• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم قریش کی پارلیمنٹ دار الندوہ میں

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قریش کی پارلیمنٹ دار الندوہ میں

جب مشرکین نے دیکھا کہ صحابہ کرامؓ تیار ہو ہو کر نکل گئے اور بال بچوں اور مال و دولت کو لاد پھاند کر اَوس و خَزرَج کے علاقے میں جا پہنچے تو ان میں بڑا کہرام مچا۔ غم والم کے لاوے پھوٹ پڑے اور انہیں ایسا رنج و قلق ہوا کہ اس سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا۔ اب ان کے سامنے ایک ایسا عظیم اور حقیقی خطرہ مجسم ہو چکا تھا جو ان کی بت پرستانہ اور اقتصادی اجتماعیت کے لیے چیلنج تھا۔
مشرکین کو معلوم ہوا تھا کہ محمد ﷺ کے اندر کمال قیادت و رہنمائی کے ساتھ ساتھ کس قدر انتہائی درجہ قوتِ تاثیر موجود ہے اور آپ ﷺ کے صحابہ میں کیسی عزیمت و استقامت اور کیسا جذبہ فدا کاری پایا جاتا ہے۔ پھر اوس و خزرج کے قبائل میں کس قدر قوت و قدرت اور جنگی صلاحیت ہے اور ان دونوں قبائل کے عقلاء میں صلح و صفائی کے کیسے جذبات ہیں اور وہ کئی برس تک خانہ جنگی کی تلخیاں چکھنے کے بعد اب باہمی رنج و عداوت کو ختم کرنے پر کس قدر آمادہ ہیں۔
انہیں اس کا بھی احساس تھا کہ یمن سے شام تک بحر احمر کے ساحل سے ان کی جو تجارتی شاہراہ گزرتی ہے۔ اس شاہراہ کے اعتبار سے مدینہ فوجی اہمیت کے کس قدر حساس اور نازک مقام پر واقع ہے۔ درآں حالیکہ ملک شام سے صرف مکہ والوں کی سالانہ تجارت ڈھائی لاکھ دینار سونے کے تناسب سے ہوا کرتی تھی۔ اہل طائف وغیرہ کی تجارت اس کے علاوہ تھی اور معلوم ہے کہ اس تجارت کا سارا دار و مدار اس پر تھا کہ یہ راستہ پُر امن رہے۔
ان تفصیلات سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یثرب میں اسلامی دعوت کے جڑ پکڑنے اور اہل مکہ کے خلاف اہل یثرب کے صف آرا ہونے کی صورت میں مکے والوں کے لیے کتنے خطرات تھے۔ چونکہ مشرکین کو اس گھمبیر خطرے کا پورا پورا احساس تھا، جو ان کے وجود کے لیے چیلنج بن رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے اس خطرے کا کامیاب ترین علاج سوچنا شروع کیا اور معلوم ہے کہ اس خطرے کی اصل بنیاد دعوتِ اسلام کے علمبردار حضرت محمد ﷺ ہی تھے۔
مشرکین نے اس مقصد کے لیے بیعتِ عقبہ کبریٰ کے تقریباً ڈھائی مہینہ بعد ۲۶؍ صفر ۱۴ نبوت مطابق ۱۲/ ستمبر ۶۲۲ یوم جمعرات (یہ تاریخ علامہ منصور پوری کی درج کردہ تحقیقات کی روشنی میں متعین کی گئی ہے۔ رحمۃ للعالمین ۱/۹۵، ۹۷،۱۰۲، ۲/۴۷۱) کو دن کے پہلے پہر (پہلے پہر اس اجتماع کے منعقد ہونے کی دلیل ابن اسحاق کی وہ روایت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں اس اجتماع کی خبر لے کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ صحیح بخاری میں مروی حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت کو ملا لیجئے کہ نبی ﷺ ٹھیک دوپہر کے وقت حضرت ابو بکرؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ''مجھے روانگی کی اجازت دے دی گئی ہے۔'' روایت بہ تفصیل آگے آ رہی ہے) مکے کی پارلیمنٹ دار الندوہ میں تاریخ کا سب سے خطرناک اجتماع
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
منعقد کیا اور اس میں قریش کے تمام قبائل کے نمائندوں نے شرکت کی۔ موضوع بحث ایک ایسے قطعی پلان کی تیاری تھی جس کے مطابق اسلامی دعوت کے علمبردار کا قصہ بہ عجلت تمام پاک کر دیا جائے اور اس دعوت کی روشنی کلی طور پر مٹا دی جائے۔
اس خطرناک اجتماع میں نمائندگان قبائل قریش کے نمایاں چہرے یہ تھے:
ابو جہل بن ہشام قبیلہ بنی مخزوم سے۔
جبیر بن مطعم، طعیمہ بن عدی اور حارث بن عامر بنی نوفل بن عبد مناف سے
شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ابو سفیان بن حرب بنی عبد شمس بن عبد مناف سے
نضر بن حارث بنی عبد الدار سے
ابو البختری بن ہشام، زمعہ بن اسود اور حکیم بن حزام بنی اسد بن عبد العزیٰ سے
