- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
یہود کے ساتھ معاہدہ
نبی ﷺ نے ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کے درمیان عقیدے، سیاست اور نظام کی وحدت کے ذریعے ایک نئے اسلامی معاشرے کی بنیادیں استوار کر لیں تو غیر مسلموں کے ساتھ اپنے تعلقات منظم کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔ آپ ﷺ کا مقصود یہ تھا کہ ساری انسانیت امن و سلامتی کی سعادتوں اور برکتوں سے بہرہ ور ہو اور اس کے ساتھ ہی مدینہ اور اس کے گرد و پیش کا علاقہ ایک وفاقی وحدت میں منظم ہو جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے رواداری اور کشادہ دلی کے ایسے قوانین مسنون فرمائے جن کا اس تعصب اور غلو پسندی سے بھری ہوئی دنیا میں کوئی تصور ہی نہ تھا۔
جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں مدینے کے سب سے قریب ترین پڑوسی یہود تھے۔ یہ لوگ اگرچہ درپردہ مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے لیکن انہوں نے اب تک کسی محاذ آرائی اور جھگڑے کا اظہار نہیں کیا تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ایک معاہدہ منعقد کیا، جس میں انہیں دین و مذہب اور جان و مال کی مطلق آزادی دی گئی تھی اور جلا وطنی، ضبطی جائیداد یا جھگڑے کی سیاست کا کوئی رُخ اختیار نہیں کیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ اسی معاہدے کے ضمن میں ہوا تھا جو خود مسلمانوں کے درمیان باہم طے پایا تھا اور جس کا ذکر قریب ہی گزر چکا ہے۔ آگے اس معاہدے کی اہم دفعات پیش کی جا رہی ہیں۔
معاہدے کی دفعات:
* بنو عوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک ہی امّت ہوں گے۔ یہود اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر۔ خود ان کا بھی یہی حق ہو گا، اور ان کے غلاموں اور متعلقین کا بھی اور بنو عوف کے علاوہ دوسرے یہود کے بھی یہی حقوق ہوں گے۔
* یہود اپنے اخراجات کے ذِمے دار ہوں گے اور مسلمان اپنے اخراجات کے۔
* اور جو طاقت اس معاہدے کے کسی فریق سے جنگ کرے گی سب اس کے خلاف آپس میں تعاون کریں گے۔
* اور اس معاہدے کے شرکاء کے باہمی تعلقات خیر خواہی، خیر اندیشی اور فائدہ رسانی کی بنیاد پر ہوں گے، گناہ پر نہیں۔
* کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ ٹھہرے گا۔
* مظلوم کی مدد کی جائے گی۔
* جب تک جنگ برپا رہے گی یہود بھی مسلمانوں کے ساتھ خرچ برداشت کریں گے۔
* اس معاہدے کے سارے شرکاء پر مدینہ میں ہنگامہ آرائی اور کشت و خون حرام ہو گا۔
* اس معاہدے کے فریقوں میں کوئی نئی بات یا جھگڑا پیدا ہو جائے جس میں فساد کا اندیشہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ عزّوجل اور محمد رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے۔
* قریش اور اس کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔
* جو کوئی یثرب پر دھاوا بول دے اس سے لڑنے کے لیے سب باہم تعاون کریں گے اور ہر فریق اپنے اپنے اطراف کا دفاع کرے گا۔
* یہ معاہدہ کسی ظالم یا مجرم کے لیے آڑ نہ بنے گا۔
(دیکھئے: ابن ہشام ۱/ ۵۰۳، ۵۰۴)
اس معاہدے کے طے ہو جانے سے مدینہ اور اس کے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئے جس کا دار الحکومت مدینہ اور جس کے سربراہ رسول اللہ ﷺ تھے اور جس میں کلمہ نافذہ اور غالب حکمرانی مسلمانوں کی تھی، اور اس طرح مدینہ واقعتا اسلام کا دار الحکومت بن گیا۔
امن و سلامتی کے دائرے کو مزید وسعت دینے کے لیے نبی ﷺ نے آئندہ دوسرے قبائل سے بھی حالات کے مطابق اسی طرح کے معاہدے کیے، جن میں سے بعض بعض کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔
****