہ بن صامت بن قیس ۸۔ سَعد بن عُبادہ بن دلیم
۹۔ مُنذر بن عَمرو بن خنیس
اوس کے نقباء :
۱۔ اُسید بن حضیر بن سماک ۲۔ سعد بن خیثمہ بن حارث
۳۔ رِفَاعہ بن عبد المنذر بن زبیر
(زبیر ، حرف ب سے، بعض لوگوں نے ب کی جگہ ن کہا ہے یعنی زنیر۔ بعض اہل سیر نے رفاعہ کے بدلے ابو الہثیم بن تیہان کا نام درج کیا ہے)
جب ان نقباء کا انتخاب ہو چکا تو ان سے سردار اور ذمے دار ہونے کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ نے ایک اور عہد لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ لوگ اپنی قوم کے جملہ معاملات کے کفیل ہیں۔ جیسے حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانب سے کفیل ہوئے تھے اور میں اپنی قوم یعنی مسلمانوں کا کفیل ہوں۔ ان سب نے کہا: جی ہاں۔ (ابن ہشام ۱/۴۴۳، ۴۴۴، ۴۴۶)
شیطان معاہدہ کا انکشاف کرتا ہے:
معاہدہ مکمل ہو چکا تھا اور اب لوگ بکھرنے ہی والے تھے کہ ایک شیطان کو اس کا پتہ لگ گیا۔ چونکہ یہ انکشاف بالکل آخری لمحات میں ہوا تھا اور اتنا موقع نہ تھا کہ یہ خبر چپکے سے قریش کو پہنچا دی جائے، اور وہ اچانک اس اجتماع کے شرکاء ٹوٹ پڑیں، اور انہیں گھاٹی ہی میں جالیں۔ اس لیے شیطان نے جھٹ ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر نہایت بلند آواز سے، جو شاید ہی کبھی سنی گئی ہو، یہ پکار لگائی: خیمے والو! محمد (ﷺ) کو دیکھو۔ اس وقت بد دین اس کے ساتھ ہیں اور تم سے لڑنے کے لیے جمع ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اس گھاٹی کا شیطان ہے۔ او اللہ کے دشمن! سن، اب میں تیرے لیے جلد ہی فارغ ہو رہا ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ وہ اپنے ڈیروں پر چلے جائیں۔ (ابن ہشام ۱/۴۴۷، زاد المعاد ۲/۵۱)
قریش پر ضرب لگانے کے لیے انصار کی مستعدی:
اس شیطان کی آواز سن کر حضرت عباس عبادہ بن نضلہؓ نے فر مایا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، آپ چاہیں تو ہم کل اہل منیٰ پر اپنی تلواروں کے ساتھ ٹوٹ پڑیں۔ آپ نے فرمایا:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ بس آپ لوگ اپنے ڈیروں میں چلے جائیں۔ اس کے بعد لوگ واپس جا کر سو گئے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ (ابن ہشام ۱/۴۴۸)
رؤساء یثرب سے قریش کا احتجاج:
یہ خبر قریش کے کانوں تک پہنچی تو غم و الم کی شدت سے ان کے اندر کہرام مچ گیا۔ کیونکہ اس جیسی بیعت کے جو نتائج ان کی جان و مال پر مرتب ہو سکتے تھے اس کا انہیں اچھی طرح اندازہ تھا۔ چنانچہ صبح ہوتے ہی ان کے رؤساء اور اکابر مجرمین کے ایک بھاری بھرکم وفد نے اس معاہدے کے خلاف سخت احتجاج کے لیے اہل یثرب کے خیموں کا رخ کیا، اور یوں عرض پرداز ہوا۔
خزرج کے لوگو! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ ہمارے اس صاحب کو ہمارے درمیان سے نکال لے جانے کے لیے آئے ہیں اور ہم سے جنگ کرنے کے لیے اس کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں۔ حالانکہ کوئی عرب قبیلہ ایسا نہیں جس سے جنگ کرنا ہمارے لیے اتنا زیادہ ناگوار ہو جتنا آپ حضرات سے ہے۔ (ایضاً ۱/۴۴۸)