نبیہ بن حجاج اور منبہ بن حجاج بنی سہم سے
امیہ بن خلف بنی جمح سے
وقتِ مقررہ پر نمائندگان دار الندوہ پہنچے تو ابلیس بھی ایک شیخ جلیل کی صورت، عبا اوڑھے، راستہ روکے، دروازے پر آن کھڑا ہوا۔ لوگوں نے کہا: یہ کون شیخ ہیں؟ ابلیس نے کہا: یہ اہلِ نجد کا ایک شیخ ہے۔ آپ لوگوں کا پروگرام سن کر حاضر ہو گیا ہے۔ باتیں سننا چاہتا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ آپ لوگوں کو خیر خواہانہ مشور ے سے بھی محروم نہ رکھے۔ لوگوں نے کہا: بہتر ہے آپ بھی آ جائیے۔ چنانچہ ابلیس بھی ان کے ساتھ اندر گیا۔
پارلیمانی بحث اور نبی ﷺ کے قتل کی ظالمانہ قرار داد پر اتفاق:
اجتماع مکمل ہو گیا تو تجاویز اور حل پیش کیے جانے شروع ہوئے اور دیر تک بحث جاری رہی۔ پہلے ابو الاسود نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم اس شخص کو اپنے درمیان سے نکال دیں اور اپنے شہر سے جلا وطن کر دیں، پھر ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ وہ کہاں جاتا اور کہا ں رہتا ہے۔ بس ہمارا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور ہمارے درمیان پہلے جیسی یگانگت ہو جائے گی۔
مگر شیخ نجدی نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! یہ مناسب رائے نہیں ہے۔ تم دیکھتے نہیں کہ اس شخص کی بات کتنی عمدہ اور بول کتنے میٹھے ہیں اور جو کچھ لاتا ہے اس کے ذریعے کس طرح لوگوں کا دل جیت لیتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو کچھ اطمینان نہیں کہ وہ عرب کے کسی قبیلے میں نازل ہو اور انہیں اپنا پیرو بنا لینے کے بعد تم پر یورش کر دے، اور تمہیں تمہارے شہر کے اندر روند کر تم سے جیسا سلوک چاہے کرے۔ اس کے بجائے کوئی اور تجویز سوچو۔
ابو البختری نے کہا: اسے لوہے کی بیڑیوں میں جکڑ کر قید کر دو اور باہر سے دروازہ بند کر دو۔ پھر اسی انجام (موت) کا انتظار کرو جو اس سے پہلے دوسرے شاعروں مثلا: زہیر اور نابغہ وغیرہ کا ہو چکا ہے۔
شیخ نجدی نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! یہ بھی مناسب رائے نہیں۔ واللہ! اگر تم لوگوں نے اسے قید کر دیا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو اس کی خبر بند دروازے سے باہر نکل کر اس کے ساتھیوں تک ضرور پہنچ جائے گی۔ پھر کچھ بعید نہیں کہ وہ لوگ تم پر دھاوا بول کر اس شخص کو تمہارے قبضے سے نکال لے جائیں۔ پھر اس کی مدد سے اپنی تعداد بڑھا کر تمہیں مغلوب کر لیں-- لہٰذا یہ بھی مناسب رائے نہیں، کوئی اور تجویز سوچو۔
یہ دونوں تجاویز پارلیمنٹ رد کر چکی تو ایک تیسری مجرمانہ تجویز پیش کی گئی۔ جس سے تمام ممبران نے اتفاق کیا۔ اسے پیش کرنے والا مکے کا سب سے بڑا مجرم ابو جہل تھا۔ اس نے کہا: اس شخص کے بارے میں میری ایک رائے ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب تک تم لوگ اس پر نہیں پہنچے، لوگوں نے کہا: ابو الحکم وہ کیا ہے؟ ابو جہل نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ ہم ہر ہر قبیلے سے ایک مضبوط، صاحبِ نسب اور بان کا جوان منتخب کر لیں، پھر ہر ایک کو تیز تلوار دیں۔ اس کے بعد سب کے سب اس شخص کا رخ کریں اوراس طرح یکبارگی تلوار مار کر قتل کر دیں، جیسے ایک ہی آدمی نے تلوار ماری ہو۔ یوں ہمیں اس شخص سے راحت مل جائے گی اور اس طرح قتل کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس شخص کا خون سارے قبائل میں بکھر جائے گا اور بنو عبد مناف سارے قبیلوں سے جنگ نہ کر سکیں گے۔ لہٰذا دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم دیت ادا کر دیں گے۔
شیخ نجدی نے کہا: بات یہ رہی جو اس جوان نے کہی۔ اگر کوئی تجویز اور رائے ہو سکتی ہے تو یہی ہے، دیگر ہیچ۔
اس کے بعد پارلیمان مکہ نے اس مجرمانہ قرار داد پر اتفاق کر لیا اور ممبران اس عزم مصمم کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس گئے کہ اس قرار داد کی تنفیذ علی الفور کرنی ہے۔ (ابن ہشام ۱/۴۸۰- ۴۸۲)
****​
 
Top