- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
قریش کی پارلیمنٹ دار الندوہ میں
جب مشرکین نے دیکھا کہ صحابہ کرامؓ تیار ہو ہو کر نکل گئے اور بال بچوں اور مال و دولت کو لاد پھاند کر اَوس و خَزرَج کے علاقے میں جا پہنچے تو ان میں بڑا کہرام مچا۔ غم والم کے لاوے پھوٹ پڑے اور انہیں ایسا رنج و قلق ہوا کہ اس سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا۔ اب ان کے سامنے ایک ایسا عظیم اور حقیقی خطرہ مجسم ہو چکا تھا جو ان کی بت پرستانہ اور اقتصادی اجتماعیت کے لیے چیلنج تھا۔
مشرکین کو معلوم ہوا تھا کہ محمد ﷺ کے اندر کمال قیادت و رہنمائی کے ساتھ ساتھ کس قدر انتہائی درجہ قوتِ تاثیر موجود ہے اور آپ ﷺ کے صحابہ میں کیسی عزیمت و استقامت اور کیسا جذبہ فدا کاری پایا جاتا ہے۔ پھر اوس و خزرج کے قبائل میں کس قدر قوت و قدرت اور جنگی صلاحیت ہے اور ان دونوں قبائل کے عقلاء میں صلح و صفائی کے کیسے جذبات ہیں اور وہ کئی برس تک خانہ جنگی کی تلخیاں چکھنے کے بعد اب باہمی رنج و عداوت کو ختم کرنے پر کس قدر آمادہ ہیں۔
انہیں اس کا بھی احساس تھا کہ یمن سے شام تک بحر احمر کے ساحل سے ان کی جو تجارتی شاہراہ گزرتی ہے۔ اس شاہراہ کے اعتبار سے مدینہ فوجی اہمیت کے کس قدر حساس اور نازک مقام پر واقع ہے۔ درآں حالیکہ ملک شام سے صرف مکہ والوں کی سالانہ تجارت ڈھائی لاکھ دینار سونے کے تناسب سے ہوا کرتی تھی۔ اہل طائف وغیرہ کی تجارت اس کے علاوہ تھی اور معلوم ہے کہ اس تجارت کا سارا دار و مدار اس پر تھا کہ یہ راستہ پُر امن رہے۔
ان تفصیلات سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یثرب میں اسلامی دعوت کے جڑ پکڑنے اور اہل مکہ کے خلاف اہل یثرب کے صف آرا ہونے کی صورت میں مکے والوں کے لیے کتنے خطرات تھے۔ چونکہ مشرکین کو اس گھمبیر خطرے کا پورا پورا احساس تھا، جو ان کے وجود کے لیے چیلنج بن رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے اس خطرے کا کامیاب ترین علاج سوچنا شروع کیا اور معلوم ہے کہ اس خطرے کی اصل بنیاد دعوتِ اسلام کے علمبردار حضرت محمد ﷺ ہی تھے۔
مشرکین نے اس مقصد کے لیے بیعتِ عقبہ کبریٰ کے تقریباً ڈھائی مہینہ بعد ۲۶؍ صفر ۱۴ نبوت مطابق ۱۲/ ستمبر ۶۲۲ یوم جمعرات (یہ تاریخ علامہ منصور پوری کی درج کردہ تحقیقات کی روشنی میں متعین کی گئی ہے۔ رحمۃ للعالمین ۱/۹۵، ۹۷،۱۰۲، ۲/۴۷۱) کو دن کے پہلے پہر (پہلے پہر اس اجتماع کے منعقد ہونے کی دلیل ابن اسحاق کی وہ روایت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں اس اجتماع کی خبر لے کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ صحیح بخاری میں مروی حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت کو ملا لیجئے کہ نبی ﷺ ٹھیک دوپہر کے وقت حضرت ابو بکرؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ''مجھے روانگی کی اجازت دے دی گئی ہے۔'' روایت بہ تفصیل آگے آ رہی ہے) مکے کی پارلیمنٹ دار الندوہ میں تاریخ کا سب سے خطرناک اجتماع