لیکن چونکہ مشرکین خزرج اس بیعت کے بارے میں سرے سے کچھ جانتے ہی نہ تھے، کیونکہ یہ مکمل راز داری کے ساتھ رات کی تاریکی میں زیر عمل آئی تھی اس لیے ان مشرکین نے اللہ کی قسم کھا کھا کر یقین دلایا کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ ہم اس طرح کی کوئی بات سرے سے جانتے ہیں نہیں۔ بالآخر یہ وفد عبد اللہ بن اُبی ابن سلول کے پاس پہنچا۔ وہ بھی کہنے لگا یہ باطل ہے۔ ایسا نہیں ہوا ہے، اور یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میری قوم مجھے چھوڑ کر اس طرح کا کام کر ڈالے۔ اگر میں یثرب میں ہوتا تو بھی مجھ سے مشورہ کیے بغیر میری قوم ایسا نہ کرتی۔
باقی رہے مسلمان تو انہوں نے کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ سادھ لی۔ ان میں سے کسی نے ہاں یا نہیں کے ساتھ زبان ہی نہیں کھولی۔ آخر رؤساء قریش کا رجحان یہ رہا کہ مشرکین کی بات سچ ہے، اس لیے وہ نامراد واپس چلے گئے۔
خبر کا تیقن اور بیعت کرنے والوں کا تعاقب:
رؤساء مکہ تقریباً اس یقین کے ساتھ پلٹے تھے کہ یہ خبر غلط ہے، لیکن اس کی کرید میں وہ برابر لگے رہے۔ بالآخر انہیں یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ خبر صحیح ہے اور بیعت ہو چکی ہے لیکن یہ پتہ اس وقت چلا جب حجاج اپنے اپنے وطن روانہ ہو چکے تھے۔ اس لیے ان کے سواروں نے تیز رفتاری سے اہل یثرب کا پیچھا کیا لیکن موقع نکل چکا تھا۔ البتہ انہوں نے سعد بن عبادہ اور منذر بن عمرو کو دیکھ لیا اور انہیں جا کھدیڑا لیکن منذر زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئے اور نکل بھاگے۔ البتہ سعد بن عبادہ پکڑ لیے گئے اور ان کا ہاتھ گردن کے پیچھے انہی کے کجاوے کی رسی سے باندھ دیا گیا۔ پھر انہیں مارتے پیٹتے اور بال نوچتے ہوئے مکہ لے جایا گیا لیکن وہاں مطعم بن عدی اور حارث بن حرب بن امیہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نے آ کر چھڑا دیا۔ کیونکہ ان دونوں کے جو قافلے مدینے سے گزرتے تھے۔ وہ حضرت سعد ؓ ہی کی پناہ میں گزرتے تھے۔ ادھر انصار ان کی گرفتاری کے بعد باہم مشورہ کر رہے تھے کہ کیوں نہ دھاوا بول دیا جائے، مگر اتنے میں وہ دکھائی پڑ گئے اس کے بعد تمام لوگ بخیر یت مدینہ پہنچ گئے۔ (زاد المعاد ۲/۵۱، ۵۲۔ ابن ہشام ۱/۴۴۸ - ۴۵۰)
یہی عقبہ کی دوسری بیعت ہے جسے بیعتِ عقبہ کُبریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بیعت ایک ایسی فضا میں زیر عمل آئی جس پر محبت و وفاداری، منتشر اہلِ ایمان کے درمیان تعاون و تناصر، باہمی اعتماد ، اور جاں سپاری و شجاعت کے جذبات چھائے ہوئے تھے۔ چنانچہ یثربی اہلِ ایمان کے دل اپنے کمزور مکی بھائیوں کی شفقت سے لبریز تھے، ان کے اندر ان بھائیوں کی حمایت کا جوش تھا اور ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف غم و غصہ تھا۔ ان کے سینے اپنے اس بھائی کی محبت سے سرشار تھے جسے دیکھے بغیر محض للہ فی اللہ اپنا بھائی قرار دے لیا تھا۔
اور یہ جذبات واحساسات محض کسی عارضی کشش کا نتیجہ نہ تھے۔ جو دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ بلکہ اس کا منبع ایمان باللہ، ایمان بالرسول اور ایمان بالکتاب تھا۔ یعنی وہ ایمان جوظلم و عدوان کی کسی بڑی سے بڑی قوت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا۔ وہ ایمان کہ جب اس کی باد بہاری چلتی ہے تو عقیدہ و عمل میں عجائبات کا ظہور ہوتا ہے۔ اسی ایمان کی بدولت مسلمانوں نے صفحاتِ زمانہ پر ایسے ایسے کارنامے ثبت کیے اور ایسے ایسے آثار و نشانات چھوڑے کہ ان کی نظیر سے ماضی و حاضر خالی ہیں اور غالباً مستقبل بھی خالی ہی رہے گا۔
****​
 
Top